104

جموں و کشمیر اور نفرت کا “جشن”


تحریر : پریہ درشن، سینیر صحافی، این ڈی ٹی وی

ہندی سے ترجمہ : عبدالغفار سلفی، بنارس
جموں و کشمیر سے وابستہ مرکزی حکومت کے تازہ ترین فیصلوں پر اگر آپ سوشل میڈیا کا ردعمل دیکھیں تو یہ محسوس ہوگا کہ جیسے بھارت نے جموں و کشمیر پر کوئی فتح حاصل کرلی ہو۔خوشی کا ایسا ماحول ہے جیسا پاکستان کو کرکٹ میں شکست دینے پر ہوتا ہے ۔ باقاعدہ سنجیدہ سمجھے جانے والے مصنفین بھی گویا للکار رہے ہیں کہ لو ہٹا دی گئیں متنازعہ دفعات ، اب کچھ کہہ کر دکھاؤ۔
در حقیقت ، کشمیر میں کسی بھی دفعہ کا آنا جانا اتنا پریشان کن نہیں ہے، اس سے خطرناک یہ نظریہ ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں ایسی فضا تیار کی گئی ہے جس میں آرٹیکل 370 (جسے بی جے پی دھارا 370 کہتی ہے) محض کوئی آئینی شق باقی نہیں رہ گئی ہے ، بلکہ یہ ایک ایسا جذباتی مدعا بن گئی ہے جس کی بنا پر باقی ہندوستان میں ووٹ پڑتے اور بنٹتے رہے ہیں. ظاہر ہے یہی صورتحال کشمیر میں بھی بنی. یہاں پر کشمیر کو لے کر جتنا شور شرابا ہوا ، کشمیر انچ انچ کچھ اور دور کھسکتا چلا گیا ۔
لیکن صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کہا جارہا ہے کہ اب ہر ہندوستانی کشمیر میں پلاٹ خرید سکتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ عام ہندوستانی اپنے پرانے مکانات اور فلیٹ نہیں بچا پا رہے ہیں ، وہ چھوٹے شہروں میں اپنے کھیت اور مکان بیچ کر، بینکوں سے قرضے لے کر بڑے شہروں میں کسی کسی طرح فلیٹ لے رہے ہیں۔ وہ اپنا دوسرا پلاٹ کشمیر میں لیں گے؟ ۔ یہ مضحکہ خیز خیال محض ایک لچر دلیل کے سوا کچھ نہیں. یقیناً اس کا فائدہ کچھ سرمایہ کاروں کو ملے گا اور وہ فائدہ رستا ہوا کچھ کشمیریوں تک بھی پہنچے گا ، لیکن اس کی قیمت کشمیر کو اور پورے ملک کو کیا چکانی ہوگی اس کا حساب لگانا ابھی مشکل ہے۔
جو حکومت محض اس خصوصی درجے کے خاتمے سے ترقی کی صبح آ جانے کا دعوی کررہی ہے ، اس سے پوچھا جانا چاہئے کہ جن علاقوں میں اسے کہیں بھی آنے جانے، زمین خریدنے ، اسکول بنانے ، صنعتیں قائم کرنے کی آزادی ہے، وہاں ترقی کا سچ کیا ہے؟ کسان خودکشی کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ نوجوان بے روزگار کیوں ہیں؟ بچے غذا کی قلت سے مرنے پر کیوں مجبور ہیں؟
بہرحال موضوع سے ہٹنے کے بجائے واپس کشمیر پر لوٹتے ہیں.

کیا کشمیر باقی ہندوستان سے اس لیے مختلف تھا کیونکہ وہاں آرٹیکل 370 نافذ تھا؟ ایسے آرٹیکلز دوسری ریاستوں میں بھی ہیں جو وہاں کے مقامی باشندوں کو خصوصی درجہ دیتے ہیں۔ آپ جھارکھنڈ میں آدی واسیوں کی زمین نہیں خرید سکتے ۔ ہماچل میں بھی زمین خریدنے پر پابندی ہے۔ دراصل تاریخی حقیقت یہ ہے کہ یہ آرٹیکل 370 ہی ہے جس نے کشمیر کو ہندوستان سے جوڑا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ ایک عارضی دفعہ تھی ، لیکن اس کے خاتمے کی شرط یہ تھی کہ کشمیریوں کی خواہش سے اسے ختم کیا جائے گا۔ مانا جا رہا تھا کہ جیسے جیسے ہندوستانی جمہوریت مضبوط ہوگی ، کشمیر اور باقی ہندوستان کے مابین حائل یہ دفعہ دور ہوجائے گی اور ایک دن بے مطلب ہو کر فراموش کر دی جائے گی. رامچندر گوہا نے اپنی کتاب ‘انڈیا آفٹر گاندھی’ (India after Gandhi) میں ذکر کیا ہے کہ کشمیر کی اسمبلی میں شیخ عبد اللہ نے جموں و کشمیر کے تینوں اختیارات کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو جس طرح کی طاقتوں نے گھیر رکھا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ آزاد نہیں رہ سکتا۔ پاکستان جانے کے آپشن کو انہوں نے اس بنیاد پر مسترد کردیا کہ وہاں کے سرحدی لوگ اور جاگیردار کشمیر کو چھوڑیں گے نہیں ۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ انہیں نہرو سے امید ہے کہ وہ اپنے یہاں کی سخت گیر قوتوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے اور کشمیر کا مستقبل بھارت میں ہے۔ گوہا کی کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ شیخ عبداللہ ہی تھے جنہوں نے کشمیر سے کنیاکماری تک کا نعرہ لگایا تھا جو آج بھی ہندوستان کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہےـ
آنے والے دنوں میں اس اعتماد کو کس طرح کچلا گیا یہ ایک طویل اور تکلیف دہ کہانی ہے۔ اس کے ذمہ دار بہت سارے لوگ ہیں – وہ سنگھ پریوار بھی جس نے شیاما پرساد مکھرجی کو وہاں تحریک چلانے کے لئے بھیجا تھا ، کانگریس بھی جس نے وہاں انتخابات کے نام پر برسوں تک تماشا کیا اور اپنے پٹھو بٹھائے،اور کشمیر کے وہ لیڈر بھی جنہوں نے علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو اپنے لیے منافع کے کاروبار میں تبدیل کر لیا ۔
لیکن پرانی تاریخی غلطیوں کو نئی تاریخی غلطیوں کے ذریعے سدھارنے کی ضد بتلاتی ہے کہ جمہوریت کے اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی آپ یہ سمجھ نہیں پائے کہ ملک کیسے بنتے ہیں اور قومیں کیسے مضبوط ہوتی ہیں ۔ وہ قانون کی دفعات سے نہیں عوامی خوابوں سے بنتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں پچھلے دنوں جس طرح کا حکومتی نظام چلا ، اس سے ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے ہی ملک کے مساوی حصے کے ساتھ نہیں بلکہ کسی نوآباد کالونی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ 100 سال پہلے برطانوی حکومت جس طرح ہندوستانیوں کے ساتھ سلوک کرتی تھی، اس طرح کا سلوک ہندوستانی حکومت ہندوستانیوں کے ساتھ نہیں کرسکتی۔ اگر آپ کسی ریاست کے رہنماؤں کو نظرانداز کرکے ، کسی اشتعال انگیزی کے بغیر ریاست میں دفعہ 144 نافذ کرکے ، ریاست کے ایک حصے میں اسکول کالج کو بند کرکے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اس لیے کہ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ عوام کے گلے اترنے والا نہیں ہے. لیکن آپ لوگوں کو راضی کرنے ،ان سے مربوط ہونے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ان پر اپنا فیصلہ مسلط کرتے ہیں اور کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ بقیہ ہندوستان اس پر اٹھلاتا اور کھلکھلاتا ہے۔ ایسا کرکے آپ واقعتاً کشمیر کو کچھ اور دور ہی کر رہے ہیں۔
خوفزدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ حکومت آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی کوشش میں نہ عوامی رائے کا خیال رکھ رہی ہے نہ قانونی ذمہ داریوں کا. آئینی حیثیت یہ ہے کہ اس آرٹیکل کو کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی اجازت کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حکومت نے پہلے نوٹیفکیشن جاری کیا اور آئین ساز اسمبلی کے اختیارات جموں و کشمیر اسمبلی کے حوالے کر دیے۔ یہ منطق تو بہرحال سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ اب وہاں دستور ساز اسمبلی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن اس کے آگے مرکزی حکومت کی منطق دلچسپ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ چونکہ اب یہاں اسمبلی نہیں ہے ، لہذا اس کے اختیارات اب لوک سبھا میں مضمر ہیں اور لوک سبھا اس کی طرف سے فیصلہ کرسکتی ہے ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ دلیل کسی عدالتی دائرے میں کھری اترے گی یا نہیں ـ
بہرحال کشمیر کا حل آسان نہیں ہے. اس کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ لیکن تاریخ کا واحد سبق یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل جبر کے ذریعہ نہیں بلکہ آخر کار بات چیت کے ذریعہ ہی حل ہوتے ہیں، عوام کا گریبان پکڑ کر نہیں ان کے ہاتھ تھام کر حل ہوتے ہیں۔
راقم السطور کشمیر کے امور کا ماہر نہیں ہے ۔ لیکن یہ سمجھنے کے لئے کشمیر کے امور کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں کہ اتنے بڑے فیصلے اگر عوام کا ساتھ لے کر نہیں کیے جاتے ہیں تو وہ نئے بحران میں بدل جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو واقعتاً علیحدگی پسند (separatist) ہیں انہیں بھی یہ فیصلہ خوب راس آئے گا کیونکہ اس سے اسی پروپیگنڈے کو طاقت ملے گی جو وہ برسوں سے کرتے آرہے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے زیادہ ماہر ہونے کی ضرورت اور کم ہے کہ کشمیر میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جو جشن کا ماحول ہے وہ کشمیر کو مزید غمگین اور افسردہ کر رہا ہوگا۔ دراصل آپ کو نہ ہندوستان سے محبت ہے نہ ہی کشمیر سے ۔ آپ کو ایک نقلی دیش بھکتی سے پیار ہے جس میں نعروں کا شور زیادہ ہے ، حقیقت کم ہے۔ امبیرٹو ایکو (Umberto Eco) نے برسوں پہلے فاشزم پر لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب ہے ‘Rhetoric ‘ بیان بازی کی آزادی. آج ہم بیان بازی کی آزادی میں ہی مگن ہیں. میلان کندیرا (Milan Kundera) نے پراگ (Prague) میں سوویت فوجیوں کے چلے جانے کے بعد جو فضا تھی،اس کو ‘نفرت کے جشن’ (Carnival of Hate) سے تعبیر کیا تھا – کشمیر کے بارے میں نفرت کا یہ جشن ہر طرف دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کشمیر کو کس چیز سے زیادہ نقصان پہنچے گا ۔کشمیر میں دھارا 370 ختم کرنے سے ، یا بقیہ ہندوستان میں بہہ رہی خوشی کی دھارا سے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں