56

حکمراں جماعت کی بد زبانی کا سیاسی مطلب؟

ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل:9431414586
ای میل:rm.meezan@gmail.com
دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کے پارلیامانی انتخاب کے نتائج کے دن اب قریب ہوتے جارہے ہیں۔ کیوں کہ سات مرحلوں میں انتخابی عمل کے پانچ مرحلے مکمل ہو چکے ہیں بقیہ دو مرحلے 12مئی اور 19مئی کو مکمل ہو جائیں گے۔ بقیہ ان دونوں مرحلوں میں بیشتر پارلیامانی حلقے ہندی پٹّی یعنی شمالی ہند کے ہیں اور ان میں بھی بیشتر اتر پردیش وبہار کے ہیں۔ گذشتہ پارلیامانی انتخاب 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بہار اور اتر پردیش نے راستہ ہموار کیا تھا کہ اتر پردیش سے 72ممبران اور بہار سے 32ممبران کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اس بار کی فضا بالکل بدلی ہوئی ہے اور شاید اس کا احساس بھاجپا کو بھی ہے۔ اس لئے مرحلہ وار پولنگ کے بعد بھاجپا کے اندازِ بیان اور تیور میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔ انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران اور بالخصوص وزیر اعظم کی جس طرح کی زبان تھی وہ پولنگ کے ہر ایک مرحلے کے بعد تبدیل ہوتی چلی گئی اور قدرے اشتعال انگیز ونفرت انگیز بھی ہوتی رہی۔ اب جب کہ محض دو مرحلے کی پولنگ باقی ہے اور ایسے علاقے کی پولنگ باقی ہے جہا ں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے حامیو ں کے لئے زمین سخت مانی جا رہی ہے تو ایک طرح سے بوکھلاہٹ سی نظرآرہی ہے۔ خود وزیر اعظم نریندرمودی نے جس طرح جمہوری تقاضوں اور آئینی اصول وضوابط کی دھجیاں اڑائی ہیں ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ حزبِ اختلاف کی ناکامیوں کو اجاگر کرنا اور حزبِ اختلاف کے ذریعہ حکمراں جماعت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا تو ایک صحت مند عمل ہے کہ اس سے جمہوریت کو استحکام ملتا ہے۔ لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکمراں جماعت اپنی پانچ سالہ مدتِ کار کی کارکردگی پر کچھ بھی سننے کوتیار نہیں ہے اور وہ حزب اختلاف پر شخصی اور ذاتی حملے کر رہی ہے۔اب تک حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی سونیا گاندھی، صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے سپہ سالار پنڈت نہرو کی شخصیت کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی گئی اور ان پر بہتان تراشی کی گئی۔ لیکن اس ملک کی عوام کے ذہن ودل میں پنڈت جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے تئیں جو عقیدت واحترام ہے اس کو چاہ کر بھی کوئی سیاسی جماعت ختم نہیں کر سکتی کیوں کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی قربانیوں کو فراموش کرنا ایک ہندوستانی کے لئے ناقابلِ تسلیم عمل ہے۔پنڈت نہرو ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو ملک کے لئے وقف تھا۔ خود پنڈت نہرو نے 17سالوں تک جیل کی زندگی گذاری اور اس کے بعد جدید ہندوستان کی تعمیر میں خود کو وقف کردیا۔
بہر کیف! اس پارلیامانی انتخاب میں نہ صرف اخلاقی پامالی دیکھنے کو مل رہی ہے بلکہ غیر انسانی فعل بھی ظاہر ہورہا ہے۔ آنجہانی راجیو گاندھی کے تعلق سے جس طرح کی بیان بازی ہو رہی ہے وہ ایک مہذب سماج کی زبان نہیں ہو سکتی۔اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے مردہ شخصیت کی کردار کشی کیا معنی رکھتی ہے؟دراصل اس انتخاب میں عوام نے جس خاموشی سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے اس نے حکمراں جماعت کے ہوش اڑا دئے ہیں۔ اس لئے وہ اب راہل گاندھی،سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو چھوڑ کر آنجہانی راجیو گاندھی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن اس ملک کی عوام اتنی بے وقوف نہیں ہے جتنا حکمرا ں جماعت سمجھ رہی ہے۔خود بھاتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری رام مادھو جو آر ایس ایس کے پرچارک ہیں وہ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو شاید اکثیریت حاصل نہ ہو کیوں کہ جنوبی ہند میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لے ماحول سازگار نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ شمالی ہند میں اتر پردیش اوربہاربھی ان کی امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے اس لئے سنگھ پریوار اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک طرح سے بوکھلاہٹ میں ہے اور وہ غیر مہذبانہ اسلوب اختیار کرر ہی ہے۔جہاں تک بہار کا سوال ہے تو قومی جمہوری اتحاد میں شامل جنتا دل متحدہ نے خود کو بی جے پی کے طرزِ بیان سے الگ رکھا ہے۔ بالخصوص نتیش کمارکسی بھی انتخابی اجلاس میں کوئی متنازعہ بیان نہیں دے رہے ہیں بس اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن اس کے بر خلاف بی جے پی کے امیدواروں کے ذریعہ جس طرح کی اشتعال انگیز بیان بازی ہو رہی ہے وہ انتخابی ماحول کو مکدر بنا رہی ہے۔ اب جب کہ صرف دو مرحلے باقی ہیں اور ان دونو ں مرحلوں میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ بالخصوص ساسارام سیٹ سے لوک سبھا کی سابق اسپیکرمیرا کمار اور پٹنہ صاحب سے فلم اداکار شتروگھن سنہا پہلی بار بطور کانگریس امیدوار میدان میں ہیں۔ اسی طرح بالمیکی نگر سے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ کیدارپانڈے کے پوتے سارستو کیدارکو امیدوار بنایا گیا ہے اور ان تینو ں سیٹوں پر پہلے بی جے پی کا قبضہ رہا ہے۔ پٹنہ صاحب سے تو خود شتروگھن سنہا ہی بھاجپا کے رکن رہے ہیں لیکن اب وہ کانگریس کی امید بن چکے ہیں۔عظیم اتحاد کے لئے بھی بقیہ دونوں مرحلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ ویشالی سے اس کے ایک قد آور لیڈر رگھوونش پرساد سنگھ میدان میں ہیں تو پاٹلی پترا سے لالو یادو کی بیٹی ڈاکٹرمیسا بھارتی دوسری بار بھارتیہ جنتا پارٹی کے رام کرپال یادو کو ٹکّر دے رہی ہے۔ عظیم اتحاد کے اوپندر کشواہا بھی اپنی دوسری سیٹ کاراکاٹ سے میدان میں ہیں اور آخری مرحلے میں ان کے یہاں بھی ووٹنگ ہونی ہے۔مجموعی طورپر قومی سطح پر جو سیاسی فضا بنی ہے اس کا اثر بہار میں بھی دیکھائی دے رہاہے۔ قیاس ہے کہ عظیم اتحاد میں شامل کانگریس کے لئے خوش آئند نتیجہ سامنے آسکتا ہے کیوں کہ کٹیہار سے طارق انور، سوپول سے رنجیتا رنجن، ساسارام سے میرا کمار اور پٹنہ صاحب سے شتروگھن سنہا کی کامیابی یقینی مانی جا رہی ہے۔اسی طرح بالمیکی نگر سے سارستو کی بھی امید کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے مرحلے میں سمستی پور سے ڈاکٹر اشوک کمار کے تعلق سے بھی یہ خوش خبری ہے کہ وہ لوک جن شکتی پارٹی کے رام چندر پاسوان کو شکست دے سکتے ہیں۔ غرض کہ بہار کا نتیجہ بھی چونکانے والا ہوگا اور اس بار اتر پردیش کے ساتھ ساتھ بہار بھی مرکز کی حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے کہ عظیم اتحاد کی سیٹیں بڑھ سکتی ہیں۔سیاسی گلیاروں میں یہ بھی چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں کہ اگر مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی واپسی نہیں ہوئی تو این ڈی اے سے جد یو کا راستہ بھی الگ ہو سکتا ہے اور نتیش کمار بھی اپنے فیصلے سے قومی سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں