102

حجاب، چادر اور پردے پر اعتراض ۔ ذمے دار کون؟


مسعود جاوید
6 ؍فروری 2019ء کو ’’سلم ڈوگ ملینائر‘‘ کی دسویں سالگرہ منانے کے لیے ممبئی میں ایک جشن کا انعقاد ہوا تھا،اس موقع پرآسکر اور کئی قابلِ قدر ایوارڈ سے سرفراز عالمی شہرت یافتہ شہنشاہِ موسیقی اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ نے اپنے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ ان کے والد اللہ رکھا رحمان ایک نہایت ہی منکسرالمزاج’، محبت کرنے والے انسان ہیں اور محمد صل اللہ علیہ و سلم اور ان کی حیاتِ طیبہ ان کے لیے آئیڈیل اور چراغ راہ ہیں۔
تاہم بعض حاضرین جلسہ کو یہ دیکھ کر صدمہ پہنچا کہ ایک ماڈرن دنیا، شہرت و امارت اور گلیمر و آزاد خیالی کے لئے مشہور انڈسٹری سے وابستہ کامیاب ترین فنکارو امیر ترین شخص کی بیٹی خدیجہ مکمل حجاب میں اپنے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کر رہی ہے،اس جشن کی تصویریں وائرل ہوئیں اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا،اے آر رحمان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی پر حجاب کے لئے جبر کیا ہے، فرسودہ خیالات کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اور یہ کہ پوری دنیا میں اپنا اعلیٰ مقام بنانے والے مہذب روشن خیال اور تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان رہنے والے اے آر رحمان اس قدر دقیانوس، تنگ نظر اور قدامت پسند ہیں،اس کا منہ توڑ جواب انہوں نے ٹویٹر پردیا کہ میری بیٹیاں اپنی پسند کا لباس اختیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
جب ان کو ٹرول کیا جانے لگا، تو خود خدیجہ نے دفاع کیا کہ میں ایک عاقلہ بالغہ لڑکی ہوں اور میں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند کا لباس اختیار کیا ہے،میں اس چوائس کا احترام اور اسے دل و جان سے قبول کرتی ہوں،اس کا میرے والد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،کسی کو صحیح صورتحال جانے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہیے۔نیتا امبانی کے ساتھ اپنی بیٹیوں کے مہذب لباس، موڈیسٹ اور ڈیسنٹ ڈریس کی تصویر پوسٹ کر کے اے آر رحمان نے ایک اچھا میسیج دینا چاہا کہ بحیثیت مہذب شخص اور ذمے دار گارجین وہ اپنے بچوں کی انفرادی آزادی بھی مسلوب نہیں کرتے ؛لیکن بحیثیت مسلمان ان کی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنے لئے مہذب ،حیادار لباس پسند کیا اور اسے پہن کر سیلیبریٹیز کے جشن میں جانے میں کسی قسم کی شرمندگی یا کمتری کا احساس ان کے اندر نہیں ہے۔ٹویٹر پر جہاں اے آر رحمان اور ان کی بیٹی کو ٹرول کیا گیا، وہیں بہت سارے مسلم اور غیر مسلم نے خدیجہ کے جواب کو سراہا اور اس پر فخر کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ حیادار لباس اپنانا شر نہیں ،خیر کا سبب بنتا ہے۔
بادی النظر میں یہ ایک عام سا واقعہ ہے؛ لیکن اگر اس کی گہرائی میں جائیں ،تو معلوم ہوگا کہ ایمان محض زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ دل سے ماننے کا نام ہے،یعنی یہ دونوں عمل لازم اور ملزوم ہیں،تو جن لوگوں نے اسلام کو قبول کیا، انہوں نے مکمل اسلام کو قبول کیا،اپنی سہولت کے حساب سے بعض تعلیمات کو ماننے اور بعض کو نہ ماننے سے انسان مومن نہیں ہوتا،حجاب اور پردہ کا تعلق گرچہ عقائد سے نہیں ہے ،مگر پھر بھی پردہ کرنے، حجاب، خمار، چادر اور حیادار لباس پہننے کا حکم ہے؛ اس لئے اس کے استعمال میں شرمندگی محسوس نہیں ہونی چاہئے اور دوسرے وہ لوگ، جو اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہیں، ان کو بھی حجاب پر تنقید سے بچنا چاہئے ،یہ ادنیٰ درجہ ہے ایمان کا،ہم لاپرواہی اور کاہلی کی وجہ سے نماز ادا نہیں کرتے ،روزہ نہیں رکھتے ،تو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ،مگر پھر بھی مسلمان ہیں اور ہم اس گناہ پر نادم ہوتے ہیں،یہ ادنیٰ درجہ ہے ایمان کا، مگر ہم نماز کا مذاق اڑائیں( نعوذباللہ )تو پھر کیسی مسلمانیت؟
در اصل مسلمانوں کے بہت سے مسائل ،شعائر، عادات اور ثقافت کو لے کر بعض متعصب طبقے ہر دور میں متحرک رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں بعض مخصوص گروہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے زیادہ ہی پیش پیش ہیں؛لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے ،جب دیکھتا ہوں کہ بہت سارے مسلم ایلیٹ ،دانشور، روشن خیال، سرکاری عہدوں پر فائز شیکسپیئرین انگلش اسپیکنگ، بڑے بزنس مین بھی وہی راگ الاپتے ہیں، جنھیں غیر مسلم متعصب گروہوں نے چھیڑ رکھا ہے،اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ طبقہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہے یا یہ کہ اکثریتی طبقہ کے ان متعصب یا لبرل گروہوں کی بے جا خوشنودی حاصل کرنے کے خواہاں ہے۔
مسلمانوں کا یہ وہ طبقہ ہے، جو ویسے تو اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے، مگر درحقیقت وہ ذہنی غلام ہوتا ہے اور احساس کمتری کی بنا پر متعصب لوگوں کی دی ہوئی زبان بولتا ہے، مسلمانوں کا یہ طبقہ بھی اس پروپیگنڈے کا نہ صرف شکار ہوتا ہے؛ بلکہ اس کی ترویج و اشاعت میں معاون ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا سبب مسلم خواتین کا پردہ اور مردوں کا دین سے لگاؤ اور دینی شعائر کو اپنانا ہے،رائے عامہ حکومتی ایوانوں میں بنتی ہے ،مگر افسوس کہ ہمارا روشن خیال ،دانشور طبقہ جب خود یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی اصل وجہ دین ہے، تو وہ ہماری نمائندگی ان ایوانوں میں کیا کرے گا،اسے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ کسی مذہب کے شعائر اور گنگا جمنی تہذیب میں حد فاصل بھی ہے۔
بد قسمتی سے مسلمانوں کا یہی طبقہ رائے عامہ بنائے جانے والی گلیاروں، میڈیا، سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری سیمینار و سمپوزیم ،ادبی ،سماجی اور سیاسی محفلوں میں موجود ہوتا ہے،یہی وہ طبقہ ہے، جو اسلام ،اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کی صحیح صورتحال سے برادرانِ وطن کو روشناس کرانے کی بجائے ان کی غلط فہمیوں یا دانستہ الزام تراشیوں کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے،سو سال قبل کے مفروضے یا حقائق ، آزادیِ نسواں، پردہ، تعلیم نسواں، انگریزی زبان کے خلاف فتویٰ وغیرہ کا گھسا پٹا ریکارڈ سنتا، بجاتا اور سناتا رہتا ہے،مسلم ایشوز پر نئی ریسرچ ،نئے اعداد و شمار جاننے کی کبھی زحمت نہیں کرتا۔
یہ طبقہ اے آر رحمان اور خدیجہ کی طرح دفاع کیا کرے گا !اس کے لئے تو اس کا مسلمان نام بھی باعثِ شرمندگی ہوتا ہے، اس کا بس چلے، تو اسے کھرچ کر ہٹا دے، اس کا رویہ ہر وقت معذرت خواہانہ ہوتا ہے۔ایک بار ایک مسلم لیکچرار صاحبہ کی ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں دو پردہ نشیں خواتین نے خوب سرزنش کی؛اس لئے کہ پروفیسر صاحبہ یہ کہہ بیٹھیں کہ جاہل اور کم پڑھی لکھی عورتیں ہی نقاب اور چادر کا استعمال کرتی ہیں،ماشائاللہ وہ دونوں خواتین سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز تھیں۔
ان ہی وجوہات کی بناپر آج بھی رائے عامہ، مسلمانوں کے تعلق سے پرسیپشن اور امیج وہی ہے، جو سو سال قبل کے مسلمانوں کے بارے میں تھا۔جبکہ نئی صورتحال بالکل مختلف ہے،کئی سرکاری اور دیگر غیر سرکاری این جی اوز کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلم لڑکیوں میں لڑکوں کی بہ نسبت تعلیمی رجحان میں بہت اضافہ ہوا ہے،ان کے ڈراپ آؤٹ کیس کی شرح مسلم بچوں کی بہ نسبت بہت کم ہے،جس دینی طبقہ کو انگریزی زبان اور عصری تعلیم کے خلاف آج بھی لعن طعن کیا جاتا ہے، اس کے بچے انگلش میڈیم سے عصری تعلیم حاصل کر رہے ہیں،خواہ مدرسے کے معلمین ہوں یا مساجد کے امام ،ہر شخص اسی تگ و دو میں ہے کہ ان کی استطاعت کے مطابق فیس والے اچھے اسکول میں ان کے بچے اور بچیوں کا داخلہ ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں