56

حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ: پاکیزہ شخصیت کےروشن پہلو

مولاناعبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

آپ کانام نامی: حسین ۔کنیت: ابو عبد اللہ۔لقب:ریحانۃ النبی، سید شباب اہل الجنۃ۔والد:علی المرتضیٰ   ۔والدہ: سیدہ فاطمۃ الزہراء۔یوں آپ کی ذات گرامی قریش کاخلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی۔شجرۂ نسب کچھ اس طرح ہے:حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف قریشی ہاشمی۔

آپ کی ولادت باسعادت:

 ابھی آپ شکم مادر ہی میں تھے کہ حضرت حارث  ؓ کی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے رسول اکرمﷺ کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نے ایک ناگوار اور بھیانک خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیان کرو، آخر کیا ہے؟ چنانچہ آپ ﷺ کے اصرار پر انہوں نے اپنا خواب بیان کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو نہایت مبارک خواب ہے، اور فرمایا کہ فاطمہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے گود میں لوگی۔(مستدرک حاکم ج3 صفحہ176)کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیر ملی اور ریاض نبوی ﷺ میں وہ خوش رنگ ارغوانی پھول کھلا؛ جس کی مہک حق وصداقت، جرات و بسالت، عزم و استقلال، ایمان و عمل اور ایثار و قربانی کی وادیوں کو ابد الآباد تک بساتی اور سرخئ عقیق کی طرح چمکاتی رہے گی، یعنی ماہِ شعبان 4 ہجری میں حضرت علی ؓ کا کاشانہ حسین کے تولد سے رشک گلزار بنا۔ ولادت باسعادت کی خبر سن کر آپ ﷺ تشریف لائے اور نومولود بچے کو منگوا کر اس کے کان میں اذان دی پھر عقیقہ فرمایا ۔

بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی نے اپنے دونوں فرزند ان کا کوئی اور نام تجویز فرمایا تھا ؛مگر آپ ﷺنے اسے تبدیل فرمادیااور حسن وحسین رکھا۔جیساکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خودروایت کرتے ہیں: جب فاطمہ کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں؛بلکہ وہ حسن ہے پھر جب حسین کی ولادت ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ! تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں؛ بلکہ وہ حسین ہے۔ پھر جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں؛ بلکہ اس کا نام محسن ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : میں نے ان کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں شبر، شبیر اور مشبر کے نام پر رکھے ہیں۔‘‘(رواہ احمد بن حنبل فی المسند، 1 : 118، رقم : 935)

حالات زندگی:

سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کےعہد خلافت میں سیدنا حسینؓ  کی عمر 7 ,8 برس سے زیادہ نہ تھی؛یہی وجہ ہے کہ  ان کے عہد کا کوئی خاص واقعہ تاریخ کی کتابوں میں موجود نہیں۔اسی طرح سیدنا عمر ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی آپ کم عمر تھے، البتہ آخری عہد میں سنِ شعور کو پہنچ چکے تھے ۔سیدنا عمر ؓ ،آپ ؓ پر بڑی شفقت فرماتے تھے اور قرابت رسولﷺکاخاص خیال رکھتے تھے، چنانچہ جب بدری صحابہ کے لڑکوں کا دو دو ہزار وظیفہ مقرر کیا تو سیدنا حسین ؓ کا قرابتِ رسول ﷺ کا خیال رکھتے ہوئےپانچ ہزار ماہوار وظیفہ مقرر کیا۔(فتوح البلدان، بلاذری عطا عمر بن الخطاب)سیدنا عمر ؓ کسی بھی چیز میں سیدنا حسین ؓ کی ذات گرامی کو نظر انداز نہ ہونے دیتے ایک مرتبہ یمن سے بہت سے جوڑے آئے، سیدنا عمر ؓ نے تمام صحابہ کرام ؓ م میں تقسیم کر دیئے، سیدنا عمر ؓ روضہ نبوی اورمنبر کے درمیان تشریف فرماتھے اور لوگ ان جبُّوں کو پہن کوشکریہ کے طور سیدنا عمر ؓ کو آکر سلام کرتے تھے، اسی دوران سیدنا حسن وحسینؓ اپنےگھرسےنکلےتوسیدنا عمر ؓ نے دیکھا کہ ان کےجسموں پر جبے نہیں ہیں۔ یہ دیکھ کو آپ ؓ کو تکلیف پہنچی اور لوگوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں حلے پہنا کر مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی، صحابہ کرام ؓ  نے اس کی وجہ پوچھی توفرمایا کہ حسن و حسین ؓ  کے جسم ان حلوں سے خالی ہیں، اس کےبعدیمن کے حاکم کوخط بھیجا کہ جلد از جلد دو جبے بھیجیں۔ چنانچہ جبے منگوا کر دونوں بھائیوں کوپہنانے کے بعد فرمایا، اب مجھے خوشی ہوئی ہے۔(ابن عساکر،ج4ص321/232)

سیدنا عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں سیدنا حسین پورے جوان ہوچکے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے اسی عہد میں میدانِ جہاد میں قدم رکھا اور س 30 ھجری  میں طبرستان کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے۔(ابن اثیر،ج3 ص 83)پھر جب سیدنا عثمان ؓ کےخلاف بغاوت برپا ہوئی اور باغیوں نے قصر خلافت کا محاصرہ کیا تو سیدنا علی نے دونوں بھائیوں سیدناحسن و حسین ؓ کو سیدنا عثمان ؓ جو کہ ان دونوں بھائیوں کے خالو تھے، کی حفاظت پر مامور کیا کہ باغی اندر گھسنے نہ پائیں، چنانچہ حفاظت کرنے والوں کے ساتھ ان دونوں نے بھی نہایت بہادری کے ساتھ باغیوں کو اندر گھسنے سے روکے رکھا اور جب باغی مکان پر چڑھ کر اندر گھس گئے اور سیدنا عثمان ؓ کو شہید کر ڈالا اور جب سیدنا علی ؓ کو شہادت کی خبر ہوئی تو انہوں نے دونوں بیٹوں کو بلا کر سخت ڈانٹا، اور باز پرس کی کہ تمہاری موجودگی میں باغی اندر کیسےگھس گئے؟(تاریخ الخلفا للسیوطی، ص 159بحوالہ سیرت و سوانح سیدنا حسینؓ)

پھر اپنے والدماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بھائی حضرت حسنؓ   کے عہدخلافت میں ان کے شانہ بہ شانہ رہےاور ہر اعتبار سےتعاون فرماتےرہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دور،سرکار دوعالمﷺکی پیشین گوئی کے مطابق اختلاف وانتشار اور آپسی خانہ جنگی کا دور تھا، جنگ جمل اورجنگ صفین  آپ ہی کے دور میں واقع ہوئی اورکم وبیش چار سال تک فرائض خلافت انجام دیتے رہے۔ بالآخر خارجیوں نے آپؓ کو شہید کرڈالا اور آپ کوفہ کی سرزمین میں آسودہ ٔ خواب ہوئے۔پھرآپ کے بعد اہل کوفہ نے حضرت حسنؓ کے دست ِحق پر بیعت کرلی، دوسری طرف جب امیر معاویہؓ کو حضرت علیؓ کی وفات کا علم ہوا تو آپ نے امیر المؤمنین کا لقب اختیار فرمایا اور دوبارہ تجدید ِبیعت فرمائی اس کے بعد ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے اور حضرت حسنؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ صلح، جنگ سے بہتر ہے اس لئے آپ میرے ہاتھ پر بیعت کرلیں، حضرت حسنؓ نے یہ سن کرکہ امیر معاویہؓ مع لاؤ لشکر کوفہ کا عزم رکھتے ہیں چالیس ہزار کا لشکر ہمراہ لیا اور کوفہ سے روانہ ہوئے مگر آپ کا ارادہ قتل وغارت گری اور فساد وخوں ریزی کا بالکل نہیں تھا اور خودحضرت علیؓ کی دلی تمنا اور خواہش تھی کہ لوگوں میں انتشار ختم ہوجائے اور امت متحد ہوجائے چنانچہ حضرت حسنؓ نے اپنے والد کے اسی دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا اور امیر معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کا اعلان فرمایا اس طرح آپ ﷺ کی وہ پیشین گوئی بھی سچ ثابت ہوئی کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا میرایہ بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالیٰ ایک روز اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دومتحارب جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا (مسند احمد)

فضائل ومناقب:

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جواپنے نانا نانی کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو اپنے ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں، ان کے نانا اﷲ کے رسول، ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد، ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اﷲ، ان کے والد علی بن ابی طالب، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول اﷲ اور ان کی خالہ رسول اﷲ کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔ ان کے نانا، والد، والدہ، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ سب جنت میں ہوں گے اور وہ دونوں حسنین کریمین بھی جنت میں ہوں گے۔‘‘(معجم کبیر طبرابی)

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہو گا۔‘‘(جامع ترمذی)

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘(جامع ترمذی)

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے حسن و حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہو گیا اور جو اﷲ کے ہاں مبغوض ہوا، اُسے اللہ نے آگ میں داخل کر دیا۔‘‘(مستدرک حاکم)

عبداﷲ بن شداد اپنے والد حضرت شداد بن ھاد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن یا حسین کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لا کر اُنہیں زمین پر بٹھا دیا پھر نماز کے لئے تکبیر فرمائی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، نماز کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا۔ شداد نے کہا : میں نے سر اُٹھا کر دیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہیں۔ میں پھر سجدہ میں چلا گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما چکے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! آپ نے نماز میں اتنا سجدہ طویل کیا۔ یہانتک کہ ہم نے گمان کیا کہ کوئی امرِ اِلٰہی واقع ہو گیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی کوئی بات نہ تھی مگر یہ کہ مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لئے سجدے سے اُٹھنے میں جلدی کرنا اچھا نہ لگا جب تک کہ اس کی خواہش پوری نہ ہو۔(نسائی شریف)

آپ کی شہادت کا جاں گداز سانحہ:

حضرت معاویہ ؓ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقررفرمادیاتھا۔ کئی ایک بڑے صحابہ نے ان کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا؛ جن میں حضرت حسینؓ بھی شامل تھے، اہل کوفہ نے بھی یزید کی خلافت کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پے درپے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھے کہ آپؓ یہاں تشریف لائیں ہم آپؓ کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیتے ہیں ۔ حضرت حسینؓ ان کے کہنے میں آگئے۔کئی ہمدردوں اورخیر خواہوں نے سمجھانےکی  کوشش بھی کی کہ آپ کوفہ تشریف نہ لے جائیں ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اے ابن عم! یہ شہرت ہے کہ تم عراق کی طرف جا رہے ہو، خدا کے واسطے ایسا ارادہ نہ کرنا کیا اہل عراق نے بنو امیہ کے حکام کو نکال کر ملک پر قبضہ کرلیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ضرور جائو، لیکن اگر حالات یہ ہیں کہ ان کے حکام برسرحکومت ہیں ، خزانہ کی کنجیاں ان کے ہاتھوں میں تو اہل کوفہ آپ کو اس لئے بلاتے ہیں کہ لڑائی کے شعلوں میں آپ کو دھکیل دیں اور خود الگ ہوجائیں ۔ یہی انہوں نے آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بھی سمجھایا؛ مگر حضرت حسین جانے کا پختہ ارادہ کرچکے تھے۔

ابن زیاد کو حضرت حسین کی روانگی کی اطلاع مل چکی تھی۔ چنانچہ اس نے یزید کی ہدایت کے مطابق مدینہ سے عراق آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی تھی اور حر بن یزید تمیمی کو ایک ہزار سوا ر دے کر حضرت حسین کو تلاش کرکے گھیرنے کیلئے بھیج دیا، حضرت حسین “”ذی چشم”” مقام پر پہنچے تو حر بن یزید بھی سامنے آگیا۔ گفتگو ہوئی، بالآخر کہنے لگا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ آپ کو حراست میں لے کر ابن زیاد کے سامنے کوفہ پہنچا دوں ۔ حضرت حسین نے واپسی کا ارادہ کیا مگر حر نے مزاحمت کی کہ واپس نہیں جانے دوں گامگر جنگ بھی نہیں کروں گا۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جو عراق و حجاز دونوں کے درمیان ہو۔ حضرت حسین نے اس تجویز کو قبول فرمالیا اور شمال کی طرف رخ کرکے نینویٰ کے راستہ پر ہولئے۔ حر بھی ان کے ساتھ کچھ دور تک چلا، جب نینویٰ پہنچے تو حرکو ابن زیادہ کا خط ملا کہ حسین اور ان کے ساتھیوں کو فوراً روک لو اور انہیں ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جہاں کوئی اوٹ اور پانی نہ ہو۔ حر نے یہ خط حضرت حسین کو دکھایا ۔ آپ نے فرمایا کچھ دور آگے چلنے دو، پھر ہم اتر جائیں گے۔ حر راضی ہوگیا ۔ جب آپ مقام کربلا پہنچے تو حر راستہ روک کر کھڑا ہوگیا اور کہا اب آگے نہیں بڑھنے دوں ، یہاں اتر جائیے۔ فرات بھی یہاں سے قریب ہے۔ حضرت حسین اور آپ کے ساتھی ٢محرم ٦١ھ میں میدان کربلا میں اتر گئے۔

عاشورہ کے دن افق پرخونی سورج طلوع ہوا   ۔سیدنا حسینؓ نے محسوس کرلیا کہ ظالم وجابرحکومت ان کے خون کی پیاسی ہے اور دشمن کے بدلتے ہوئے تیور میں جارحیت و بربریت کا غرورصاف نظر آرہاہے ،یہ دیکھ کر نواسۂ رسولﷺنے سنگ دل ظالموں کئے قلوب پر ندائے حق کی دستک دی کہ شاید ان ضمیر جاگ اٹھے ،وہ نواسۂ رسول کے مرتبہ و مقام کو پہان لیں اور خون ناحق سے اپنے ہاتھوں کو رنگنے سے باز آجائیں؛ لیکن اقتدار اور حکومت کا ضمیر جب سوتا ہے تو بیدار نہیں ہوتا۔سیدنا حسینؓ اونٹنی پر سوار ہوئے اور قرآن سامنے رکھ کردشمنوں سےیوں مخاطب ہوئے :

لوگو!میرا حسب ونسب یاد کرو !سوچو میں کون ہوں ؟پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اوراپنے ضمیر کامحاسبہ کرو! خوب غور کرو !کیا تمہارے لیے مجھے قتل کرن او ر میری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں ؟ کیا سیدالشہداءامیر حمز ہؓ،میرے باپ کے چچا نہیں تھے؟کیا ذوالجناحین جعفر طیارؓ میرے چچا نہیں ہیں؟کیا تم نے رسول کا یہ مشہورقول نہیں سنا کہ میرے اور میرے بھائی کے حق میں فرماتے تھے” سیداشباب اھل الجنۃ” اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے کیوں کہ میں نے واللہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے آج تک جھوٹ نہیں بولا تو بتاؤ کیا تمہیں برہنہ تلواروں سے میرا استقبال کرنا چاہیے ؟اگر تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تو تم میں ایسے لوگ موجود ہیں جن سے تصدیق کرسکتے ہو !جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے پوچھو !ابوسعید خدریؓ سے پوچھو سہل بن سعدساعدی ؓسے پوچھو! زید بن ارقمؓ سے پوچھو! انس بن مالک ؓسے پوچھو!وہ تمہیں یہ بتلائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے رسول اللہﷺسے یہ فرماتے سنا ہے یا نہیں ؟َکیا یہ بات بھی میرا خون بہانےسے نہیں روک سکتی؟واللہ اس وقت روئے زمین پر بجزمیرے کسی نبی کا بیٹا موجود نہیں !میں تمہارے نبی کا بلاواسطہ نواسہ ہوں یا تم مجھے اس لیے ہلاک کرنا چاہتے ہو کہ میں نے کسی کی جان لی ہے ؟کسی کا مال چھینا ہے؟کہو!کیابات ہے؟آخر میرا قصور کیا ہے؟ حضرت  حسین ؓ کا یہ ا ٓخری  خطبہ اتنا پر اثر   اور درد انگیز تھا کہ اگر یہ خطبہ پہاڑوں کو سنا یا جاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتے زمین کو سنایا جاتا تو وہ شق ہوجاتی بادلوں کو سنایا جاتا تو وہ اشکوں کی برسات بن جاتے؛لیکن سیدنا حسین ؓ جن ظالموں سے خطاب فرمارہے تھے ان کے سینوں میں دل نہیں پتھر تھے۔آخر کار  دس محرم الحرام کوگھمسان کی لڑائی شروع ہوئی اور آپ  جنگ کے دوران شہید کردیے گئے۔ (ملخص ازمحرم الحرام ؛حقائق کے آئینہ میں ،ص36)

خلاصۂ کلام:

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس دل دوز واقعہ نے درحقیقت ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ ایک مومن کے دل میں صرف خوف خدا ہونا چاہئے۔اگر اس کے قلب میں کسی اورکا خوف بھی ہے تو پھر صاف لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا دل نورایمان سے روشن ومنور نہیں  ۔اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کہ شہادت سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہم زندہ رہیں تو خدا کے لئے اور جب جان جان آفریں کے حوالے کریں تو بھی اسی کی راہ میں؛کیوں کہ سب سے زیادہ قیمتی اور قابل رشک جان وہی ہے جو خدا کی راہ میں کام آئے اور اسے صرف اس جرم میں ختم کیا گیا ہوکہ وہ خدا کی نام لیوا تھی ۔ ہماری زندگی کا صرف ایک ہی نصب العین ہو یعنی اعلاء کلمۃ الحق کہ ہم حق کی آواز کے ساتھ باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے زندہ رہیں ورنہ راہ حق میں قربان ہوجائیں اور بہ بانگ دہل یہ اعلان کریں  ؎

ہمارے پاس ہے کیا جو فدا کریں تجھ پر

مگر یہ زندگئی مستعار رکھتے ہیں!! Attachments area

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں