68

تھام کر تیری انگلی(۲/۲)

ام ہشام
آج کی تحریر ان عقابوں کے نام، جن کی نظریں ہر منظر میں ایک نیا زاویہ تلاش کرتی ہیں،جو کل ہواؤں کے دوش پر سوار ہوکر ملک و ملت کی نئی تاریخ رقم کرنےوالے ہیں-اللہ ان ننھے بال و پر کو پرواز عطا کرے –
تناؤاور فکر سے آزاد امتحان کی تیاری کےلئے سب سے پہلے نیچے بتائے گئے نکات کےساتھ اپنا ٹائم ٹیبل بنالیں،پھر اسی کےساتھ اپنی پڑھائی اور دیگر کام جاری رکھیں –
(۱) بائیولوجیکل کلاک:
اس گھڑی سے مرادیہ ہے کہ آپ اپنے پڑھنے لکھنے کے اوقات طے کرلیں – اپنے ذہن اور آسانی کے حساب سے پڑھائی کا ایک وقت مقرر کریں، اس کا سیدھا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جس طرح روز مرہ کی زندگی میں آپ اپنی عادات کےمطابق مقررہ اوقات پر اپنے دوسرےکام بغیر کسی پریشر اورمشقت کے بآسانی کرلیتے ہیں، اسی طرح ایک بار جب آپ کی یہ گھڑی سیٹ ہوجائےگی،تب آپ خود بخود اپنے مقرر کیے گیے وقت پر پڑھائی کرنے کو تیار ہوں گے، بالکل ویسے ہی،جیسے آپ اپنے فکس ٹائم پر نہاتے دھوتے،ناشتہ یا لنچ کرتے ہیں،اسی طرح یہ گھڑی اور اس میں سیٹ کیا ہوا ٹائم آپکو مقررہ وقت پر پڑھائی کا عادی بنادےگا-
(۲) صرف پڑھتے نہ رہیں:
رٹا مارنا اورہر وقت صرف یادکرتے رہنا یہ طریقہ بہت زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا – عقل مند وہ ہے،جو ہارڈورک کی بجائے اسمارٹ ورک کرے- تو اب جب بھی آپ پڑھنے کے لئے بیٹھیں،تو صرف جوابات کا رٹا نہ لگائیں، جواب کےساتھ ساتھ سوالات کو بھی اتنی ہی مرتبہ پڑھیں -عموما اکثر بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ دیکھا گیا ہےکہ دوران امتحان انہیں سوال کے جواب نہیں آتے؛ لیکن جب وہ امتحان ہال سے باہر آکر اپنے دوستوں سے ڈسکس کرتے ہیں، تو بڑے افسوس میں پڑجاتے ہیں کہ ارے! یہ سارے جوابات تو ہمیں بہت اچھی طرح آتے تھے؛ لیکن سوال سمجھ نہ پانے کی وجہ سے ہم اسے حل نہیں کرسکے –
یہ گڑ بڑ اس وجہ سے ہوئی کہ آپ نے صرف جوابات یاد کئے اور وہ سوال کن جوابات سے متعلق ہیں، بس یہیں آپ چوک گئے اور دیگرسوالوں میں گڈمڈ ہوگئے –
لہذا سوال اور جواب کے تال میل کو سمجھنے کی کوشش کریں؛تاکہ امتحان کے پیپر میں جب وہ سوال آپ کی نظروں کے سامنے آئے، تو آپ کا دماغ خود بخود وہ جواب ذہن کی اسکرین پر لےآئے –
(۳) نماز و دعا کی پابندی:
تمام باتوں پر عمل سے پہلے اپنے آپ کو نماز اور دعاؤں کا پابند کریں – اپنی تمام کوششوں کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنے کی عات ڈالیں – اللھم لا سھل الا ماجعلتہ سھلا جیسی دعاؤں کے ساتھ اپنی پڑھائی کی شروعات اور اختتام کریں – ایک روحانی سپورٹ ہمیشہ آپ کو آنے والی تیاریوں میں حوصلہ دے گا-
(4) یاد کرنے کے ساتھ ساتھ گذشتہ سالوں کے سابقہ پیپرز جمع کریں اور انہیں حل کرنے کی مشق کریں!
اس طریقے سے بہت سارے آئیڈیاز اور نئے سوالات آپ کے پاس جمع ہوجائیں گے پھر آپ اپنے پرچے میں ہر طرح کے سوالات کے لیے تیار ہوں گے –
(5) دھیان بانٹنے والی چیزوں اور لوگوں سے دور رہیں!
اسی طرح منفی خیالات کو اپنے پاس نہ آنے دیں؛ کیونکہ ہمارا یہ دماغ اتنا پاور فل ہے کہ جس چیزپر ہم کانسٹریٹ کرتے ہیں، وہ چیز ہمارے ذہن پر میگنیفائٹ ہوجاتی ہے،اگر فیل ہونے یا نمبرات کی کمی کا خطرہ دل ودماغ پر حاوی ہوگا، تو ویسا ہی نتیجہ ملےگا؛ اسی لیے جو بچے ایگزام کا اسٹریس لیتے ہیں،وہ ڈینجر پر فوکس کرتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی پر برے اثرات پڑتے ہیں-
جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ مشکل سے مشکل سبجیکٹ کو حل /یاد کرتے ہوئے ہمارا مقصود ہماراخواب اور ٹارگٹ ہماری نگاہ میں ہونا چاہیے –
پورے اعتماد اور یقین کےساتھ اپنا گول سیٹ کریں اور اسے حاصل کرنے کےلیے اپنی محنت پر بھروسہ رکھیں، اچھا سوچیں اور مثبت نتائج حاصل کریں-
(6)ہلکی پھلکی ورزش یا جسمانی سرگرمیاں:
امتحان کے دوران بھی جتنا اور جسقدر ممکن ہو جسمانی سرگرمیاں اور ہلکے پھلکے کھیل کود جاری رکھیں- پڑھائی کے دوران بریک ٹائم میں جب بھی موقع ملے اٹھک بیٹھک،ہلکی پھلکی جمپ یا warm up ضرور کریں،اس سے آپ کے جسم میں بلڈ سرکولیشن اور آکسیجن کی مقدار بڑھے گی،جو آپ کے اندر توانائی کے ساتھ چستی اور پھرتی بھی لائےگی –
پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ہر تیس سے چالیس منٹ کے درمیان آدھا گلاس پا نی ضرورپئیں،بازار ی،تلی بھنی اشیا سے پرہیز کریں، گھر کے صاف ستھرے کھانوں پر دل کھول کر ہاتھ صاف کریں- یقینا آپ سب کی ممیاں بہت خوش ہوں گی –
(7) اکثر بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ بھی دیکھا گیا ہےکہ جواب آنے کے باوجود بھی وہ مکمل پرچہ لکھ نہیں پاتے، وقت کم پڑجاتا ہے اور ہمیشہ مارکس چھوٹ جاتے ہیں -اس میں آپ کے ذہن سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں، اگر آپ سارا پرچہ حل کرنے کی قابلیت رکھتے تھے اور آپ کی تیزی کے باوجود بھی آپ کاپرچہ ادھورا رہ جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ کہ آپ کی انگلیاں درست طریقے سے کام نہیں کرپارہیں – ماہرین کےمطابق ایسےطالب علم کو پڑھتے ہوئے یا خالی وقت میں اپنے five motor skills پر کام کرنا چاہیے،جس کی خاطر یا تو ایساطالب علم اسپرنگ سے انگلیوں کی ایکسر سایز کرے یا پھر اسپنج بال کے ذریعے اپنی انگلیوں کو مسلسل حرکت دیتا رہے؛کیونکہ طبی نقطۂ نظرسے جسم کے جس حصے کو مضبوط بنانا ہو،اس پر زیادہ محنت کی جانی چاہیے اور یہ ایک مجرب طریقہ ہے –
(8)فوری اعادہ :
امتحان کی تیاری کی خاطر ہم نے جو کچھ بھی یاد کررکھا ہے، اس کا اعادہ کرتے رہیں،ایسا نہ ہوکہ ایک مہینہ پہلے آپ نے سارے سبجیکٹ کی ستر فیصد تیاری مکمل کرلی ہے لیکن اس درمیان آپ نے اعادہ نہیں کیا,اگر ایسا ہوا تو امتحان کے وقت آپ کو شاید کچھ بھی یاد نہ رہ جائے؛اس لیے ہر چوبیس گھنٹے پر ایک بار یاد کی ہوئی چیزوں کا اعادہ ضرورکرلیں -کچھ بھی نیا سیکھنے سے پہلے ایک بار اعادہ ضرور کریں-
(9) مطالعہ +مذاکرہ:
جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے لکھ کر مشق کریں کہ صحيح طور پر آپ جواب لکھ پارہے یا نہیں ساتھ ہی ایک سب سے ضرور ی کام یہ کریں جو بھی اہم ,مشکل اور قابل ذکر باتیں آپ سیکھتے ہیں تو ان باتوں کو اپنے دل ودماغ پر نقش کرنے کیلیے گھر کے کسی بھی فرد کو پکڑ کر آپ اس سے ڈسکس کرنا شروع کردیں – چاہے وہ کوئی تاریخی واقعہ ہو یا سائنس کا فارمولااور اگر کوئی سننے والا نہ ملے، تو پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہوجائیں؛کیونکہ ہم خود ہی اپنے بہترین ٹیچر ہوتے ہیں –
چند مشکل سوالات پھر بھی ستاتے ہوں، تو یہ آزما کر دیکھ لیں ـ اپنے جواب کو کسی آڈیو ریکارڈر میں اپنی آواز میں ریکارڈ کریں،پھر اس ریکارڈ کو دو سے تین بار دھیان سے سنیں …ان شاءاللہ چوتھی بارسننے کی ضرورت نہیں ہوگی،خود کی آوز میں جواب کا سننا آپ پر جادوئی اثر کرےگا اور آپ کو جواب یاد ہوجائے گا-
اور جب امتحان شروع ہوجائے تب :
(۱)آسان اسباق سے یاد کرنا شروع کریں، پھر آہستہ آہستہ مشکل اسباق یا سبجیکٹ پر جائیں-
(۲)اپنا ہر کام پورے اعتماد سے کرنے کی کوشش کریں – یاد کیے جوابات پر یقین رکھیں بار بار کنفیوزن کا شکار ہوکر وقت نہ برباد کریں –
(۳)دوست کے ساتھ کمبائن اسٹڈی سے گریز کریں خصوصا اسوقت جب معاملہ مقابلہ کا ہو –
یا بار بار اپنے ساتھیوں سے یہ نہ پوچھیں کہ انکی تیاری کہاں تک پہنچی؟اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے ساتھی آپ سے آگے چل رہے ہیں، تو آپ پر مایوسی طاری ہوجائےگی اور اگر وہ آپ سے پیچھے چل رہے ہیں، تو خوش فہمی میں آپ کچھوے اور خرگوش والی کہانی کے “خرگوش” ضرور بن سکتے ہیں – دونوں صورتوں میں آپ کا ہی نقصان ہونا ہے اس لئےاپنی استطاعت بھر خاموشی کے ساتھ پڑھتے جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ وہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا –
(4) امتحان کے وقت تک اپنی کتابیں، نوٹس اور کاپیاں چینج نہ کریں انہیں پرانی کتابوں اور نوٹس کا استعمال کریں جو سال بھر آپکے استعمال میں رہی ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ جب, جو چیز ہم جس شکل میں دیکھتے ہیں اور یاد کرلیتے ہیں وہ ہو بہو سطر بسطر ہمارے دماغ پر نقش ہوجاتی ہے لیکن امتحان کی تیاری سے ایک دو دن پہلے کتاب یا نوٹس کا بدلنا یہ آپ کے حافظہ میں گڑبڑ پیدا کرسکتا ہے –
(5)کسی دوسرے کے پڑھائی کے طریقۂ کار سے متاثر ہوکر اپنا طریقہ نہ بدلیں، یقین مانیں یہ بہت بڑا رسک ہے، رسک لینا ہی ہے،تو امتحان سے پہلے سال کے دوران اسے آزمائیں امتحان کے درمیان کوشش بھی نہ کریں -کیونکہ ہر کسی کا میموری پاور دوسرے سے الگ ہوتا ہے ممکن ہے وہ طریقہ آپ پر اپلائی نہ ہوسکے جو آپکے دوست پر بآسانی ہوجاتا ہے -آپ Unique ہیں،کسی اور کے طریقے کو خود پر لاگو نہ کریں –
(6)پرچہ ہاتھ میں آتے ہی پورا پرچہ الٹ پلٹ کر نہ پڑھیں؛کیونکہ اگر دس سوالوں میں سے آپ کو تین سوال وہ بھی پندرہ مارکس کے نہیں آتے تو آپ کو پورے پندرہ نمبر ہاتھ سے چھوٹ جانے کی فکر لاحق ہوجائیگی اس طرح آپ پیپر لکھنے سے پہلے ہی ڈسٹرب ہوجائیں گے –
یہاں آپ کو کرنا یہ ہےکہ اگر آپ کو پندرہ مارکس کے جواب نہیں آتے، تو آپ یہ سوچیں کہ پچیس نمبر تو آپکے ہاتھ میں ہیں اور پندرہ کیلیے پچیس گنوانا یہ کتنی بڑی نادانی ہوگی- آپ پرچہ کوپوری لگن سےلکھنا شروع کریں اسطرح نہ آنے والے سوالات تک پہنچتے پہنچتے آپکا کانفیڈنس لیول بڑھ جائیگا اوربقیہ سوالات کے جواب بھی آپ کو رفتہ رفتہ یاد آجائیں گے –
(7)ہر اس چیز سے بچیں جو آپ کو تکلیف پہنچاتی ہو خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی ـ گھر میں بڑوں کی فرمانبرداری کے ساتھ ان سے مشورے لیتے رہیں یقین کریں کہ گھر والوں کے ساتھ سے بڑا کوئی اور سہارا نہیں ہوتا – سب کی دعاؤں کے ساتھ اپنا موڈ اچھا رکھیں اورامتحان کی شکل میں ایک مثبت مفید اور مزیدار مقابلہ کوانجوائے کریں ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں