46

جود و سخا کے پیکر :حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

راحت علی صدیقی قاسمی
رابطہ: 9557942062
شرم و حیا، علم ووفا، جود سخا، ایثار و قربانی،شرافت و دیانت کی تعریف پڑھیے، تاریخ عالم کا مطالعہ کیجیے، ان اوصافِ حمیدہ کی حامل شخصیات کو تلاش کیجیے، کوششِ بسیار کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ دنیا میں اس معیار کی حامل بہت سی شخصیات پیدا ہوئیں، جن میں یہ عظیم خوبیاں موجود تھیں، انہوں نے ان خوبیوں کو اپنی زندگی میں عملی طور پر داخل کر رکھا تھا ، وہ ان اوصاف حمیدہ کو اپنے لیے آذوقۂ حیات اور ذخیرۂ آخرت گردانتی تھیں، ان کی زندگی سے یہ خوبیاں ایسے مترشح ہوتی تھی، جیسے برتن سے پانی ٹپک رہا ہو ، اس حقیقت کے باوجود اگر ان شخصیات کا آپ تقابلی مطالعہ کریں گے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں آپ کو یہ خوبیاں نمایاں نظر آئیں گی –
عزت، شہرت دولت، خاندانی عظمت سے مالامال، پورے مکہ میں سب سے دولت مند تاجر، جس کے پاس کسی شی کی کمی نہیں ہے، کسی کے سامنے جھکنے کی حاجت نہیں ہے، خاندانی عصبیت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت کی دعوت دے رہی ہے ،مگر قلب کی شفافیت، مزاج کی صالحیت ایمان کی دعوت دے رہی ہے، محبت رسول کا تقاضہ کر رہی ہے، چنانچہ جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آپ کو حق کی دعوت دی اور اسلام کے معنی و مفہوم سے آگاہ کیا، توآپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر فوراً اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم کے عشق میں گرفتار ہوگئے، خاندانی عصبیت قلبی کیفیت سے شکت کھاگئی، حضرت عثمان کا تعلق بنو امیہ کے خاندان سے تھا،بنو امیہ شمعِ ہدایت کو گل کردینا چاہتے تھے، خاندانی تعصب ،نفرت چپقلش اس بات کو گوارا نہیں کرتی تھی کہ ہاشمی خاندان عزت و شہرت عظمت و سربلندی حاصل کرے، آخری نبی کا اعزاز انہیں حاصل ہو جائے، تاریخ کے سینے پر اس حقیقت کو دلیل فراہم کرتی بہت مثالیں موجود ہیں؛ لیکن قلبِ عثمان حق کا متلاشی تھا، وہاں یہ عصبیت کارگر نہ ہوئی اور اسلام قبول کرکے مکہ کے سب سے بڑنے تاجر نے مہاجر اول ہونے کا شرف حاصل کیا، اپنوں کی سختیاں جھیلیں ،ناگواریاں برداشت کیں، سب کچھ برداشت کیا، مگراسلامی تقاضوں پر کھڑے رہے، حتی کہ داعیِ اجل نے حق جل مجدہ سے ملاقات کی دعوت دے دی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت و فیاضی کی مثالیں نادرونایاب ہیں، اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی ضروریات کے لیے انہوں نے اسلام کے لیے اپنی دولت کو پانی کی طرح بہایا، جب مسلمانوں کے لب پیاس کی شدت سے خشک ہوئے جارہے تھے، دراہیم و دنانیر کی قلت ان کے گلوں کو خشک کر رہی تھی، بہت سے بچوں کے حلق میں کانٹے کھڑے ہوجاتے تھے، پیسے کی اتنی فراوانی نہیں تھی کہ ہر شخص پانی خرید سکے،اس وقت حضرت عثمان نے بیس ہزار درہم میں بئرِ معونہ خرید کر مسلمانوں کو پیاس کی شدت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دلادی، اسی طرح جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور مسجد نبوی تنگ محسوس ہونے لگی، جبکہ ہر مسلمان کی خواہش تھی کہ مسجد نبوی کا مصلی ہو،تو اس خواہش کو پوری کرنے کے لیے عثمان غنی نے قدم بڑھایا، مسجد نبوی کی توسیع کا انتظام کیا،الغرض جب جب مسلمانوں کے سامنے ضروریات سانپ کی طرح پھن پھیلانے لگتیں ، عثمان رضی اللہ عنہ اس پھن کو کچل دیتے، مسلمانوں کے مسائل و مصائب کو ختم کردیتے تھے۔
اسلامی تاریخ کا سب سے اہم موقع ہے، دور حاضر کی عظیم ترین طاقت سے مقابلہ ہے، طویل سفر ہے، ہتھیار کی قلت ہے ،ذرائع و وسائل کی کمی ہے، سواریاں نہیں ہیں، تپتی ہوئی ریت پر چلنا ہے، پیٹوں پر پتھر باندھنا ہے، کھانا، ہتھیار، سواریاں، ہر شئ کی قلت ہے ، کائنات کے سردار نے اعلان کیا، اسلام کی سربلندی کے لیے اعانت و مدد کی خواہش کا اظہار کیا، تمام صحابہ اپنی بساط بھر مال و دولت لے کر آقائے نامدار کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، یہ وہ موقع ہے، جسے تاریخ نے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت کے لیے بے مثال اور لازوال بنادیا؛ چنانچہ آپ نے تقریباً گیارہ ہزار افراد کا مکمل انتظام کیا، ان کا کھانا پینا ،ہتھیار، سواری، ہر شئے کا انتظام کیا، مؤرخین نے لکھا ہے کہ ان فوجیوں کا تسمہ تک بھی حضرت عثمان کے پیسوں سے لیا گیا تھا، جو حفاظتِ اسلام کے لیے عظیم ترین خدمت تھی،مسلمان ہتھیار سے لیس ہو کر میدانِ کارزار کی جانب نکل پڑے، مسلمانوں کا جوش اور جذبۂ قربانی اس معیار کاتھاکہ دنیا کی عظیم طاقت نے میدان میں قدم نہ رکھنے میں ہی اپنی خیریت سمجھی اور مسلمان پوری کائنات پر غالب آگئے۔
حضرت عثمان کی سخاوت کے واقعات تاریخ کے صفحات پر موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں، سخاوت آپ کے مزاج کا حصہ تھی، غلاموں کو آزاد کرنا، یتیموں ،مسکینوں کو روٹی فراہم کرنا ان کا مشغلہ تھا، وہ زندگی بھر مسلمانوں کی خدمات انجام دیتے رہے؛ چنانچہ جب آپ کو خلیفہ بنایا گیا، اس وقت خلیفہ کا وظیفہ مقرر ہوتا تھا؛ چنانچہ آپ کا سالانہ وظیفہ پانچ ہزاردرہم تھا، آپ نے وظیفہ کبھی نہیں لیااور اسے مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا ،آپ کی خلافت کا زمانہ بارہ سال کے طویل عرصہ کو محیط تھا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے کس درجہ مسلمانوں کی نصرت فرمائی ہوگی، آپ کی پوری زندگی مسلمانوں اور اسلام کی خدمت پر مشتمل تھی، جان ،مال ہر شئے مسلمانوں کی فلاح پر قربان کرتے، حکم نبی کے سامنے ہر شئے ہیچ تھی، آپ کے جذبہ کا عالم یہ تھاکہ نبی کا حکم ہے، تو تنہا کفار و مشرکین کے درمیان پیغام حق لے کر پہنچ جاتے ہیں، جان کی پروا ہے، نہ عزت و آبرو کی، حالانکہ صحابہ کو بھی آپ کی موت کی خبر ملتی ہے، جس کے ضمن میں بیعت رضوان وجود پذیر ہوتی ہے، دست نبی آپ کا دست قرار دیاگیا، جس سے بڑھ کر اعزاز شاید کوئی نہیں ہو سکتا ہے،عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے انتہائی عزت و شوکت عظمت و احترام کی بات تھی، آقائے نامدار نے آپ کی جانب سے بیعت کی، خدا نے اس بیعت کو جو حضرت عثمانؓ کے بدلہ کے لیے لی گئی تھی، بیعتِ رضوان قرار دیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی باحیاتھے، آپ صلی علیہ وسلم بھی آپ کی صفت حیا کا لحاظ فرماتے تھے، آپ کی حیا کا عالم یہ تھا کہ در و دیوار نے بھی آپ کا جسم مبارک نہیں دیکھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ایثار وقربانی کے بہت سے واقعات ملتے ہیں؛ لیکن میں اس واقعہ اور اس مرحلے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، جہاں بڑے بڑے سورما حوصلہ ہارجاتے ہیں، ہمت توڑ جاتے ہیں، جب جان پر بن آتی ہے ،تو اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، حضرت عثمان کی شہادت ان کی زندگی کا وہ حساس اور اہم ترین پہلو ہے، جو انہیں غیر معمولی طور پر عظیم بناتا ہے، آپ نے جان قربان کردی، اعزا و اقربا کو قربان کردیا؛ لیکن ہاتھوں کو اپنوں کے خون سے رنگین نہیں کیا، اقدام تو دور کی بات ہے، دفاع کو بھی پسند نہیں کیااور روزہ کی حالت میں اپنے محبوب حقیقی سے جاملے، آپ کی زندگی نصرت دین کی سچی تصویر ہے، آپ نے ہمیں دین کی خدمت کا طریقہ سکھایااور سخاوت و ایثار کے حقیقی معنی سے متعارف کرایا، ہم فضول خرچی کو سخاوت سمجھ بیٹھے ہیں، عزت و ناموری نام و نمود کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں اور خود کو حاتم طائی گردانتے ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی پریشانی کو ختم کرنے کے لیے خرچ کیا جائے، نصرتِ دین خداوندی کو مقصد بنایا جائے، اشاعت دین و تبلیغ دین کو حرزِ جاناں بنایا جائے اور زندگی کو صحیح منہج پر لایا جائے، یہی پیغام حضرت عثمان کی زندگی سے عیاں ہوتا ہے، ان اہم ترین کاموں کے علاوہ حضرت عثمان کی زندگی سے ایک بہت اہم نکتہ ہمیں ملتا ہے، جو آپ کے یہاں غلام لونڈیاں قید کرکے لائے جاتے، آپ انہیں اسلام کے محاسن و محامد، اس کی خوبیاں اور حقائق پر مطلع کرتے اور انہیں اسلام کا خوگر بنانے کی کوشش کرتے، اس سے ہمیں پیغام ملتا ہے کہ اگر ہمارے ماتحت کچھ غیر مسلم افراد ہیں، تو ہم انہیں دین کی حقیقت سے روبرو کرائیں اور دعوت کی ذمے داری کو انجام دیں۔
حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ ثالث داماد رسول اور پینتیسویں یا چھتیسویں مسلمان ہیں، اشاعت دین میں آپ کی قربانیاں آبِ زر لکھنے کے لائق ہیں، آپ نے بے پناہ خدمات انجام دی، جن کا ان سطروں میں احاطہ ممکن نہیں ہے،ہمیں آپؓ کی زندگی کا مطالعہ کرناچاہیے اور عملی زندگی میں ان کی سیرت کا رنگ بھرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں