72

جھوٹ ،خیانت اورخود غرضی کا علاج


عالم نقوی
’صادق و اَمین‘ نبی ﷺ کو اللہ کا آخری رسول اور قرآن کو آخری کتاب ماننے والوں کے تمام مسائل کی جڑ ،یہی ’جھوٹ اور خیانت ‘ہے ۔محمدﷺ ابن عبد اللہ کو صداقت و امانت کی چالیس سالہ ریاضت کے بعد اور مشرکین مکہ سے آپ ﷺکو بہر حال و بہر صورت ’صادق و امین‘ کہلوا لینے کے بعد اعلان رسالت کرا نے کی الہی حکمت عملی شاید یہی تھی کہ آپ ﷺ کو قیامت سے قبل کے جس آخری زمانے کے لیے نبی آخر مبعوث ہونا تھا وہ جھوٹ اور خیانت کی آلائشوں سے بھرا ہوا زمانہ تھا۔ ورنہ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی زبان سے پیدا ہوتے ہی صاحب کتاب نبی ہونے کا اعلان کرادینے والے رب کائنات کے لیے کیا مشکل تھا کہ آپ ﷺ کی پیدائش کے فوراً بعد آپ کی والدہ گرامی کو ’دعوت ذوالعشیرہ ‘ کا اہتمام کر نے کا حکم دےدیا جاتا اور عیسی ابن مریم علیہ السلام کی طرح آپ ﷺ بھی آغوش ِ مادر سے اپنی رسالت اور اپنے صاحب کتاب ہونے کا اعلان فرما دیتے !
آج ہماری پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم جھوٹ ،ظلم ،خیانت ،بد دیانتی (کرپشن ) اور بے حسی و خود غرضی کے تیز رَو عمومی دھارے سے کسی بھی قیمت پر ،اپنی تمام تر خدا داد صلاحیتوں کا امکانی حد تک بھر پور استعمال کرتے ہوئے باہر آ جائیں اور، ہم عصر ملّی دانشور ڈاکٹر سید ظفر محمود کے لفظوں میں ،’صرف اپنے لیے زندہ نہ رہیں اور اپنی ساری توانائیاں صرف اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت اور معاشی حالت بہتر بنانے ہی میں نہ لگے رہیں بلکہ ہم ملت کے دور رس مفادات کی نگہبانی اورتمام کمزوروں اور محروموں کا مستقبل بہتر بنانے کی حکمت عملی کو بھی دھیان میں رکھیں۔ وقت کے یزیدوں ،فرعونوں اور قارونوں کی بدولت حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ہم اپنے ہادی اعظم رسول اکرم صلی ا للہ علیہ و آلہ و سلم کے اُسوہ حسنہ پر عمل کریں ۔قلیل مدتی اقدامات کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی لازمی ہے۔ زکوٰۃ انڈیا کے سہ ماہی بلیٹن (جنوری ۔مارچ ۲۰۱۹) میں ظفر محمود صاحب نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’قوموں کی زندگی میں سو پچاس برس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہمیں صرف دوہزار اُنیس نہیں ،’اِکیس سو اُنیس‘ ،’بائس سو اُنیس‘ بلکہ ’تیئیس سو اُنیس‘ پر بھی عقابی نظر رکھنی ہوگی !‘‘انہوں نے سابق برطانوی سفیر ’کریگ مرؔے ‘کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ اُن کے ملک(انگلینڈ) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منشا کے خلاف عراق پر حملے میں نمایاں حصہ لیا تھا(جہاں ہزاروں لوگ مارے گئے اور شہر کے شہر کھنڈر بنا دیے گئے ) جبکہ سبھی حملہ آور ممالک کے لیڈروں کو خوب معلوم تھا کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار (WMDs)تھے ہی نہیں ۔برطانیہ نے اقوام متحدہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ہٹلر اور مسولینی نے یو این کی پیش رو’جمعیت اقوام ‘ (لیگ آف نیشنس)کے ساتھ کیا تھا۔ اسی طرح برطانیہ نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر لیبیا میں بھی پندرہ ہزار سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ طالبان سے بھی وہ یہی چاہتے تھے کہ وہ گیس اور تیل پائپ لائنوں میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے لوگوں کو تحفظ فراہم کریں ۔لیکن جب طالبان اُن کے ہتھے نہیں چڑھے تو اپنے زر خرید حامد کرزئی کو جو جارج بش سینئر کے ملازم تھے افغانستان کا صدر بنا کر اپنا کام یوں نکالا کہ جس امریکی تیل گیس کمپنی میں جارج بش سینئر ڈائرکٹر تھے اُسی کو ازبکستان ،تاجکستان اور افغانستان میں گیس پائپ لائن کا ٹھیکہ دے دیا گیا ۔کریگ مرے نے کہا کہ ان کا ملک (برطانیہ ) دیگر ممالک (ناٹو اور امریکہ وغیرہ ) کے ساتھ مل کر جنگیں اس لیے لڑتا رہا ہے کہ (تیل اور قدرتی وسائل سے مالا مال غیر ترقی یافتہ مسلم ملکوں پر ) ان کا تسلط قائم رہے اور ساتھ ہی اُن کے کچھ خاص الخاص امیروں کو اور زیادہ دولت مند بنایا جا سکے ۔ وطن عزیز سمیت کم و بیش پوری دنیا میں یہ نسل پرست قارونی ممالک اسی سیاسی ماڈل پر عمل پیرا ہیں ۔
ظفر محمود صاحب نے لکھا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بھی کئی دہائیوں سے ایک (مسلم ) گروپ دوسرے (مسلم ) گروپ کے ساتھ (سنگین ) زیادتیاں کرتا چلا آرہا ہے(مثلاً عراق و سیریا ،یمن و نائجیریا اور بحرین و سعودیہ وغیرہ ) جس کی وجہ سے دلوں میں تنگیاں اور سماجی رشتوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں ۔(فی الواقع )ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم کوتاہ بینی کے بجائے وُسعت نظری سے کام لیتے ہوئے انسانیت کے اعلیٰ ترین مفاد کی خاطر مستقبل کی حکمت عملی طے کریں ۔ہمیں یہ بھی نہ بھولنا چاہیے کہ دنیا کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں نہ کوئی ’مقدس شے ‘ہیں نہ’ دائمی‘ ۔دنیا کا سیاسی نقشہ اور ملکوں کی جغرافیائی حدیں جو کل تھیں وہ آج نہیں ہیں اور جو آج ہیں وہ کل نہیں رہیں گی ۔یہی دستور دنیا ہے ۔’غور کریں تو گاؤں ،تحصیل ،ضلع ،صوبہ ،ملک ،بر اعظم ان سبھی اکائیوں کا بنیادی مقصد عالم ِ انسانیت کی زندگی میں سہولتیں پیدا کرنا ہے ۔اگر یہ نہ ہو تو انسانوں کے مابین باہمی اخوت اور مساوات کا نصب العین بھی حاصل نہیں ہوتا ۔یہ سارے جھگڑے ،ظلم، زیادتی،دہشت گردی جنگیں اور قدرتی وسائل پر ناجائز ،غاصبانہ اور قارونی قبضے اِسی لیے تو ہیں !
یہ دنیا اس طرح نہیں چلنے والی۔ اِسے تو ایک نہ ایک دن ٹھیک ہونا ہی ہے ۔ ہر طرح کی فرعونیت،نمرودیت ،قارونیت اور یزیدیت کا خاتمہ ،آج نہیں تو کل ،ہو کے رہے گا ۔اس لیے کہ ہمارے صادق و امین قائد و رہبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وعدہ ہے کہ یہ دنیا ایک دن عدل و قسط سے اُسی طرح بھر دی جائے گی جس طرح وہ اُسوقت ظلم اور ناانصافی سے بھری ہوئی ہوگی ! ان شا ءاللہ ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اگر ہم جھوٹ ،ظلم ،خیانت ، کرپشن اور بے حسی و خود غرضی کے ابلیسی دھارے سے باہر آنے کی کوئی انفرادی و اجتماعی کوشش نہیں کر رہے ہیں تو ہمارا حشر بھی وہی ہوگا جو وقت کے ہر فرعون ،نمرود ،شداد ، قارون اور یزید کا مقدر ہے ۔ فھل من مدکر ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں