98

حافظ شیرازی کا جمالیاتی نگارخانہ

(پہلی قسط)


حقانی القاسمی
اشھی لنا واحلی من قبلۃ العذاری
حافظ شیرازی ایک سحرآفریں معمہ ہیں۔ ان کی تخلیقی شخصیت ابہام واسرار کے بادلوں میں ملبوس ہے۔ ان کی شاعری etherealہے۔ اس میں alluring powerہے۔ الکحل سے زیادہ اثرداریہ شاعری اندرون کو انفلیم کرنے کی پوری قوت رکھتی ہے۔ حافظ کا کلام باکرہ کے بوسے سے زیادہ لذیذ اور خوشگوار ہے کہ قاری خود کو مینٹل آرگزم(mental orgasm) کی اعلیٰ منزل میں محسوس کرتا ہے۔ اس لطف کو شکیل الرحمن نے پراسرار خوشبوکہاہے:
”جس خوشبو سے کبھی جھرجھری سی ہوتی ہے اور کبھی نسیم سحر کا سرور ملنے لگتا ہے۔ جسم پرنشہ سا طاری ہوجاتاہے۔“
یہی نشہ کی کیفیت باکرہ بوسے میں بھی ہوتی ہے مگر حافظ کی شاعری میں یہ کیفیت کچھ زیادہ ہے کہ حافظ کی شاعری تو ’شراب شیرازی‘ ہے۔
سایہ را باشد حجاب از آفتاب
رخ محبوب کی طرح روشن سخن حافظ میں کشش ہے اور عارض معشوق کی طرح ہی اس میں سحرزدگیenchanmentکی کیفیت۔ کپتان کلارک کہتے ہیں کہ:
”قسطنطنیہ کے ترک اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ سعدی کی دعا کا اثر خواجہ کے کلام میں ہے کہ جو اس کوپڑھتا ہے بے خود اور مجذوب ہوجاتا ہے“۔ (حیات حافظ: ۵۱)
اس میں بہارحسن ہے اور یہ مرکز لطف بھی ہے۔ اس شاعری کے چشم خمار میں فسون سحر پنہاں ہے۔ یہ ایسی آفتاب عالمتاب شاعری ہے کہ اس آفتاب سے سایہ بھی پردے میں نہاں ہوجاتاہے۔
نکہتا ہست بسے محرم اسرار کجا است
حافظ کی شاعری تونفحہ مشکبار، بادہ روح بخش، گل خوش نسیم، آب آتش فشاں ہے۔ اس بکرمستورمست میں ہزاروں نکتے پنہاں ہیں۔ اس نورچراغ صبح، شعلہ درماہ آسماں کے رمز کوکتنوں نے سمجھاہے۔ شعرحافظ کے گل عارض پہ بہتوں نے لکھا۔ مگر ان کے شعری اسرار کے محرم شاید معدودے چند ہوں۔ ان نکتوں کی تلاش بھی کارے دارد ہے۔ شکیل الرحمن واحد ایسے ناقد ہیں جنھوں نے حافظ کے اس’نکتہ سعادت‘ کو پالیا ہے جو ان کی شاعری کا اسم اعظم ہے، اوریہ نکتہ بھی اس لیے مل گیا کہ اس کے حصول کے لیے جس انتردھیان، سرمستی، جذب وجنوں، محویت وفنائیت کی ضرورت تھی، وہ شکیل الرحمن کے باطن میں موجزن تھی۔ مستی عشق حافظ نے اس نکتہ کی راہ آسان کردی، ورنہ مست آب انگوری، حافظ کے ایک نکتے کی تلاش تو کیا۔ ایک مصرع کا بار بھی نہیں اٹھاسکتے۔کلام حافظ کا اصل مسئلہ تو ’تحمیل‘ کا ہے۔ جو تحمیل کی تفہیم ہی سے عاری ہوں وہ شعر کے اسرار و رموز کو بھلا کیا سمجھ پائیں گے۔ اس گنجینہ اسرار کو تومراقباتی شعور(Meditative consciousness)کی منزل والاانسان ہی سمجھ سکتا ہے اور وہ مراقباتی شعور شکیل الرحمن کے پاس ہے۔
یا درخشاں درمیان چشمہ حیواں سراج
حافظ کی شاعری آب خضر اور اس لب لعل کی طرح ہے جس میں آب حیات مخفی ہے یہ تواس عشق کی داستان ہے جس پہ کبھی موت طاری نہیں ہوتی۔ ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق۔
کلام حافظ میں عشق کا دل دھڑکتا ہے اور اسی زندہ عشق کی رو شعر حافظ میں ہے۔ شکیل الرحمن نے حافظ کے عشق کی شدت کا ادراک کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
”دیوان حافظ کا معاملہ یہ ہے کہ ’سیکس‘ محبت میں پگھل جاتاہے اور محبت اپنی بے پناہ توانائی کے ساتھ ماورائے شعور میں اترتی ہے۔ یہ شعور سے ماورائے شعور کا سفر ہے۔ یہ خوب صورت ڈراما ہے جو جمالیات کی ارفع وافضل سطح پر دنیا کے کسی بھی شاعرکی تخلیقات میں موجود نہیں ہے۔ عشق یا محبت وحدت جمال کا خوب صورت تجربہ بن جاتی ہے۔ محبت وسعت چاہتی ہے ارتقائی منزلیں طے کرنا چاہتی ہے۔ سیکس اور اس کے تقدس سے اوپر اٹھ کر اور بھی مقدس اورپاکیزہ بننا چاہتی ہے۔“ (ص:۸۷)
اسی عشق کی روشن آگ نے حافظ کی شاعری کو آب حیات کے چشمہ کے درمیان روشن چراغ کی حیثیت عطا کی ہے۔ یہ لازمان اور لامکان مستقبل کی شاعری ہے جو وجدان کی اعلیٰ سطح سے روشنی حاصل کرتی ہے یا Overmindماورائے ذہن تحرک سے ضیابار ہوتی ہے۔
حافظ سوختہ را یار نمی پر سد ہیچ
حافظ کا سینہ عشق سے شعلہ فشاں ہے۔ اسے وصال کی آرزو ہے۔ بس محبوب میں جذب ہوجانے کی تمنا ہے۔
مقصود وجود حافظا چیست
جز صحبت یار و بادہ جام
مگراس حسرت کی آگ میں، ایک بوسے کی طلب میں حافظ کا وجود جل رہا ہے اور اسے وہ وصال میسر نہیں ہے، حتیٰ کہ معشوق کی بے وفائی، بے اعتنائی سے حافظ کا دل ٹوٹ جاتاہے۔ حافظ Broken heart syndromeسے گزرے ہیں اورجب کوئی فن کار، تخلیق کار، اس شکستگی دل کی قیامت سے گزرتا ہے تو اس کے وجود سے جو نغمہ جنم لیتا ہے، وہ بھی نہایت اعلی وارفع ہوتاہے۔ حزنیہ جذبے کا بھی ایک وقار ہے اور حافظ کے ہاں تویہ بھی میلوڈی میں بدل جاتاہے۔ شکیل الرحمن نے حافظ کے جشن مناتے ذہن میں اداسیوں کے گہرے بادل کی بھی شناخت کرلی ہے:
”حافظ شیرازی کے دیوان میں پیتھوس کی میلوڈی (Melody of Pathos) کی ایسی مثال اورکہیں نہیں ملتی۔ المیہ تجربے کی جڑیں جذبات کی گہرائیوں میں پیوست تھیں جنھیں تخلیقی تخیل کی توانائی نے باہر نکالا اور ایک عمدہ تخلیق کی صورت دے دی۔“ (ص:۹۵)
حافظ کو اس بے اعتنائی نے تخیل کی وہ توانائی عطا کردی، جو بہت کم شکستہ دلوں کا نصیب ہوتی ہے۔ حافظ کی Poetry of Painمیں بھی جوPleasureہے، وہ صرف شاذ شاعروں کے ہاں ملتی ہے۔
کہ بشگفد گل عیشت ز شعلہ مصباح
عشق کے اسی احساس نے حافظ کے ذہن سے رات دن کا امتیاز ہی محو کردیا تھا۔ جب عشق حقیقی ہو تو رات دن کا تفاوت مٹ جاتاہے اور ہر لمحہ ایک ایسی کیفیت ایک ایسا جنون سماجاتاہے، جس کے سامنے نہ دن کے اجالے کی کوئی معنویت ہوتی ہے اور نہ شب کی تاریکی کی۔ یہ تاریکی اور روشنی، خود اس کے وجود سے پھوٹنے لگتی ہے۔ ہرعاشق اپنے درون میں رات اور دن تشکیل کرتاہے، یہ عام تعینات سے ماورا لیل ونہار ہوتے ہیں جس کا وقت کی تقویم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ اسی لیے حافظ آسمان کے سورج سے نہیں، اپنے باطن کے چراغ سے شب کوسحر میں ڈھالتے ہیں اور صبح کی تمنا میں اس آفتاب کا انتظار نہیں کرتے جو کہ خود رخ محبوب سے روشنی مستعار لیتاہے۔ حافظ نے ہمیشہ اپنے تخیل میں رات کو دن ہی کی طرح تصور کیاہے کہ عشق کی آگ وجود کو ہمیشہ مانندسحر ہی تاب وحرارت اور تمازت عطا کرتی ہے۔ حافظ کی شاعری تو Transfixکرنے والی ہے۔ یہ توانسانی وجود کی ماہیت ہی تبدیل کردیتی ہے پھر دن،ر ات کے تعینات کی بساط ہی کیاہے۔
حافظ کے تصو رمیں کائنات کی ہرشے ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ ان کے خیال میں انسانی جسم میں کائنات Cosmosکی تجسیم کردی گئی ہے اور کائنات، انسانی جسم کا ہی ایک پیکر ہے۔ انھوں نے Inner selfکے ساتھ Cosmic selfکے Vibrational Unisenکومحسوس کیاہے۔ اس Vibrational Chemistryکی وجہ سے حافظ نے اپنے تخیل سے دن رات کی تشکیل کی ہے کہ دن رات انسانی جسم سے طلوع ہوتے ہیں اوریہی وجود کی رمزیت ہے۔
شدہ آشفتہ ہمچو روئے فرخ
مگراسرار وجود تو فرخ کے بالوں سے زیادہ آشفتہ اور پے چیدہ ہیں۔ وجود کے رمز و غمزمخفی کی تفہیم نہایت دشوار ہے۔ حافظ کی شاعری اسی اسرار وجود کی عقدہ کشائی سے عبارت ہے۔ یہ وجود تو طلسمات عجائب ہے۔ اس میں انفس وآفاق کے مظہرات کی تفہیم بھی شامل ہے اور افلاک و انفاس کے مابین رشتے کا تعین بھی۔ سینے کے آتش نہفتہ کو آفتاب فلک قرار دینا بھی اسی وجودی رمز کا مظہر ہے۔ حافظ نے انسانی وجود کو جن گہرائیوں، اونچائیوں، عالم بالا اور عالم اسفل، زمینی اور فلکی ارتباط کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ تمام عوالم،انسانی وجود کی ہی رہین منت ہیں اور انسانی وجود کو تسخیر کی قوت عطا کی گئی ہے۔ فلک سے انسانی وجود کو ضیا نہیں ملتی بلکہ وجود انسان کی حرارت سے ہی فلک ضیا بار ہے۔ حافظ کی شاعری کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تووجود کی حقیقت، ماہیت کا عرفان حاصل ہوسکتاہے۔ شکیل الرحمن نے اس اسرار وجود کی طرف یوں اشارہ کیاہے:
”وجود اور وجود کے اسرار کی تخلیق حسن مطلق اور معبود حقیقی نے کی ہے۔ اگر ہم امکان کے اس محدود دائرے میں گھومتے رہیں گے تووجود کے اسرار کے کسی نکتے سے واقف نہ ہوسکیں گے“۔
نشوی واقف یک نکتہ ز اسرار وجود
گر تو سرگشتہ سوی دائرہ امکان را
(ص:۷۴)
ایں قدر دانم کہ از شعر ترش خوں میچکید
کلام حافظ میں خون جگر کی نمود ہے۔ ان کی شاعری کی رگوں میں تازہ لہو دوڑتاہے۔ وہ صنعت گرنہیں، فطری شاعر ہیں۔ ان کے تخیل کی براقی اور جدت طبع ان کے شعروں سے ظاہر ہے۔ ان کا ذہن، ہمیشہ تازہ تازہ، نئے نئے خیالات کی جولاں گاہ ہے۔ ان کی شاعری بسنت رتو کی طرح ہے۔ نئی کونپل، نیا شگوفہ، نئے پتے، نئی گھاس— ان کی شاعری پڑھتے ہوئے احساس ہوتاہے جیسے کسی نئی وادی کی سیر کررہے ہوں جہاں تخیلات کی سرسبز، شاداب فصل لہلہارہی ہے۔ حافظ کے ہاں جو نزہت وبہجت ہے وہ پیرسرسبز، باباکو ہی کی دین ہے۔اس مقام کے بارے میں ایک عجیب و غریب حکایت مشہور ہے۔ حافظ محمد اسلم جیراجپوری نے لکھا ہے کہ:
”فارس میں یہ مشہور تھا کہ جو شخص اس مقام پر ایک چلہ کھینچے، حضرت خضر اس کو آب حیات پلادیتے ہیں اور وہ اعلیٰ درجے کا شاعر ہوجاتا ہے۔ خواجہ نے بھی اس ارادے سے چلہ کشی شروع کی۔ روزانہ رات کے پچھلے پہر وہاں جاکے ورد اور وظیفہ پڑھتے۔ اس زمانے میں ان کو ایک بازاری عورت شاخ نبات نامی سے عشق ہوگیا تھا۔ اتفاق سے ایک دن رات کو اس کے کوچے میں چلے گئے اور وہی چلے کی چالیسویں رات تھی۔ شاخ نبات کہاں تو کبھی التفات ہی نہیں کرتی تھی اور کہاں آج بڑی لگاوٹ کی باتیں شروع کیں۔ خواجہ بھی اس کی باتو ں میں کچھ ایسے محو ہوئے کہ چلہ کا خیال ہی دل سے جاتا رہا۔ جب رات زیادہ ہوگئی تو یکایک خیال آیا، گھبراکر اٹھے۔ اس نے ہر چند روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور پیر سرسبز پہونچ کر حسب معمول وظیفہ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی اس مستعدی پر خدا کو رحم آیا۔ حضرت خضر نمودار ہوئے اور انہوں نے آب حیات کا پیالہ پلا دیا۔ اس دن سے ان کو ایک غیر فانی شاعری مل گئی“۔ (حیات حافظ: ۵۱)
ان کا کوئی بھی شعر پڑھئے”شاخ تازہ تر“ کی مانند نظر آتاہے جیسے ابھی اس خیال کا القا ہواہے یا آسمان سے الہام ہو۔ خیال میں ایسی ندرت کسی کو بھی نصیب نہیں۔ عارفان حافظ بھی یہی کہتے ہیں اور ایک قاری کا بھی یہی تیقن ہے کہ حافظ کے شعروں سے تازہ خون ٹپکتا ہے۔ یہ خون اس تیرعشق کا اثر ہے جو ”شاخ نبات“ نے حافظ کے دل کے پار کردیاہے۔حافظ کی غزل کا ایک شعر ’اس شاخ نبات‘ کے شکریے سے معمور ہے:
ایں ہمہ شہد و شکر کزنخم میریزد
اجر صبریست کزاں شاخ نباتم دادند
”میرے کلام میں جو شہد و شکر ٹپکتا ہے اس صبر کا اجر ہے جو شاخ نبات کی طرف سے مجھ کو عطا ہوا ہے“۔
’شاخ نبات‘ شیرازی معشوقہ ہے یا اس کا مفہوم کچھ اور ہے۔ اس تعلق سے اسلم جیراج پوری کی تحقیق یہ ہے کہ ”شاخ نبات‘ کے معنی نے شکر کے ہیں جس سے کلک قلم مراد ہے۔ خواجہ نے اپنے دیوان میں جابجا شاخ نبات اپنے قلم کو ہی لکھا ہے۔ ایک جگہ کہتے ہیں:
حافظ چہ طرفہ شاخ نباتیت کلک تو
کش میوہ دل پذیر تراز شہد و شکراست
”حافظ تیرا قلم نہایت ہی عمدہ شکر ہے کہ جس کا میوہ شہد و شکر سے بھی زیادہ دل پسند ہے“۔ (حیات حافظ: ۶۱)
حافظ کو یہ جدت اورندرت اس لیے بھی نصیب ہے کہ دوسرے شاعروں کی طرح ان کا ذہنی تحرک موقوف و منجمد نہیں ہے بلکہ ان کاNCV (nerve conduction velocity)بہت تیز رفتار ہے۔ ان کے دماغی خلیے میں جو تحرک اور تموج ہے، اس سے ہمارے بہت کم تخلیق کار بہرہ ور ہیں۔ شکیل الرحمن نے حافظ کے خیال کی خلوت میں داخل ہوکر ان نکات کو تلاش کیاہے جو حافظ سے ہی مختص ہیں۔ انھوں نے حافظ کی اختراعی اور ابتکاری فکری جہتوں کا اس طرح اکتشاف کیاہے کہ حافظ، ان شارحین سے الگ شکل وصورت میں رونما ہوتے ہیں جنھوں نے حافظ کے کلام کی تشریح وتعبیر تو کی مگر ان کے شعری تخیل کی بازگشت Poetic Resonanceکو اپنے باطن میں محسوس نہ کرسکے۔ شکیل الرحمن نے اپنے قلب میں حافظ کی اس قلقل مینا کو محسوس کیاہے، اس لیے حافظ کو ایک نئی شکل دی ہے، بالکل مختلف اور منفرد شکل کہ شعر حافظ سے ایک والہانہ شیفتگی (Infatuation)سی پیدا ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں