61

شمیمة الورده:قصیدہ بردہ کا ایک منفرد منظوم ترجمہ

 
عظیم اختر
M: 9810439067
 
                شعرائے متاخرین و متقدمین کے دواوین، تذکرے اور اسی قسم کی دوسری ادبی کتابیں پڑھنے والا شاید ہی کوئی ایسا قاری ہوگا جس نے امام شرف الدین البوصیریؒ کے مشہور اور مقبول عام نعتیہ قصیدہ ” قصیدة البردہ“ کے بارے میں پڑھا یا سنا نہ ہوگا۔ جس کو آج سے ستر اسّی برس پہلے تک ہندوستانی مسلمانوں خاص کر شمالی ہند کے پڑھے لکھے اور مذہبی گھرانوں میں غیر معمولی احترام اورتقدّس حاصل تھا۔ پچھلے ساٹھ ستر برس میں جوان ہونے اور سماجی ڈھانچے کے اتھل پتھل ہونے کی وجہ سے نئے زمانے کی رنگینیوں اور دلچسپیوں میں کھوجانے والے مسلمانوں کی نسلیں تو اس قصیدے کے نام سے بھی واقف نہیں لیکن جس زمانے کی ہم بات کر رہے ہیں اس زمانے میں اس قصیدے کی مقبولیت اور احترام کا یہ عالم تھا کہ دہلی اورمغربی اتر پردیش کے قصبات کے تعلیم یافتہ اور مذہبی گھرانوںمیں لڑکیوں کی شادی کے موقع پر گھر میں خیر و برکت کے لیے قرآنِ کریم اور بہشتی زیور کے ساتھ خوبصورت سے جزدان میں قصیدہ بردہ بھی ضرور دیا جاتا تھا۔ ان قصبات کی عام طورپر سوتی جاگتی عام سماجی زندگی میں شاہنامہ اسلام، میلادِ اکبر اور قصیدہ بردہ کی گاہے بگاہے منعقد کی جانے والی روحانی محفلوں سے ایمانی حرارت کا احساس ہوتا تھا۔ یہ محفلیں عام طورپر درمیانے درجے کے کسی زمیندار کی حویلی میں منعقد ہوا کرتی تھیں اور دہلی کی فضا میں رات دیر گئے تک ” صلی اللہ علیہ و سلم“ کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں۔ قصیدہ بردہ کی محفلوںمیں احترام و تقدس کا عالم دو چند ہوتا، آنے والے سامعین کے کپڑوں پر عطر لگایا جاتا، عود و لوبان کی خوشبو سے فضا معطر ہو جاتی۔ ان محفلوں میںننگے سر بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا تھااس لیے سروں پر سجی ہوئی ٹوپیوں سے روحانی کیف و سرور میں اضافہ ہو جاتا اور سامعین ہمہ تن گوش ہو کر پہلے سیرتِ نبوی پر مختصر سا بیان سنتے اور پھر کوئی خوش الحان قاری قصیدہ کی قراءت کرتا۔ خوبصورت اور سماعت کو متاثر کرنے والی آواز اور اس کے زیر و بم سے دل دھڑکنے لگتے اور فضا میں ”صلی اللہ علیہ وسلم“ کے وِرد کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ ہم نے اپنے بچپن میں قصیدہ بردہ کی ایسی محفلوںمیں صاحبِ حال بزرگوں کو بے حال ہوتے دیکھا ہے۔
            اس زمانے میں خیر و برکت کے لیے فجر اور قرآن کریم کی تلاوت کے بعد اکثر گھرانوں میں قصیدہ بردہ اہتمام کے ساتھ پڑھا جانا روز مرہ کے معمولات میں شامل تھا۔ کچھ علاقوں میں عام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اگر اس قصیدہ کو عقیدت و احترام سے پڑھا جائے تو پڑھنے والا نہ صرف جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے بلکہ دلوں میں پاکیزگی اور بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔
            صاحبِ قصیدہ امام بوصیریؒ کا پورا نام ابو عبد اللہ محمد شرف الدین ابنِ سعید بن سعید بن حماد بن حسن بن صنہاج بن ہلال البوصیری ہے، جو مصر کے رہنے والے تھے۔ امام بو صیری نے زندگی بھر نعتیہ شاعری کی لیکن قصیدہ بردہ کو جو عوامی مقبولیت اور شہرتِ دوام حاصل ہوئی وہ مستقبل میں شاید ہی کسی نعتیہ قصیدے کو حاصل ہو۔ اس قصیدے کی وجہِ تالیف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار امام بوصیریؒ سخت بیمار ہوئے اور فالج کے حملے کی وجہ سے نصف جسم بے حس و حرکت ہو گیا تھا اور علاج و معالجے سے کوئی افاقہ نہ ہورہا تھا۔ حضرت امام بوصیریؒ نے مایوسی کے عالم میں ارادہ کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کی مدح میں ایک قصیدہ لکھیں اور اس مدح سرائی کے توسط سے بارگاہ رب العزت میں اپنی صحت یابی کے لیے عرض گزار ہوں۔چنانچہ امام بوصیریؒ نے قصیدہ لکھنا شروع کیا، اختتام پر امام بوصیریؒ کو نیند آگئی، امام بوصیریؒ فرماتے ہیں کہ ” میں نے دیکھا نبی کریم تشریف فرما ہیں، آپ نے اپنا دست مبارک میرے جسم پر پھیرا اور اپنی چادر مبارک مجھ پر ڈال دی اور مجھے صحت مل گئی۔ اچانک نیند سے جاگا تو میںنے اپنے آپ کو با صحت اور حرکت کرنے کے قابل پایا۔ “ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ امام بوصیریؒ جب خواب دیکھنے کے بعد صحت یاب ہوئے اور گھر سے باہر نکلے تو شیخ ابو الرجاءسے ملاقات ہو گئی۔ شیخ نے آپ سے اس قصیدہ کی فرمائش کی۔ حالانکہ قصیدہ کے لکھے جانے کا علم امام بوصیریؒ کے علاوہ کسی کو بھی نہیں تھا۔ آپ نے شیخ ابو الرجاءسے پوچھا کہ ” آپ کس قصیدے کی بات کرتے ہیں، میں نے نعتیہ قصیدے تو کئی لکھے ہیں۔“ شیخ ابوالرجاءنے کہا: ” جس قصیدے کی ابتدا ” امن تذکر جیران بذی سلم“ سے ہوئی ہے۔ “ امام بوصیریؒ نے حیرت سے کہا: ” اے بو الرجائ! آپ نے یہ قصیدہ کہاں سے سنا جب کہ میں نے اللہ کے رسول کے سوا اب تک اسے کسی کو نہیں سنایا۔ “ شیخ ابو الرجاءنے کہا ” کل شب میں نے یہ قصیدہ آپ کو رسول اللہ کے دربار میں پڑھتے سنا ہے جسے سن کر اللہ کے رسول خوشی میں سرشار ہوئے اور اس طرح جھوم رہے تھے جس طرح پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں بادِ صبا کے جھونکوں سے جھومتی ہیں۔“ یہ سن کر امام بوصیریؒ نے اپنا وہ قصیدہ ان کے حوالے کر کردیا۔ اس کے بعد اس قصیدے کا چرچا نہ صرف دور دور تک پھیل گیا بلکہ اب تک اس قصیدے کی مختلف زبانوں میں سینکڑوں شرحیں لکھی جا چکی ہیں اور دنیا کی اکثر بڑی زبانوں کے شاعروں نے اس قصیدے کو اپنی اپنی زبانوں کے قالب میں ڈھالا ہے جو قصیدہ بردہ کی عوامی اور دوامی مقبولیت کا بیّن ثبوت ہے۔
            ہمارے یہاں اردو شاعری میں حمدیہ و نعتیہ شاعری کرنا شعرا ئے متقدمین و متاخرین کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ بہت سے شاعروں نے امام بوصیریؒ کے قصیدے کا منظوم ترجمہ کر کے اپنی شعر گوئی کا لوہا بھی منوایا ہے، لیکن قصیدے کی محفلوں میں صرف امام بوصیریؒ کا قصیدہ ہی سامعین کے دلوںکو تڑپاتا ہے اور روح کو گرماتا ہے جس کی وجہ بہت سے منظوم ترجموں میں اس روحانی اظہارِ ذوق و شوق کا فقدان ہے جو قصیدہ بردہ کا خاصہ ہے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے والد محترم حضرت مولانا ذو الفقار علیؒ نے قصیدہ بردہ کے بارے میں فرمایا کہ ” قصیدے کر ہر مضمون حسین و جمیل دھاری دار لکیر کے مشابہ ہے، چنانچہ قصیدے کے دھاری دار پررونق اور خوش منظر چادر سے مشابہت کی وجہ سے اس کا نام قصیدہ بردہ رکھا گیا۔“ یہ حضرت مولانا ذو الفقار علیؒ کا اپنا نظریہ ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ قصیدہ بردہ کا منظوم ترجمہ کرتے ہوئے ہمارے اکثر شعراءان تمام لوازمات کو پورا نہ کر سکے جو دوسری زبان سے اپنی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے بنیاد کا کام کرتے ہیں۔ بہت سے شعراءکے یہاں جذبات و احساسات کی شدت بُری طرح کھٹکتی ہے۔ اکثر شعراءنے قصیدے کے ناظم کے الفاظ سے ہٹ کر اس طرح الفاظ کا جامہ پہنایا ہے کہ اصل معنی ہی مفقود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس پہلو سے اگر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن جامیؒ کا فارسی ترجمہ بڑا کامیاب ترجمہ ہے جس کو پڑھ کر قاری اس روحانی سرمستی اور سر خوشی سے بڑی حد تک دوچار ہوتا ہے جو قصیدہ بردہ کی دین ہے۔
            گزشتہ ماہ” شمیمة الوردہ“ کے عنوان سے قصیدہ بردہ کا ایک نیا منظوم اردو ترجمہ نظروںسے گزرا۔ دہلی کی علمی و ادبی زندگی کی جانی پہچانی شخصیت جناب محمد ذکیر الدین ذکی صاحب نے نہایت ہی سلیس اور رواں دوان انداز میں قصیدہ بردہ کو منظوم ترجمے کا جامہ پہنایا ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ذکیر الدین ذکی نے صحیح معنوں میں نہ صرف ترجمہ کا حق ادا کیا ہے بلکہ قصیدہ بردہ کی اس روحانی فضا کو بر قرار رکھنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے جو قاری کو روحانی کیف و سرور کی منزلوں میں پہنچا دیتی ہے۔ ذکیر الدیں ذکی صاحب عالمِ دین ہیں، عربی، فارسی اور اردو پر بھرپور دسترس رکھتے ہیں۔ ذکی صاحب گرچہ دیگر شاعروں کی طرح مشاعرہ کے شاعر نہیں تاہم شاعری کے تمام فنون سے اچھی طرح واقف اور اچھی شاعری کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں، لیکن دہلی کے اردو والوں کو ان کی شخصیت کے اس پہلو کا کوئی علم نہیں تھا۔اس منظوم ترجمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف نے اردو دنیا میں نام و نمود کمانے کے لیے قصیدہ بردہ کا منظوم ترجمہ نہیں کیا بلکہ اس عقیدت اور مودّت اور غیر معمولی دلچسپی نے ان سے ترجمہ کرایا ہے جو مدرسہ کاشف العلوم میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب کاندھلویؒ کے چند اسباق نے ان کے یہاں پیدا کر دی تھی۔ ذکی صاحب کا یہ منظوم ترجمہ آسان اور سلیس زبان کے علاوہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ انھوںنے قاری کی سہولت کے لیے قصیدہ بردہ کے ہر شعر کے برابر میں نثری ترجمہ بھی دیا ہے۔ اس کے علاوہ قصیدہ کی عربی عبارت اور اشعار کے مشکل الفاظ کو الگ الگ کر کے ان کا ترجمہ بھی پیش کیا ہے تاکہ قاری کو شعر کا مطلب سمجھنے میں کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ امام بوصیریؒ نے قصیدہ کا ہر شعر’ م‘ ( میم) پر ختم کیا تھا اس لیے ذکی صاحب نے بھی یہ کٹھن راہ اپنائی اور اپنے ہر شعر کو میم پر ہی ختم کیا۔ یہ التزام ہمیں دوسرے منظوم ترجموں میں دور دور تک نظر نہیں آیا۔ ذکی صاحب کے اس التزام سے ان کی شاعری پر بھرپور دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں استادانہ جھلک ہے اور موضوعات کی بھرمار ہے، لیکن گھر کی شرافت و ذہنی تربیت نے ان کو اسلامی اور اصلاحی شاعری سے آگے بڑھنے نہیں دیا، یہ اچھا ہی ہوا ورنہ ان کا اسپِ شعر گوئی آج کے انحطاط پذیر مشاعروں کے بھول بھلیوںمیں گم ہو جاتا اور قصیدہ بردہ کا اتنا خوبصورت ، سلیس اور رواں دوان ترجمہ منصہ شہور پر نہ آتا۔
            اس پس منظر میں ہم اپنے قارئین کے ذوقِ شعری کی تسکین کے لیے ”شمیمة الوردہ“ سے کچھ اشعار نقل کر رہے ہیں تاکہ ان کو اندازہ ہو کہ ذکی صاحب نے امام البوصیری ؒ کے شہرہ آفاق قصیدے کی روح کو کسی بھی طور مجروح نہیں ہونے دیا اور ترجمہ کا حق ادا کیا ہے:
چھوڑی سنت اس نبی کی جو عبادت کے لیے
رات بھر رہتے کھڑے اور پائوں میں رہتا ورم
 
بھوک اور فاقے کے باعث نرم و نازک جلد پر
بے بسی میں پتھروں کو رکھ لیا تھا ایک دم
 
سونا بننے کا فسانہ جب بُنا تھا کوہ نے
مائلِ زر کیسے ہوتے، آپ تھے عالم ہمم
 
وقتِ حاجت اَور مضبوطی ملی تھی زہد کو
صاحبِ عصمت پہ حاجت کا کہاں چلتا ہے دم
 
ذاتِ اقدس مائلِ دنیا بھی ہو تو کس طرح
منحصر ہو جس پہ خود دُنیا یہ ساری از عدم
 
وہ محمد سیدِ کونین و شاہِ جن و انس
جن کے پرچم کے تلے چلتے ہیں سب عرب و عجم
 
آمر و ناہی میں کوئی آپ جیسا ہے نہیں
صدق گو ہیں قول میں، گو ’ لا‘ کہیں یا وہ ’ نعم‘
 
وہ نبی ایسے کہ جن سے ہے شفاعت کی امید
جب کبھی آئے گا پیشِ روزِ محشر ہول و غم
 
کلمہ حق کی طرف سب کو بلایا آپ نے
جس نے یہ رسّی پکڑ لی کچھ نہیں اس کو ہے غم
 
ہر نبی کی سیرت و صورت میں اعلیٰ وہ نبی
علم و احسان میں ملا سکتا نہیں کوئی قدم
 
آپ کے جود و کرم کے ملتمس ہیں انبیا
گھونٹ کے طالب ہیں سب اور آپ ہیں موّاجِ یم
 
ان کی مجلس میں کھڑے سب حسبِ رتبہ انبیا
مثلِ نقطہ سب نبی اور آپ الفاظ و حکم
 
اس نبی کی ذات پر الفاظ و معنی ختم ہیں
پھر چُنا اللہ نے اپنا حبیبِ محترم
 
آپ کی پاکیزگی میں ہے نہیں کوئی شریک
حسن میں بھی آپ ہیں اک جوہرِ بے منقسم
 
سب کو نیکی کی نصیحت خود رہا مَیں بے عمل
استقامت خود نہیں اور غیر سے کہتا ہوں جم
 
بہرِ زادِ آخرت کچھ کر سکا نہ قبلِ موت
جز نمازِ فرض و روزہ کچھ نہیں رکھتے ہیں ہم
 
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں