84

حقوقِ مصطفی ﷺ


عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ
مغرب کے علمبرداروں اور نام نہاد روشن خیالوں کے مطابق یہ صدی حق طلبی اور ظلم کشی کے حوالے سے جدوجہد اور انقلاب کی صدی ہے۔ آج ہرطرف حقوق وفرائض کے لیے آواز بلند کرنے والوں کا تانتا بندھا ہواہے۔ہرطبقہ، ہرجماعت اور ہر فرد اپنے حقوق کی بازیابی اور بحالی کے لیے سراپا احتجاج ہے۔ کہیں انسانی حقوق کی پامالی پر شور وغوغا ہے تو کہیں حقوق نسواں کے نام پر آزاد ی ئ نسواں کے علم برداروں کا عجیب و غریب مطالبہ۔
حد تو یہ ہے کہ امریکہ جیسی ترقی یافتہ اور آزاد ریاست میں بھی حقوق کے حوالے سے مختلف تنظیمیں قائم ہیں۔ خود اقوام متحدہ کی جانب سے سال بھر مختلف عناوین سمیت انسانی حقوق کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اور اب تومشرقی ممالک بھی روایتی انداز کے ان تماشوں میں مغرب کے شانہ بہ شانہ برابر کے شریک ہیں؛لیکن ان سب کے علی الرغم بحیثیت مسلمان کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا کہ اس محسن انسانیت کے ہم پر کیا حقوق ہیں جس نے نوع انسان کو غلامی سے چھڑایا،مظلوم و بے بس عورتوں کو حقوق و مراعات سے نوازا،جس نے آداب زندگی بھی سکھائے اور اصول بندگی سے بھی آگاہ کیا، جس نے غلاموں،مزدوروں اور غریبوں سمیت جانوروں کو بھی وہ تحفظات عطا کیے؛جس کی نظیر پیش کرنی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم انہیں کے نام لیوا،سپاس گزار اور منت کش ہوتے ہوئے ان کی ذات والا صفات کو فراموش کر بیٹھے،ان کی تعلیمات و ہدایات کو بھلا بیٹھے ان کے مشن اور مقصد کو گنوا بیٹھے۔نہ ہمیں ان کے نام کا پاس رہا نہ نسبت کا لحاظ۔نہ ان کی قربانیاں یاد رہیں نہ جانثاریوں کا خیال۔ المیہ یہ ہے کہ ہم رنگینی ئ حیات اور فانی زندگی کے حصار سے باہر نہ آسکے،اپنے بندھے ٹکے نظام العمل سے وقت نہ پا سکے،اپنی روز مرہ مصروفیات سے دامن نہ چھڑاسکے۔
ایک طرف وہ ہستی تھی جو اشاعتِ دین و تبلیغِ اسلام کے لیے اپنا وجود گھلاتی رہی، ظلم پر ظلم سہتی رہی، دکھ پر دکھ اٹھاتی رہی،رب کریم کے حضور راتوں رات روتی اور گڑگڑاتی رہی اور امت کی ہدایت کے لیے پورے سوز و گداز اور تڑپ و کڑھن کے ساتھ مدت العمرمصروف عمل رہی۔بالآخر فرض منصبی کی تکمیل کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اور دوسری طرف ہماری حالت زارہے۔آج امت کے کتنے افراد ہیں، جنہیں نبی کا گھرانہ اور خانوادہ معلوم ہے نہ خلفاء اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کارنامے۔ کتنے ایسے ہیں جو بنات طاہرات کے نام جانتے ہیں نہ ازواج مطہرات کی صحیح تعداد؛ بل کہ بہت سے تیرہ بخت وبدقسمت ایسے بھی ہیں جنہیں کلمہئ طیبہ اور رسول اکرم ﷺ کا نام نامی بھی یاد نہیں۔
ہاتھ بے زور ہیں،الحاد سے دل خُوگر ہیں
اُمتی۔۔۔۔۔ باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں
المختصر:آج کی صحبت میں مناسب محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق وآداب سے متعلق کچھ اہم معروضات پیش کیے جائیں؛تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ انسانیت کے سب سے عظیم محسن اور ہمارے رہبر کاملﷺ کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟
پہلاحق:آپﷺ پر ایمان
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت جب دلائل بیّنہ،آیات واضحہ اور معجزات ظاہرہ کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے توقیامت تک آنے والی انسانیت پر لازم ہے کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور بلاریب ان تمام احکام کی تصدیق کرے؛جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے (خواہ بطریق وحی جلی،خواہ بطریق وحی خفی)۔آپ کی تعلیمات و ہدایات کو ماننا اور بہ سر و چشم انہیں قبول کرنا ہرامتی پرفرض و لازم ہے جیساکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:تم اللہ پر،اس کے رسول پر اور اس کے نور پر جو کہ ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ!اور وہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔ (تغابن) اسی طرح فرمان الہی ہے: آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ!(اعراف)اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے۔ اس امت کا کوئی بھی شخص خواہ یہودی ہو یا نصرانی، میرے بارے میں سن لیتا ہے پھر مرجاتا ہے اور میری لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان نہیں لاتا تو وہ جہنمی ہے۔(مسلم)آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے مفہوم میں چار چیزیں داخل ہیں:
1: آپ ﷺ کی بتائی ہوئی خبروں کی تصدیق کرنا۔
2: آپﷺ جس چیز کا حکم دیں اسے بجالانا اورجس چیز سے روک دیں اس سے رک جانا۔
3:آپ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق اللہ کی عبادت کرنا۔
اگر کوئی شخص آپ ﷺکو رسول نہیں مانتا یا آپ کی بعض تعلیمات کا انکار کرتا ہے یا آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں کوتاہ ہے تو وہ عنداللہ ظالم اورحق تلفی کرنے والا ہے۔
دوسرا حق:آپ ﷺ سے محبت وعقیدت
آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے محبت و عقیدت رکھنا بھی لازم و ضروری ہے۔ اور یہ محبت دنیا کی تمام محبوب چیزوں سے حتیٰ کہ اپنی عزیز جان سے بھی بڑھ کر ہونی چاہئے۔ جب تک کوئی شخص اس معیار پر پورا نہ اترے، اس کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں۔(بخاری) بالکل یہی مضمون قرآن مجید کی اس آیت میں بھی موجود ہے،حق تعالی شانہ فرماتے ہیں: آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اوروہ حویلیاں جسے تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسولﷺ سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے، اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔(التوبہ)
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے آپ ﷺسے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے نزدیک میری ذات کے بعد سب سے زیادہ محبوب آپ ہیں، تو رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: نہیں!بخداتمہارا ایمان تب تک کامل نہیں ہے جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری ذات سے بھی زیادہ محبو ب نہ ہوجاؤں۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اب آپ میری ذات سے بھی زیادہ محبوب ہیں تو آپﷺ فرمایا: ائے عمر!اب ایمان کامل ہے۔
یادرہے کہ یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ ایک ہے ’’محبت‘‘ اورایک ہے ’’دعویئ محبت‘‘،محض دعویئ محبت،ثبوتِ محبت کے لیے کافی نہیں ہوجاتا، جب تک کہ اس کی دلیل یاکم ازکم اس کی علامت نہ پائی جائے؛اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضہ ہے کہ:
1:زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کی پیروی کی جائے۔
2:کثرت سے آپ پر درود وسلام بھیجا جائے۔
3:آپ کو بلاقید زمان و مکان کثرت سے یاد کیا جائے۔
4:آپ کے دیکھنے کی تمنا کی جائے۔
5:آپ کی محبوب چیزوں اور شخصیات سے محبت کی جائے۔
تیسرا حق:آپﷺ کی تعظیم و توقیر
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر بھی آپ کے حقوق میں داخل ہے، ارشاد باری تعالی ہے: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا گواہی دینے والا،خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر۔ تاکہ اے لوگوں تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔(الفتح)
ایک اور موقع پر اے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے کہاگیا:ائے مومنو!اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو، اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بولتے ہواس طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو، ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو، جو لوگ اللہ کے پیغمبر کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں اللہ نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزمالئے ہیں،ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں اور وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔(الحجرات)
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر بارگاہِ رسالت میں آئے، وہ وہاں پر صحابہ کرام کے جذبہئ عشق و محبت اور معمولاتِ ادب و تعظیم کا مشاہدہ کرتے رہے۔اس کے بعد جب اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گئے تو ان سے کہنے لگے: اے میری قوم! اللہ رب العزت کی قسم میں بڑے بڑے عظیم المرتبت بادشاہوں کے دربار میں وفد لے کر گیا ہو، مجھے قیصرِ روم، کسریٰ ایران اور نجاشیِ حبشہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے۔ لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اسکے درباری اسکی اسطرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد(ﷺ) کے اصحاب محمد(ﷺ) کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب آپ تھوکتے ہیں، تو انکا لعاب دہن کسی نا کسی شخص کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے، جس سے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مَل لیتا ہے، جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو اس کی بلا توقف تعمیل کی جاتی ہے، جب وہ وضو فرماتے ہیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا استعمال شدہ پانی حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے، آپ کے رفقاء، آپ کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو انتہائی پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کی وجہ سے آپ کے چہرے کی طرف آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکتے۔ (بخاری، احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا تقاضا ہے کہ آپ کی قدرو منزلت کے تعیین میں حد سے تجاوز نہ ہو۔ اس طور پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عبدیت و رسالت کے رتبے سے آگے بڑھا دیا جائے اور کچھ الٰہی خصائص آپ کی طرف منسوب کر دیئے جائیں۔نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر میں یہ بھی داخل ہے کہ:
1: آپ کے فرمان و حدیث کی تعظیم کی جائے۔
2: آپ کی مسجد کی تعظیم کی جائے۔
3: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں اور شخصیات کا حکم دیا ہے انکی تعظیم کی جائے۔
ان تین بنیادی حقوق کے علاوہ آپﷺ کا ایک عظیم حق یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی جان و مال سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور آپ کی طرف سے بھرپوردفاع کرے۔آپ ﷺ کی طرف سے دفاع میں درج ذیل تین امور داخل ہیں:
1:آپ کی تعلیمات اور سنت کی طرف سے دفاع۔
2: آپ کی ازواج مطہرات کی طرف سے دفاع۔
3:آپ کے صحابہ کرام کی طرف سے دفاع۔
جناب نبی کریمؐ کی ذات گرامی اورآپ کی احادیث پرجس نوعیت کے اعتراضات کیے جائیں،ان تمام اعتراضات کا اسی زاویہ نگاہ سے جواب دیا جائے۔ مثال کے طور پر آپ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے مستشرقین، منکرین حدیث اور دیگر غیرمسلم اہل قلم نے قلم اٹھایا ہے اور دریدہ دہنی کی ہے، اسی علمی نوعیت کے ساتھ مسلمان اہل قلم اپنے علمی و فکری لٹریچر کے ذریعے ان لوگوں کے طعن و تشنیع کا مدلل جواب دیں۔اسلامی مبلغین کو چاہئے کہ اپنے بیانات اور خطابات میں حضور اکرمؐ کی سیرت طیبہ پر ہونے والے اعتراضات اور اس پر کی جانے والی غلط بیانیوں کا واضح طور پر جواب دیں اور اہل ایمان کو ان کے فرسودہ عزائم سے آگاہ رکھیں۔
حق تعالی ہمیں رسول اکرمﷺکی سچی نسبت عطافرمائے اور آپ کے جملہ حقوق کواداکرنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں