118

حقانی کا جنوں زاویہ مجلہ ’اندازِبیاں‘

قیصرزماں
حقانی کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب وہ بحیثیت طالب علم علی گڑھ کے شعبہ عربی میں طالب علم تھے، لیکن پی ایچ ڈی کے درمیان ہی وہاں سے ہجرت کر گئے۔ اس کی وجہ کیا ہے ، میں نہیں جانتا۔ لیکن علی گڑھ میں حقانی کی موجودگی ایک فعال، متحرک اور ادب دوست کی حیثیت سے جانی جاتی تھی۔ جب بھی ان سے کسی جگہ ملاقات ہوتی تو چائے کے ساتھ سگریٹ اور ادب بھی نوش جاں کرتا تھا۔ اسی وقت مجھے اندازہ ہو گیا کہ حقانی ایک ذہین طالب علم ہیں۔ حقانی کی ادبی بنیاد کی داغ بیل دیوبند میں پڑی اور عربی و فارسی کے علاوہ اردو مادری زبان ہونے کی وجہ کر ان کی بنیاد مستحکم تھی، پھر علی گڑھ میں ہی انہوں نے فلسطینی شاعری کے موضوع پر ایم فل مکمل کر لیا تھا۔وہ دن رات عربی ،فارسی اور فلسطینی ادب وشاعری سے واسطہ رکھتے تھے۔ کچھ تو باغیانہ تیور اور اس پر فلسطینی شاعری کی مہمیز انہیں سکون سے جینے نہیں دیتے تھے اور آج بھی ان کا ذہنی رویہ اسی نہج پہ قائم ہے۔ علی گڑھ چھوڑنے کی کیا وجہ رہی اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن بہت دنوں تک گوشۂ گیر رہنے کے بعد یکا یک دہلی کے جامعہ نگر میں نمودار ہوئے۔صلاح الدین پرویز کے ساتھ ان کی دوستی اوریگانگت رسالہ ’’استعارہ‘‘ کے طور پرسامنے آئی اور ادب میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔’’استعارہ‘‘ کے غالباً ۱۴۔۱۵شمارے ہی نکلے جو فکر انگیز اور ہنگامہ خیز رہے۔ حقانی شریک مدیر تھے اور رسالے میں ’’باب عشق‘‘ اور’’ حقانی تبصرے‘‘ دو ایسے موضوعات تھے جو میرے لئے بڑے دلچسپ تھے اور آج بھی دلچسپ ہیں۔ حقانی کی پہچان ’’حقانی تبصرے‘‘ سے آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے اور کئی علمائے ادب کے ذہن میں بھی ہوگا،جن لوگوں کا تعلق خصوصی طور پر علی گڑھ سے ہے۔ صلاح الدین پرویز کے ساتھ ’’استعارہ‘‘ کے لکھنے والوں میں ذہانتوں کی ایک کھیپ نظر آتی ہے۔ مثلاً گوپی چند نارنگ، محمود ہاشمی، وہاب اشرفی وغیرہ کے علاوہ نئے اذہان بھی سامنے آئے اور ’’استعارہ‘‘ جب تک نکلتا رہا ہمیشہ ادبی دنیا میں ہنگامہ برپاکرتا رہا،پھر صلاح الدین بیمار پڑ گئے ، محمود ہاشمی نے لکھنا چھوڑ دیا اور اس طرح ’’استعارہ‘‘ کا شیرازہ بکھر گیا ۔ پھر حقانی ادبی منظرنامے سے کچھ دن تک غائب ہو گئے لیکن لکھنے پڑھنے سے رشتہ قائم رہا اور انہوں نے کئی کتابیں ترتیب و تصنیف دے ڈالیں۔جن میں ’’تنقیدی اسمبلاژ‘‘(صلاح الدین پرویز کی تخلیق سے مکالمہ)، ’’خوشبو، روشنی، رنگ‘‘،’’فلسطین کے چار ممتاز شعراء‘‘،’’بدن کی جمالیات‘‘،’’طواف دشت جنوں‘‘اور ’’تکلف برطرف‘‘ کے علاوہ ایک اہم اور تاریخی اور دستاویزی نوعیت کی کتاب ’’رینو کے شہر میں‘‘ کے نام سے لکھا جسے بہار کے اس زرخیز (سیمانچل!!)علمی و ادبی خطے کے معروف شعرا و ادباء پر ایک حوالہ جاتی کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔
ابھی پچھلے دنوں یعنی مئی۲۰۱۶ء میں ’’انداز بیاں‘‘کے نام سے یک موضوعی مجلہ کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا جو ’’خواتین کی خود نوشتوں کے جائزے‘‘ پر محیط ہے۔ پہلا شمارہ یک موضوعی ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کا حامل رسالہ اور خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے بے حد اہم اور فکر انگیزمواد سے بھرپورانداز بیان۔ شخصیت کو سمجھنے میں خود نوشتوں کا بڑا کردار رہا ہے اور اگر خواتین کی خود نوشت ہو تو پھر کیا کہنے۔معروف عالمی مصنفہ سائمن دی بوار’’ سیکنڈ سیکس‘‘کے حوالے سے ہی پہچانی جاتی ہیں جو تانیثیت کی علمبردار کہی جاتی ہیں۔یہاں بھی خود نوشت کے حوالے سے کئی اہم اور معروف سوانح عمریاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً ’’نوائے زندگی‘‘، ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘، ’’رسیدی ٹکٹ‘‘اور ’’جو رہی سو بے خبر رہی‘‘وغیرہ جیسی خود نوشت کے علاوہ خود نوشت کا فن، پاک وہند کی خواتین خودنوشتیں،عربی زبان میں خودنوشت اور بدن کی ممنوعہ کتاب وغیرہ جیسے تحقیقی و تنقیدی مضامین سے بھرپور اور منفرد رسالہ کہا جا سکتا ہے۔بہر حال پہلا یک موضوعی شمارہ ہر اعتبار سے زندہ رسالہ کہلانے کا مستحق ہے۔
’’انداز بیاں‘‘ کا دوسرا یک موضوعی شمارہ بھی کسی ہنگامے سے کم نہیں یعنی ’’پولس کا تخلیقی چہرہ‘‘ کے عنوان سے ضخیم مجلہ جو کم و بیش ۵۰۰صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں شجاع خاور، پیغام آفاقی، عین رشیداور خلیل مامون کے علاوہ شیو سنگھ سینگر، چودھری نبی احمد، مولانا احترام الدین شاغل، احمد عدنان طارق،’’حسن گل مہتاب‘‘ ،’’شاخ گل احمر‘‘اور’’ موج جوہر‘‘کے باب میں وبھوتی نرائن رائے اور ان کا ناول ’’گھر‘‘ احساس کا سفیر ، وپل چترویدی، مہیش چند نقش ، نظر کانپوری، ابھے کمار بیتاب وغیرہ
اس شمارے کے حوالے سے کئی اہم تبصرے بھی ہماری نظر سے گزرے، خصوصی طور پر شافع قدوائی کا The Hindu اخبار میں تبصرہ قابل قدر اورفکر انگیز ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور تبصرے دونوں شماروں کے حوالے سے لکھے گئے۔ رسائل تو بہت نکل رہے ہیں لیکن ’’انداز بیاں‘‘ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے منفرد اور قابل مطالعہ رسالہ کہا جا سکتا ہے۔ خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے پہلا یک موضوعی شمارہ کم ازکم اردو میں اپنی نوعیت کا قابل قدر رسالہ کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں اپنی نوعیت اور موضوع کے حوالے سے اکلوتا اور منفرد رسالہ ہے جو نہ صرف پولس کا وہ چہرہ پیش کرتا ہے جسے ہم فسادات میں دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور ذہن میں ان کی ایک منفی تصویر بنی ہوئی ہے، بلکہ اس شعبے میں بھی حساس اور تخلیقی فنکار نظر آتے ہیں ۔ مدیر کا کمال ہے کہ ایسے موضوع پر ایک ضخیم ترین رسالہ نہ صرف ترتیب دیا بلکہ موضوع اور مواد کے اعتبار سے بھی ایک بہترین کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔
مدیر نے پچاس صفحات سے زائد ’’آغاز جستجو‘‘ کے عنوان سے خامہ فرسائی کی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’پولیس کا تخلیقی چہرہ۔۔۔یہ عنوان جب میں نے سوچا تھا ، مجھے یقین تھا کہ چند صفحات میں ہی پوری داستان سمٹ جائے گی لیکن جب جستجو کا سفر شروع ہوا تو آنکھیں حیرت سے وا رہ گئیں کہ جسے میں کوزہ سمجھتا تھا وہ سمندر نکلا۔۔۔ہم جیسوں کی ساری توانائی تو دفتری اور گھریلو تناؤ میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کیسی جستجو، کہاں کا ذوق و شوق ۔ پھر بھی جب میں نے اس عنوان کے تحت چیزیں تلاش کرنا شروع کی تو محسوس ہوا کہ مختلف میدانوں میں پولس کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری ہو یا نثر ، تحقیق ہو یا تاریخ، افسانہ ہو یا ناول ، صحافت ہو یا ثقافت، ہر ایک میدان میں پولس محکمہ سے جڑی ہوئی شخصیتوں نے اپنے تخلیقی اور تنقیدی جوہر دکھائے ہیں اور معاشرہ کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کیا ہے کہ ان کا منصبی فرض کچھ بھی ہو مگر ان کی رگوں میں تخلیقیت رواں دواں ہے،ان کے باطن میں احساس کا ارتعاش ہے۔ ان کے اندر بھی جذبات کا دریا موجزن ہے۔ وہ ساری خوبیاں جو ایک آرٹسٹ اور فنکار میں ہوتی ہیں، ان سے یہ متصف ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ انہیں کسی بھی جامعہ یا دانش گاہ میں نہ تو موضوع کی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی انفرادی طور پر پولس کی ادبی خدمات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ۔۔در اصل ہمارے معاشرے میں پولس محکمہ سے وابستہ افراد کی جو شبیہ ہے، وہ اس قدر مسخ کر دی گئی ہے کہ انہیں جذبات اور احساس سے عاری اور انسانی درد مندی سے خالی وجود سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘
اقتباس قدرے طویل ہو گیا ہے لیکن جو باتیں انہوں نے کہی ہیں اس میں جملہ معترضہ کے طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ اردو کا ادبی معاشرہ ویسا نہیں ہے جیسا حقانی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب تو قدرے صورت حال اور بگڑ چکی ہے اس میں زندگی کے مختلف گوشہ ہائے شعبہ سے متعلق افراد کے حوالے سے گفتگو کار زیاں سمجھا جاتا ہے لیکن فوری طور پر چند نام جو اردو اور پولس محکمہ کے حوالے سے ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔ پیغام آفاقی، خلیل مامون، عین رشید، شجاع خاور، معصوم کاظمی وغیرہ۔ ان کو تخلیق کار کے حوالے سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جنہوں نے فکشن، شاعری اور تنقید میں کارہائے نمایاں انجام دیا اور اسے اردو کا ادبی معاشرہ پڑھتا بھی ہے اور جامعات میں ان پر اچھا اور برا کام بھی ہوا ہے۔ بلکہ ہندوستان میں کئی اہم اور غیر اہم ادبی رسائل و جرائد میں ان کے گوشے اور ان کے ادبی اور فکری کارناموں کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ بہر حال یہ تو جملہ معترضہ تھا۔
’’باغ سخن ‘‘کے عنوان سے مدیر لکھتے ہیں کہ :
’’پولس سے وابستہ بہت سے افراد ہیں جن کے سوانحی کوائف اور نمونۂ کلام قدیم اور جدید تذکروں میں ملتے ہیں۔ لالہ شری رام کے مشہور تذکرہ ’’خم خانۂ جاوید‘‘ کی پانچ جلدوں کی ورق گردانی کی جائے تو بہت سے نام سامنے آئیں گے۔ اس تذکرہ کی تمام جلدوں تک ہماری رسائی نہیں ہو پائی۔ ایک دو جلدوں میں محکمہ پولس سے وابستہ کچھ شاعروں کے نام ملے تو حیرت ہوئی کہ ایسی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل بھی اس شعبہ سے وابستہ رہے ہیں۔ مثلاً شیدا،طالب، عدیل وغیرہ۔ اس کے علاوہ اتر پردیش ،مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، گجرات، راجستھان، بہار، مہاراشٹر اور مغربی بنگال کے صوبہ جات کے حوالے سے مدیر نے بڑی اہم گفتگو کی ہے۔ ’’باب تحقیق‘‘ کے عنوان سے بھی بے حد اہم اور کار آمد باتیں اداریے میں کہی گئی ہیں۔ دیار فکشن ، کنج خودنوشت، کوچۂ صحافت، خیابان ترجمہ، فنون لطیفہ، پولس کا نظام تربیت، محکمہ پولس کے ایوارڈ یافتگان اور پولس کا تخلیقی خانوادہ کے ذیلی اور ضمنی عنوانات کے حوالے سے بھی حقانی القاسمی نے بہت ہی فکر انگیز اور کار آمد گفتگو کی ہے جو داد کے قابل ہے۔
رسالے کی فہرست میں ’’دریچے میں چراغ‘‘ کے عنوان سے جو ابواب قائم کئے گے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔ آغاز جستجو(اداریہ)، باب شجاع خاور، باب پیغام آفاقی، باب عین رشید، باب خلیل مامون، گل و مہتاب، حسن گل مہتاب، شاخ گل احمر اور موج جوہر کے باب میں بہت سے نامور ادبا اور نئے لکھنے والوں کو’’ انداز بیاں‘‘ میں اس طرح سمیٹا گیا ہے کہ قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔’’دیار فکشن‘‘ جو موجودہ عہد کا سب سے بحث انگیز دیار سمجھا جاتا ہے یعنی فکشن کے حوالے سے اور ان کے لکھنے والوں کا بھر پور تجزیہ اور محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔’’کنج خود نوشت کے عنوان سے بھی رسالے میں اہم گفتگو کی گئی ہے۔ حقانی لکھتے ہیں کہ:
’’اس باب میں کئی ایسی آپ بیتیاں ہیں ۔۔۔ان کا امتیاز یہ ہے کہ ایک ایسی دنیا کی سیر کراتی ہیں جو تناؤ، تصادم اور کشمکش سے بھری ہوئی ہے۔۔۔ایسی خود نوشت میں ایک ایسی دنیا ملتی ہے جس میں عام فنکار کے لئے داخل ہونا آسان نہیں۔‘‘
’’کوچۂ صحافت‘‘کے حوالے سے بھی آغاز جستجو میں حقانی نے بڑی اچھی گفتگو کی ہے اور تخلیقی اور ادبی صحافت کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ ’’خیابان ترجمہ‘‘میں ترجمے کے حوالے سے بہت سے نکتے پیش کئے گئے ہیں، جس سے قاری کا ذہنی افق روشن ہو جاتا ہے۔’’فنون لطیفہ‘‘، ’’پولس کا نظام تربیت‘‘، ’’محکمۂ کے ایوارڈ یافتگان‘‘اور’’پولس کا تخلیقی خانوادہ‘‘ جیسے عنوانات کے حوالے سے حقانی نے مقدمے میں بڑی اچھی گفتگو کی ہے، جس سے رسالے اور اس کے محتویات کا بھر پور اندازہ ہو جاتا ہے۔
اس شمارے میں میرے لئے عین رشید، پیغام آفاقی،شجاع خاور اہم ہیں اس لئے کہ ان سے میرے ذاتی مراسم بھی رہے ہیں اور بحیثیت قاری انہیں پڑھتا بھی رہا ہوں۔ اس لئے میری دلچسپی کے بہت سے ادبی لوازمات شمارے میں مل جاتے ہیں۔ خصوصی طورپر خلیل مامون نہ صرف اس محکمے سے متعلق رہے ہیں بلکہ ان کی ذات و صفات ان معنوں میں قابل قدر ہیں کہ عمدہ شاعر اور نظم نگار تخلیقی ذہانت سے بھر پور ، فلسفے اور لسانیات کا عالم اور ادبی صحافت سے ان کا دیرینہ رشتہ آج تک قائم ہے۔ مثلاً رسالہ ’’سوغات‘‘، سرکاری رسالہ ’’اذکار‘‘ کے مدیر اور اب ’’نیا ادب‘‘ جیسا تاریخی اور علمی رسالے کے مدیر کی حیثیت سے موجود ہیں ۔ انہوں نے بڑی خاموشی سے تخلیق ، تنقید اور ادبی صحافت سے جو رشتہ قائم رکھا وہ آج تک قائم ہے۔
حقانی القاسمی نے’’انداز بیاں‘‘ کا پہلا شمارہ ’’خواتین کی خود نوشت ‘‘ کے حوالے سے نکالا تھا جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اب یہ دوسرا یک موضوعی مجلہ ’’پولس کا تخلیقی چہرہ ‘‘ہمارے سامنے ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس محکمے میں نہ صرف ویسے افراد ہیں جنہوں نے میرٹھ ،ملیانہ، گجرات اور ایودھیا میں اپنی جو شبیہ بنائی ہے اور جو ہندوستانی عوام کے ذہن پہ نقش ہیں۔ اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو اس شعبے میں ایسے افراد اور انسان دوست شخصیتیں مل جائیں گی جن کا چہرہ اور شبیہ وہ نہیں ہے جو ہمارے تصورات کے نہاں خانے میں نقش ہیں بلکہ یہاں گداز اور شگفتہ دل رکھنے والے حساس فنکار اور شاعر بھی نظر آتے ہیں۔ایسے منفرد موضوعات پر رسالہ نکالنا اور مواد سے بھر پور ،یہ آسان کام نہیں۔ میں مدیر’’انداز بیاں‘‘ کو مبارک باد دیتا ہوں۔

Dr.Quaisar Zaman
Urdu Ghar,Suleman Colony
Hazaribagh(Jharkhand)
Mob:09031919207
Email:quaisarzaman98@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں