87

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی

فاروق اعظم قاسمی
(ریسرچ سکالرجواہرلعل نہرویونیورسٹی،نئی دہلی)
لمبا چہرہ ، ستواں ناک ، بھیگی بھیگی آنکھیں، مگر کچھ سوچتی ہوئیں ، کشادہ پیشانی ، قد لمبا ، قدرے دبلا ، کمر خمیدہ ، باریک ہونٹ ، گورے چہرے پر سفید و نورانی ڈاڑھی ، لکیری مونچھ ، کرتا پاجامہ پر شیروانی زیبِ تن کیے ہوئے ،بسا اوقات وہ بٹنوں کی قید و بند سے آزاد رہتی گویا شیروانی نہیں کسی درویشِ زمانہ کا اچکن ہو ۔ ہاتھ میں عصائے پیری ۔یہ تھے کج کلاہِ وقت،اردو کے عظیم شاعر ڈاکٹر کلیم احمد عاجز عظیم آبادی مرحوم۔
دردو کرب اور غم و الم کی بھٹی میں تپی ہوئی اور ذہن و دماغ میں بھونچال پیدا کرنے والی بے مثال شاعری کا شاعرِ منفرد عاجز مرحوم ایک قلندرانہ صفت کی حامل شخصیت کا نام ہے ۔ لاکھ غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹنے کے با وجود زندگی جینے کا گر کوئی کلیم عاجز سے سیکھے ۔ان کی شاعری میں طوفان بھی ہے لیکن بستیوں کو اجاڑنے والا نہیں؛بلکہ انسانی دنیا کی آلودگی ختم کرکے اسے تازہ آب و ہوا عطا کرنے والا طوفان ۔ عاجز کی شاعری میں جوار بھاٹا بھی ہے لیکن آبادیوں کو ویران کرنے کے بجائے آباد اور شاداب بنانے والا جوار بھاٹا ۔ وہ روتے ، تڑپتے ، سسکتے ضرور ہیں لیکن آہ و زاری ، چیخ پکارو نوحہ خوانی ان کی شان کے خلاف ہے ۔کلیم عاجز کی شاعری پڑھنے والے کی آنکھیں نہ چھلکیں ذرا مشکل عمل ہے ۔ وہ اپنی داستانِ غم اور اپنی خانہ بربادی کے قصے ضرور سناتے ہیں؛ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو معافی مانگنے سے پہلے ہی معافی کا پروانہ عطا کر دیتے ہیں اور پیارے نبی ﷺ کی وہ حدیث بھی کفِ دست کی طرح ان کے سامنے رہتی ہے، جس میں ارشاد ہے کہ اچھوں کے ساتھ اچھا کرو اور بروں کے ساتھ بھی اچھاکرو ۔ ایسے ہی قرآنِ عظیم کی وہ آیت بھی ان کے پیشِ نظر رہتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ معاف کرنا بدلہ لینے سے زیادہ بہتر ہے:
مری شاعری میں ہے رقص و جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
وہی دکھ بھروں کی حکایتیں ، وہی دل جلوں کی کہانیاں

کلیجہ تھام لو رودادِ غم ہم کو سنانے دو
تمھیں دکھتا ہوا دل ہم دکھاتے ہیں دکھانے دو

کتنا دکھ ، کتنی جفا ،کتنا ستم دیکھا ہے
ہم نے اس عمر میں ایک عمر کا غم دیکھا ہے

ترے ابرو پہ مگر بل نہیں آیا عاجز
دل کچل بھی گیا ٹوٹا بھی جلابھی تیرا

اس انجمن میں ہم بھی عجیب وضع دار ہیں
دل ہے لہو لہان جبیں پر شکن نہیں

یہ سلیقہ شخصیت میں ہے بہت مشکل کلیم
دل فقیرانہ رہے اور بات شاہانہ کہے

جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا
یہی دردِ سر خریدا یہی زخم ہم نے پالا

خشک ہو جاتے ہیں جب آنسو تو آتا ہے لہو
غم وہ دولت ہے کبھی جس پہ زوال آتا نہیں

نہ داغ آئے گا اپنے دامنِ حسنِ طبیعت پر
وفا پر جو مری تہمت لگا تے ہیں لگانے دو
زمانہ صبر کر لیتا ہے عاجز ہم بھی کر لیں گے
خلش دل کی مٹا لینے کو دو آنسو بہانے دو
ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب اسلام کے سچے متبع تھے ۔ انھیں گندگیوں سے نفرت تھی؛ لیکن گندوں سے نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے انسانی معاشرے میں پھیلی غلاظت کو ختم کرنے کے لیے پوری زندگی جدو جہد کی اور اپنی غزلوں کے ذریعے وہ محبتوں کا نور بکھیر کر نفرتوں کی اندھیریوں کا قلع قمع کرتے رہے۔ عاجز مرحوم نے اپنی شاعری میں غمِ ذات کو غمِ کائنات بنا دیا ، خود روئے ، پورے زمانے کو رلایا اور انسانی دماغ کو بہت کچھ سوچنے پر آمادہ بھی کیا:
اپنا یہ کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھر ملے

فضائے چرخ پہ اڑنا کوئی بڑائی نہیں
کسی کے دل میں اترنا کمال ہے پیارے

وہی زندہ رہنے کا فن جانتے ہیں
جو آدابِ دار و رسن جانتے ہیں

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا
تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں، یہ کلیم تجھ کو ہوا ہے کیا ؟

اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے
کون یہ نغمہ سرا میر انداز میں ہے

اس طرح مرے ساتھ ملی ہے مری غزل
ہر شعر زندگی کا سفر نامہ ہو گیا
پہلی بار جب میں ڈاکٹر کلیم احمد عاجز مرحوم کے نام سے آشنا ہوا،اس وقت دارالعلوم دیوبند میں زیرِ تعلیم تھا،فضیلت کا تیسرا سال (2002/2003)تھا ۔ دارالعلوم میں انجمن کا کلچر بہت مستحکم ہے ۔ وہاں کل دارالعلوم انجمنیں بھی ہیں اور صوبائی و ضلعی انجمنیں بھی ۔ انجمنوں کے عموماً تین شعبے ہوتے ہیں ۔ ایک ہفتہ واری تقریری (مشقی) پروگرام ،دوسرے لائبریری کا نظام اور تیسرے ماہانہ دیواری رسائل (Wall Magazines)کی اشاعت ۔ انجمنوں میں ابتدا کے دو تین برسوں میں طلبہ کی شرکت قدرے کم رہتی ہے؛لیکن تیسرے درجے سے طلبہ میں انجمن کی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے لگتی ہیں ۔ ان ہی راہوں سے گزرتے ہوئے میری سرگرمیاں بھی آگے بڑھ رہی تھیں اور اپنی ضلعی انجمن ’ تہذیب البیان ‘ (برائے طلبۂ مونگیر ، بیگو سرائے اور کھگڑیا ) کے ساتھ دیگر بڑی انجمنوں میں بھی شرکت کا موقع مل رہا تھا بطورِ خاص ’مدنی دارالمطالعہ ‘ اور ’ بزمِ سجاد ‘ کے پروگراموں میں شرکت سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ۔ زبان ، بیان ، اسلوب وانداز کے ساتھ ساتھ سامعین کو ہمنوا بنانے کے گر بھی ہاتھ آتے ۔ ان پروگراموں نے جہاں ایک کائنات کی سیر کرائی اور بہت سی نامور ہستیوں سے متعارف کرایا،وہیں ایک درویش صفت ، دردو کرب سے بھرے، محبتوں کے بھوکے اور محبتوں کے جام لنڈھانے والےبے نظیر و بے مثال شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز عظیم آبادی کے پیارے نام سے بھی ذہن آشنا ہوا ۔ اس وقت دارالعلوم کے ادبی افق پر کئی ایسے نام چمک رہے تھے، جو خود بھی شعر و سخن کا اعلیٰ ذوق رکھے تھے اور عاجز صاحب کے اشعار تو ہمہ وقت ان کی زبانوں پر رقص کرتے رہتے ۔ ان طلبہ میں سرِ فہرست آفتاب غازی دربھنگوی ،احسن اللہ مظفر پوری ، جاوید اقبال کشن گنجی ، احمد حسین محرم اور شاکر کٹیہاری تھے؛ لیکن اول الذکر کو قائد کی حیثیت حاصل تھی؛ کیوں کہ وہ شاعر کے ساتھ شاعر گر بھی تھےـ
کوئی بزم ہو یا کوئی انجمن ، کوئی نشست ہو یا پھر بیت بازی کا کوئی مقابلہ؛ہر محفل میں عاجز صاحب کی شاعری کی قندیل روشن دکھائی دیتی ۔ خاص طور پر بیت بازی کے مقابلوں میں تو بس ہر طرف سے عاجز ہی عاجز کی گونج سنائی دیتی ۔ لطف کی بات تو یہ تھی کہ ان کی شاعری کی ساحری کے اسیر طلبہ و اساتذہ دونوں تھے ۔میری ایک بڑی خامی یہ ہے کہ مجھے اشعار یاد نہیں رہتے؛ لیکن عاجز مرحوم کی کرامت کہیے کہ ان کے درجنوں اشعار اپنے دوستوں سے سن سن کر مجھے ازبر ہو گئے تھے ۔ طلبۂ دارالعلوم دیوبند میں ڈاکٹر صاحب کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا یہ عالم تھا کہ بڑی تیزی سے ان کی کتابوں کے مطالعے کا رجحان بڑھا اوربڑھتا ہی چلا گیا ۔ ان کے تمام شعری مجموعے اور نثری کتابیں پٹنہ اور حیدر آباد سے در آمد کی جانے لگیں اور طلبہ اپنی وسعت سے زیادہ قیمت پر کتابیں خرید خرید کر بصد شوق و اشتیاق مطالعہ کرنے لگے،جب کہ فی الواقع اس وقت (2003) طلبہ کا عمومی طبقہ تین چار سو روپے میں ایک ماہ کا گزارا بآسانی کر لیا کرتا تھا اور ایک غریب طالبِ علم کے لیے یقیناً یہ ایک بڑی رقم تھی تاہم طلبہ نے اپنی دیگر ضروریات کو دبا کر ’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘ کو حیدر آباد سے چار چار سو روپے میں منگا کر اس کا مطالعہ کیا ۔ اس زمانے میں تو دارالعلوم کے کیمپس میں اس کتاب نے بڑی دھوم مچائی:
بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیا مزا دے ہے
غزل کمبخت کچھ ایسی پڑھے ہے دل ہلا دے ہے

سلگنا اور شئی ہے جل کے مرجانے سے کیا ہوگا
جو ہم سے ہو رہا ہے کام پروانے سے کیا ہوگا

کس مشکل سے چل کر عاجز اس منزل تک پہنچے ہیں
عقل کا دامن چھوٹ گیا تو درد کا دامن تھام لیا

اوروں کا دکھ درد اپنا کر نکلے ٹھوکر کھانے ہم
سب سے دیوانہ تھا مجنوں اس سے بھی دیوانے ہم

غزل سے چاک دل کی بخیہ کاری کون جانے ہے
جو ہم جانے ہیں ایسی وضع داری کون جانے ہے

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
طلبہ کا ایک گروہ براہِ راست کتاب خرید کر مطالعہ کرنے سے قاصر تھا، تو اس نے زیروکس کاپی کے ذریعے اپنی راہ نکالی؛ لیکن یہ راستہ بھی سستا نہیں تھا ۔ طلبہ کی ایک جماعت ایسی بھی تھی، جو منقولہ کتاب کے حصول پر بھی قادر نہیں تھی، تو وہ حفاظت اور محدود وقت کی شرطوں کے ساتھ منقولہ کاپی مستعار لے کر مطالعہ کرتی اور مذکورہ شرطوں کے مطابق کتاب واپس کر دیتی؛کیوں کہ اس طرح کے دوسرے دیوانے بھی انتظار کی قطار میں ہوتے ۔ پھسڈی ہی سہی، راقم بھی دیوانوں کے اس جھرمٹ میں شامل تھا ۔میں نے بھی اپنے ایک سال سینیر بھائی ممتاز احمد مدھے پوری سے زیروکس کاپی مستعار لے کر مطالعے کی فتحیابی حاصل کی تھی ۔ ہوا یوں کہ بقرعید کی چھٹی کا موقع تھا ، چھٹی کے ایام محدود تھے ، درس کی غیر حاضری کے خوف سے گھر کی زیارت سے محروم رہا ، فضیلت کا چوتھا سال تھا ، ’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘ لی اور بڑے ارمانوں کے ہاتھوں لی ، لطف کی بات یہ ہے کہ مطالعے کے لیے’ مسجد قدیم ‘ کا رخ کیا،گویا کسی صحیفے کی تلاوت کی تیاری ہو رہی ہو ۔میرے ہمراہ میرے ایک سال سینیر غالباً شاداب سہیل کشن گنجی یا پھر بھائی مامون رشید ارریاوی تھے۔ میں نے کتاب کی قرأت ، جی ! قرأت شروع کی، وہ بھی جہراً ، میں پڑھ رہا تھا، وہ سن رہے تھے ، وہ کتاب کیا تھی ، درد و کرب سے بھری ایک طویل داستان شروع ہو گئی ، اب کیا بتاؤں ہم دونوں کی آنکھیں بے ساختہ چھلک پڑیں اور آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔اب مجھے نہیں معلوم کہ اس داستانِ الم نے میرے ساتھی پر کتنا اثر چھوڑا؛ لیکن اس کتاب نے میرے دل کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، میں بے خود ہوا جارہا تھا ، آوازمیری رندھ سی گئی تھی اور میں اپنی ذات میں گم ہو کر رہ گیا تھا ۔ اس وقت دل کی کیا کیفیت تھی میرے یہ سیاہ حروف ترجمانی سے قاصر ہیں ۔
آج جب کہ تیرہ چودہ برسوں کے بعد اپنی یہ یادداشت قلم بند کرنے بیٹھا ہوں، تو وہ سارے مناظر نگاہوں کے سامنے جھلملانے لگے ہیں ۔ مسجد قدیم ،اس کی چٹائی ، اندرونی حصے کے سرے پر مشرق کی جانب بیٹھا ہوں ، سامنے مسجد کا وسیع صحن ہے ، طلبہ کی گہما گہمی ہے ، بغل میں ایک دوست ہے اور رحل نما دونوں زانوؤں پر عاجز مرحوم کے قرآنِ سخن کی تلاوت جاری ہے اور آنسوؤں کا آبشار بھی رواں ہے ۔خیر ایک ادنیٰ مخلوق کا کلام کیوں کر عظیم خالق کے کلام کا ہمسر ہونے لگا، تاہم ایک اچھے انسان کے اندر صفتِ محبت و مروت ، عفو و درگزر اور ترحم و تحمل بھی تو اسی خالق کی صفت کا پرتو ہوتا ہے ۔
اب تک عاجز صاحب کی زیارت سے آنکھیں محروم تھیں؛ لیکن ان کی شاعری کا تأثر دل پر قائم ہو چکا تھا ،سوان سے ملاقات کا اشتیاق مزید بڑھ گیا ۔ عاجز صاحب کی زلفِ شاعری کا اسیر صرف ایک ناچیز ہی نہیں تھا؛ بلکہ دیگر بہت سے دوست و احباب اور اساتذہ بھی ان کے مداحوں میں نظر آئے ۔
’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘ کے ساتھ ساتھ ان کی شعرو نثرکی دوسری کتابوں کے مطالعے کا شوق پیدا ہوا ۔ اس سلسلے میں میرے رفیقِ دیرینہ و ہم نشیں نادر اعجاز نے دل کھول کر سخاوت و محبت کا مظاہرہ کیا۔ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی ‘ ، ’ ابھی سن لو مجھ سے ‘ اور ’ یہاں سے کعبہ ، کعبہ سے مدینہ ‘ وغیرہ کا مطالعہ اپنے اسی نادر دوست سے مانگ مانگ کر کیا تھا ۔ اس کے علاوہ خدا بخش لائبریری پٹنہ سے عاجز مرحوم کے مضامین کا مجموعہ ’ میری زبان میرا قلم ‘ حاصل کر کے پڑھا ،پھر ان کی شخصیت و شاعری پر پرفیسر محسن عثمانی ندوی کا ترتیب دیا ہوا مجموعۂ مضامین ’ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز : شخصیت و شاعری ‘ کے مطالعے سے مزید ان کی ذات و صفات اور فکر و فن کو سمجھنے کا موقع ملا اور ذہن و دماغ پر ان کی شخصیت کا ا ثرگہراہوتا چلا گیا ۔
2005 میں دارالعلوم دیوبند میں مفتی ظفیر الدین مفتاحی مرحوم کے قیام کو پچاس سال پورے ہو گئے تھے ۔ اس موقعے سے سب سے پہلے میں نے مفتی صاحب پر ایک مضمون لکھا،جس کا عنوان ’’ مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دارالعلوم دیوبند میں ان کی پچاس سالہ خدمات ‘‘ تھا۔ یہ اس موقعے کا پہلا مضمون تھا، جو دو قسطوں میں ماہنامہ ’’ فیصل ہند ‘‘ نئی دہلی ( مئی و جون 2005) میں شائع بھی ہوا تھا ۔ سجاد لائبریری (برائے طلبہ بہار ، اڑیسہ ،جھارکھنڈ و نیپال)کے اس وقت کے صدر آفتاب غازی صاحب سے میں نے گزارش کی کہ کیا اچھا ہوتا کہ اس بار بزمِ سجاد کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سالانہ تحریری مسابقے کا موضوع مفتی صاحب کی حیات و خدمات ہو ۔ چنانچہ انھوں نے اس حقیر رائے کو قابلِ اعتنا سمجھا اور کئی اور چیزوں کے بارے میں گفت و شنید ہوئی ۔ بالآخر مشورے میں یہ طے پایا کہ بزمِ سجاد کے زیرِ اہتمام رواں سال کے مسابقۂ تحریر کا موضوع مفتی ظفیر الدین مفتاحی کی حیات و خدمات ہوگا ، بزمِ سجاد کی زیرِ نگرانی چلنے والی ضلعی انجمنوں کے ماہنامہ دیواری رسالوں کا ایک خاص شمارہ ’’آفتابِ فقہ نمبر ‘‘ (مفتی ظفیر الدین مفتاحی ؒ )ہوگا اور بزم کے سالانہ اجلاس کا ایک سیشن مفتی صاحب کی حیات و خدمات پر مشتمل ایک سمپوزیم (خاص موضوع پر مذاکرہ)بھی ہوگا ۔اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد سے پہلے نگرانِ انجمن کی تصدیق کے ساتھ انتظامیہ سے پہلے اجازت لینی پڑتی ہے اور مہمانِ خصوصی کی وضاحت کرنی پڑتی ہے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب سجاد لائبریری کے نگراں مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کے پاس انجمن کے ذمہ داران طلبہ گئے، تو انھوں نے اس جملے کے ساتھ دستخط کیا تھا کہ دنیا ئے ادب کا ہر پڑھا لکھا شخص ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کو جانتا ہے ۔چنانچہ ایک بڑا پروگرام منعقد ہوا ۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاجز مرحوم سمیت مونگیر سے مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب اور دہلی سے مفتی صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر ابو بکر عباد صاحب بھی اس پروگرام میں شریک ہوئے تھے۔
ڈاکٹر عاجز مرحوم کے مشتاق و مداح ایک مدت سے ان کی زیارت کو بے چین و بے قرار بیٹھے تھے ، جب وہ درویشانہ و عاجزانہ مگر شاہانہ شان و شوکت سے اجلاس میں دارالحدیث فوقانی کے بڑے ہال میں تشریف لائے، تو سامعین و ناظرین کا جم غفیر ہال کی طرف ٹوٹ پڑا ۔ سارا مجمع انھیں دیکھنے اور سننے کی خاطر سراپا شوق بنا ہوا تھا ۔ان کی محبوبیت کا یہ عالم تھا کہ مذکورہ پروگرام کے دیگر حصے پھیکے پڑ گئے ، سمپوزیم بھی اپنی ہیئت پر برقرار نہ رہ سکا ۔ اب یہ پروگرام خالص ڈاکٹر کلیم عاجز کے نام معنون ہو گیا ۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر نواز دیوبند ی بصد شوق شریک تھے ۔ حضرت الاستاذ مولانا حبیب الرحمن اعظمی جو مسندِ درس کے علاوہ بمشکل ہی کسی پروگرام میں نظر آتے ہیں ، بھی وقت سے پہلے ہی رونقِ اسٹیج تھے ۔ میرے استاذِ محترم مولانا محمد سلمان بجنوری بھی اپنے ننھے منے دو صاحبزادوں کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے اور وہ انھیں دستِ شفقت سے نواز رہے تھے ۔ طلبہ کا ہجوم تا حدِ نظر تھا اور موسمِ گرما کی مہربانی اس پر مستزاد تھی، تاہم پورے ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔
مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب نے عاجز صاحب کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ان لفظوں میں کیا کہ صرف ہندوستان ہی میں نہیں؛ بلکہ جہاں تک اردو زبان کا دائرۂ کار ہے،وہاں تک ڈاکٹر کلیم احمد عاجز صاحب کی شخصیت اچھی طرح جانی پہچانی جاتی ہے ۔ وہ ایک شاعر ہی نہیں، عظیم انسان بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج (2005) سے پچاس سال قبل جب میرا بچپنا تھا ، اپنے شہر اعظم گڑھ کے شبلی کالج میں پہلی بار ان کی شاعری سننے کا موقع ملا تھا۔ اس روز سے آج تک ان کی شاعری کی ساحری کا اسیر ہوں ۔ جب کبھی میں اپنے پڑھنے لکھنے سے تھک جاتا ہوں،تو یقین جانیے گھنٹوں ڈاکٹر صاحب کے اشعار سے اپنی تکان دور کرتا رہتا ہوں اور اپنی روح کو تازگی بخشتا رہتا ہوں ۔ بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں اشعار آج بھی میرے حافظہ خانے میں محفوظ ہیں ۔
مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نے ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار یوں کیا کہ ڈاکٹر صاحب ایک صاحبِ دل انسان ہیں، جو آج مرکزِ اہلِ دل میں تشریف فرما ہیں اور صدیوں سے شیفتہ و فریفتہ بے شمار نگاہوں کی خواہش کی تکمیل آج ڈاکٹر صاحب کر رہے ہیں ۔
ڈاکٹر نواز دیوبندی صاحب نے اپنے جذبات کو لفظوں کا پیراہن اس طرح عطا کیا کہ بچپن سے جن ہستیوں کے نام میرے ہونٹوں پہ رقص کرتے رہے، ان میں ایک ڈاکٹر کلیم احمد عاجز بھی ہیں ۔ شعرا عموماً حسینا ؤں کی سیڑھیوں پر اپنا کلام گنگناتے ہیں؛ لیکن یہ ایک ایسے شاعر ہیں،جن کی شاعری کی زمزمہ سنجی مسجد و مدرسے میں گونجتی سنائی دیتی ہے ۔اس تاریخی پروگرام میں شرکت نہ صرف یہ کہ میرے لیے سعادتمندی کی بات ہے؛ بلکہ میں آئندہ نسلوں سے بھی اس بات کو فخر سے کہہ سکوں گا کہ مجھے ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب کی محفلِ رعنائی میں اپنے ہونٹ ہلانے کا گراں بہا موقع ملا تھا ۔
اخیر میں جب سامعین کی طرف سے پر زور انداز میں اس بات کی فرمائش ہونے لگی کہ ڈاکٹر صاحب اپنا کلام سنائیں اور ترنم میں سنائیں تو عاجز مرحوم کو سامعین کی فرمائش کے سامنے سپر ڈالنا پڑا ، مائک پر آئے ، پہلے انھوں نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا،جو غالباً ان کے والد کی تربیت سے متعلق کوئی قصہ تھا ۔ پھر اپنے وجد بھرے انداز اور رقت آمیز آواز میں اپنی وہ مشہور نعت سنائی جس کی ابتدا ’’ ہم تو مدینہ جائیں گے ‘‘ سے ہوتی ہے ۔ان کے دل سے نکلی ہوئی آواز اور البیلے لب و لہجے نے سامعین کے دلوں کو مسحور کرکے رکھ دیا تھا ۔
ان دنوں میں علامہ سید مناظر احسن گیلانی ؒ کے کلام کے جمع و تریب کی تگ و دو میں مصروف تھا اور اس پر پیشِ لفظ تحریر کرنے کے لیے ایسی شخصیت کی جستجو میں تھا،جو شاعر بھی ہو اور علامہ گیلانی سے اس کی ملاقات بھی رہی ہو ۔ حسنِ اتفاق کہ اس کے لیے ذہن نے ڈاکٹر صاحب کا انتخاب کیا ۔ اس سلسلے میں میرے چار پانچ سال سینیر بھائی عبد الرحمن پٹنوی کی پیش قدمی کے احسان سے میرے دوش گراں بار ہیں کہ میرا مذکورہ مسوّدہ لے کروہ دیوبند سے پٹنہ گئے اور ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش کیا،عاجز مرحوم نے بڑی توجہ سے میری کتاب کا مطالعہ کیا اور اپنی بیش بہا آرا سے نوازتے ہوئے میری کتاب ’’ مَناظرِ گیلانی‘‘ کا مقدمہ تحریر فرما یا،جس کا ایک جملہ یہ تھا ’’ خدا مولانا فاروق اعظم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ اس ارادے (شعر و ادب )سے مولانا (گیلانی) کو سب کے سامنے لائے ہیں ، ہم ان کا استقبال کریں ‘‘۔ پھر ان ہی کی معرفت مسودہ مجھے دیوبند بھیج دیا ۔جب عاجز صاحب کا یہ قیمتی تحفہ مجھے ملا، تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی ، اس کیفیت و احساس کو قلم بند کرنے سے میں تب بھی عاجز تھا اور اب بھی قاصر ہوں ۔مجھے فخر ہے کہ میری پہلی کاوش ڈاکٹر کلیم احمد عاجز مرحوم کے’’ مقدمہ ‘‘ سے آراستہ ہے،جو میرے ادبی سفر میں روشن چراغ کی مانند ہے۔
دیوبند ہی کے زمانے سے ان پر کچھ لکھنے کا خیال ذہن میں گردش کرتا رہا؛ بلکہ دو تین سال قبل ان سے ایک انٹرویو لینے کا منصوبہ بھی بنایا تھا؛لیکن ان کی حیات تک تو یہ دونوں منصوبے میری کاہلی کے شکار رہے، جس کا مجھے بے حد قلق ہے ، اسی کی بھر پائی کی یہ ایک ادنیٰ کوشش ہے تاہم انٹرویو لینے سے محرومی کا ملال تو تا حیات رہے گا ۔ان کے دولت کدے پر کئی بار مجھے حاضری کے مواقع میسر آئے ۔ عجب اتفاق ہے کہ ان کے انتقال سے پہلے دو سے تین مرتبہ پٹنہ جانے کا موقع ملا ،ان کے دولت خانے پر حاضر ہوا؛ لیکن ہر بار مایوسی ہی ہاتھ لگی ۔ بالآخر 15 فروری 2015 کو وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اب تو ان کے گھر جاکر بھی ان سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکتی ۔ رہے نام اللہ کا ۔اللہ اپنے شایانِ شان ان پر رحمت کی بارش فرمائے اور ان کی بال بال مغفرت فرمائے:
جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی جہاں نغمے ہی نغمے تھے
وہ گلشن اور وہ یارانِ غزل خواں یاد آتے ہیں

160, Periyar Hostel, JNU N.DELHI- 67
faqasmijnu@gmail.com/ 9718921072

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں