68

جشن وراثتِ اردوکاآغازکل سے،شائقینِ اردوکی دلچسپی کے لیے مختلف پروگراموں کا انتظام

نئی دہلی: دہلی سرکاراور اردواکادمی دہلی کے زیر اہتمام حسبِ روایت جشن وراثتِ اردو کا انعقاد کیاجارہا ہے، جس میں اردو وراثت اور دہلوی تہذیب کی جھلکیاں پیش کی جائیں گی۔ اس جشن کا افتتاح ۱۰، نومبر ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ منیش سسودیا(نائب وزیر اعلیٰ ) کریں گے۔ اس جشن میں اردو کی تہذیبی روایات کی بھرپور عکاسی اور نمائندگی ہوگی۔
منیش سسودیا نے اس پروگرام کے سلسلہ میں کہا کہ گذشتہ سال کے جشن وراثتِ اردو کو دہلی کے عوام نے بے پناہ پسند کیا، جس سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی کہ امسال کے پروگرام کوبڑے پیمانے پر اور مزید بہتر طور پر پیش کریں۔ دہلی کی تہذیبی اور ادبی تاریخ میں اردو زبان جز ولازم کی حیثیت رکھتی ہے اور دہلی کی مشترکہ تہذیب کی ایک نمایاں علامت ہے، چنانچہ اُردو کے اس طرح کے پروگراموں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ قومی یکجہتی کا ماحول قائم اور پروان چڑھے۔ اس زبان کی خصوصیت ہے کہ یہ لوگوں کے جذبات و احساسات کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے اور عاشقانِ اردو میں باہمی تعلقات اور یگانگت کو استوار کرتی ہے۔اِس سے پہلے یہ جشن لال قلعہ کے سبزہ زار میں منایا جاتا رہا ہے، لیکن پچھلے سال سے اسے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں منتقل کیا گیا اور ہزاروں لوگوں کی ہر روز آمد نے اسے بے پناہ کامیابی سے ہم کنار کیا ۔ اس سال یہ پروگرام اور بھی بڑے پیمانے پر منانے کا ارادہ ہے۔
متنوع فنکاروں کی آمد:
اس جشن میں اردو سے متعلق مختلف اصناف کے فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ اس جشن میں اردو کی زبانی روایات مثلاً چہار بیت، داستان گوئی اور قصہ گوئی کے ساتھ بالی ووڈ کے مشہور فنکار سریش واڈیکر اور جاوید علی بھی مدعوئین میں شامل ہیں۔ اس جشن میں نوجوانوں کی دلچسپی کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ نوجوان اپنی شاندار تہذیبی روایات سے واقف ہو سکیں ۔ ان نوجوانوں میں اسکولوں سے لیکر یونیورسٹیوں کے طلبہ کی شمولیت بطورِ خاص پیش نظر رہی ہے۔
دہلی کی تہذیب اور فنون لطیفہ کی ترجمانی:
فصیل بند شہر کے روایتی اور تہذیبی ورثے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی کے جدید مزاج کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس سلسلے میں خطاطی اور تاشے نفیری کے نمونے بھی پیش کئے جائیں گے۔
اسٹال:
اردو کے فروغ اور ترقی کے لیے مختلف قسم کے اسٹال بھی لگائے جائیں گے۔ اردو کے تمام پہلوؤں کی ترجمانی کے لیے نمائش کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ دہلی اردو اکادمی کے اسٹال میں کتابیں بھی خریدی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں مقامی تخلیقی ذخائر : پرانی دلی والوں کی باتیں اور خواب تنہا، کا بھی اسٹال موجود رہے گا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ دہلی آرکائیوز کے دہلی سے متعلق تاریخی دستاویز ات بھی ایک اسٹال پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
نئے ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لیے بہترین مواقع:
اردو نژاد ابھرتے ہوئے نوجوا نوں، فنکاروں ، شاعروں اور نثر نگاروں کے لیے ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں