268

توہینِ رسالت کاخوفناک نمونہ!

نایاب حسن
گزشتہ کل یعنی 20 نومبر کو افغانستان کی راجدھانی کابل میں وزارت داخلہ کی آفس کے قریب، ہائی سکیورٹی زون میں ایک ہوٹل کے کانفرنس ہال میں نبی رحمتﷺکی ولادت کی مناسبت سے ایک پروگرام منعقد کیاگیا تھا،جس میں ملک بھر کے لگ بھگ ایک ہزار شرکاموجود تھے،جن میں علماکی کثیر تعداد تھی،پروگرام ابھی شروع ہوا تھا اورقرآن کریم کی تلاوت ہورہی تھی کہ اسی دوران ایک شخص دھماکہ خیزجیکٹ پہنے جلسہ گاہ میں گھسا اور اپنے آپ کو اڑالیا،جس کے نتیجے میں دیکھتی آنکھوں پچاس سے زائد علماو وعام مسلمان جاں بحق ہوگئے ،جبکہ ستر سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔خبروں کے مطابق ابھی تک کسی شدت پسند جماعت نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے؛بلکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے اخباری بیان میں شدت سے نہ صرف اس خود کش حملے کی تردید کی ہے؛بلکہ اسے قابلِ مذمت قراردیاہے۔ آئی ایس آئی ایس کے بارے میں قیاس لگایاجارہاہے کہ ممکن ہے اس نے یہ حملہ کروایاہو؛ کیوں کہ طالبان کی طرف سے عام شہریوں کے برخلاف عموماحکومتی اہل کار، فوج، پولیس یابیرونی فورسزپرحملے کیے جاتے ہیں اورآئی ایس آئی ایس کوطالبان کے مقابلے میں زیادہ شدت پسندبھی سمجھاجاتاہے ـ
افغانستان کی صورتِ حال گزشتہ کم ازکم تین دہائیوں سے پرپیچ ہے اور نائن الیون کے بعد تواس کی پیچیدگی کئی گونہ بڑھ گئی ہےـ ایک طرف توامریکی افواج ہیں، جن کی غیرانسانی دھونس اورمظالم سے افغان عوام بے دم ہیں، دوسری طرف خودبھانت بھانت کے مسلم شدت پسندگروپس ہیں، جنھوں نے عام شہریوں کے ناک میں دم کیاہواہے، پھرمسلمانوں میں شیعہ سنی جماعتوں کے باہمی اختلافات کو بھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا، سنیوں میں بھی اب آئی ایس آئی ایس کے وہاں دخول کے بعد کٹراورنارمل کی تفریق پیداہوگئی ہےـ افغانستان دنیاکاایسامجبوروبے بس ملک ہے، جس پراب تک اتنے بم وبارودانڈیلے جاچکے ہیں کہ اب تواس کی فضائیں بھی زہرآلودسی ہوگئی ہوں گی، ابھی اکتوبرمیں وہاں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، اس دوران بھی کئی مقامات پردہشت گردانہ حملے ہوئے اورلاشیں گرتی رہیں، اسی سال صرف اِس مہینےمیں چھ دہشت گردانہ حملے ہوچکے ہیں، جن میں ڈیڑھ سو سے زائد افرادجا بحق، جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2016سے اب تک سوسے زائددہشت گردانہ حملوں میں لگ بھگ اکیس سوجانیں گئی ہیں ـ
اب تک اس تازہ حملے کی ذمے داری کسی جماعت نے قبول نہیں کی ہے، مگراس کی مکمل رودادبڑی جگرخراش ہے، سوشل میڈیاپرویڈیودیکھی جاسکتی ہے کہ ایک نہایت باوقارروحانی مجلس ہے، جس کاابھی آغازہی ہواہے اورقاری صاحب اپنی خوب صورت آوازمیں قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہیں کہ اچانک دھماکے کی آوازآتی ہے، پھرقاری کی آوازدبتی اورحاضرین کی دردانگیزچیخوں کاحصہ بن جاتی ہےـ اس کایہ پہلوبھی قابلِ ذکرہے کہ یہ جلسہ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے منعقدکیاگیاتھا،جس میں یقیناسرورِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے عملی واخلاقی پہلووں پرروشنی ڈالی جاتی، آپ کے فضائل بیان کیے جاتے، آپ کی حیاتِ بابرکات کے ان نقوش کواُجالاجاتا، جوتاریخِ انسانی کے ماتھے کاجھومرہیں، مگراس کی نوبت ہی نہ آسکی اوروہ لوگ موت کی آغوش میں سلادیے گئے، جواپنے نبی سے محبت کااظہارکرنے اورآپ کی سیرت کاپیغام دنیاکوپہنچانے کے لیے اکٹھاہوئے تھےـ یہ حملہ کس جماعت نے کیایاکروایاہے، اس سے قطعِ نظریہ توکم ازکم واضح ہے کہ وہ جوبھی ہو،جس جماعت سے تعلق رکھتاہو، مسلمان ہے، ایک اہم نکتہ اس سلسلے میں یہ بھی ہے کہ گزشتہ چندماہ سے خاص طورپرافغان علمادہشت گردوں کے نشانے پرہیں، جون میں کابل ہی کی پالی ٹیکنک یونیورسٹی میں ایک اجلاس ہواتھا، جس میں وہاں کے علماجمع ہوئے تھے اورانھوں نے خودکش دھماکے کے عدمِ جوازوحرمت پرایک متفقہ فتوی جاری کیاتھا،جوں ہی وہ حضرات اس مجلس سے فارغ ہوکرباہرنکلے، دروازے پرہی ایک شخص نے خودکودھماکے میں اڑادیااورایک درجن سے زائدافرادجاں بحق ہوگئے تھے، اُس حملے کے بعدبھی پتانہیں چلاتھاکہ حملہ کس نے کروایاہے، اِس باربھی اب تک پتانہیں لگ پایاہے کہ حملہ کس گروہ نے کروایاہےـ
افغانستان کامعاملہ سیاسی اعتبارسے اس قدرعجیب وغریب ہے کہ حتمی طورپرکوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی،مگرایسے موقعے پربحیثیت مسلمان ہمیں اپنے گریبان میں جھانکناچاہیے یہ سوچناچاہیے کہ ہم کہاں پہنچ گئے کہ نبیِ رحمت کے ذکروتذکارکی مجلس میں بھی سوسومسلمان ناحق مارے جارہے ہیں اورایساکرنے والے کوئی اورنہیں،مبینہ طورپر خوداسی نبیِ رحمت کے نام لیوااورامتی ہیں ـ میرے خیال میں ناموسِ رسالت کی توہین اس سے زیادہ اورکچھ نہیں ہوسکتی کہ رحمت للعالمین کویادکرنے کے لیے جمع ہونے والے علماومسلمانوں کوخودمسلمان ہی قتل کرنے لگیں،یہ واقعہ گرچہ افغانستان میں رونماہواہے، مگراس کی ہلاکت انگیزبازگشت سارےعالمِ اسلام کوسننی چاہیے، حملہ آئی ایس آئی ایس نے کیاہویاطالبان نے یااس میں کسی تیسرے کاہاتھ ہو، بہرحال اس میں راست کردار بہ طورظالم بھی مسلمانوں کاہے اوربہ طورمظلوم بھی مسلمانوں ہی کاہےـ ایسالگتاہے کہ یہ دورہماری تیرہ بختی وہلاکت کابدترین دورہے، ہرجگہ اللہ تبارک وتعالی کاقہروغضب امتِ مسلمہ کی گھات میں ہے اورکہیں دوسرے ہمیں تاراج کررہے ہیں، توکہیں ہم خوداپنے ہی ہاتھوں قتل ہورہے ہیں،ہم اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے خوداپنی ہلاکت کاسامان کرتے ہیں اوراحمقوں کی جنت کی تلاش میں نیک وبد،صحیح وغلط اور خطا وصواب کے مابین امتیازتک نہیں کرپاتےاورپھرجب اپنے بنے ہوئے جال میں خودپھنستے ہیں، توبھی ہوش نہیں آتا،ہمیشہ”باہر “کی سازشیں تلاش کرنے میں جٹ جاتے ہیں ـ
اللہم اغفرلنا، وسدد خُطانا واھدناالصراط المستقیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں