205

حضرت مولانا اعجاز اعظمی مرحوم کی حیات وخدمات پر ایک کتاب

نام کتاب: سراپا اعجاز
مرتب: محمد عرفات اعجاز اعظمی
صفحات: 548 قیمت:500؍روپئے
ناشر: مدرسہ سراج العلوم سراج نگر،چھپرا‘ضلع مئو،یوپی 276129
مبصر: شکیل رشید

حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی صاحب نوراللہ مرقدہ کی شخصیت ہشت پہلو تھی اوران کی حیات اورعلمی‘ادبی ‘دینی ومذہبی خدمات کثیر الجہات‘ لہٰذا اُنہیں احاطۂ تحریر میں لانے کے لیے صفحات کے صفحات درکار ہیں۔لیکن اگر ان کی حیات وخدمات کو ایک جملے میں ادا کرنے کے لیے کہاجائے تویہ کہا جاسکتا ہے کہ’مولانا علم وعمل کا نمونہ تھے۔‘خوش نصیبی ہے کہ حضرت مولانا سے ممبئی میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا‘مولانا محترم اُن دنوں سخت علیل رہا کرتے تھے مگر بیماری کی اپنی تکلیفوں کو فراموش کرکے ملاقات کے لیے آنے والوں سے بڑی ہی محبت سے ملا کرتے تھے۔حضرت مولانا کا انتقال ایک بڑے عالم ہی کا نہیں ایک بڑے انسان کابھی انتقال تھا‘اللہ رب العزت مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے(آمین)۔حضرت مولانا کے صاحب زادے محمد عرفات اعجاز اعظمی سے بھی ممبئی میں ملاقاتیں رہیں۔آخری ایام میں انہوں نے اپنے والد کی خوب خدمت کی اللہ رب العزت انہیں ضروراس کا اجردے گا۔’سراپا اعجاز‘کی شکل میں حضرت مولانا مرحوم کی’حیات وخدمات ‘پر کتاب ترتیب دینابھی والد مرحوم کی خدمات کی کڑیوں میں سے ہی ایک کڑی ہے۔یہ کتاب بڑی ہی محنت اورمحبت کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے اللہ رب العزت اس کتاب کو مقبول عام بنائے۔(آمین)
کتاب پانچ حصوں میں منقسم ہے۔آغاز میں محمد عرفات اعجازاعظمی نے’یہ کتاب‘کے عنوان سے اپنے احساسات پیش کیے ہیں ۔وہ تحریر کرتے ہیں’’یہ کتاب ماضی میں کی گئی ان کی (حضرت مولانا مرحوم کی)جدوجہد ہی کا ثمرہ ہے کیونکہ اس کتاب کے بیشترمشمولات کا تعلق انہیں لوگوں سے ہے جِن کو زمانہ ماضی میں انہوں نے تراشا خراشا بنایا سجایا اورسنوارا ہے۔‘‘کتاب کے پانچ حصوں میں سے پہلا حصہ ’حیات اعجاز‘کے عنوان سے اس میں حضرت مولانا مرحوم کی صفات وکمالات کے عمومی تذکرے شامل ہیں۔کل پندرہ مضامین ہیں جن میں ان کے دوبیٹوں مولانا محمد عابد اعظمی اورمحمدعرفات اعجاز اعظمی کے دومضامین بالترتیب ’سوانحی نقوش‘اور’رفاقت کے چند روز‘بھی شامل ہیں۔
دوسرے حصے کا عنوان’جہات اعجاز‘ہے۔اس میں مولانا مرحوم کی صفات وکمالات کے خصوصی تذکرے شامل ہیں جن کی تعداد دس ہے۔تیسرے حصے کاعنوان’تصنیفات اعجاز‘ہے اس میں حضرت مولانا مرحوم کی تصنیفات کاجامع تعارف کرایاگیا ہے اوربعض تصانیف کا خصوصی تذکرہ کیاگیاہے۔مطبوعہ تصنیفات وتالیفات اورتراجم کی تعداد ۳۸ہے۔چوتھے حصے کا عنوان ہے’نگارشات اعجاز ‘اس میں حضرت مولانا مرحوم کی چھ قدیم وجدید تحریریں پیش کی گئی ہیں اورپانچواں حصہ’منظومات‘پرمشتمل ہے۔ابتداء میں ’پیغام‘کے عنوان سے حضرت مولانا قاضی محمد حبیب اللہ صاحب قاسمی کی حضرت مولانا مرحوم کی زندگی اورخدمات پر دوصفحات پر مشتمل ایک تحریر ہے جس میں یہ پیغام دیاگیا ہے کہ’’اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے آگے جھکا دو اورصرف اورصرف اسی ذات پر نظررکھو۔‘‘یہ پیغام اس لیے کہ حضرت مولانا مرحوم کی پوری زندگی محض رضائے الٰہی کے حصول میں کھپی ہے۔اللہ کرے یہ کتاب لوگوں میں پسند کی جائے اوراس کے مرتب محمدعرفات اعجاز اعظمی کی محنت قبول کی جائے(آمین)کتاب بہت ہی اچھے سفید کاغذ پر صاف ستھری چھپی ہے۔حروف روشن ہیں۔کمپیوٹر ٹائپنگ کی وجہ سے تمام خطوط میں یکسانیت اورموزونیت ہے۔پروف کی خامیاں ہیں مگر بہت ہی کم ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں