47

حضرت طلحہؓ کی جاں نثاری: واقعات کے تناظر میں

راحت علی صدیقی قاسمی
تاریخ کے صفحات پر بہت سے انبیا ، صلحا ، قائد، رہنما ، شہنشاہ ، تصوف و سلوک کے اعلیٰ معیار پر فائز رہنماؤں کے حالات و واقعات موجود ہیں، جو اپنے وجود اور اپنے کارناموں سے متاثر اور حیرت زدہ کرتے ہیں، ان کے پاس اصحاب کا ٹولہ ہے، متبعین کی جماعت موجود ہے، جوان کے حکم کی تعمیل کو باعث عزت و شرف سمجھتی ہے، ان سے محبت ہی اِن افراد کی زندگی کامقصد ہے، مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریبی افراد، گوتم بدھ کے معتقدین و پیروکار اور مختلف افراد کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ، یقینی طور پر یہ افراد اپنے رہنماؤں سے محبت کرتے تھے، قیصر و کسریٰ کا دربار بھی اسی نوعیت کا حامل ہے، جہاں حکمرانوں کے محبین کی کثرت رہتی تھی، تاریخ کے صفحات الٹتے جائیں واقعات آپ کی نگاہوں میں منظر بن کر ابھرتے چلے جائیں گے، آپ کی نگاہ اُن صفحات پر آکر ٹھر جائے گی، جن پر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا تذکرہ ہوگا، آپ محو حیرت ہوں گے،خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو کس درجہ محبت عطا فرمائی ہے، جان لٹا دیتے ہیں، اولاد کا خیال نہیں کرتے، دنیا کی ہر شئے کو آپ کے فرمان سے کمتر سمجھتے ہیں، پوری تاریخ انسانی میں کوئی ایسا قائد ورہنما نہیں ملے گا، جس کے چاہنے والے اتنی شدت کے ساتھ اُس سے محبت کرتے ہوں،حتی کہ پروانہ بھی شمع سے اتنی محبت نہیں کرتا جتنی اور جیسی بے لوث اور بے غرض محبت آپ کے جانثار آپ سے کرتے ہیں، آپ صلی علیہ وسلم کی تربیت اور اصلاح نے پتھروں کو ہیروں کی شکل دے دی ہے، جن کی روشنی و تابناکی سے پورا عالم روشن ہو گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زندگی کی باریکیوں، نزاکتوں اور مشکلوں میں ثابت قدم رہنے کا ہنر سکھا دیا ہے، جس کا دیدار ان اصحاب کی زندگی کے مطالعہ سے بخوبی ہوجاتا ہے، زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں پر کس طرح سرخ روئی سے گذرنا ہے اس نسخہ کو آپ سے بہتر اور کون سکھا سکتا ہے،لہٰذا آپ صلی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اس مشکل ترین فن میں ماہر کردیا ہے، آپ کے اصحاب میدانِ کارزار میں بھی کامیاب رہتے ہیں، اور گھر کی چہاردیواری میں بھی مثالی ثابت ہوتے ہیں، زندگی کا ہر مرحلہ ان کی خوبیوں اور صفات کو عیاں کرتا ہے، تاریخ کے صفحات پر ایسے افراد کا دیدار بہت مشکل سے ہوتا ہے، کائنات کے سینہ پر اس طرح کے اشخاص کا وجود نادر و کمیاب ہے ، آپ کے اصحاب میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ بھی ہیں، دولت، عزت، شہرت، ثروت، خاندانی وجاہت، حکمت و تدبر، تحمل وبرداشت صاف گوئی و بیباکی، اخلاص و للہیت ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان بیش قیمتی نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا، نسب آپ صلی علیہ وسلم سے جاملتا تھا، نسبی اعتبار سے اس سے بڑا شرف اور کیا ہوگا، تجارت کی غرض سے دنیا دیکھ چکے تھے، اور کمسنی سے تجارت میں مشغول تھے، متمول تھے، دولت و ثروت کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا کافی ہے، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو تقریباً بائیس لاکھ درہم اور دو لاکھ دینار کے علاوہ زمین و جائیداد ورثاء کے لئے چھوڑ کر رخصت ہوئے، حکمت و دانائی کا عالم یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مشیروں میں سے تھے، حضرت فاروق اعظمؓ کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے، اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی بہت سے اہم مشورے آپ نے دئیے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کے مشورے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے چند افراد کو متعین کیا تھا، آپ کی ذہانت و فطانت اور صحابہ پر آپ کے اعتماد کا اندازہ ان باتوں کی روشنی میں بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
صاف گوئی و بے باکی کا عالم یہ تھا کہ جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظمؓ کی خلافت کا اعلان کیا، تو آپ نے واضح الفاظ میں سوال کیا کہ خداوند قدوس سے کیا کہوگے؟ فاروق اعظمؓ کو خلیفہ بنا کر جارہے ہو، حالاں کہ ان کے مزاج کے بارے میں آپ کو علم ہے، اور ایثار و قربانی کا عالم یہ ہے کہ خلافت کے لئے منتخب افراد میں نام آیا، تو یہ عظیم منصب عزت و عظمت کا پروانہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جانب منتقل کردیا، سخاوت کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں درہم قربان کرتے ہیں، غربا وفقرا کی مشکلات کے ازالے کا سامان فراہم کرتے ہیں، حضرت طلحہؓ کی زندگی کے جس رخ پر بحث کی جائے ،وہ مثالی ہے، آپ کی زندگی کا ہر پہلو جاں نثاری و فداکاری کا روشن باب ہے،حضرت طلحہ کے قلب میں آپ صلی علیہ وسلم کی محبت کا دریا موجزن تھا، ان کے اعضا و جوارح، اعمال و افعال سے اس محبت کا اظہار ہوتا تھا اور ایسے واقعات رونما ہوتے تھے، جن کو تصور میں بھی نہیں لایا جاسکتا ہے، مشکلات و مصائب کو ہنستے ہوئے برداشت کرتے ہیں، آقائے نامدار کی اداؤں پر نثار ہوتے ہیں، آپ کی حفاظت کے لیے جان کی پروا نہیں کرتے؛ چنانچہ جب غزوۂ احد میں صحابہ کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی، کفار نے منظم و مرتب ہو کر ایسا حملہ کیا کہ صحابہ کرامؓ کے پاؤں اکھڑ گئے، معاملہ دگرگوں ہوگیا اور حالات بد سے بدتر ہوگئے، مسلمان حواس باختہ ہوگئے، سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ کیسے اس صورت حال کا مقابلہ کیا جائے؟کس طرح پانسہ پلٹا جائے؟ کفار شمع اسلام کو بجھانے کے در پے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردینا چاہتے تھے، اس کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے تھے، صحابہ کی حالت و کیفیت دگرگوں ہو چکی تھی، غزوہ کا منظر دردناک ہوچکا تھا، حوصلہ چور ہورہا تھا، جسم وجان ٹوٹے جارہے تھے، تاریخ کا نازک ترین موقع تھا، نور اسلام شدید ترین آندھیوں کے نرغے میں تھا، چوطرفہ تیروں کی بارش ہورہی تھی، تلواریں شمع اسلام کو گل کرنے کے لئے بڑھی جارہیں تھیں، اس موقع پر حضرت طلحہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور کفار کے درمیان چٹان بن کر حائل ہوگئے، اپنے سینہ کو آقائے نامدار کے لیے ڈھال کرلیا، جس جانب سے آپ پر تیر آتا، اسی جانب پہنچتے اور تیر کو اپنے جسم پر روکتے اور خوش ہوجاتے، تاریخ کے صفحات ایسی جانثاری وفداکاری کے واقعات سے خالی ہیں ، جب کسی طاقت و شدت کے ساتھ آپ پر تلوار سے وار کیا تو حضرت طلحہؓ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، اور اس شدید حملے کو اپنے ہاتھ پر روک لیا، چنانچہ آپ کی انگلیاں کٹ گئیں، تصور کیجئے آپ احد کے میدان میں کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں، جانثاری و فداکاری کا یہ عجیب و غریب منظر آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے، آپ کی نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی، ذہن مبہوت ہوجائے گا، جسم پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے، اور اس قربانی کا آپ کو احساس ہو جائے گا، زندگی کو خطرے میں ڈالنا، تل تل مرنا، زخم پر زخم کھانا، خوش ہونا محبت و دیوانگی کی انتہا ہے، عشق و محبت کے جن مقامات پر یہ اصحاب فائز ہیں، اب شاید ہی کوئی ان مقامات کو حاصل کرسکے، غزوہ احد مکمل ہونے کے بعد جب حضرت طلحہؓ کے جسم پر لگے زخموں کی تعداد کو گنا گیا، تو وہ تعداد 70 کے عدد تک پہنچ چکی تھی، ہم نے بہت سے افراد کو دیکھا ہے، جو حادثہ کا شکار ہوجاتے ہیں، چند زخم ان کے جسم پر لگے ہوتے ہیں، وہ چند زخم ہی ان کے جسم کو چور اور ہمت کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں:
دیوانگی بھی بڑی عجیب ہے حسرت
سلگتے ریت کا بستر تلاش کرتی ہے
ستر زخم اُن افراد کے ذریعے لگے ہیں، جنہوں نے ہر وار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو ختم کرنے کے لیے کیا ہے ، اندازہ لگائیے اُن حملوں کی شدت کیا ہوگی ؟غور و فکر کیجئے حضرت طلحہ کی قربانی کتنی عظیم الشان ہے؟ آپ نے مختلف غزوات میں حصہ لیا، اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے، خاص طور پر غزوہ حنین میں بھی ان کی بہادری کا شاہکار نمونہ دیکھنے کو ملا۔ غزوہ تبوک میں انہوں نے مال و زر کو آقائے نامدار کے حکم کے سامنے بے وقعت خیال کیا، اور اس غزوہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر بہت سا مال پیش کیا،آپ کی زندگی ایک مسلمان کو عمل کھڑا کرنے، اس کے حوصلے کو مہمیز کرنے کے لئے، اس عشق و محبت کے سرد جذبے کو سلانے کے لئے کافی ہے، اس کی زندگی کی کایا کلپ کرنے کے لئے یہ واقعات کافی ہیں، ہمیں اپنی زندگی مرتب منظم کرنے کے لئے صحابہ کی زندگیوں کو پڑھنے اور ان کی حیات کے سانچوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں