107

جویادرہا: عابدسہیل کی خودنوشت پرتاثراتی نوٹ

نایاب حسن
میں نے عابدسہیل کے افسانے نہیں پڑھے، تنقیدپربھی ان کی کتاب نہیں پڑھی، پہلی کتاب ان کی خودنوشت پڑھی اورنہایت شوق سے پڑھی ہے ـ کہ سوانحی ادب سے نہ معلوم کیوں مجھے خاص دلچسپی ہے، خصوصا ایسے لوگوں کی سوانح سے، جوعلم وادب وفکرکے شعبوں میں بلندقامت ہوتے ہیں ـ پھراگر ایساانسان اپنے حالاتِ زندگی خودلکھتاہے، تولطف دوبالاہوجاتاہے، اس صورت میں واقعات وحقائق کے تئیں صدق بیانی کاامکان زیادہ ہوتا اورخودنمائی وخودستائی کااحتمال ذراکم ہوجاتاہے، جبکہ کسی بڑے انسان پردوسرے کے ذریعےلکھی گئی کتاب میں ملمع سازی، بت سازی وصنم تراشی اورعقیدت وارادت کی جلوہ گری خوب خوب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بسااوقات؛ بلکہ زیادہ ترصاحبِ سوانح کی شخصیت ایک اسطوری پیکر میں ڈھل جاتی ہے اوراس شخصیت سے متعلق یااس کے عرصۂ حیات میں رونماہونے والے واقعات وسانحات کی اچھی اورسچی تصویرکشی ذراکم ہی ہوپاتی ہےـ
عابدسہیل صاحب نے اپنی خودنوشت کانام “جویادرہا ” رکھاہے، پہلی باریہ کتاب اردواکادمی دہلی سے 2012میں شائع ہوئی تھی، گزشتہ سال اس کادوسراایڈیشن آیاہے ـ نام ہی کی رعایت سے اس کتاب میں انھوں نے اپنی زندگی کے حالات، سانحات، حادثات، واقعات وواردات کوایک غیرمرتب ترتیب کے ساتھ سلسلہ واربیان کیاہےـ اپنے بچپن، خاندان، اپنے آبائی گاؤں، دادیہال ونانیہال کے اعزاوقرباکے احوال وواقعات اوراس کے بعد لکھنؤ کی اپنی عملی زندگی، قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ، پانیئر اورروزنامہ صحافت میں اپنی صحافتی سرگرمیاں، بڑے بڑے صحافیوں، ادیبوں، ناقدوں، سیاست دانوں اوراصحابِ فکرودانش سے وابستگی اوران کے ساتھ بیتے ہوئے شب وروزکوبڑے دلچسپ اسلوب میں بیان کیاہےـ اپنے ادبی سفرکی رودادبھی خوب صورت اندازمیں سنائی ہے، خانگی حالات، معاشی ترشی اورحالات کی تنگیوں کابھی ذکر کیا ہے، اپنے دوستوں، عزیزوں، رشتے داروں میں سے بہت سے لوگوں کادل کھول کر تذکرہ کیاہے ـ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوتاہے کہ ہم خودپچاس، ساٹھ، ستر،اسی، نوے اوراس کے بعدکی دہائی کے لکھنؤمیں سانسیں لے رہے ہیں ـ کیاخوب صورت اندازِ نگارش ہے اورکیادل فریب اسلوبِ بیان !زبان میں روانی ایسی ہے کہ گویاجوئے سلسبیل بہہ رہی ہو، الفاظ میں شیرینی بلاکی، بات کوپیش کرنے کاطَورنہایت سادہ، مگرفنکارانہ ـ واقعات کی جزئیات تک کواس خوبی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری اکتاہٹ کاشکارہونے کی بجاے غایتِ انہماک سےپڑھتاہے ـ
اس کتاب میں انھوں نے آزادیِ ہندکی تاریخ کے بعض اہم پہلووں پربھی اظہارِ خیال کیاہے اوربعض اہم مسئلوں میں روایتی تاریخ نگاری یاسیاسی تجزیہ نگاری سے ہٹ کر اپنے مشاہدات ومطالعات کی روشنی میں رائیں قائم کی ہیں ـ
اپنی زندگی کے حالات کوبعینہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اپنے آپ کوایک عام انسان کے طورپرپیش کیاہے، جس سے زندگی کے کئی مرحلوں میں غلطیاں ہوئیں، بھول چوک ہوئی، جوکامیابیوں سے بھی ہم کنارہوااورناکامیوں سے بھی دوچار ہوا، جسے چاہابھی گیااورناپسند بھی کیاگیا، جس پرتنگی وترشی کے دن بھی آئے اورفراغت ومرفہہ الحالی کے بھی ـ
چوں کہ عملاًوہ قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ اورپانئرجیسے بڑے اخباروں سے وابستہ رہے، سواس کتاب میں ان اخباروں کا، وہاں کے طریقۂ کار، ان کے ذمے داروں، وہاں کام کرنے کے تجربات کا خاصا تفصیلی احوال درج کیاہےـ
اخیرمیں انھوں نے اپنے دوستوں، بزرگوں اور متعلقین وشناساؤں کے جومختصرخاکے لکھے ہیں، وہ بھی خاصے کی چیزہیں ـ
اپنے خاندان کے متعلق معلومات الگ سے فراہم کی ہیں، جوبڑی قیمتی ہیں ـ
سب سے آخرمیں اپنے نام آنے والے مختلف مشاہیرادب وعلم وسیاست مثلاداکٹررادھاکرشنن، عرش ملسیانی، قیصرتمکین، حیات اللہ انصاری، رشیدحسن خاں اورآل احمدسروروغیرہ کے خطوط کے عکس بھی دیے ہیں اورتصویروں میں قیدزندگی کے اہم اورخوب صورت لمحات بھی اپنے قارئین سے شیئرکیے ہیں ـ
مجموعی طورپریہ خودنوشت نہایت ہی عمدہ، جامع، اسلوب واداکے اعتبارسے دلکش اورمعلومات کاجامِ جہاں نماہے ـ اپنی رودادِ زندگی بیان کرنے کاان کابے تکلفانہ سٹائل بہت متاثرکن ہے ـ بات سے بات نکالتے، یادوں کے اوراق کھنگالتے ہوئے اپنے قاری کوکئی اہم انسانوں، واقعات وسانحات سے روشناس کرواتے جاتے ہیں، ایسالگتاہے کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر آپ سے باتیں کررہے اوراپنی زندگی کی کہانی سنارہے ہیں، ان کی حسِ مزاح بھی کافی تیز ہے، سووہ موقع بہ موقع مختلف بڑے لوگوں سے متعلق سچے لطیفے بھی سناتے ہیں اورپڑھنے والے کوبے ساختہ ہنسی آجاتی ہے، اسی طرح جب کہیں وہ اپنی زندگی کے کڑے دن کے بارے میں بتاتے ہیں، تودل آزردہ بھی ہوتاہے، افسردگی کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے، مگر پھرجلدہی وہ ہمیں اپنی زندگی کے کسی دوسرے خوب صورت منظرسے روبروکروادیتے ہیں ـ کتاب کے صفحات سات سوسے زائدہیں، مگرکمال یہ ہے کہ اتنی ضخیم کتاب اپنی تمام مشغولیات کوانجام دینے کے ساتھ گنتی کے چارپانچ دنوں میں پڑھی جاسکتی ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں