2,129

تہذیب حافی:اپنی مستی میں بہتادریاہوں!


نایاب حسن قاسمی
تہذیب حافی کی شکل و صورت میں جو بھولاپن،معصومیت،بے ساختگی اور ہر قسم کے تصنعات سے ماوراایک فطری کشش ہے،بالکل یہی اوصاف ان کی شاعری میں بھی پائے جاتے ہیں۔تہذیب کی شاعری تارِ دل کو چھیڑتی ہے،ان کے لفظوں کی ترتیب اورتعبیرات کی بندش میں ایساسحر ہے،جو قاری اور سامع کے حواس کواپنے قابومیں کرلیتا ہے۔ان کا کوئی بھی شعر سنیے،تو صاف طورپر محسوس ہوگا کہ اساتذۂ فن کے یہاں’ ’اچھے شعر‘‘کے جو شرطیں ہیں اور ایک شعر کے واقعی شعر ہونے کے لیے اس کاجن خصائص سے متصف ہونا ضروری ہے،وہ سبھی تہذیب کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔ان کا تخیل، تفکر، شعری تصورات، کرافٹ، امیجری،تماثیل ،مصرعوں کی ساخت ،لفظوں کی نشست و برخاست،تخیلات کاتانابانا،پیش کش کا طَوراور اظہار و اداکا سٹائل ایسے من موہنے ہوتے ہیں کہ انھیں پڑھنے اورسننے والا سردھننے لگتاہے۔یہ نہیں کہاجاسکتا کہ تہذیب کے شعری مضامین میں بہت زیادہ جدت ہے یا انھوں نے نئے موضوعات خلق کیے ہیں،عام طورپر ان کے شعری موضوعات وہی ہیں،جو غزلیہ شاعری کا خاصہ رہے ہیں،مگر ان کی بے پناہ تخلیقی قوت اور زورِ تخیل نے ان پامال موضوعات کو بھی اس خوب صورتی سے پیش کیاہے کہ ان کی شاعری میں قابل رشک امتیاز پیدا ہوگیا ہے۔انھوں نے زبان زدِعام الفاظ و استعارات کو نئی اور وسیع تر معنیاتی جہات سے روشناس کیاہے،ان کا شعری کینوس نہایت وسیع اور فنی اُفق ہمہ گیر ہے۔وہ الفاظ و تراکیب کی جدت طرازیوں کی بجاے انھیں فن کارانہ انداز میں برتنے پر توجہ دیتے ہیں؛چنانچہ عام طورپر نہایت سادہ؛ بلکہ بہت سے کھردرے الفاظ بھی ان کے مصرعوں میں پہنچ کر زندگیِ نو پالیتے اور ان میں شادابی وزرخیزی لوٹ آتی ہے،بہت سے وہ شبد،جن میں کراہت فی السمع یاغرابتِ لفظی ومعنوی پائی جاتی ہے ،وہ بھی تہذیب کے مصرعوں میں پہنچ کر مانوس اور مدھر لگتے ہیں۔
تہذیب حافی کا تعلق شعرا کی بالکل تازہ اورنئی پود سے ہے،وہ۱۹۸۹ء کی پیدوارہیں،تعلیمی اعتبارسے ایک ڈگری سافٹ ویئر انجینئرنگ اور دوسری ایم اے اردوکی رکھتے ہیں،ممکن ہے پی ایچ ڈی بھی ہوں۔اٹھارویں وانیسویں صدی کے عظیم مصلح وعارف خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی(1769-1850) کا شہر تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان(پنجاب،پاکستان) تہذیب کا مولد ہے ، لاہور مسکن اوراپنی خوب صورت شاعری کے حوالے سے وہ شرق و غرب اور شمال و جنوب ؛ہر کہیں معروف و متعارف ہیں۔
تہذیب کی شاعری میں ذہن کا دکھ،دل کا کرب،جسم کی ناآسودگی اور روح کی بے چارگی تحیرخیز،مگر حقیقی رنگوں میں جلوہ گرہے۔انھوں نے اپنی قوتِ تخیل سے اس قسم کے اشعار میں ایک دل فریب جاذبیت پیدا کردی ہے،ساتھ ہی ان میں اثروتاثیر ایسی بلاکی ہے کہ حساس دل انسان انھیں پڑھ اور سن کر اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے اُس ماضی میں کھوجاتاہے،جہاں اس کا واسطہ اُن دکھوں سے پڑتاہے،جو ان پر بیت چکے یا اب بھی بیت رہے ہیں۔بے بسی و بے چارگی کی ایک ناقابلِ بیان کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔بعض دفعہ انسان کی پوری زندگی ہی دکھوں کا استعارہ ہوتی ہے،یہ دکھ اس کے دل کوگاہے گداز اور گاہے سخت بنادیتے ،پھراس کی عملی زندگی کے رویے اسی کے زیر اثر سامنے آتے ہیں۔ایک تخلیق کاریاشاعر جو کچھ سوچتا اوراس کا اظہار کرتا ہے،وہ بسااوقات اس کی آپ بیتی ہوتی ہے؛لیکن زیادہ تر وہ معاشرۂ انسانی کے بے شمار لوگوں کی بھی سرگذشت ہوتی ہے۔دکھوں کے جو استعارے تہذیب نے اپنی شاعری میں استعمال کیے اور انھیں جس طریقے سے برتا ہے،اس میں ایک اضافی دردہے اور یہ درد اس وجہ سے پیدا ہواہے کہ غالباً تخلیق کار خود بھی کسی نہ کسی شکل میں ان دکھوں کو گزارتارہاہے،تہذیب کے ایسے اشعار میں حقیقت بیانی کے ساتھ ایک مخصوص نوع کی سرّیت بھی ہے،ایسی سریت ،جو قاری یا سامع کو درونِ ذات میں جھانکنے اورخود سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ میں کیاہوں؟ کیوں ہوں؟اورکیسا ہوں؟
کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیاکسی کو
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے،جو مجھ سے لپٹ رہی ہے

تمہیں پتا تو چلے بے زبان چیز کا دکھ
میں اب چراغ کی لو ہی نہیں بناؤں گا

اس ایک ڈرسے خواب دیکھتا نہیں
جودیکھتاہوں میں وہ بھولتانہیں
میں ان دنوں ہوں خود سے اتنا بے خبر
میں مرچکاہوں اور مجھے پتانہیں

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں
میں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں
باہر آنے کی بھی سکت نہیں ہم میں
تونے کس موسم میں پنجرے کھولے ہیں

ویسے میں نے دنیامیں کیا دیکھاہے
تم کہتے ہوتو پھر اچھا دیکھاہے
میں اس کو اپنی وحشت تحفے میں دوں
ہاتھ اٹھائے جس نے صحرا دیکھاہے

شورکروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا
خاموشی سے اپنا رونا رولوں گا
ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے
دستک ہوگی اور دروازہ کھولوں گا

رولیاجائے اپنے ہونے پر
اپنے مرنے پہ حوصلہ کیاجائے

اک اداسی جو اتنے لوگوں میں
نام لے کر پکارتی ہے مجھے
میں کہ کاغذکی ایک کشتی ہوں
پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

چیختے ہیں درودیوارنہیں ہوتا میں
آنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میں
خواب کرنا ہو،سفرکرنا ہویا رونا ہو
مجھ میں خوبی ہے کہ بیزارنہیں ہوتامیں

میں جنگلوں کی طرف چل پڑاہوں چھوڑکے گھر
یہ کیاکہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہوگئی ہے

کھرچ رہاہوں میں دیوار پر لکھے ہوئے نام
عجیب طرح کی اک بے بسی نے آلیاہے

ترے لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے
مرے لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں

مراموسموں سے تو پھر گلہ ہی فضول ہے
تجھے چھوکے بھی اگر میں ہرانہیں ہورہا
تہذیب کے شعری نظام کی تشکیل میں مناظرِ فطرت سے اثر پذیری نمایاں ہے ۔ درخت،بادل،ساحل،دریا،ہواوغیرہ کو انھوں نے اپنے متنوع اور بسا اوقات باہم متخالف و متضاد خیالات کے اظہار کا وسیلہ بنایاہے۔خاص طورپر پیڑ اور جنگل سے ان کا تعلق ایک مختلف رنگ میں سامنے آتاہے،زیادہ تر اشعار میں وہ خود کو بھی پرندہ یا پیڑسے تشبیہ دیتے اور فطرت سے بے پناہ عشق کا اظہار کرتے ہیں۔موجودہ عالمی معاشرے میں ماحولیات کے تئیں جس قسم کی تشویش انگیز حقیقت سامنے آرہی ہے اور ساری دنیاسے جنگلات کی بہ تدریج نایابی پر ماحولیات کے عالمی ادارے جن خطرات کا اظہار کررہے ہیں،غالباً انہی کو سامنے رکھ کر تہذیب نے جنگل،پیڑ اور پرندوں کے استعاروں کو اپنی شاعری میں برتااورقارئین کو فطرت سے محبت کی تلقین کی ہے۔درختوں کاہراپن ان کی شاعری میں زندگی کی ایک مخصوص خوش رنگ علامت کے طورپر نظر آتاہے،ساتھ ہی انھوں نے اس سلسلے کے ادبی و فنی صنائع وبدائع ایسی چابک دستی سے استعمال کیے ہیں کہ ان کی ایسی شاعری میں بلا کی جمال انگیزی پیدا ہوگئی ہے،کبھی اس پرپاکیزگی و تقدس کا گمان ہوتا ہے ،کبھی شاعر کی حسن پسندی نکھر کر سامنے آتی ہے ، کبھی فطرت کا جمالِ جہاں آراتہذیب کے مصرعوں میں جلوہ بار نظر آتاہے،کبھی دکھ اور کرب کے احساسات ابھرنے لگتے ہیں ،توکبھی ذہن و دل پرنشاط انگیز کیفیت طاری ہوجاتی ہے،مثال کے طورپر تہذیب کے اِن اشعار کو پڑھیے ،آپ ان کے معنوی آفاق کی وسعت و بے کرانی اور مفاہیم وخیال کی گیرائی و گہرائی پرعش عش کیے بغیر نہیں رہ سکتے:
وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں
وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن
میں پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا

پیڑمجھے حسرت سے دیکھاکرتے تھے
میں جنگل میں پانی لایاکرتا تھا

اک حویلی ہوں،اس کا دربھی ہوں
خودہی آنگن ،خودہی شجر بھی ہوں
ایک پھل دار پیڑہوں لیکن
وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

تھوڑی دیر میں جنگل ہم کو عاق کرے گا
برگد دیکھیں یا برگدکی شاخیں دیکھیں

نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کی
کل ایک پیڑ کی تقریبِ رونمائی تھی

ان پرندوں سے بولنا سیکھا
پیڑسے خامشی ملی ہے مجھے

مدت سے میری آنکھ میں اک خواب ہے مقیم
پانی میں پیڑ،پیڑ کی چھاؤں میں ریت ہے

کسی درخت کی حدت میں دن گزارناہے
کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے

میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا
مری قریب کے جنگل سے بات ہوگئی ہے

لیلۃ القدرگزاروں گا کسی جنگل میں
نوربرسے گا،درختوں کی امامت کروں گا

میں چاہتاہوں پرندے رہاکیے جائیں
میں چاہتاہوں ترے ہونٹ سے ہنسی نکلے

یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتاہوں
جوبھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا،بیٹھ گیا

ہم نے ان پیڑوں پر شعر نہیں لکھے حافی
ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے

روزاِک پتا مجھ میں آکر گرتاہے
جب سے میں نے باغ میں جانا چھوڑدیا

درخت چھاؤں سے ہٹ کر بھی اور بہت کچھ ہے
یہ کیسی چیز تھی اور ہم نے کام کیالیاہے
وارداتِ حسن و عشق پر تہذیب کے اشعار اوربھی منفرد،معنویت سے لبریز،کومل،معصوم وملایم ہیں،ان اشعار میں ایک مخصوص نوع کی بے تابی ہے،خود سپردگی بھی ہے، کہیں لب و لہجہ شاکیانہ بھی ہوجاتا ہے اور کہیں کھل کر اپنی بے چارگی کابھی اظہار کرتے ہیں۔طرزِاظہار کی طہارت اور اسلوبِ پیش کش کی نزاہت بھی ان اشعار کی ایک نمایاں خوبی ہے۔تہذیب نے اپنے شعروں میں ہجراور وصال کے روایتی موضوع اور ان کے دکھ سکھ کونئے تخیلات کاپیراہن عطا کیاہے،مثلاً ایک شعر ہے:
تم چاہتے ہوتم سے بچھڑکے بھی خوش رہوں
یعنی ہوا بھی چلتی رہے اور دیاجلے!
صاحبِ ذوق انسان اسے سن کر بس اچھل ہی جائے گا۔
دوسرا خیال،پہلے سے قطعاً الگ:
بچھڑجانے کا سوچاتو نہیں تھا ہم نے لیکن
تجھے خوش رکھنے کی کوشش میں دکھ پہنچارہے ہیں
اوریہ دیکھیں،یہ حد سے زیادہ اذیت پسندی ہے یا محبت وایثارکی انتہا!
میں اس لیے بھی تجھے چھوڑنے کے حق میں ہوں
میں چاہتاہوں تجھے موت سے بھی ڈرنہ لگے!
پھر اسی ہجر پر شکوہ سنجی بھی ہے:
زندگی ہجر کے علاوہ بتا
میرے حصے میں اور کیاکیاہے؟
اوریہ:
ہجر کی رات مری جان کوآئی ہوئی ہے
بچ گیا میں،تو محبت کی مذمت کروں گا
شاعرہجر کوموت سے تشبیہ دیتاہے،ایسے لمحے میں محبوب کا پلٹ کردیکھنا اسے مزید کرب انگیزلگتاہے:
تواگر جانے لگاہے،تو پلٹ کر مت دیکھ
موت لکھ کر تو قلم توڑ دیاجاتا ہے
اور یہ کیساسفاکانہ خیال ہے،مذکورہ تمام خیالوں سے یکسرمختلف:
میں جس کوشش میں اس کوبھول جانے میں لگاہوں
زیادہ بھی اگر لگ جائے، تو ہفتہ لگے گا
فراق کے بعد کی یہ کیفیت :
لوٹنا کب ہے تونے پر تجھ کو
عادتاً ہی پکارتے رہیں گے
وصال کے تصوراتی لمحات کی تعبیر بھی تہذیب کے یہاں نہایت مہذب،جاذب،معنی خیزومتجسسانہ ہے:
تجھ کو چھونے کے بعد اورکیاہوگا
دیر تک ہاتھ کانپتے رہیں گے

اسے پتاتھا میں چھونے میں وقت لیتاہوں
سواس نے وصل کا دورانیہ بڑھالیاہے

تم نے کیسے اس کے جسم کی خوشبوسے انکارکیا
اس پر پانی پھینک کے دیکھو کچی مٹی جیسا ہے

اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب
وہ روشنی کی بات کرے اور دیاجلے

میں چھورہاہوں ترا جسم خواب کے اندر
بجھارہاہوں میں تصویر میں لگی ہوئی آگ

ترے جسم سے مری گفتگو رہی رات بھر
میں کہیں نشے میں زیادہ بَک تونہیں گیا؟
تہذیب کا تخلیقی جہان روزبروز وسعت پذیر ہے،ان کے دائرۂ تخلیق میں معاشرتِ انسانی اور حیاتِ انسانی کے دیگر بہت سے اہم پہلو بھی ہیں اور یہ دائرہ روز بروز پھیل رہاہے۔تہذیب اپنی شاعری میں عموماًواحد حاضر اورواحد متکلم کے صیغے استعمال کرتے ہیں؛چنانچہ وہ بڑی آسانی سے قاری یا سامع کے دل میں اترجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین صرف انھیں سنتے یا پڑھتے ہی نہیں ،اپنے ذہنوں میں ان کے اشعار کا اچھاخاصا ذخیرہ محفوظ بھی رکھتے ہیں،نتیجتاً گو اَبھی ان کی تخلیقی عمر کچھ خاص نہیں ہے،اس کے باوجود ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور نوجوان ادب پرورنسل میں تہذیب کے تئیں ایک والہانہ پن، ایک وارفتگی نظر آتی ہے۔ٹیکنیکل ترقیات اور انٹرنیٹ کی حیرت ناک فتوحات کے اس عہد میں تہذیب کاFan Baseسوشل میڈیاپر بھی نہایت مضبوط ہے اور نوجوانوں میں ان کے تئیں خاصاکریزپایاجاتاہے۔
تہذیب کے یہاں ہلکا یا بھرتی کا شعر نظر نہیں آتا،ہرشعرمیں معانی و افکار کی کائنات آباد رہتی ہے ،ادب نوازی کا ذوق اور سخن فہمی کی استعداد رکھنے والوں کے لیے ان کی شاعری میں دلکشی کے اَنیک پہلو ہیں،زبان کا حسن،خیال کاجمال ،اسلوب کی معصومیت ،فکر کی پاکیزگی ،بیان کی لطافت ،احساس کی نازکی ،معنی و مفہوم کا رنگارنگ جہان، نظرکی وسعت، نظریے کا عمق،دلکش تشبیہات،دلنشیں استعارات،خوب صورت کنایات ،فکر انگیزتمثیلات وتعبیرات اور بھی بہت کچھ !ایسے میں ان کے اشعارکا انتخاب بڑامشکل کام ہے،پھر بھی تہذیب حافی کے منتخب اشعارکاایک کلکشن نذرِ قارئین ہے۔’’قیاس کن زگلستانِ من بہارِمرا‘‘:
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے

میں اس کو ہر روزبس یہی جھوٹ سننے کو فون کرتاہوں
سنو!یہاں کوئی مسئلہ ہے،تمھاری آواز کٹ رہی ہے

تم اس کو مجبور کیے رکھنا باتیں کرتے رہنے پر
اتنی دیر میں میں نے اس کا لہجہ چوری کرلیناہے

دردگھٹتاتوہے،پر ختم نہیں ہوسکتا
سانپ سوتاہے،مگر آنکھ کھلی رہتی ہے

اس لیے گاؤں میں سیلاب آیا
ہم نے دریاؤں کی عزت نہیں کی

میں مانتانہیں تھا مجھے اس سے پیارہے
وہ شخص جب اداس ہوا،توپتا چلا

ترے جیتے جاگتے اور کوئی مرے دل میں ہے
مرے دوست!کیایہ بہت برانہیں ہورہا

اسی لیے تو مرا گاؤں دوڑ میں ہارا
جو بھاگ سکتے تھے،بیساکھیاں بنارہے تھے
بغیر پوچھے بیاہے گئے تھے ہم دونوں
قبول کرتے ہوئے ہونٹ تھرتھرارہے تھے

نیند ایسی کہ رات کم پڑجائے
خواب ایسی کہ منہ کھلارہ جائے

ناؤہوں اور مراساحل سے بھی رشتہ ہے کوئی
یعنی دریامیں لگاتار نہیں ہوتا میں
خواب کرناہو،سفرکرنا ہویا روناہو
مجھ میں اک خوبی ہے ،بیزارنہیں ہوتا میں

تنہائی میں خودسے باتیں کرنی ہیں
میرے منہ میں جوآئے گا بولوں گا
رات بہت ہے،تم چاہوتو سوجاؤ
میراکیاہے،میں دن میں بھی سولوں گا

میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیاہوں
وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں کرتا

جانے والے سے رابطہ رہ جائے
گھر کی دیوار پر دِیارہ جائے
اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو
وہ ترے خواب دیکھتا رہ جائے

میں ایک عمر سے جل بجھ رہاہوں ان کے سبب
ترا بچاہواپانی،تری بجھی ہوئی آگ

صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کردیے
میں تو وہ ہوں،جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
پیارتو پہلے بھی اس سے تھا،مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھوتولیتاتھا،مگر روتا نہ تھا

میں اس کے ساتھ ساتھ رہا اور خوش رہا
پھر اس نے مجھ سے پوچھ لیاآپ کون ہیں؟

وہ دھوپ بھی نہیں تھی اور چھاگئی
ہم ابر بھی نہیں تھے اور چھٹ گئے
تجھے پتاہے تیرے بعد کیاہوا؟
درخت بجھ گئے،چراغ کٹ گئے

ذہن پر زور دینے سے بھی یاد آتانہیں ہے کہ کیادیکھتے تھے
صرف اتناپتاہے کہ ہم عام لوگوں سے بالکل جدا دیکھتے تھے
سچ بتائیں تو تیری محبت نے خود پر توجہ دلائی
تو ہمیں چومتا تھا تو گھر جاکے ہم آئینہ دیکھتے تھے

شاخ سے پتا گرے،بارش رکے،بادل چھٹیں
میں ہی توسب کچھ غلط کرتاہوں،اچھاٹھیک ہے!
اک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہیں ہم
توہی جب خاموش ہوجائے،تو پھر کیاٹھیک ہے

توسمجھتا ہے کہ تونے مجھے ٹھوکر ماری
میں تو دانستہ ترے پاؤں سے ٹکرایاہوں

اگر کبھی ترے نام پر جنگ ہوگئی تو
ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف میں کھڑے ملیں گے
ہمیں بدن اور نصیب دونوں سنوارنے ہیں
ہم اس کے ماتھے کا پیار لے کر گلے ملیں گے

یوں لگتاہے دین و دنیاچھوٹ گئے
مجھ سے تیرے شہر کی گاڑی چھوٹی ہے

اگر تو مجھ سے شرماتی رہے گی
محبت ہاتھ سے جاتی رہے گی
تجھے میں اس طرح چھوتا رہاتو
بدن کی تازگی جاتی رہے گی

وعدہ توڑنے کا اک اپنا لطف بھی ہوتا ہے
ایساکرنے سے اگلے کا زخم بھی تازہ رہتاہے

میں چاہتاہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے
میں چاہتاہوں کہ اندر کی خامشی نکلے
میں چاہتاہوں مجھے طاقچوں میں رکھاجائے
میں چاہتاہوں جلوں اور روشنی نکلے

جو تیرے ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہو
لعنت ہو ایسے شخص پہ اور بے شمار ہو
اب اتنی دیر بھی نہ لگا یہ نہ ہو کہیں
توآچکاہواور ترا انتظار ہو
میں پھول ہوتو پھر ترے بالوں میں کیوں نہیں
تو تیرہے،تومیرے کلیجے کے پار ہو

بڑا پرفریب ہے شہدوشیر کا ذائقہ
مگر ان لبوں سے ترانمک تو نہیں گیا
یہ جواتنے پیار سے دیکھتاہے توآج کل
مرے دوست توکہیں مجھ سے تھک تونہیں گیا؟

ویسے میں ان راستوں اور طاقچوں کا تھانہیں
پھر بھی تونے جس جگہ پر رکھ دیا،روشن ہوا
تیرے اپنے تیری کرنوں کو ترستے ہیں یہاں
تویہ کن گلیوں میں ،کن لوگوں میں جاروشن ہوا؟

بارش میرے رب کی ایسی نعمت ہے
رونے میں آسانی پیدا کرتی ہے
اس لڑکی سے میرا اتنا رشتہ ہے
مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے

کیاکروں تجھ سے خیانت نہیں کرسکتامیں
ورنہ اُس آنکھ میں میرے لیے کیاکچھ نہیں تھا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں