281

تہذیب حافی و علی زریون کا کارنامہ


عامرہزاروی
تہذیب حافی و علی زریون تنقید کی زد میں ہیں ، جہاں انہیں پیار کرنے والے ملے وہیں نفرت کرنے والے بھی ملے ، تنقید بری نہیں انکار برا ہوتا ہے ، جسے خدا عزت اسے تسلیم کر لینا چاہیےـ
تہذیب حافی و علی زریون کی شاعری کیسی ہے اسکا فیصلہ وقت کرے گا میں شاعری پر بات نہیں کرنا چاہتا البتہ چند چیزیں ذہن میں ہیں جنہیں لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے ،
امیر المومنین ضیاء الحق رحمتہ اللہ علیہ نے جہاں اس قوم پر کئی احسانات کیے وہیں ایک احسان یہ بھی کیا کہ لوگوں کو فنون لطیفہ سے دور کیا ، شدت پسندانہ ماحول بنایا گیا ، شاعری جرم بنائی گئی ، لوگوں کی آوازیں دبائی گئیں، شاعری ترانوں اور ملی نغموں تک محدود ہو گئی تھی ، اہل مذہب شاعری کو گناہ سمجھتے تھے بس جہادی ترانے اور ملی نغمے ہی ہم ایسوں کی کل متاع تھےـ
مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک بار منیر نیازی کی کتاب لینے کتب خانے گیا تو پسینے چھوٹ پڑے تھے سوچتا رہا شاعری کی کتاب کیسے لوں ؟ دکان دار کیا سوچے گا کہ اس حلیے کا لڑکا شاعری کی کتاب لے رہا ہے ، کتاب تو لے لی مگر اساتذہ اور گھر والوں سے چھپا کر رکھی رہی ، ایک مدت تک منیر نیازی کی کتاب کو بھی کنواری لڑکی کی طرح پردہ کروائے رکھاـ
ایک طرف یہ خوف تھا اور دوسری طرف شاعری خاص لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ، شعراء اپنی شاعری ایک دوسرے کو سناتے اور داد وصولتے، کتابیں چھاپتے اور ایک دوسرے کو گفٹ کر دیتے ، شاعری عوام سے کٹ چکی تھی ، روس کے ٹوٹتے ہی مزاحمتی شاعری و ادب بھی مر چکا تھا ، قوم گونگی ہو چکی تھی ، جو قوم فنون لطیفہ سے محروم ہو جائے وہاں شدت پسندی جنم لیتی ہے ، ہم نے شدت پسندی کو بھگتا ، لوگ محبت بھول چکے تھے ، شاعری محبت سکھاتی ہے ، محبت والے لوگ ایک دوسرے کو مارتے نہیں بلکہ جینے کا حق دیتے ہیں ـ
تہذیب حافی و علی زریون نے نئی نسل کو محبت کی طرف موڑا ہے انکی وجہ سے نئی نسل کو علم ہوا ہے کہ شاعری بھی کوئی چیز ہے ، شاعر بھی ایک مخلوق ہےـ
تہذیب و علی جب اشعار پڑھ رہے ہوتے ہیں تو میری نظریں اسٹیج پر بیٹھے بابوں پر ہوتی ہیں ، میں انکے چہرے پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں ، انکی پیشانی کے بل دیکھتا ہوں ، انکی داد کے طریقے کو دیکھتا ہوں ، بابے تھکی ہوئی داد دیتے ہیں ، نہ چاہتے ہوئے بھی سر ہلاتے ہیں ، بابے کسی کو مانتے نہیں، ہر دور کے نئے لوگوں کو پرانے بابے شعراء سے گلہ رہا ہے، احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا:
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے

اور حفیظ کو بھی کہنا پڑا:
حفیظ اہل زبان کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

اہل زبان مانیں یا نہیں عوام ان دونوں کو مان چکی ہے اور یہ اپنا آپ منوا چکے ہیں ، کسی شاعر کے لئے اس سے بڑا اعزاز کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ وہ شعر شروع کرے تو سامعین اس کیساتھ اسکا کلام پڑھ رہے ہوں، حافی و علی جب پڑھ رہے ہوتے ہیں تو سامعین انکے ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں ،لوگ پڑھ رہے ہوتے ہیں ، جھوم رہے ہوتے ہیں اور گا رہے ہوتے ہیں ـ
یہ لوگ شاعری کو خواص سے اٹھا کر عوام میں لے آئے ہیں ، یہ شاعری کو محلات اور ہوٹلوں سے نکال کر درس گاہوں میں لے آئے ہیں، انکی وجہ سے نئی نسل شاعری کی طرف آ رہی ہے ، ان کو رد کرنے کی بجائے انکو عزت دیں ، انکو مشاعروں میں بلائیں، اس سوسائٹی کو شاعری کی طرف مڑنے دیں ، شاعری کا راستہ روکنے والے علی و حافی کی مخالفت میں حضرت ضیاء الحق کی خدمت کر رہے ہیں، خدا کے لیے ضیاء کو اب مرنے دیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں