455

جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے

ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی
بالآخر بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا ( راجیہ سبھا ) سے بھی تین طلاق بل پاس ہوگیا، اس کی مخالفت میں 84 اور حمایت میں 99 ووٹ پڑے _ امید ہے کہ اب صدرِ جمہوریہ کے دستخط کے بعد اسے قانون کی حیثیت حاصل ہوجائے گی _ مودی حکومت عرصہ سے اسے قانون بنانے کی فکر میں تھی _ اس سے پہلے دو مرتبہ ایوانِ زیریں ( لوک سبھا ) سے پاس ہوجانے کے باوجود راجیہ سبھا میں شدید مخالفت کی وجہ سے اسے منظوری نہ مل سکی تھی ، جس کی وجہ سے مودی حکومت کو آرڈیننس لانا پڑا تھا _ تیسری مرتبہ حکومت دونوں ایوانوں میں اسے منظوری دلانے میں کام یاب ہوگئی ـ
اس بِل کی نامعقولیت اور کم زوریوں ، بلکہ اس کے ظالمانہ ہونے پر بہت بحث ہوچکی ہے _ یہ بات بھی بالکل عیاں ہوگئی ہے کہ اس کا مقصد مسلم خواتین کو تحفّظ فراہم کرنا نہیں ، بلکہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کو نشانہ بنانا ہے _ مسلم علما اور دانش وروں نے ان پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے جن میں وہ اسلامی شریعت سے ٹکراتا ہے _ اس لیے اس وقت ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے _ اس وقت چند باتیں اس موضوع پر عرض کرنی ہیں کہ جب ملک میں خلافِ شریعت قانون سازی ہونے لگے تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی سازشوں ، سرگرمیوں اور منصوبہ بندیوں کی طویل تاریخ ہے _ اسی طرح تاریخ نے ان باتوں کو بھی محفوظ رکھا ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے کام یابی سے ان کا مقابلہ کیا ہے اور ان کے بچھائے ہوئے جال سے باہر نکل آئے ہیں _ 1917 کے سُرخ انقلاب کے بعد سوویت یونین میں شامل حکومتوں میں مسلمانوں پر زبردست مظالم ڈھائے گئے ، مذہب کو افیم کہا گیا ، اسلامی شعائر پر پابندی عائد کی گئی ، مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا ، لیکن مسلمانوں نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا اور اپنے دین سے مضبوطی سے چمٹے رہے _ ٹھیک یہی صورت حال ترکی میں 1924 میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پیش آئی _ وہاں اذان اور نماز پر پابندی عائد کردی گئی ، مسجدوں کو اصطبل بنا دیا گیا ، قرآن پڑھنا جرم قرار پایا ، اسلامی لباس متروک ہوگئے ، لیکن مسلمانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کی اور اسے خفیہ طریقے سے اپنی آئندہ نسلوں میں منتقل کیا _ کچھ عرصہ گزرا کہ دونوں ممالک میں پھر اسلام کی صدائیں بلند ہونے لگیں _ اس سے ہندوستانی مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے اور عزم مصمّم کا اظہار کرنا چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت میں ہرگز اپنے ایمان کا سودا نہیں کریں گےـ
تین طلاق پر بننے والے قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی موقع پر تین طلاق دے گا تو طلاق تو واقع نہیں ہوگی ، لیکن اسے قابلِ تعزیر جرم سمجھا جائے گا اور وہ تین برس جیل کی سزا کا مستحق ہوگا- کتنا دل چسپ ہے یہ قانون؟! جو عمل واقع ہی نہیں ہوا اس پر سزا تجویز کی گئی ہے _ اگر مسلمان ہوشیاری سے کام لیں اور اسلام کے بتائے ہوئے نظامِ طلاق پر عمل کریں تو اس قانون کو غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہےـ
طلاق کے سلسلے میں مسلمانوں کو درج ذیل نکات پیش نظر رکھنے چاہییں _ مسلم علما ، دانش وروں اور سماجی مصلحین کی ذمے داری ہے کہ عوام میں بیداری لائیں اور انہیں اسلام کی عائلی تعلیمات سے آگاہ کریں :
1 _ اسلام کی نظر میں نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے اور طلاق اس معاہدہ کو ختم کرنے کی تدبیر ہےـ
2 _ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عام حالات میں نکاح کو باقی رکھنے کی کوشش کی جائے ، چنانچہ اس نے شوہر اور بیوی دونوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے الفت و محبت کا تعلق رکھیں اور اس کی کوتاہیوں کو گوارا کریں ـ
3 _ اگر شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہونے لگیں تو پہلے مرحلے میں وہ کسی اور شامل کیے بغیر خود ہی اپنی شکایات دور کرنے کی کوشش کریں ـ
4 _ اگر وہ تنہا اپنا تنازعہ دور نہ کرسکیں تو ہر ایک اپنے خاندان کو شامل کرے _ دونوں کے خاندانوں کے چند بزرگ اور سمجھ دار لوگ مل بیٹھ کر شکایات کو رفع دفع کرنے اور اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کریں ـ
5 _ اگر کام یابی نہ ملے تو مرد ایک طلاق دے دے _ صرف ایک طلاق _ اس کے بعد عورت کو عدّت گزارنی ہے ، جو عموماً تقریباً 3 مہینے ہوتی ہے _ یہ مدّت دونوں کو اپنے رویّے پر غور کرنے کے لیے کافی ہےـ
6 _ عدّت پوری ہونے سے قبل دونوں پھر ساتھ میں رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں _ شوہر زبان سے رجوع کرلے یا رجوع کرنے کا اشارہ کردے ، کافی ہے _ اگر وہ تعلق ختم کرنا چاہیں تو عدّت پوری ہوتے ہی دونوں آزاد ہیں، عورت کا کہیں اور نکاح ہوسکتا ہے اور مرد بھی دوسری شادی کرسکتا ہےـ
7 _ اسلام نکاح کو ایک انتہائی سنجیدہ عمل سمجھتا ہے _ اسی لیے وہ طلاق کے دو ایسے مواقع دیتا ہے جن میں رجوع کی گنجائش ہے _ اس کے نزدیک طلاق کھیل تماشا نہیں کہ مرد جب چاہے طلاق دے دے اور جب چاہے واپس لے لے _ اس لیے وہ کہتا ہے کہ اگر کسی نے تیسری مرتبہ طلاق دی تو ہمیشہ کے لیے بیوی سے محروم ہوجائے گاـ
8 _ مسلم عوام میں جہالت کے سبب یہ بات پھیل گئی ہے اور وکلا کی جانب سے بھی انہیں یہی بتایا جاتا ہے کہ جب تک تین طلاق نہیں دی جائے گی ، طلاق واقع ہی نہیں ہوگی _ حالاں کہ یہ بات درست نہیں ہے _ طلاق کا مطلب نکاح کو ختم کرنا ہے اور یہ ایک طلاق سے بھی ہوسکتا ہے _ مرد ایک طلاق دے دے _ عدّت پوری ہوتے ہی عورت سے اس کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا _ اب اگر عورت چاہے ، لیکن مرد اسے دوبارہ بیوی بنانے پر تیار نہ ہو ، یا مرد چاہے ، لیکن عورت اس کے ساتھ دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ نہ ہو تو ان کا ازسرِ نکاح نہیں ہوسکتاـ
9 _ جو کام ایک طلاق سے ہوجاتا ہے اس کے لیے 3 طلاق دینے کی کیا ضرورت ہے؟! عموماً ناواقفیت کے سبب بعض مسلمان غصّے کا اظہار ایک سانس میں 3 طلاق دے کر کرتے ہیں _ پھر جب غصّہ اتر جاتا ہے تو اپنے کیے پر پچھتاتے ہیں _ انھیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ غصّے کا اظہار کرنے کے اور بھی طریقے ہیں ـ
10 _ طلاق ایک سوچا سمجھا عمل ہونا چاہیے _ نکاح کو قرآن مجید میں ‘مضبوط بندھن’ قرار دیا ہے _ یہ کیا کہ بیوی سے معمولی شکایت ہوجائے اور پلک جھپکتے ہی اس بندھن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں _ بیوی کے ساتھ ہر ممکن گزارا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _ اختلاف اور تنازع بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جائے کہ ساتھ رہنا ناممکن ہوجائے تو خوش اسلوبی اور شائستگی کے ساتھ علیٰحدگی کی کارروائی کرنی چاہیےـ
موجودہ حالات میں مسلمان طلاق کے سلسلے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کریں گے تو ان کی زندگی سکون و اطمینان سے گزرے گی اور حکومت کے بنائے جانے والے اس قانون کی مار سے بھی خود کو بچا سکیں _ اس وقت لعنت و ملامت ، شور و غوغہ اور احتجاج کی راہوں پر چلنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنے کی خاموش حکمت عملی تیار کرنی ہوگی _ زہریلے سانپ کو چیخ و پکار اور شور و غل کرکے نہیں مارا جا سکتا ، البتہ اسے ہلاک کرنے کے لیے خاموشی سے لاٹھی کی زور دار ضرب کافی ہوتی ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں