95

حج کے تحائف؛ انہیں بھی تقسیم کیجئے


مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
عازمین حج کے قافلے جن کو دعائوں کی درخواست کے ساتھ ہم نے رخصت کیا تھا ، حج کی سعادت سے بہرہ ور ہوکراپنے وطن لوٹ رہے ہیں ، یہ اپنے ساتھ اللہ رب العزت کی جانب سے جنت کا تحفہ اور گناہوں سے پاک ہونے کا مژدہ لے کر لوٹے ہیں ، حج کے اس سفرمحبت وعبادت میں کھلی آنکھوں سے انہوں نے کعبہ کی تجلیات کو دیکھاہے ، مکہ کی بابرکت سر زمین ، منی ، عرفہ مزدلفہ ،مشعر حرام کے وقوف اور جمرات کی رمی نے انہیں نفس امارہ کو مار ڈالنے کا حوصلہ بخشا ہے ، حب رسول سے سر شار مسجد نبوی میں نماز اور مواجہہ شریف کے درودوسلام نے جو روحانیت ان کے اندر پیدا کی ہے، اس کا تصورکوئی دوسرا نہیں کرسکتا ، یہ اپنے ساتھ عزیزواقارب کے لئے بھی تحفے لائے ہیں ، کھجور ، زمزم ، ٹوپی ، تسبیح وعطریات اور نہ جانے کیا کیا ؟ زمزم وہ مقدس پانی ہے؛ جس سے بہتر روئے زمین پر کوئی پانی نہیں ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے جاری ہونے والا صاف وشفاف چشمہ نہ صرف مکہ ومدینہ، بلکہ حاجیوں کے توسط سے پوری دنیا کو سیراب کررہا ہے ، مدینہ کی آب و ہوا میں پلے بڑھے ، میٹھے اور رسیلے کھجور ، انہیں ہمارے آقا کی زمین سے نسبت ہے ، ٹوپی ، تسبیح اور عطریات کا لانا بھی اسی نسبت کی وجہ سے قبول ہے۔
ہماری عادت سی ہوگئی ہے ، حاجیوں سے کھجور اورزمزم کا تحفہ وصولنے کی ، یقینا یہ جذبہ بھی قابل ستائش ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے؛لیکن اللہ نے اپنا مہمان حاجیوں کو اس لئے نہیں بنایا کہ وہ اپنی ساری توجہ ان مادی چیزوں کے حصول اور مہیا کرنے میں صرف کریں، بلکہ اعلان کیا کہ حج پر اس لئے بلایاگیا ہے تاکہ وہ اس کے فائدے کو دیکھ لیں ’’ لِیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ ،، اور منافع کا تصور آب زمزم اور کھجورتک محدود رکھنابے عقلی کی بات ہے۔
پھر وہ منافع کیا ہیں ؟ اور حج کا وہ کون سا تحفہ ہے جو حجاج اپنی طرف سے لوگوں کو دے سکتے ہیں ، اور اس کی وجہ سے روئے زمین پر خیر کی بادبہاری چل سکتی ہے اور شر،کا دروازہ بند ہوسکتا ہے۔
ان میں سے ایک اللہ پر توکل اور اعتمادہے، مال و زر پر نہیں، اللہ پر ، روپے کتنوں کے پاس تھے ، فارم بھی بہتوں نے بھرا تھا ؛لیکن جاوہی سکے، جنہیں بلایا گیا ، کچھ قرعہ اندازی میں رہ گئے اور کچھ دوسرے اعذار سے پابند سلاسل ہوگئے ، کئی وہ بھی تھے جو عازمین کے قافلے کو دعائوں کے ساتھ رخصت کررہے تھے ، سرمایہ نہیں ، وسائل نہیں ، جیب خالی ، مگر حاضری کی تڑپ دل و دماغ کو بے چین کئے ہوئے تھا، بلا انہیں بھی لیا گیا ، اور کھلی آنکھوں دکھایا گیا کہ اس راہ میں وسائل کی حیثیت نہیں ہے، ساری اہمیت بلاوے کی ہے ۔ بندہ جب اس بات کو سمجھ لیتا ہے تو اس کے اندراللہ پر کامل اعتماد پیدا ہوجاتا ہے ، وہ خدا کے فیصلوں پر بھروسہ کرنے لگتا ہے ، اور دل میں اطمینان قلب کی وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ، جس سے دنیا میں بھی سکون ملتا ہے اور آخرت کے راستے بھی ہموار ہوتے ہیں ، اس پہلے تحفہ کے ساتھ عازمین کا سفر حج شروع ہوتا ہے ، مال ودولت کی محبت دل سے نکلتی ہے تو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر بھی ہوتی ہے ، جس جس کا حق دبا رکھا ہے ، سب کو ادا کردیتا ہے ، بیٹی کا حق ، بھائی کا حق ، پڑوسیوں کے حقوق، یہ اللہ پر توکل کا پہلا اثر ہوتا ہے ، جو حقوق ادا نہیں ہوسکے، جو کوتاہیاں اور غلطیاں رہ گئیں، اس کے لئے بندوں سے معافی مانگتا ہے اور سارے علائق دنیوی سے کنارہ کش ہوکر کفن نما دو کپڑے پہن کر اللہ کے راستے پر ہولیتا ہے ۔
عورتوں کو ان کے کپڑوں میں ہی رکھا جاتا ہے، تاکہ پردے کا اہتمام باقی رہے ، اور پورے بدن اور سرڈھکنے کی مشق پوری زندگی کے لئے ہوجائے ، ورنہ آج کے دور میں رحمت کا یہ سایہ سروں سے غائب ہوتا جارہا ہے اور پہننے کے باوجود ننگے دِکھنے والے کپڑوں سے باز ار بھرے پڑے ہیں ۔
احرام باندھا ، آرائش وزیبائش کا خیال جاتا رہا ، نہ خوشبو ہے ، نہ میل چھڑایا جارہا ہے ، نہ بال ناخن بنائے جارہے ہیں ، دیوانگی ، وارفتگی ، شیفتگی میں مزہ آرہا ہے ۔عشقِ حقیقی کے مراحل طے ہورہے ہیں، سفرجاری ہے ، حاجی اسی سر مستی میں مکہ پہنچ جاتاہے ، وہاں وہ دیکھتا ہے کہ پوری دنیا سے آئے ہوئے لوگ اپنے اپنے انداز میں عبادت کررہے ہیں؛ کوئی ہاتھ باندھے ہوا ہے ، اور کوئی بغیر باندھے ہی اللہ کے دربار میں کھڑا ہے ، کوئی آمین زور سے کہہ رہا ہے ، اور کوئی دھیرے ، کوئی رفع یدین کررہا ہے ، اور کوئی نہیں ، جنازہ میں کوئی سلام ایک ہی طرف پھیرتا ہے تو کوئی دونوں طرف، اتحاد و اجتماعیت کا یہ مظہر ،ہمیں ہرقسم کے تعصب سے پاک ہونے کا تحفہ دیتا ہے ، ذات برادری ، زبان ، علاقائیت ، مسلک ومشرب ، رنگ و نسل کی تفریق سب اس اجتماعیت میں کھو جاتے ہیں ، کالے کوگورے پراور گورے کو کالے پر ، عربی کو عجمی پر، عجمی پرعربی کو فضیلت نہیں رہتی ، معیارِ فضیلت تقویٰ کھلے آنکھوں سے یہاں دکھتا ہے، ایک امت اور ایک جماعت کا صرف تصور نہیں، تصدیق کے مراحل طے ہوتے ہیں ، قرآن نے یوں ہی اعلان نہیں کیا کہ یہ امت ایک امت ہے، اسے ر ب کی عبادت کرنی چاہیے اور اس سے ہی لولگانا چاہئے ، اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ وَ اَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْن پڑھتے جایئے اور غور کرتے جایئے، علم وحکمت کے کتنے موتی اور عمرانی تمدنی دنیا کے کتنے اسرار ورموز آپ پرکھلتے جائیں گے، یہ منظر کتنا حسین ہے ، کوئی اختلاف نہیں ، کوئی جھگڑا نہیں ، الگ الگ انداز سے عبادت کرنے والے کو حیرت کی نگاہ سے بھی کوئی نہیں دیکھتا ، سب ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں ، یہ لڑی کلمہ ٔواحدہ کی لڑی ہے ، سب محمد رسول اللہ کے کلمہ پڑھنے والے ہیں ، حج کا یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ فروعی مسائل میں کسی طرح لڑنے کی گنجائش نہیں ہے ، کسی مسلک کا ماننے والا ہو ، وہ حرمین شریفین کے امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے ، کوئی نہیں دیکھتا کہ ہمارے امام سے ان کا طریقہ الگ ہے ، یا یہ کس امام کو مان رہے ہیں ۔ اجتماعیت کا یہ وہ پیغام ہے جسے حاجی اپنے ساتھ تحفہ کے طور پر لے کرآتا ہے، یہ تحفہ اسے دوسروں تک بھی پہونچانا چاہئے۔
ایک اور تحفہ صبروتحمل کا حاجی کے ساتھ آتا ہے ،دھکے پردھکے کھا رہا ہے ، اللہ کی بڑائی بیان کررہا ہے ،’’ معافی حاجی‘‘ ، ’’معافی حاجی‘‘ کی رٹ لگا رہا ہے ، وہ دھکے کھاکر مرنے مارنے پرآمادہ نہیںہوتا،بلکہ وہ سب سہہ رہا ہے ، اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے، اسے یاد ہے کہ وہ اپنے حج کو رفث ، فسوق ، اور جدال سے بچا رہا ہے ، اب وہ حج سے لوٹا ہے تو دوسرے کے لئے بھی اپنے ساتھ برداشت کا تحفہ لا یاہے ، تحمل اور صبر کی سوغات لایا ہے ، یہ سوغات اگر قاعدے سے لوگوں تک پہونچ جائے تو بے شمار سماجی اور تمدنی فائدے لوگوں کو حاصل ہوں گے۔
ایک تحفہ شرک و بدعات سے اجتناب کا بھی ہے ، صرف اور صرف اللہ کی عبادت کا جو خیال حج میں راسخ ہوتا ہے ، ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صدا انسانوں کو جس طرح غیروں سے بے نیاز کرتی ہے، اسے بھی عام کرنے کی ضرورت ہے، روضہ رسول پر صلاۃ و سلام پیش کرکے جو روحانیت حاجی نے حاصل کی ہے ، اسے بھی بانٹنے کی ضرورت ہے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ محبت رسول کیاچیز ہے اوراس کے تقاضے کیا ہیں؟اور اتباع رسول کس طرح بندے کو اللہ کی محبت کا حق دار بنادیتی ہے،اس کے علاوہ حسب صلاحیت و استطاعت مختلف ممالک کے لوگوں کے احوال و آثار سے جو واقفیت اس سفر میں ہوئی ، علمی گفتگو سے جو کچھ سمجھنے کوملا اسے بھی ملنے والوں تک پہونچنا چاہیے، یقینا یہ سارے تحفے انتہائی قیمتی ہیں ، اور اس کی تقسیم بھی حاجی کی ذمہ داری ہے ، کیوں کہ وہ اللہ کے مہمان بن کر گیا تھا ، اور داعی بن کر واپس ہوا ہے ، ارشاد ربانی ہے کہ’’ اس شخص سے اچھی بات کس کی ہوگی ، جو اللہ کی طرف لوگوں کو بلائے ، توکل ، اجتماعیت ، تعصب سے پاک سماج بنانے کی جدوجہد ، خالص اللہ کی عبادت کا پیغام ، حب رسول سے سرشار زندگی دعوت الی اللہ ہی کے جلی عنوان ہیں ،، غور کیجئے تو بہت سے ایسے تحفے حجاج اپنے ساتھ لائے ہوں گے ، جس سے ہماری زندگی میں انقلاب آسکتا ہے ، زمزم اور کھجور کے ساتھ حاجیوں کو یہ تحائف بھی تقسیم کرنے چاہیے اور ملنے والوں کو سے یہ تحائف وصولنا نہیں بھولنا چاہیے۔
(مضمون نگار مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ کے نائب ناظم اور وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم اور ہفتہ وار نقیب کے مدیر ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں