281

حقانی القاسمی سے مکالمہ


مکالمہ کار:وصی اللہ حسینی
حقانی القاسمی کاشمار نئی نسل کے ممتاز ناقدین میں ہوتاہے ،تخلیقی تنقید کے حوالے سے ان کی انفردایت کا اعتراف ساری دنیانے کیاہے،بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے حقانی القاسمی آج کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ادب وصحافت میں ان کا ایک اہم مقام ہے۔ان کی تقریباً ایک درجن کتابیں علمی وادبی دنیاسے خراج تحسین حاصل کرچکی ہیں۔انھوں نے متعدد اخبارات میں کام کیا،لیکن ان کے اصل جوہر ’’استعارہ‘‘ میں آکر کھلے ۔صلاح الدین پرویز کے ساتھ حقانی القاسمی نے رسالہ ’’استعارہ‘ ‘نکالا،تو ادبی دنیامیں تہلکہ مچ گیا۔پھر انھوں نے سہاراگروپ کے رسالوں ’’بزم سہارا‘ ‘اور ’’عالمی سہارا‘ ‘کواپنے جمالیاتی ذوق اور تخلیقی اپج سے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ان رسالوں کے ذریعے انہوں نے نئے جہان بھی دریافت کئے۔اِن دنوں وہ قومی اردو کونسل میں بطورکنسلٹنٹ کام کررہے ہیں اور اپنا منفرد رسالہ’ ’اندازِ بیاں ‘‘ نکال رہے ہیں،دہلی اردو اکیڈمی ،مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی اور ساہتیہ اکیڈمی نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف ایوارڈز سے نوازاہے۔حقانی القاسمی کی انہی ادبی وصحافتی خدمات کے مدِ نظر محمد وصی اللہ حسینی نے رسالہ ’’ادبی نشیمن ‘‘ کے لیے خصوصی بات چیت کی تھی۔وصی اللہ حسینی ایک نوجوان تنقید نگارکی حیثیت سے اپنی شناخت بناچکے ہیں اور صحافت تو ان کا پیشہ ہی ہے۔قارئین کی دلچسپی اورانٹرویوکی غیر معمولی افادیت کے پیشِ نظروصی اللہ حسینی اور رسالہ ’’ادبی نشیمن ‘‘لکھنؤ کے خصوصی شکریے کے ساتھ اس انٹرویوکے اہم اقتباسات نذرِ قارئین ہیں:

سوال : سب سے پہلے اپنے خاندانی ،تعلیمی اور ادبی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: بہت ہی معمولی، متوسط طبقہ سے میرا تعلق ہے، سنا ہے کہ میرے پردادا باقر علی کے پاس اچھی خاصی زمینیں تھیں ،مگر جب میں نے شعور کی آنکھ کھولی، تو مجھے زمین داری کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آیا۔ میرے دادا حکیم محمد خلیل الرحمن اپنے علاقے کے مشہور حکیم تھے۔ انہوں نے کئی اسکولوں میں مدرسی بھی کی اور طبابت کا پیشہ اختیار کیا۔ میرے والد جناب عبدالصمد میٹرک پاس تھے۔ معاش اور ملازمت کے لیے بہت سے علاقوں کی خاک چھانی۔ بالآخر سرکاری ملازم ہوگئے، تنخواہ معمولی تھی۔ گھر کے معاشی حالات بھی بہتر نہیں تھے۔ مگر غربت اور عسرت کے باوجود اپنے تمام بچے اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا جنون تھا اور ان کا یہ جنون بہت کام آیا، میرے تمام بھائیوں اور بہنوں نے اسکول اور مدرسے میں اچھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ میری ماں بی بی شمس النساء ان پڑھ اور یتیم تھیں۔ انہیں اللہ کے بندوں سے بہت کم شکایت رہی، ان کے تمام گلے شکوے اللہ کے حضور ہوتے۔ کوئی بھی تکلیف پہنچتی، تو اللہ میاں کو الم غلم بکتی رہتیں،ا ن کی زیادہ تر لڑائی بندوں سے زیادہ اللہ میاں سے رہتی تھی۔
ارریہ بہار کا ایک چھوٹا سا گاؤں بگڈہرامیرا وطن ہے، یہ پہلے اسٹیٹ کہلاتا تھا۔ اس علاقے کا سب سے قدیم اسکول اسی گاؤں میں واقع ہے۔ اطراف واکناف میں جتنے بھی تعلیم یافتہ ہیں سب اسی اسکول کے زائیدہ ہیں، میں نے بھی ابتدائی تعلیم یہیں کے مدرسہ اور مڈل اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد والد محترم کی ملازمت کی وجہ سے مختلف علاقوں میں رہنا پڑا اور وہاں کے مدارس ومکاتب سے حصول علم کا سلسلہ جاری رہا۔ جامعہ اسلامیہ ڈہٹی ارریہ سے باضابطہ وسطانیہ چہارم تک کی تعلیم حاصل کی ،جس کا نصاب بہت ہی جامع تھا۔ عصری اور دینی دونوں علوم کا امتزاج تھا۔ ہندی، انگریزی، فارسی، عربی کے علاوہ ریاضی، جغرافیہ اور سائنس وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ وہاں سے کورس مکمل کرنے کے بعد بنارس کے مدرسہ مطلع العلوم کمن گڈھا سے عربی دوم سے عربی سوم تک کی تعلیم مکمل کی،میں اس مدرسے میں عربی اول میں داخلہ کا امیدوار تھا، مگر ممتحن نے میرا داخلہ عربی دوم میں کردیا ،جس کی وجہ سے میری بنیاد تھوڑی کمزور ہوگئی۔پھر جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس سے عربی ششم تک پڑھائی کی، اسی دوران الہ آباد بورڈ سے مولوی اور عالم کے امتحانات بھی پاس کیے اور اس میں ایک سبجیکٹ انگریزی کا لیا۔ بنارس کے بعد دیوبند سے سلسلہ جڑا اور دار العلوم دیوبند سے دورۂ حدیث اور تکمیل ادب عربی کا کورس مکمل کیا۔ پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ہوئی ،تو وہیں سے عربی میں اے ایم اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پی ایچ ڈی تقریباً مکمل تھی ،مگر جمع کرنے کی مہلت نہ ملی، غم روزگار نے گھیر لیا اور میں دہلی آگیا ،جہاں مختلف ہفت روزہ اخبارات سے میری وابستگی رہی۔ ہفت روزہ ’’اخبار نو‘‘، ’’نئی دنیا‘‘ اور اس کے علاوہ دیگر رسائل وجرائد سے میرا تعلق رہا۔ اسی دوران میری ماہنامہ ’’آج کل‘‘ نئی دہلی سے جزوی وابستگی بھی رہی۔ اس کے بعد آواں گارد رسالہ’’ استعارہ ‘‘سے جڑگیا۔ ’’استعارہ ‘‘کے بعد سہارا کے ماہنامہ ترجمان ’’بزم سہارا‘‘ میں ملازمت مل گئی اور وہاں کئی برسوں تک خدمات انجام دیتا رہا۔ اس مجلہ میں مضامین کے انتخاب اور ترتیب کی ذمے داری تنہا میرے سپرد تھی اور بفضلِ خدا میں نے اس مجلے میں جتنے نئے تجربے کیے، ان کی علمی اور ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ہوئی، شہرِ سخن، گہوارۂ دانش، جہانِ دانش، مباحثہ، بادۂ کہن جیسے نئے موضوعاتی سلسلوں کو لوگوں نے بہت پسند کیا اور اس سے ادبی صحافت کا جمود بھی ٹوٹا۔
سوال : اب تک آپ کی کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور کون کونسی؟
جواب: اب تک درجن بھر سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں ’’فلسطین کے چار ممتاز شعراء‘‘ (1995)، ’’طوافِ دشتِ جنوں‘‘ (2003)،’’لاتخف‘‘ (2004)، ’’تکلف برطرف‘ ‘(2005)، ’’دار العلوم دیوبند ادبی شناخت نامہ‘‘ (2006)، ’’رینو کے شہر میں‘‘ (2007)، ’’خوشبو، روشنی، رنگ‘‘ (2009)، ’’شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان‘‘ (2010)،’’بدن کی جمالیات‘‘ (2010)، ’’تنقیدی اسمبلاژ‘‘ (2012)، ’’ادب کولاژ‘ ‘(2014) اور جوزف میکوان کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ گجراتی ناول ’’انگلیات‘ ‘کا ترجمہ قابل ذکر ہیں۔ اسی ترجمے پر مجھے ساہتیہ اکیڈمی کا ترجمہ ایوارڈ برائے 2016دیاگیا۔
سوال : اب تک آپ کو کون کون سے ایوارڈز حاصل ہوچکے ہیں؟
جواب: میرے لیے تو سب سے بڑا ایوارڈ قارئین کی محبتیں اور ان بزرگوں کی شفقتیں ہیں ،جن کی تحریریں پڑھ کر میں نے بہت کچھ سیکھا، مگر اب وہی بزرگ میری تحریریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں اور اپنی دعاؤں سے نوازتے ہیں۔ مجھے سب سے پہلے دہلی اردو اکیڈمی سے ایوارڈ برائے تخلیقی نثر دیاگیا ،جس کا میں قطعی مستحق نہ تھا اور نہ میں اس کے لیے ذہنی طورپر تیار تھا۔ صرف صلاح الدین پرویز مرحوم کی محبت اور ضد کی وجہ سے مجھے یہ ایوارڈ مجبوراً قبول کرنا پڑا۔ دوسرا کل ہند حکیم قمر الحسن ایوارڈ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی بھوپال سے ملا ،جو میرے لیے ایک سرپرائز بھی تھا۔ جب مجھے اس کی اطلاع پروفیسر آفاق احمد (اب مرحوم) نے دی ،تو میں نے ان سے دست بستہ گزارش کی کہ آپ اپنے بھوپال یا مدھیہ پردیش کے کسی ادیب کو دے دیجیے، تو انہوں نے فرمایا کہ: یہاں کے سارے ادیبوں کو دیا جاچکا ہے، یہ ان کی محبت تھی؛ اس لیے میں اس ایوارڈ کو بھی انکار نہ کرسکا۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکیڈمی جیسے موقر ادارہ سے 2016 میں ترجمہ کا ایوارڈ دیاگیا۔ یہ بھی غیرمتوقع تھا اور یہ ایوارڈ دراصل میری بیوی اور بچوں کے رت جگوں کا انعام تھا، یہ ایوارڈ نہ ملتا تو مجھے اپنی ہی نہیں ؛بلکہ بچوں کی محنت کی رائیگانی کا شدت سے احساس ہوتا۔اس کے علاوہ نگینہ، نجیب آباد اور دیگر علاقوں سے چھوٹے موٹے ایوارڈ ملتے ہی رہے ہیں، یہ سب احباب کی عنایتیں اور محبتیں ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔
سوال: اردو ادب میں ترقی پسند تحریک،جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسے رجحانات سامنے آئے،ان کے بارے میں آپ کے کیانظریات ہیں اورآپ کا ذہنی میلان کس طرف ہے ؟
جواب: تحریکیں جنم لیتی ہیں اور مرجاتی ہیں، ہرتحریک کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے اور اس عرصے میں سماج کے طرزِ فکر اور معاشرت پر اس کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔ بعد میں تبدیلیِ حالات کی وجہ سے تحریکوں کے اثرات کم ہونے لگتے ہیں اور ا س کی جگہ ایک نئی تحریک جنم لیتی ہے۔ یہ سارا فلسفۂ تغیر کے تحت ہوتا ہے۔اردو میں ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسے نظریات کے بہت گہرے اثرات ہیں، جہاں تک میرا معاملہ ہے ،تومیں نے ہرنئی تھیوری، فلسفہ کو براہیمی نظر سے ہی دیکھا ہے، مجھے پتہ ہے کہ جب ترقی پسندی طلوع ہوئی تھی، تو لوگوں نے ہذا اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا، پھر جدیدیت نمودار ہوئی، تو ہذا ربی کی آواز گونجی، اس کے بعد مابعد جدیدیت منور ہوئی ،تو لوگوں نے اسے بھی لبیک کہا اور بہت سے لوگوں کو مابعد جدیدیت اپنے قلب سے زیادہ قریب محسوس ہوئی ،تو لوگ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔ مجھے کسی رویے یا نظریے کی اسیری منظور نہیں، مجھے نظریے سے زیادہ نظر عزیز ہے؛ اسی لیے تمام نظریات اور تحریکات کے مثبت اور صحت مند اثرات کو ہی میں قبول کرتا ہوں۔ مابعد جدیدیت چونکہ نظریہ نہیں؛ بلکہ نظریوں کا رد ہے؛ اس لیے مابعدجدیدیت سے میری ذہنی ہم آہنگی تھوڑی زیادہ ہے؛ لیکن ترقی پسند تحریک سے میری ذہنی مناسبت اس لیے ہے کہ یہ تحریک ادب کے افادی تصور پر زور دیتی ہے اور انفرادیت کے بجائے اجتماعیت پر یقین ہے۔ یہ تحریک جبر اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہے؛ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ترقی پسند تحریک معاشرہ کے لیے زیادہ مفید ہے اور یہی وجہ ہے کہ تخلیق کار کا تعلق چاہے کسی تحریک سے ہو، اس کے یہاں ترقی پسندی کے اثرات ضرور موجود ہوتے ہیں؛اسی لیے کہا گیا ہے کہ ’’ماینفع الناس یمکث فی الارض‘‘ اور میرا خیال ہے کہ ترقی پسندی سے ہمارے انسانی معاشرہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے؛ اس لیے سقوطِ ماسکو کے باوجود ذہنوں پر اس تحریک کے اثرات باقی ہیں۔
سوال : اد ب میں تنقیدکی کیا معنویت،اہمیت اور افادیت ہے ؟
جواب: ادب میں تنقید کی بڑی اہمیت ہے، تنقید کے بغیر تخلیق کے اسرار ورموز منکشف نہیں ہوپاتے، تنقید دراصل تجسس، تفحص اور تکشف کا عمل ہے، تنقید تقلید کا مکاشفہ بھی کرتی ہے اور محاسبہ بھی، ایک نقاد تخلیق کے باطن کی سیاحت کرتا ہے اور ذوقِ نظر سے اس کے محاسن ومعائب تلاش کرتا ہے؛ اسی لیے تنقید کی اہمیت کم نہیں ہے اور تنقید بڑی اہم چیز ہے ؛کیونکہ تنقید کے لیے تمام علوم وفنون پر عبور ضروری ہے۔ ابن خلدون نے ناقد کے لیے بہت ساری شرائط لکھی ہیں، جن کی روشنی میں دیکھا جائے، تو عصری جامعات کے اردو مدرسین کی مجموعی معلومات ملانے کے باوجود بھی ایک ناقد کا ہیولیٰ کھڑا کرنا ناممکن ہوگا۔ تخلیق کی تعیین قدر کے لیے تنقید بہت ضروری ہے، تخلیق کے مافیہ تک پہنچنے کے لیے امعان اور ارتکازِ نظر کی شدید ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لیے درایت اور دیانت بھی ضروری ہے، مگر اب المیہ یہ ہے کہ تنقید تحفظات اور تعصبات کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے اور یہ تعصبات بھی طرطبائیوں، مراغیوں، حرقوصوں،اور برغوثوں کی پیداوار ہیں۔ پہلے تنقید نگار تخلیقی مزاج کے ادراک اور اس کے معنیاتی انکشاف پر زیادہ زور دیتا تھا، مگر اب تنقید کنفیوژن اور التباس سے عبارت ہوکر رہ گئی ہے۔ خاص طورپر بین القوسین تنقید کی روش بڑھ رہی ہے۔ ایسی تنقید میں نہ اپنی نظر ہوتی ہے اور نہ اپنا وژن۔ صرف نظری اور لسانی دریوزہ گری ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ شاعری پر تنقید لکھنے والا تنافرِ کلمات، غرابت،تعقیدِ لفظی، ضعفِ تالیف، صرفی ونحوی ساخت، محسناتِ لفظیہ اور معنویہ سے ناآگاہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ شعر کے Cancer Cells کی تشخیص میں ناکام رہتا ہے۔ اس کے پاس ایسے microscopic tools نہیں ہیں کہ جن سے وہ clusters of cancer کا پتہ چلاسکے۔ اسی طرح نثری اصناف پر لکھی گئی تنقید کا معاملہ ہے، یہاں بھی neocortex دماغ کی فعالیت کم نظر آتی ہے اور جذباتی فشار زیادہ۔ بیشتر نقاد متن کے سرائر اور مخفیات پر نظر نہیں رکھتے اور نہ ہی ان سے معنی کا استخراج کرتے ہیں، صرف ایک طائرانہ نگاہ ہوتی ہے ،جسے تنقید کا نام دیا جاتاہے۔
سوال : تخلیق اور تنقید کے مابین کیارشتہ ہے اور ان دونوں میں کس کو اولیت حاصل ہے؟ آپ کی نظر میں تخلیق کار کی اہمیت زیادہ ہے یاناقد کی ؟
جواب: تخلیق اور تنقید دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ دونوں کا ایک دوسرے سے ایک وجودیاتی رشتہ ہے۔ میرے نزدیک چونکہ تنقید بھی تخلیقی عمل ہے یا باز تخلیق سے عبارت ہے؛اسی لیے میں کسی کو کسی پر اولیت دینے کا قائل نہیں ہوں۔ تخلیق کار اور ناقد دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ کبھی تخلیق تنقید پر حاوی ہوجاتی ہے اور کبھی تنقید تخلیق پر غالب آجاتی ہے۔ میر وغالب پر لکھی گئی تنقید میر وغالب کی تخلیق سے آگے نہیں جاسکتی اور کسی معاصر شاعر پر لکھی گئی تنقید تخلیق سے بہت آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ تخلیق کار اور تنقید نگار کی ذہنی اور ادراکی سطح پر منحصر ہے۔ کبھی کبھی تخلیق کار کی ذہنی سطح ناقد کے مقابلہ میں پست ہوسکتی ہے، اس لیے یہ معاملہ اضافی ہے اور اسے تنقید اور تخلیق کی سطحوں کے تعین کے بعد ہی طے کیا جاسکتا ہے کہ کون زیادہ اہم ہے اور غیراہم۔ ویسے تخلیق میں تنقید بھی مضمر ہوتی ہے اور تخلیق ہی سے تنقید منتج ہوتی ہے۔ ارسطو نے ہومر کی نظموں کو دیکھ کر ہی بوطیقا مرتب کی تھی اور عرب ناقد قدامہ بن جعفر نے بھی تخلیق سے ہی اصول نقد تشکیل دیے تھے۔ نقدالشعر کا بنیادی محور ومرکز عرب شعرا کا کلام ہی تھا۔ پس ثابت ہوا کہ تنقید تخلیق ہی کا ایک انش ہے، اس کا ہی ایک انگ ہے اور اسی کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ ایسے چیخوف کی بات کیسے مان لی جائے کہ نقاد وہ مکھی ہے، جو گھوڑے کو ہل چلانے سے روکتی ہے اور فلابیر کا یہ کہنا کہ تنقید ادب کے جسم پر ایک کوڑھ ہے کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ دراصل تنقید اور تخلیق کے رشتے سے عدمِ آگہی کی دلیل ہے، تنقیدی شعور ہی دراصل تخلیقی جوہر کو جلا بخشتا ہے۔
سوال : ادب میں ’’تخلیقی تنقید ‘‘ کیاہے؟اس کے تحت کام کرنے والے کچھ اہم ناقدین کے بارے میں بتائیں!
جواب: اردو میں تخلیقی تنقید کی اصطلاح نئی ضرور ہے،مگر ہر وہ تنقید جس میں تخلیق جیسی کیفیت یا تحیر ہو، وہ تخلیقی تنقید کہلائے گی۔ شکیل الرحمن نے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ تنقید کی معراج یہ ہے کہ وہ فکشن بن جائے۔ ایسی تنقید جس میں تخلیق کے تمام اوصاف ہوں، وہ تخلیقی تنقید کے ذیل میں آتی ہے۔ تخلیقی تنقید کی ایک نمایاں مثال پروفیسر شکیل الرحمن ہیں، جنہوں نے نہ صرف تنقید کی زبان بدلی؛ بلکہ تنقیدکو اساطیری جمالیات سے آشنا کیا اور تنقید کو ایک نیا انداز اور اسلوب عطا کیا۔ اس کے علاوہ وارث علوی کو بھی تخلیقی تنقید کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے کہ ان کی تنقید بھی بوجھل، ثقیل اور بے معنیٰ تنقیدی اصطلاحات اور کلیشے سے پاک ہوتی ہے۔ ان کی تنقید براہ راست تخلیقی متن سے مکالمہ کرتی ہے اور تنقید کے ذریعہ اس متن کی تقلیب کرتی ہے۔ یہی تقلیبی عمل تخلیقی تنقید ہے۔
سوال : کیا ا چھا ناقد ہونے کے لئے انگریزی زبان وادب کا علم ضروری ہے؟ عربی ،فارسی اورسنسکرت پس منظر والاادیب اچھاناقد نہیں ہوسکتا؟
جواب: اچھے ناقد کے لیے مختلف زبانوں اور علوم وفنون سے آگہی ضروری ہے۔ جو ناقد عالمی ادبیات سے آگاہ ہو،اس کی نظر زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ آج جتنے بھی تنقیدی رویے اور رجحانات ہیں، زیادہ تر مغرب سے ماخوذ اور مستعار ہیں، اردو تنقید کی شعریات مغرب کے تنقیدی اصول اور نظریات سے مرتب کی گئی ہے، اسی لیے ناقد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مغرب کی تنقیدی روایت سے واقف ہو، اور وہاں کے ناقدین کے نظریات کو سمجھنے کی قوت رکھتا ہو اور اس کے لیے انگریزی زبان وادب سے آگہی ضروری ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرقی شعریات پر گہری نظر رکھنے والے اچھے ناقد نہیں بن سکتے۔ بنیادی طورپر مغربی اور مشرقی تنقیدی اصولوں میں صرف زبان کا فرق ہے۔ دونوں کے تنقیدی اصول وضوابط میں بڑی حد تک یکسانیت ہے، اسی لیے مغربی شعریات کا عالم ہو یا مشرقی شعریات کا دونوں ہی اچھے ناقد بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان میں عالمی وژن اور گہرا تنقیدی شعور ہو۔ گہری تنقیدی بصیرت کے بغیر کوئی بھی شخص بڑا ناقد نہیں بن سکتا۔ بڑے ناقد کے لیے ایک بڑا تنقیدی ذہن اور وژن درکار ہے۔ صرف ایلیٹ، ایزراپاؤنڈ، ایڈمن ولسن یا ڈیوڈ لاج کے حوالے دے کر کوئی بڑا نقاد نہیں بن سکتا ہے۔ صرف کی اُترن پر اترانے والے بڑے نقاد نہیں کہلائے جاسکتے۔ مشرق کے پاس بھی فکری عظمت کے بہت سے نشانات ہیں اور بہت سے معاملات میں مشرق کو مغرب پر برتری بھی حاصل ہے۔ دراصل مشرق کی تہذیبی فکر سے انحراف نے ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ ہمیں فکر کے اس نقطہ کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری تقنید اور تخلیق کا محور بن سکے۔ کیا رینے گینو یا مولانا اشرف علی تھانوی نے ادب کی تفہیم اور تعبیر کے جو پیمانے وضع کیے ہیں، وہ ناقص ہیں؟مولانا تھانوی نے جو بات ادب کے حوالے سے بہت پہلے کہی تھی، وہی بات دریدا نے بہت بعد میں کہی، اس نقطے پر غور کیا جائے، تو مشرق کی عظمت کا راز سمجھ میں آسکتا ہے۔
سوال : تنقید کے عصری منظر نامے کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے ؟
جواب:تنقید کے عصری منظرنامے سے بہت سے لوگ مطمئن نہیں ہیں اور اس عدم اطمینان کی وجہ وہ تعصبات اور تحفظات ہیں جو آج کی تنقید میں شامل ہوگئے ہیں۔ چند ہی نام ایسے ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تنقید کو کسی نئی نظر اور نظریے سے آشنا کررہے ہیں، ورنہ وہی پرانے تنقیدی خیالات اور تصورات ہیں ،جن کی جگالی ہورہی ہے،المیہ یہ ہے کہ آج کی تنقید تقبیس اور تضمین کا ایک مضحکہ خیز عکس بن کر رہ گئی ہے، ہمارے نقادوں کو علوم وفنون میں اتنا بھی درک حاصل نہیں ہے، جتنا کہ مرزا رسوا کی امراؤ جان ادا کو تھا، نہ ہی ان کی زبان اتنی شستہ ہے جتنی لکھنؤ کی طوائفوں کی ہوا کرتی تھی، آج کے بہت سے تنقید نگاروں کی تحریروں سے گوپی چند نارنگ کی لفظیات، اصطلاحات، تصورات نکال لیے جائیں ،تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔
سوال : ’’استعارہ‘ ‘ نکالنے کا خیال کیسے آیا؟اس کے منصہ شہود پر آنے کے پسِ پشت کیاکیااسباب ومحرکات کارفرما رہے؟
جواب: جب میں شاہد صدیقی کے اخبار ہفت روزہ’ ’نئی دنیا‘‘ سے وابستہ تھا ،تو ایک دن بھائی صلاح الدین پرویز میرے دفتر آئے اور انہوں نے کہا کہ ایک رسالہ نکالنا ہے، میں نے ان کی بات پر زیادہ یقین نہیں کیا؛ لیکن ان کا اصرار بڑھتا گیا، تو میں نے بھی تھوڑی سی دلچسپی لینی شروع کردی، رسالہ کا خاکہ بھی تیار کرلیا ،پھر بھی مجھے تذبذب تھا کہ یہ ایک خواب ہے دیوانے کا،جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپائے گا۔ دن ،مہینے ،سال گزرتے گئے، میری ذہنی تشویش بڑھتی گئی اور پھر اچانک ایک دن صلاح بھائی نے کہا کہ’ ’استعارہ‘‘ کا پہلا شمارہ مئی میں منظر عام پر آئے گا۔ تیاریاں شروع ہوگئیں اور بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اور’ ’استعارہ‘‘ منظرِ عام پر آگیا۔ اس رسالہ کے اجرا کاصرف اتنا مقصد تھا کہ ادب میں جو جمود اور سناٹا ہے، وہ توڑا جائے، اسی لیے اس رسالہ پر یہ عبارت لکھی رہتی تھی’ ’ادب کے سناٹوں کو توڑتی ہوئی تیسری آواز‘‘ اور یقینی طورپر اس رسالے نے سناٹے کو توڑا اور پہلے ہی شمارے نے شہرت اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑدیے، پوری دنیا میں استعارہ کی گونج ہوئی اور دیکھتے دیکھتے استعارہ مجلاتی صحافت کے منظرنامے پر ایک روشن استعارہ بن گیا، اس کی مخالفت بھی ہوئی، اسے فری میسن تحریک کا ترجمان کہا گیا، اس کے علاوہ اخبارات ورسائل میں استعارہ کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔ اس مخالفانہ مہم سے استعارہ کو مزید مقبولیت اور تقویت ملی اور اس طرح استعارہ پوری ادبی دنیا میں اپنی ایک اہم شناخت بنانے میں کامیاب رہا۔ تنقیدی مباحث اور پرشن اور اتر کے ذریعہ استعارہ نے ادب میں تحرک اور طغیانی کی کیفیت پیدا کی۔ ایک بڑا کارواں استعارہ سے جڑتا گیا جس میں ادب اور تنقید کے بڑے نام تھے۔ صلاح بھائی اور میرے رتجگوں کا یہ صلہ ملا کہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیشتر ممالک میں اس کے چاہنے والوں کا ایک حلقہ بنتا گیا۔ اس رسالہ نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو، لیکن بہت سے بڑے بت توڑنے کا کام ضرور کیا۔
سوال : سہاراگروپ سے آپ کافی دنوں تک وابستہ رہے،وہاں کے تلخ وشیریں تجربات کے بارے میں کچھ بتائیں!
جواب: استعارہ چھوڑنے کے بعد میں بے روزگار ہوگیا۔ مجھے ایک چھوٹی موٹی ملازمت کی تلاش تھی۔ سارے راستے مسدود لگ رہے تھے اور میں بہت اداس تھا اور یہ اداسی کئی مہینوں پر محیط تھی کہ ایک دن میرے دوست عابد انور (یواین آئی) کے موبائل پر ایک فون آیا کہ کل آخری تاریخ ہے، آپ جلد سے جلد سہارا میں عزیز برنی صاحب سے مل لیں، دوسرے دن میں سہارا کے دفتر گیا اور برنی صاحب سے ملاقات کی اور انہوں نے بزم سہارا کے لیے میرا اپوائنمنٹ کردیا۔ یہ خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی مدد تھی، میں نے سہارا جوائن کرلیا۔ وہاں بہت سے جانے پہچانے چہرے بھی تھے،مگر مجھے ان چہروں پر بھی اجنبیت کی لکیریں نظر آئیں، ایک موہوم سا خوف، ایک ڈر، چند دنوں وہاں کاتماشہ دیکھا، معمولی لیاقتوں والے لوگوں کے درمیان مجھے بڑی وحشت سی محسوس ہونے لگی،جس رسالے کے لیے مجھے برنی صاحب نے بلایاتھا، اس سے مجھے عمداً دور رکھا گیا، بعد میں برنی صاحب کو جب معلوم ہوا ،تو انہوں نے مجھے اس رسالہ سے منسلک کردیا، بزم سہارا سے وہاں کے سینئرس وابستہ تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اس رسالہ کو ایڈٹ کروں، اس کے لیے وہ لوگ بہت سی تدبیریں اور ترکیبیں نکالتے رہے ،مگر ہر ترکیب اور تدبیر ناکام ہوتی گئی اور رفتہ رفتہ بزم سہارا سے میری وابستگی مضبوط ہوتی گئی اور دھیرے دھیرے سینئر حضرات کا تسلط کم ہوتا گیا۔ شروع کے دنوں میں مجھے بہت ہی کرب اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اگر عزیز برنی صاحب کی شفقت اور سرپرستی حاصل نہ ہوتی ،تو شاید ایک ہفتہ سے بھی زیادہ سہارا میں میرے لیے رہنا مشکل ہوتا، مجھے سینئروں نے بہت رلایا، میرے خلاف سازش کرتے رہے،میں اندر سے ٹوٹتا رہا، اللہ بھلا کرے فرحت باجی کا کہ ایسے میں انہوں نے میری بہت ڈھارس بندھائی اور حالات بدلے اور جتنی سازش ہوتی گئی، میری پوزیشن اتنی ہی مضبوط ہوتی گئی، سینئروں کی سازش کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ’’بزم سہارا‘‘ مکمل طورپر میری تحویل میں آگیا اور میں نے نئے نئے موضوعات اور مسائل پر مکالمے کا جو سلسلہ شروع کیا، وہ لوگوں کو پسند آنے لگا، خاص طوپر شہر سخن، جہانِ دانش، گہوارۂ دانش، بادۂ کہن، مباحثہ یہ سب نئی چیزیں تھیں اور عام مجلاتی صحافت سے یہ بالکل الگ تھا؛ اس لیے مہنگا رسالہ ہونے کے باوجود ادبی حلقے میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی اور اس کی ایک شناخت بن گئی۔ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ بزم سہارا کے ہرشمارے کی فہرست کا عنوان الگ الگ ہوتا تھا،یہ بھی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا ،یعنی کہہ سکتے ہیں کہ ادبی صحافت کی سطح پر ’’بزم سہارا ‘‘میں نئے تجربے کیے گئے۔ زندہ تخلیق کار وں پر بیش قیمت مضامین کی اشاعت بھی اس کی خصوصیت بن گئی، سہارا نے مجھے توانائی کم، تناؤ زیادہ دیا، میں جس محنت، لگن اور خلوص سے کام کرتا رہا، اس کا مجھے کوئی صلہ نہیں ملا، یہ رسالہ چلتا رہا؛ لیکن آہستہ آہستہ یہ کچھ دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا، یہ دشمن باہر کے نہیں، اندر ہی کے تھے، رسالہ کو بند کرنے کی سازشیں شروع ہوئیں اور اس میں انہیں مکمل کامیابی ملی اور جب رسالہ کے بند کرنے کی باضابطہ اطلاع ملی ،تو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے کچھ لوگوں نے جشن بھی منایا اور یہ اعلان کیا کہ آج حقانی کا قلعہ منہدم ہوگیا،ظاہر ہے کہ بزمِ سہارا کی موت ان لوگوں کے لیے مسرت بھری خبر تھی، اس کے بعد مجھے ہفت روزہ عالمی سہارا سے منسلک کردیاگیا،بابِ ادب کے عنوان سے صفحات کی ترتیب کی ذمے داری میرے سپرد کردی گئی۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کا نیا کالم ’’ریڈرس فورم‘‘ میرا اپنا آئیڈیا تھا۔ میں اس صفحے کی ترتیب کے فرائض بھی انجام دیتا تھا، بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایک دو ہفتے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا،تو پھر اپنے کرم فرماؤںں کی سازشیں شروع ہوگئیں اور میرے خلاف ایک بڑا محاذ تیار ہوگیا، بہار کے ایک صاحب جو اس وقت گروپ ایڈیٹر تھے انہیں نہ اردو آتی تھی اور نہ ہی وہ ادب سے آگاہ تھے، انہوں نے مجھے شوکاز نوٹس بھیجا، میں نے ان کا جواب نہیں دیاکہ نہایت غیرمنطقی اور غیرمعقول شوکاز تھا، جو صرف عداوت اور دشمنی کی بنیاد پر ایشو کیاگیا تھا، انہیںیہ بات شاید بری لگی اور ایک دن اپنے دفتر میں بلاکر مجھ سے تلخ کلامی کی، میں نے بھی انہیں ترکی بہ ترکی جواب دیا، پہلی بار ایسا لگا کہ میرے لہجے میں نہ کوئی ڈر تھا اور نہ آنکھوں میں کوئی خوف، ان کی آواز جتنی تیز ہوتی، اتنی ہی میری آواز بلند ہوتی جاتی اور اس طرح تلخ کلامی اتنی بڑھی کہ میں وہاں غصہ سے باہر نکل آیا اور اس کے بعد میں نے سہارا کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھا، میرے لیے شاید وہ سب سے اچھا دن تھا، گھر لوٹتے وقت میرے ہونٹوں پر عجب سی مسرت تھی اور جب میں نے یہ خبر اپنی بیوی اور بچوں کو سنائی ،تو انہیں بھی ذرا سا ملال نہیں ہوا، انہیں بھی لگا کہ آج ابا کو نجات مل گئی ہے، اس کے بعد کئی مہینے میں پھر بے روزگار رہا اور اس بے روزگاری نے میرے لیے روزگار کا ایک نیا دروازہ کھول دیا، پروفیسر ارتضیٰ کریم کی عنایتوں سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں بحیثیت کنسلٹینٹ مجھے رکھ لیاگیا۔
سوال : آپ ادب اور صحافت دونوں شعبوں سے وابستہ رہے ہیں،آپ ادیب کہلانازیادہ پسند کریں گے یا صحافی؟
جواب: میں ادب اور صحافت دونوں شعبوں سے وابستہ ضرور رہا ہوں، مگر کوئی بھی ٹیگ پسند نہیں کرتا۔ نہ میں اپنے آپ کو ادیب سمجھتا ہوں اور نہ ہی صحافی۔ میری حالت تو بالکل خواجہ احمد عباس کی طرح ہے کہ صحافی انہیں کہانی کار سمجھتے تھے اور ادیب انہیں صحافی۔ کئی خانوں میں منقسم رہنے کی وجہ سے انہیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ میرا بھی معاملہ یہی ہے کہ ادبی حلقہ مجھے صحافی سمجھتا ہے اور صحافی برادری مجھے ادیب سمجھتی ہے اور میں خود کو ایک معمولی قلم کار سمجھتا ہوں۔ جب جس کی ضرورت پڑتی ہے، میں اس سمت چل پڑتا ہوں،چونکہ صحافت ہو یا ادب ،اس کا بنیادی کام سوئے ہوئے معاشرے کو بیدار کرنا ہے، میں اپنا معاشرتی فریضہ انجام دیتا ہوں، لوگ اسے کوئی بھی نام دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، نام میں کیا رکھا ہے کہ آدمی کی اصل شناخت تو کام سے ہوتی ہے اور وقت ہی ہر تحریر کو ایک پہچان عطا کرتا ہے،باقی ساری شناخت مجروح یا گم ہوجاتی ہے۔
سوال: ادب اور صحافت میں کیافرق ہے؟کیا دونوں کے درمیان خطِ فاصل کھینچنا ممکن ہے ؟ دونوں کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالیں!
جواب: ادب ہو یا صحافت ایک دوسرے سے انٹرکنیکٹیڈ ہیں، دونوں میں ایک داخلی ربط ہے، بس فرق یہ ہے کہ صحافت میں خبر پر ارتکاز ہوتا ہے اور ادب میں نظر پر،جہاں خبر ونظر مل جاتی ہیں، وہاں یہ حد فاصل مل جاتی ہے۔ بغیر ادبی شعور کے اچھی صحافت ممکن نہیں اور بغیر صحافتی بصیرت کے اچھے ادب کی تخلیق دشوار ہے۔ خشونت سنگھ نے صحافت کو عجلت میں لکھا ہوا ادب کہا تھا؛ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ دونوں کے درمیان تلازماتی رشتے ہیں، جنہیں توڑدیا جائے تو دونوں کڑیاں کمزور ہوجائیں گی۔
سوال : اردو صحافت اور دیگر زبانوں کی صحافت میں کیافرق ہے؟ اوران میں اردو کی امتیازی خصوصیت کیاہیں؟
جواب: اردو اور دیگر زبانوں کی صحافت میں زیادہ فرق یا فاصلہ نہیں ہے۔ دونوں کے مسائل اورموضوعات ایک ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ انگریزی صحافت قاری کو اپنی سطح پر لانے کی کوشش کرتی ہے اور اردو صحافت قاری کی سطح پر اترجاتی ہے جس کی وجہ سے اردو صحافت کا معیار مجروح ہوتا ہے۔ اردو صحافت مسلمان، مدرسہ اور مسجد پر زیادہ تر مرکوز رہتی ہے، اسی لیے ایک بڑے حلقے میں اس کی پذیرائی ہے۔ ماضی میں اردو صحافت نے بہت انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ جنگ آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ عوامی ذہن وشعور کو مہمیز کیا ہے۔ اب صورت حال بدل گئی ہے۔ ماضی کی صحافت کے امتیازات پر گفتگو تو کی جاسکتی ہے، مگر حال کی صحافت میں کوئی ایسا نشان امتیاز نہیں ہے، جس کی نشاندہی کی جاسکے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ گونگی اور بہری نسل کو صحافت کی شکل میں ایک ترجمان مل گیا ہے، جس کا نہ کوئی دائرۂ اثر ہے اور نہ کوئی نقطۂ امتیاز۔
سوال : کیا اردو صحافت گھاٹے کا سوداہے ؟
جواب: اردو صحافت کو جب مشن کا درجہ حاصل تھا ،اس وقت یہ گھاٹے کا سودا تھی، مگر اب یہ پیسے کمانے کی مشین بن کر رہ گئی ہے؛ اس لیے اب اردو صحافت میں وہی لوگ آتے ہیں ،جنہیں اس میں تاجرانہ منفعت کی امید ہوتی ہے۔ ابوالکلام آزاد نے البلاغ اور الہلال کی شکل میں خسارے کا سودا کیا تھا، ان کے سامنے ایک مشن تھا، ایک مقصد تھا ؛لیکن اب مقصدیت سے عاری صحافت ہے اور یہ صحافت بھی مکمل طورپر مادیت اور صارفیت کے زیر اثر آگئی ہے، خبروں کے انتخاب میں بھی یہی مادیت کام کرتی ہے اور مضامین کی اشاعت میں بھی یہی رویہ رہتا ہے؛ اس لیے اب اردو صحافت گھاٹے کا سودا نہیں رہی،زیادہ تر اخبارات اشتہارات کے لیے شائع ہوتے ہیں،اشتہارات بند ہوجائیں، تو اخبارات کی تعداد خود بہ خود گھٹ جائے گی۔
سوال: اردو صحافت کی موجودہ صورتِ حال کیاہے؟کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
جواب: اردو صحافت کی موجودہ صورت حال کافی تشویشناک ہے، جدید تر تکنیکی وسائل کے باوجود آج کی اردو صحافت زوال پذیر ہے۔ نہ زبان وبیان کی کوئی سطح ہے اور نہ خبروں کے انتخاب کا کوئی معیار۔ صحافتی عملہ بھی علم وادراک سے عاری ہے۔ مدارس کے طلبا صحافت سے وابستہ ہیں، جن کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تو ہے، مگر الفاظ کے برمحل اور موزوں استعمال کا سلیقہ نہیں۔ ان کی ذرا سی تربیت ہوجائے ،تو صحافت میں بہتر کام کرسکتے ہیں؛ لیکن ایسا ہو نہیں پارہا ہے۔ کچھ اخبارات ہیں ،جو اردو صحافت کی لاج رکھے ہوئے ہیں ورنہ اردو صحافت پر صرف ماتم کیا جاسکتا ہے یا مرثیہ لکھا جاسکتا ہے،پہلے کی صحافت پر لوگ قصیدے لکھتے تھے ؛لیکن اب زیادہ تر لوگ اردو صحافت کا مرثیہ لکھنے لگے ہیں۔
سوال : ادب میں ترجمے کی کیااہمیت ہے ؟ایک بار مظہرالحق علوی نے کہاتھا’’غریب مترجم کاادب میں کوئی مقام ہی نہیں‘‘۔ اس قول میں کتنی صداقت ہے ؟
جواب: ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے ،جس سے تخلیق کی تقدیر بدل جاتی ہے اور اس عمل کے لیے کئی زبانوں سے محض آگہی ہی نہیں؛ بلکہ لسانی تلازمات سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ عالمی ادبیات کے بیشتر شہ پارے ہمیں ترجمے کے وسیلے سے ہی ملے ہیں اور اس سے ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے ذہنی اور فکری آفاق میں وسعت اور کشادگی پیدا ہوئی ہے۔ ترجمے ہی سے عالمی تہذیب وثقافت کی کھڑکیاں کھلی ہیں اور ہم نئے نئے جہانِ افکار سے روشناس ہوئے ہیں۔ ترجمے نہ ہوتے تو ہماری آگہی اور معلومات کی دنیا بہت محدود ہوتی۔ ترجمے ہی نے ہمیں عالمی ادبیات سے روشناس کرایا اور ان افکار واقدار سے بھی جو دوسری زبانوں کا قیمتی ورثہ ہیں۔ ارسطو، افلاطون، ہومر، حافظ، سعدی شیرازی، شیکسپےئر اور دیگر نابغان عصر سے ترجمے ہی کے ذریعہ واقفیت ہوئی۔ یہی ترجمہ ہے جو اجنبیت کو قربت میں بدلتا ہے اور ثقافتی اور لسانی تفاہم کے راستے کھولتا ہے۔ مختلف اقوام کی تہذیبوں، زبانوں، رسومات، عقائد، اقدار سے واقفیت کا ذریعہ یہی ترجمہ ہے۔ ترجمے ہی کے ذریعہ مختلف زبانوں کی ادبی اور علمی ثروت میں اضافہ ہوا ہے اور اسی ترجمہ کے ذریعہ ہم سماجی اور سائنسی علوم سے بھی واقف ہوئے ہیں، اسی لیے ہردور میں ترجمہ کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ بغداد کا بیت الحکمت ترجمہ ہی کی وجہ سے پوری دنیا میں شناخت رکھتا تھا اور وہاں مترجمین کو بڑی تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ مامون رشید کے زمانے میں ترجمہ کرنے والوں کو سونے اور چاندی سے مالا مال کرنے کی روایت رہی ہے۔ یونانی علوم وفنون کو پوری دنیا میں جو شہرت ملی ہے، وہ اسی ترجمہ کا مرہون منت ہے۔ اس لیے ترجمہ کی اہمیت سے کبھی بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔جہاں تک مظہر الحق علوی کی بات ہے تو وہ خود اعلیٰ درجے کے مترجم تھے۔ انہیں وہ شناخت اور شہرت نہیں مل پائی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی۔ یقینی طورپر مترجمین کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ ان کو اعلیٰ مقام دیا جانا چاہئے کیونکہ عالمی ادبیات کی ساری تازہ ہوائیں انہی کے ذریعہ ہم تک پہنچتی ہیں اور ہمارے احساس واظہار کو نیا رنگ وروپ دیتی ہیں۔ اسی لیے مترجمین کو وہ مقام دیا جانا چاہئے۔ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔
سوال : کہا جاتاہے کہ موجودہ صدی فکشن کی صدی ہے ،آپ بات سے کہاں تک متفق ہیں ؟
جواب: یہ بات پتہ نہیں کیسے مشہور کردی گئی کہ موجودہ صدی فکشن کی صدی ہے ،جبکہ شاعری اور دیگر اصناف میں فکشن کے مقابلے میں کم بہتر کام نہیں ہورہا ہے، ہاں فکشن غالب رجحان ضرور ہے ،مگر اس کی وجہ سے کسی بھی صدی کو کسی خاص صنف سے مشخص نہیں کیا جاسکتا۔اگر ایسی بات ہے تو پھر بتایا جائے کہ شاعری کی صدی کون سی ہے؟ قصیدے کی صدی کون سی ہے؟ مرثیے کی صدی کون سی ہے؟ تحقیق کی صدی کون سی ہے؟ تنقید کی صدی کون سی ہے؟ ہر صدی میں ہرعہد میں تمام صنفیں اپنی جوہری قوت کے ساتھ زندہ رہی ہیں اور کسی ایک صنف کی وجہ سے دوسری صنف کی شناخت نہ ختم ہوئی ہے اور نہ معدوم ہوئی ہے۔ہرصنف بقدر ظرف زندہ ہے۔
سوال : ادب میں رائج گروپ بندی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں،اس کے نفع ونقصان پر کچھ اظہارخیال کریں۔
جواب: گروہ بندی کی وجہ سے ادب کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا ،تو شاید ادب کی صورت حال زیادہ بہتر ہوتی۔ گروپ بندیوں کی وجہ سے جینوین فنکاروں کو وہ مقام نہیں مل پایا، جس کے وہ مستحق تھے۔ نااہلوں کی پذیرائی گروہ بندی کی وجہ سے ہوتی ہے، گروہی تعصبات کی وجہ سے نہ جانے کتنی ذہانتوں کا قتل ہوا، کتنی لیاقتیں دفن ہوگئیں، کتنے اچھے افکار وخیالات تہِ خاک ہوگئے۔ دراصل گروہی تعصبات نے حقیقی فن کی شناخت نہیں کی۔ صرف اپنے قبیلے کے افراد کی ستائش کی اور انہیں سر چڑھایا ہے جس کا یقینی طورپر نقصان ادب کو ہوا۔ ہمارے ایسے نقاد صرف ہمزیاتی لمزیاتی تحریریں لکھنے اور اپنے حواریوں کی تعریف اور توصیف میں مصروف رہے۔ کسی بھی شاعر کی تعظیم اور تنقیص کا معیار صرف ذاتی تعلق اور رابطہ رہا۔ بیشتر نقاد پیراسائٹ ہیں۔ اس لیے تنقید اپنا اعتبار کھوچکی ہے اور طفیلی تنقید کا تسلط بڑھتا جارہا ہے۔ آج ہرباشعور فرد یہ محسوس کررہا ہے کہ تحریکوں کے عروج کے دور میں جو نام بہت روشن تھے، آج ادبی نقشے پر ان کا کہیں نام ونشان بھی نہیں ہے۔ مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔ آج بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنے ہی گروہ اور قبیلے کو سربلند دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے تمام اخلاقی حدود کو بھی پار کرجاتے ہیں۔ لیکن وقت سب سے بڑا منصف ہے۔ وہ ان تمام تعصبات کا سر کچل کر رکھ دیتا ہے۔ آج وہ نام پھر سے زندہ ہورہے ہیں جنہیں تعصبات کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ آج حاشیائی فنکاروں کی آواز بلند ہورہی ہے تو صرف اس لیے کہ کچھ لوگ گروہ بندی سے اوپر اٹھ کر سوچنے لگے ہیں۔
سوال : ادب کے بارے میں آپ کے کیانظریات ہیں؟’ ’ادب برائے ادب‘‘ اور’’ ادب برائے زندگی ‘‘جیسے نظریات پر کچھ روشنی ڈالیں۔
جواب: میں ادب برائے زندگی کا قائل ہوں؛ کیونکہ اگر ادب کا زندگی سے رشتہ ٹوٹ جائے، تو وہ ادب بے معنیٰ ہوجاتا ہے۔ ادب کا بنیادی مقصد صحت مند سماج کی تشکیل وتعمیر ہے اور وحشی سماج کو مہذب سماج میں بدلنا ہے اسی لیے ادب کا زندگی سے رشتہ بہت ضروری ہے۔ اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو ادب تخلیق کرنے کا کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتا اور یوں بھی ادب خلا میں جنم نہیں لیتا۔ وہ بھی سماجی وقوعات کا مرقع ہوتا ہے، اسی لیے ادب کو زندگی سے جوڑے رکھنا بہت ضروری ہے۔ ادب برائے ادب کا نظریہ غیرمنطقی اور غیرعقلی ہے۔ کوئی بھی شے جب افادیت سے عاری ہوگی تو اپنی اہمیت اور معنویت کھودے گی۔ ادب کو اگر فعال کردار ادا کرنا ہے تو پھر اسے زندگی سے جوڑنا ہی ہوگا۔
سوال: کہا جاتا ہے کہ 1980 کے بعد اچھے افسانے نہیں لکھے گئے، کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
ہرعہد میں اچھے اور برے افسانے لکھے جاتے رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ 80 کے بعد برے افسانے لکھے جارہے ہیں، غلط ہے۔ 80 کے بعد بھی بہت سے اچھے افسانہ نگار ابھرے ہیں اور انہوں نے اردو دنیا کو بہت سی اچھی کہانیاں دی ہیں۔ خاص طورپر بدلتے عہد کی کہانیاں لکھی ہیں۔ تکنیکی عہد کے پیدا کردہ سوالات کے جوابات بھی دیے ہیں اور ڈیجیٹل کلچر کی باتیں بھی کی ہیں۔ اچھے اور برے افسانے ہردور میں لکھے جاتے رہے ہیں۔ کسی صدی، دہائی یا عشرے سے اسے مخصوص کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ہماری لاعلمی اور نارسائی ہی ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ میں فہرست شماری پر یقین نہیں رکھتا ورنہ 1980 کے بعد کے بہت سے افسانہ نگاروں کے نام لکھ سکتا تھا جنہوں نے فن اور فکر کی سطح پر اردو افسانے کو نئے امتیازی نشانات عطا کیے ہیں ۔
سوال : ادبی انعامات اپنی اہمیت کھوتے جارہے ہیں۔خاص طورسے سرکاری ایوارڈزپر سوالیہ نشان لگایاجاتاہے اورکہاجاتاہے کہ یہ ایوارڈز زیادہ تر اثر ورسوخ اورسفارش کی بنیادپر غیر مستحق افراد کو دیئے جاتے ہیں اور مستحق حضرات محروم رہ جاتے ہیں۔اس سلسلے میں آپ کیاکہیں گے؟
جواب: ادبی انعامات ہی کیا، انسان بھی اپنی اہمیت کھوتا جارہا ہے۔ میں نے بہت پہلے اپنی کتاب ’’لاتخف‘‘ کے ابجد میں لکھا تھا کہ ہمارے عہد کا انسان بھی اپنی قامت میں نہیں ہے، پھر ادب کی قد وقامت کیا اور حقیقت یہی ہے کہ ہر شے اپنی اہمیت کھوتی جارہی ہے، ہر فرد بشر وجودیاتی بحران کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرچیز سوالوں کی زد میں ہے۔ محروم طبقات کے سوالات الگ ہیں اور مراعات یافتہ طبقات کے الگ۔ ہرطبقہ کی اپنی ایک سوچ ہے۔ اس سوچ کا جوازہو یا نہ ہو، وہ الگ بحث ہے۔ جو لوگ ادبی انعامات کی بھاگ دوڑ میں ناکام رہ جاتے ہیں تو دل کے بہلانے کے لیے یا خود کو دلاسہ دینے کے لیے اثر ورسوخ اور سفارش کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ایوارڈ چاہتے ہیں، وہی لوگ اس طرح کے شوشے چھوڑتے ہیں۔ یقینی طورپر ایوارڈ کے لیے اثر ورسوخ اور سفارش کی بھی ضرورت پڑتی ہے مگر سارے ایوارڈ ایسے نہیں ہوتے۔ کچھ جینوین اور مستحق افراد کوبھی مل جاتے ہیں اور جب ایسے افراد کو ایوارڈ ملتے ہیں تب بھی ایک طبقے کو شکایت رہتی ہے ۔ دراصل اردو میں ہر شخص بڑا ہے، کوئی بھی چھوٹا نہیں۔ جب کسی کو ایوارڈ مل جاتا ہے تو چھوٹے شخص کی نظر میں بھی چھوٹا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ چھوٹا شخص بھی اپنے آپ کو اس شخص سے ایوارڈ کا زیادہ مستحق سمجھتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جس کے شکار اردو کے بیشتر افراد ہیں۔
سوال : تانیثیت کیاہے؟اس کی سمت ورفتار کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: تانیثیت ایک مغربی تصور اور تحریک ہے،اس کے معاشرے پر مثبت اور منفی دونوں اثرات پڑے ہیں، میرے نزدیک تانیثیت بحیثیت تصور تو مفید ہے ،مگر بحیثیت تحریک اپنی افادیت کھوچکی ہے؛کیونکہ تانیثیت جن چیزوں پر زور دیتی ہے، ان کے نفاذ سے سماج کی ساخت مجروح ہوسکتی ہے ؛لیکن بیداریِ نسواں کے تعلق سے تانیثیت کی ضرورت ہر اس معاشرے کو ہے، جہاں عورتوں کے جبر اور استحصال کا سلسلہ جاری ہے، خاص طورپر ہندوستان ،جہاں عورتوں کے ساتھ صنفی امتیاز کی روایت بہت مضبوط ہے، وہاں تانیثی تصورات کو عام کیاجائے ،توآدھی دنیا کی تصویر اور تقدیر بدل سکتی ہے۔
سوال: یک موضوعی مجلہ ’’انداز بیاں‘‘ نکالنے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: سہارا سے میرا رشتہ ٹوٹا، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک کارِ زیاں کیا جائے، سو اندازِ بیاں کا خیال ذہن میں آیا اور میں نے یک موضوعی مجلہ کی شکل میں اسے نکالنے کا ارادہ کیا۔ انداز بیاں کچھ نہیں، صرف میرا جنون ہے اور جب تک یہ جنون زندہ ہے، یک موضوعی مجلہ شائع ہوتا رہے گا۔ اردو میں یک موضوعی مجلہ کی روایت نہیں رہی ہے، اس لیے ادبی حلقے کی طرف سے اس کی بہت پذیرائی ہوئی۔ پہلا شمارہ خواتین کی خود نوشتوں کے جائزہ پر محیط تھا، اسے توقع سے زیادہ مقبولیت ملی اور دوسرا پولیس کا تخلیقی چہرہ جو اردو والوں کے لیے بالکل ایک نیا زاویہ تھا۔ اس سمت میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، اس لیے اسے بھی خاطر خواہ پذیرائی ملی۔ مجھے خوشی ہے کہ ادبی دنیا کا ایک بڑا حصہ میری اس تجرباتی انفرادیت کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
سوال : ادب اور صحافت سے وابستہ نئی نسل کو آپ کیاپیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: مواعظ اور ملفوظات کی شکل میں ہمارے اسلاف اور اکابر صدیوں سے پیغام دیتے رہے ہیں ،مگر کوئی بھی ان پر عمل نہیں کرتا، تو میں کیوں ایسا پیغام دوں، جس پر میں خود بھی عمل نہ کرسکوں؟ بس وہی ایک پیغام ہے جگر مراد آبادی کا کہ:’ ’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں