110

خادمِ اردو

مبارک علی مبارکی
جلسہ شروع ہونے کا وقت شام 5؍ بجے کا تھا اور ابھی صرف ساڑھے چھ ہی بجے تھے ؛لیکن مولانا حسرت موہانی ہال کی آدھی سے زیادہ نشستوں پر تِل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی؛اِس لیے مجھے قوی اُمید تھی کہ سات ساڑھے سات بجے تک باقی کی پچاس نشستوں پر بھی تِل دھرنا ممکن نہ ہوگا،اسٹیج کے پیچھے دیوار پر ایک بڑا سا بینر لگا ہوا تھا، جس پر پروگرام منعقد کروانے والی تنظیم ’’بزمِ دُکھی دِلان و پژمُردگانِ اردو‘‘ کا نام بولڈ کیپیٹل لیٹرز میں تحریر تھا ۔
اس کے بعد صدرِ جلسہ اور مہمانوں کی فہرست تھی :
صدارت: عزّت مآب شری ٹھونگامَل یمراجؔ جے پوری
مہمانِ خصوصی: جناب ڈوما بھائی گانجہ بگانوی (قطر،یو اے ای)
مہمانِ اعزازی: جناب کالا چاند اَماوَسوی(صدر،تنظیمِ چرم فروشان،کولکاتا)
مہمانِ ذی وقار: جناب شیخ پھینکو پھینکم پھانکوی
مہمانِ عالی وقار: جناب کورچشم عاقلؔ پیدَلوی
مہمانِ دل رُبا: محترمہ حسینہ بانو دِل توڑنی (ٹی وی اینڈ اسٹیج آرٹِسٹ)
وغیرہ وغیرہ
بعد ازاں بزم کے صدر اور سکریٹری کے نام تھے اور سب سے آخر میں صاحبِ اعزاز یعنی اِس سال کے ’’خادمِ اردو‘‘ مبارک علی مبارکی کا نام تھا،جو شاید جگہ کی تنگی کے باعث چھوٹے چھوٹے حروف میں بمشکل گُھسایا گیا تھا، سات بجے کے قریب جب منتظمین،الیکٹریشین،ڈیکوریٹر کے اسٹاف،مقامی اردو اخبارات کے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو ملا کر تقریباً ستّر پچھتّر حاضرین سے ہال کھچا کھچ بھر گیا ،تو ناظمِ جلسہ جناب دلنواز چرب زبانی نے جلسہ شروع کرنے کا اعلان کیا ،سب سے پہلے صدرِ جلسہ و مہمانانِ انواع و اقسام کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی، پھر منتظمین نے اپنے گھر کے بچّوں اور بچّیوں کے ہاتھوں سے اکابرینِ اسٹیج کو گلہائے تعزیت،سَوری گلہائے عقیدت پیش کیے،گرمی ہونے کے باوجود سب کو شالیں اُڑھائی گئیں اور پھر مومنٹو دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔
میں اِس دوران عامعین یعنی سامعین کے درمیان بیٹھا تالیاں پیٹتا رہا، اچانک منتظمین میں سے کسی نے ناظم کے کان میں کچھ کہا اور اُنہوں نے بُرا سا مُنہ بنا کر اعلان کیا کہ’’حضرات!معذرت چاہتا ہوں میں آج کے دُولہا جناب مبارک علی مبارکی کو اسٹیج پر بُلانا بھول گیا‘‘۔
پھر اُنہوں نے مجھ سے بصد خلوص و احترام اسٹیج پر آنے کی درخواست کی ،جسے میں نے بادلِ ہاں خواستہ قبول کرلیا۔
خیر صاحب!سب کچھ تقسیم ہونے کے بعد سلسلۂ تقاریر در مدحتِ خادمِ اردو شروع ہُوا اور یکے بعد دیگرے مقرّرین نے ’’بزمِ دُکھی دِلان و پژمُردگانِ اردو‘‘ کے اراکین کی تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کیے کہ اُنہوں نے گڈری میں لعل کھوج نکالا اور مبارکی صاحب جیسے بے لوث خدمت گارِ اردو زبان کو اِس سال کے ’’خادمِ اردو ایوارڈ‘‘ کے لیے منتخب کر کے اردو پر احسانِ عظیم کردیا ۔
ان تقریروں کے بعد صدرِ جلسہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ناچیز کو اِس سال کے ’’خادمِ اردو ایوارڈ‘‘ کی رننگ ٹرافی پکڑا دی ۔اب صدرِ جلسہ نے اپنا خطبۂ صدارت پڑھنا شروع کیا ، انہوں نے بتایا کہ’’مبارکی صاحب خادمِ اردو نہیں؛ بلکہ مجاہدِ اردو ہیں، وہ اردو کی ترقّی و ترویج کے لیے فیس بُک پر اپنی جان کی بازی لگا کر جہاد کرتے رہتے ہیں ، اردو کی حمایت میں سال بھر مسلسل پوسٹ ڈالتے رہتے ہیں ، مبارکی صاحب نے بیگم کی گالیاں اور بیلن کی مار کھائی؛ لیکن غزلیں کہنا نہیں چھوڑا ؛ کیونکہ غزل اردو شاعری کی آبرو ہے اور شاعری اردو زبان کی آبرو ہے، اِس طرح مبارکی صاحب نے اپنی جان پر کھیل کر اردو زبان کی آبرو کو لُٹنے سے بچایا ہے ،مبارکی صاحب سے جلنے والے کہتے ہیں کہ دوسرے خدّامِ اردو نے اردو کی حمایت میں جلسے کِیے،جلوس نکالے،کھاتے پیتے بھوک ہڑتالیں کیں،جوتے پالش کیے، آخر مبارکی صاحب نے ایسا کون سا تیر مارا ہے کہ اُنہیں خادمِ اردو جیسے با وقار ایوارڈ سے نواز دیا گیا؟
تو حضرات!میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دوسروں نے تو اردو کو اس کا حق دلانے کے لیے صرف جوتے پالش کیے ہیں؛ لیکن مبارکی صاحب نے اردو کی حمایت میں احتجاجاً کھانا پکایا ہے،برتن اور کپڑے دھوئے ہیں،جھاڑو لگائی ہے،گھر پونچھا ہے؛ لیکن وہ دوسروں کی طرح سستی شہرت کے بھوکے نہیں ہیں ؛اِس لیے وہ یہ سب کام تصویریں کِھنچوا کر نہیں کرتے؛ بلکہ خاموشی سے اپنے گھر کی چہار دیواری میں کرتے ہیں اور اِسی لیے میرا یہ ماننا ہے کہ مبارکی صاحب کے علاوہ اور کوئی اِس ایوارڈ کا حقدار ہو ہی نہیں سکتا ‘‘۔
صدرِ محترم کی باتیں سُن کر لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں اور جذبات سے ایسے مغلوب ہوئے کہ تالیاں بجانا تک بھول گئے ، آخر میں نے ہی جذبات پر قابو پاتے ہوئے ہاتھ نیچے کر کے تالی بجائی، جسے سُن کر دوسرے لوگ بھی بیدار ہوئے اور ہال تالیوں کی آواز سے گونج اُٹھا۔اب صرف اظہارِ تشکّر باقی تھا، اس کے لیے میں نے پہلے ہی منتظمین سے بات کرلی تھی کہ یہ فرض میرا این آر آئی بیٹا انجام دے گا، جو اِن دنوں چُھٹّیاں لے کر ہندوستان آیا ہوا ہے ،ناظمِ جلسہ نے خادمِ اردو؛ بلکہ مجاہدِ اردو کے بیٹے کا نام پکارااور فرزندِ ارجمندِ خادم و مجاہدِ اردو نے اپنی تقریر شروع کردی:
’’ آنریبل پریسیڈنٹ،ریسپیکٹیڈ گیسٹس،لیڈیز اینڈ جنٹلمین!
فرسٹ آف آل آئی وُڈ لائیک ٹو ریکویسٹ یو ٹو ایکسیوز می فار اسپیکنگ اِن انگلش بِکاز آئی کین ناٹ اسپیک اردو پراپرلی، ایکچُولی آئی ہَیو بِین اے اسٹوڈِنٹ آف انگلش میڈیم بیک گراؤنڈ ، سو آئی کُڈ ناٹ لرن اردو ، بٹ آئی کین انڈراسٹینڈ اے لِٹِل بِٹ اردو‘‘…
خادمِ اردو کا بیٹا بیحد فلوءِنٹ انگلش میں تقریر کر رہا تھا،لوگ بے تحاشہ تالیاں بجا رہے تھے اور خادمِ اردو کا سینہ فخر سے چھپّن اِنچ کا ہورہا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں