78

جنگی حالات میں ایک مؤمن کی صفت!

محمد صابر حسین ندوی
7987972043
  عربی میں ایک نعرہ ہے’’الحرب انفی للحرب‘‘ یعنی جنگ کا بدلہ جنگ ہے، یہ نعرہ علامہ ابن تیمیہ نے ساتویں صدی ہجری کے زمانے میں دیا تھا، اور شام و مصر کے مسلمانوں کی رگ غیرت میں خون رواں کردیا تھا،  وقت تھا تاتاری ظلم و ستم کا اور اس آندھی کا جس کی زد میں پورا عالم اسلام بکھرا جارہا تھا، ہر طرف قتل و غارت گری عام تھی، مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے تھے، کوئی محفوظ جگہ نہ تھی، ہر تلوار مسلمانوں کے خون سے لت پت تھی، چونکہ تاتار ایک جنگجو قوم تھی اس کی گھٹی میں جنگ کی شدت اور تلوار و تفنگ کی محبت پڑی ہوئی تھی، وہ لوگوں کو لطف کیلئے ذبح کر دیا کرتے تھے، انکی خواتین بھی کئی کئی مردوں پر بھاری پڑتی تھیں، جب مسلمان ہراساں تھے اور لگتا تھا کہ کوئی چارہ کار نہیں اور اس روئے زمین پر ان کیلئے آخری وقت ہے، ایسے میں  شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله نے سلطان الناصر کے ساتھ مل کر جنگ کی مہم چھیڑ دی، اور جنگ کا جواب جنگ سے دینے اور انہیں جنگی میدان میں ہی شکست دینے کی پالیسی اختیار کی، یہ بات الگ ہے کہ ابتدائی زمانے میں انہیں فوجی کامیابی حاصل ہوئی، مگر بالآخر تاتاری غالب رہے اور امام ابن تیمیہ کچھ دن دمشق کے قلعہ میں اور کچھ دن درس و تدریس کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
یہ بات سچ ہے کہ آپ دار بقا کو کوچ کر گئے؛ لیکن آپ کی قائم کردہ وہ اساس ہی تھی جس پر بعد کے مجاہدین نے عمارت رکھی اور جوش و حمیت کے ایسے جوہر دکھائے؛ کہ تاتاریوں کو مغلوب ہونا پڑا۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسلام میں اگرچہ عفو درگزر کو بڑی اہمیت حاصل ہے؛ لیکن اس کا تعلق انسان کی پوزیشن اور حیثیت سے ہے، اگر معافی سے ظلم کو بڑھاوا ملتا ہے اور اس کی شاخ ہری ہوتی ہے اور یہ لگتا ہے کہ ظلم کی کہانی طویل رات کی تاریکی بن جائے گی، تو ایسے میں معاف کرنا درست نہیں، یہ اسلامی مزاج کے خلاف ہے، اسی لئے بہت سی چھوٹی غلطی پر بھی اگر وہ متعدی بن جائے اور ایسا لگے کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں ہے، تو پھر غلطی کرنے والے کو قاضی جلا وطن کر سکتا ہے، اور کئی صورتوں میں اسے قتل تک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، یہ تعزیر کی وہ بحث ہے جس پر عموما فقہاء نے خامہ فرسائی کی ہے،قرآن کریم نے قصاص کے نظریہ کو بھی اسی بنیاد پر پیش کیا ہے، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، ناک کے بدلے ناک اور جان کے بدلے جان؛ یہ وہی تصور ہے جس سے انسان کو صحیح معنوں میں معاشرے کے اندر نقطہ عدل قائم کرنے اور انصاف کا ڈنکا بجانے میں مدد ملتی ہے، گزشتہ زمانے میں اس نقطہ پر عمل کیا گیا جس کا خاطر خواہ نتیجہ آج بھی پوری انسانی برادری پر نظر آتاہے۔ 
اب نوبت یہ ہے کہ مسلمان ہر چیز میں سہل و آسانی دیکھتا ہے، وہ عبادات سے معاملات تک میں سہولت پسندی کو ترجیح دیتا ہے، کئی دفعہ ’’یسر‘‘ کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ظلم برداشت کرنے کے سلسلہ میں آسانی کا اور جسم کی راحت کا خیال شدید خطرناک امر ہے، اس کیفیت نے ہمیں سماج میں ایک زائد عضو بنا دیا ہے، پوری دنیا ہم پر ہنستی ہے، اپنے ظلم کا نشانہ بناتی ہے، اپنے ہتھیاروں اور اپنی فوجی کاروائیوں کیلئے تخت مشق بناتی ہے، معمولی معمولی باتوں پر پورا کا پورا ملک تباہ کردیا جاتا ہے، دہشت گردی کے الزام میں لاکھوں مسلمان اور ان کی تہذیب و تمدن کو تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے؛ لیکن کوئی چوں تک نہیں کرتا، بلکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بہت سے دانشور مصلحت کی چادر تان دیتے ہیں، اور عفو و درگزر کی روایات یوں پیش کرتے ہیں، جیسے سارا اسلام اسی پر مبنی ہو، خود ملک عزیز کا حال یہ ہے کہ یہاں پر سالہا سال سے مسلمانوں کی نسل کشی کا کام زور وشور سےانجام دیا جارہا ہے، اور اب امید کی جارہی ہے کہ یہ ملک ہندتو کے رنگ میں رنگ دیا جائے اور مسلمان گھر واپسی یا پھر زمین دوز ہونے یا ملک بدر ہونے کے علاوہ کچھ نہ کر سکیں، اس کے باوجود  ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں، بہت کم آواز اٹھتی ہے، اعلی قیادتوں کا فقدان ہے، سیاست سے ناواقف قوم اپنی ہی بنائی ہوئی خول میں دم بخود ہورہی ہے، اگر کوئی اصداظلم کے ایوان تک پہونچتی ہے تو قبل ا س کے کہ وہ زخم کا مداوا بنے ، خود اپنے مار آستین زخم کو دوبالا کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
  قرآن کریم کا فرمان ہے کہ :وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ (41) إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ’’جو شخص ظلم کا شکار ہونے کے بعد مقابلہ کرے اور بدلہ لے تو ایسے لوگوں کو ملامت نہیں کی جاسکتی،  ملامت کے مستحق وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں، اور زمین پر ناحق زیادتیاں کرتے ہیں، ایسے لوگوں کیلئے درناک عذاب ہے‘‘(شوری:۴۲)، اور فرمایا: لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ’’اللہ تعالی کھل کر کے زبان سے برا کہنے کو پسند نہیں کرتا؛ البتہ یہ اجازت اس شخص کو ہے جس پر ظلم ہوا ہے اور اللہ تعالی سننے والا اور جاننے والا ہ‘‘ (نساء:۱۴۸) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر نے نقل کیا ہے؛ کہ جو لوگ مظلوم ہوں، انہیں ظلم پر خاموش نہیں رہنا چاہئے، اللہ اسے پسند نہیں کرتا کہ اللہ کے بندے ظلم پر خاموش رہ جائیں اور ظلم و زیادتی کیلئے سر جھکا دیں، انہیں باغیرت اور صاحب حمیت ہونا چاہیے، ظلم پر مسلسل خاموشی اختیار کرنے سے ظلم بڑھتا ہے، اور اس سے قومیں ہلاک و تباہ ہو جاتی ہیں، اس لئے ظلم کا مقابلہ ہر ممکن طریقے سے کیا جانا چاہیے، ببانگ دہل ظلم کی فریاد کرنا اور شکایت کرنا ہی احتجاج ہے، اور اس کی اجازت میں خاص مصلحت ہے، ورنہ یہ احتجاج نہ ہو تو اس سے ظالم کو اور شہ ملے گی اور ظلم کا سلسلہ دراز ہوجائے گا(تفسیر ابن کثیر:۱؍۴۵۲)۔
قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ہے:وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ  ’’جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں‘‘(شوری: ۳۹)، مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’یہ بھی اہل ایمان کی بہترین صفات میں ہے کہ وہ ظالموں اور جبّاروں کے لئے نرم چارہ نہیں ہوتے، ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کے نام پر نہیں ہوتی، انہیں بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایا گیا، ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کردیں، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے درگزر کریں، جب کسی سے زیردست اور کمزور آدمی سے کوئی خطا سر زد ہوجائے تو اس سے چشم پوشی کریں؛ لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس کے دانت کھٹے کر دیں، مومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتا اور متکبر کے آگے نہیں جھکتا، اس قسم کے لوگوں کے لئے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہے جسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے‘‘۔ اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی روایات میں ظالم کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی دعوت دی بلکہ ترمذی کی روایت تو یوں ہے جس میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: “إن لصاحب الحق مقالا” یعنی جو صاحب حق ہے اسے کہنے کا، بولنے کا، آواز اٹھانے کا، شکوہ کرنے کا، اور مرافعہ کرنے کا حق حاصل ہے(ترمذی: ۱۳۱۷) 
       *ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ  سے پوچھا گیا: سب سے بہتر جہاد کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بات کو سب سے بڑا جہاد کیوں قرار دیا گیا؟ اس سلسلہ میں علامہ خطابی کہتے ہیں: ’’سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد یہ اس لئے ہے؛ کہ جو شخص دشمن اسلام سے جہاد کرتا ہے وہ امید اور خوف کے درمیان میں متردد ہوتا ہے، اسے نہیں معلوم کہ وہ فاتح ہوگا یا مفتوح؛ البتہ جو شخص ظالم بادشاہ پر تنقید کرتا ہے، تو اس کے ہاتھ میں مجبور ہے جب وہ بادشاہ کے سامنے حق کا اظہار کرے گا اور معروف کا حکم دے گا، تو بادشاہ ہلاکت اور بربادی کے در پہ ہوگا خوف کے پہلو کے غالب ہونے کی وجہ سے جہاد کی سب سے برتر قسم قرار پائی‘‘ (معالم السنن:۳۵۰/۴) ۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہﷺ کےیہی فرمودات تھے جن کو سینہ سے لگا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے متبعین اسلام نے دنیا بھر میں اسلام کا علم بلند کیا، وہ جہاں بھی گئے ظلم کو سرنگو کردیا، ظالم کی گردن قلم کردی،ناانصافی پر مبنی حکومت اور بے اعتدالی پر رائج نظام کا تختہ پلٹ دیا، کسی مسلمان کے ساتھ بلکہ کسی بھی نوع بشر کے ساتھ ظلم کی کسی بھی داستان کو برداشت نہ کرتے، یہی وجہ تھی کہ بہت سے حکمراں اطاعت قبول کرتے اور یہ کہتے کہ حکمرانی کا حق صرف اور صرف مسلمانوں کو ہی ہے، بلکہ آسمان و زمین کی درستی بھی انہیں کے بل بوتے قائم ہے۔
ذرا ایک نظر غائران قرآنی نقاط اور احادیث کے مطلوب کو پڑھئے! سیرت طیبہ ﷺ اور سیرت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مطالعہ کیجئے! اور جائزہ لیجئے کہ ہم مظلوم کیوں ہوگئے ہیں؟ کیوں زمانہ ہمارے خون کا پیاسا ہے؟ ہر تلوار پر ہمارا ہی خون کیوں رستا ہے؟ہر چاقو ،چھری اور ہتھیار پر ہماری ہی گردن کیوں رکھ دی جاتی ہے؟کیوں ہمیں یہ دور دیکھنا پڑ رہا ہے کہ کروڑوں معبودوں کو ماننے والے،اور ہر ادنی سے ادنی شئی کے سامنے جھکنے والے آج ہمارے سروں کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ہماری محرمات کو سر بازار رسوا کر رہے ہیں؟ہماری آوازیں صدا بہ صحرا بن کر کیوں رہ جاتی ہیں؟دنیا ہم سے ہمدردی کے نام ذلت و خواری کا سلوک کیوں کر رہی ہے؟انسانی حقوق کے محافظین کے سامنے جب مسلمانوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو انہیں کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟اس کا جواب تلاش کیجئے اور اپنے اندر ٹٹو لئے کہ کیا یہ بات سچ نہیں کہ ہم نے ظلم کو ظلم کہنا بھی چھوڑ دیا ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ہم میں بہت کم کوئی اس پروپیگنڈے پر لب کشائی بھی کرتا ہے؟میدانی جنگ تو دور کی بات ہے جہاد کی یہ ایک اعلی قسم کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے جو مومن کی سب سے بڑی صفت تھی اسے ایسے بھول گئے جیسے کوئی قصہ پارینہ ہو،اب ایسے میں اس کا ری ایکشن تو ہونا ہی ہے اور وہ ہورہا ہے، وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ صرف اسلام کے ایک ہی سرے پر بیٹھے بیٹھے قبر کی منزل نہ پالیں!!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں