157

جوتی کا سائز

کاشف شکیل
ساحر حسین تصورات تراشتے ہوئے شو روم میں داخل ہوا۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ اس کی محبوبہ کا وجود اس کے گفٹ کردہ جوتی پر قائم ہو۔
دوکاندار نے جب پیر کا ماپ معلوم کرنا چاہا تو ساحر بغلیں جھانکنے لگا۔
اس نے آج ڈنر کے لیے اپنی Colleague شائستہ کو مدعو کر رکھا تھا۔ شائستہ کو ساحر کے ان نازک احساسات کا ہرگز پتہ نہیں تھا۔ وہ اسے اپنے ہم منصب ساتھی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی تھی۔ مگر ساحر نے آج کے ڈنر میں شائستہ سے اظہار عشق کا مکمل منصوبہ بنا لیا تھا۔ جوتی خریدنے کا یہ ارادہ اسی مناسبت سے تھا تاکہ وہ اسے سرخ گلاب کے ساتھ اپنی محبت کا پہلا تحفہ دے۔
ساحر نے ریستوران میں ایک الگ تھلگ ٹیبل پہلے سے محفوظ کرا لیا تھا۔ وہ خود کو آراستہ کر کے وہاں پہونچ کر شائستہ کا انتظار کرنے لگا۔ ٹھیک نو بجے شائستہ ریستوران میں داخل ہوئی۔ ہلکا کتھئی رنگ کا لباس اس پر بہت سج رہا تھا‌۔ ریستوران کی رنگین روشنیاں، قمقمے اور معطر ماحول اس کو مزید دلکشی بخش رہا تھا۔
گفتگو کا آغاز ہوا۔ ساحر نے رومانٹک انداز میں اسے گلاب پیش کر کے تین جادوئی الفاظ مکمل بھی نہیں کیے تھے کہ شائستہ جھکی اور اس کی جوتی اس کے ہاتھ میں تھی پھر وہ ساحر کے رخسار کے اس حصے پر پڑی جہاں خوابوں میں وہ شائستہ کے لبوں کے داغ محسوس کرتا تھا۔ جوتی نے اس کے چہرے پر اپنی سائز کا انمٹ نقش ثبت کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جوتی کا سائز” ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ ہے دل باغ باغ ہو گیا اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے قلم میں مزید طاقت پیدا کرےآپ کے عمر میں مزید اضافہ فرمائے آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں