75

تنقیدی مرحلے


مصنف : پروفیسر رئیس انور
صفحات : 144
قیمت : 200
مبصر : ڈاکٹر احمد علی جوہر، اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ فیکلٹی ) شعبہ اردو: سی، ایم،بی کالج، مدھوبنی، بہار
پروفیسر رئیس انور اردو کے ایک ممتاز اور مایۂ ناز استاد ہیں ۔ للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ان کی چھتیس سالہ تدریسی خدمات اس کی گواہ ہیں ۔ اس یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو متمول و ثروت مند بنانے میں دیگر جید اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ ان کا بھی اہم کردار رہا ہے ۔ ویسے تو طالب علمی ہی کے زمانے سے ان کی تخلیقی و تنقیدی تحریریں مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں جس نے علمی و ادبی حلقوں سے داد و تحسین وصول کیا مگر استاذ کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور کارناموں نے اردو قارئین کو خاصا متاثر بھی کیا اور ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ۔
پروفیسر رئیس انور اعلیٰ ذہانت و فطانت کے مالک اور سلجھی ہوئی طبیعت کے حامل انسان ہیں ۔ نفاست و لطافت, اعتدال و توازن , متانت و سنجیدگی , نرمی و شائستگی اور جاذبیت و دلکشی ان کی باوقار شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں ۔ ان کے یہاں ایک خاص رکھ رکھاؤ بھی پایا جاتا ہے ۔ یہ تمام خوبیاں ان کی تقریر و تحریر دونوں میں موجود ہیں ۔ اب تک پروفیسر رئیس انور کی تصنیف کردہ اور مرتبہ کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں جیسے “تذکرۂ نسخۂ دلکشا ” ‘ “ارمان -حیات و خدمات “‘ ‘ “منتخب التذکرہ” ‘ “بازیافت پرویز شاہدی” ‘ “تحقیقی گوشے” ‘ “تاثر و تبصرہ” ‘ “تنقیدی گوشے” ‘ “بہار میں ناول نگاری 1980 کے بعد “۔ ان کی تصنیف “تنقیدی مرحلے” اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔ یہ کتاب 2017 میں شائع ہوئی ہے جو اٹھارہ تنقیدی و تاثراتی مضامین پر مشتمل ہے ۔ اس کتاب میں مشمولہ مضامین کی فہرست اس طرح ہے ۔ “شعر منثور : رومانی تحریک کی پیداوار” ‘ “ادب, تاریخ اور فلسفہ کے باہمی رشتے (اردو ادب کے حوالے سے)” ‘ “اردو زبان , ادب اور معاشرہ : فلموں میں” ‘ “اردو زبان و ادب پر پہلی جنگ آزادی کے اثرات” ‘ “آزادی ہند اور اردو کے غیر مسلم شعرا” ‘ “اردو غزل کا بدلتا منظرنامہ (محمد قلی قطب شاہ سے غالب تک)” ‘ “قرةالعین حیدر کے افسانوں میں جبریہ عناصر” ‘ “جوش ملیح آبادی کی شاعری” ‘ “محمد علی اثر: حمدیہ مرحلے میں” ‘ “مظہر امام: شخصی و شعری نقوش” ‘ “اویس احمد دوراں: بہار کا نمائندہ ترقی پسند شاعر” ‘ “شمس عظیم آبادی کی تین مثنویاں” ‘ “نسیم محمد جان: ایک فراموش کردہ افسانہ نگار” ‘ “عبدالعلیم آسیؔ کی نثری تحریریں” ‘ “بہار میں اردو غزل ((80کے بعد )” ‘ “بہار میں اردو افسانہ نگاری (پچھلے پچاس برسوں میں )” ‘ “متھلا یونیورسٹی کے مطبوعہ سندی اردو مقالے (2008تک) ” ‘ “دربھنگا: اردو کا ایک اہم مرکز”۔
زیرِ نظر کتاب کے مشمولات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ اردو ادب کی تاریخ و تہذیب اور ادبی تحریکات و رجحانات پر پروفیسر رئیس انور کی گہری نظر ہے ۔ دراصل پروفیسر رئیس انور ایک سنجیدہ اور وسیع المطالعہ ناقد ہیں ۔ اردو ادب میں جنم لینے والی ہر لہر اور ہر کروٹ سے وہ واقف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جتنی بے باکی سے کلاسیکی ادب پر گفتگو کرتے ہیں, اتنی ہی بے باکی سے جدید ادب کو بھی موضوع بحث بناتے ہیں ۔ زیرِ تبصرہ کتاب “تنقیدی مرحلے” میں ان کی اس مہارت کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں جہاں انھوں نے کلاسیکی غزل, رومانی تحریک, علی گڑھ تحریک, تحریکِ آزادی ہند کو پروان چڑھانے میں غیر مسلم اردو شعرا کی خدمات, اردو زبان و ادب اور معاشرہ کی عکاسی میں فلموں کے کردار, قرةالعین حیدر, جوش ملیح آبادی کے فکر و فن اور ادب, تاریخ اور فلسفہ کے باہمی رشتوں پر ایجاز و اختصار کے ساتھ جامع و پرلطف گفتگو کی ہے, وہیں جدید شعرا و ادباء مظہر امام , محمد علی اثر, اویس احمد دوراں, شمس عظیم آبادی, نسیم محمد جان اور عبدالعلیم آسیؔ کو موضوعِ بحث بناکر ان کے فکری و فنی امتیازات کو اجاگر کیا ہے ۔ محمد علی اثر, اویس احمد دوراں, شمس عظیم آبادی, نسیم محمد جان اور عبدالعلیم آسیؔ وہ گمنام شعرا و ادبا ہیں جن کی طرف ناقدین نے توجہ نہیں دی, حالانکہ وہ اردو ادب میں توجہ کے مستحق تھے ۔ ایسے شعرا و ادباء کی شخصیت اور فکر و فن کا جائزہ لےکر انھیں متعارف کرانا بھی ایک بڑا اہم ادبی فریضہ ہے جسے پروفیسر رئیس انور نے بڑے سلیقہ سے انجام دیا ہے ۔ یہ اس کتاب کی انفرادیت بھی ہے ۔ “بہار میں اردو غزل 80کے بعد” اور “بہار میں اردو افسانہ نگاری پچھلے پچاس برسوں میں” بھی وقیع مضامین ہیں ۔ اول الذکر مضمون میں عالم خورشید, خورشید اکبر, جمال اویسی, نعمان شوق, خالد عبادی, عطا عابدی, راشد طراز, شمیم قاسمی, عین تابش, شاداب رضی, طارق متین, شاہد رضوی, سرور ساجد, انور ایرج, امام اعظم اور رفیق انجم کے حوالے سے بہار میں 80 کے بعد اردو غزل کا فکری و فنی, معنیاتی اور اسلوبیاتی جائزہ لےکر پروفیسر رئیس انور نے بہار میں اردو غزل کے منظرنامہ کے بڑے دلچسپ انداز میں دکھایا ہے۔
ثانی الذکر مضمون میں پروفیسر رئیس انور نے اختر اورینوی, محسن عظیم آبادی, سہیل عظیم آبادی, شین مظفر پوری, شکیلہ اختر, کلام حیدری, ذکی انور, انور عظیم, غیاث احمد گدی, احمد یوسف, شفیع جاوید, عظیم اقبال, نسیم محمد جان, الیاس احمد گدی, شین اختر, نشاط الایمان, منظر کاظمی, ظفر اوگانوی, اشرف قادری, ناز قادری, انیس رفیع, عبدالصمد, حسین الحق, شوکت حیات, شفیع مشہدی, م ق خان, عبید قمر, شفق, مشرف عالم ذوقی, ذکیہ مشہدی, قمر جہاں, مشتاق احمد نوری, احمد صغیر, شموئل احمد, فخر الدین عارفی, اقبال حسن آزاد, شبیر حسن, مجیر احمد آزاد, کہکشاں پروین, شاہد اختر اور ابواللیث جاوید کے حوالے سے 60-1950 سے لےکر اب تک بہار میں اردوافسانہ نگاری کی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے ۔ انھوں نے مذکورہ افسانہ نگاروں کے فکر و فن, موضوعات و مسائل, تکنیک و اسلوب اور زبان و بیان کا جائزہ لےکر بڑے سہل اور علمی انداز میں ان کی خدمات کو بھی متعارف کرایا ہے اور بہار میں اردو افسانہ نگاری کے روشن امکانات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔ اس کتاب کے آخری دو مضامین متھلا یونیورسٹی اور شہر دربھنگا اور اردو سے متعلق ہیں ۔ متھلا یونیورسٹی میں اردو کے سندی مقالے لکھنے کی ابتدا 1981 میں ہوئی ۔1981 سے 2008 تک متھلا یونیورسٹی میں کئی مقالے لکھے گئے لیکن ان میں کل دس مقالے شائع ہوئے۔ متھلا یونیورسٹی سے متعلق مضمون میں ان شائع شدہ سندی مقالوں کا جائزہ لےکر پروفیسر رئیس انور نے متھلا یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں کو دکھایا ہے اور وہاں ہونے والے تحقیقی کاموں سے یک گونہ اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ دربھنگا سے متعلق مضمون میں پروفیسر رئیس انور نے دربھنگا کو اردو کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ دربھنگا شہر میں بہت پہلے سے اردو کے لئے فضا سازگار رہی ہے ۔ یہاں اردو زبان و ادب کو فروغ دینے اور اس کی بزم کو سجانے سنوارنے میں مکاتب و مدارس اور علمی و ادبی انجمنوں کے ساتھ ساتھ متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کا بھی اہم کردار رہا ہے ۔ دربھنگا شہر میں اردو زبان و ادب کو فروغ دینے اور اس کی زلف کو سنوارنے کے لئے انفرادی و اجتماعی طور پر بھی قابل قدر کاوشیں انجام دی جاتی رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آج بھی اردو زبان و ادب کا مستقبل مستحکم و تابناک نظر آتا ہے ۔ اس مضمون کے ساتھ ہی کتاب “تنقیدی مرحلے” اختتام کو پہنچتی ہے ۔
اس کتاب میں شامل تمام مضامین اردو زبان و ادب سے متعلق ہیں ۔ ان مضامین کی اہم خوبی یہ ہے کہ ان میں ایجاز و اختصار کے ساتھ علمی و ادبی انداز میں بڑے سلیقہ سے باتیں پیش کی گئی ہیں ۔ بھاری بھرکم تنقیدی اصطلاحات کے استعمال اور ژولیدہ بیانی سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ زیرِ بحث متن کے مخفی گوشوں کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ ان تک بڑی آسانی سے قاری کی رسائی ہوجاتی ہے ۔ بات کہنے کا انداز بھی شگفتہ اور دلکش ہے ۔ مصنف کی ان تحریروں میں مطالعہ کی وسعت, تفہیمی صلاحیت, ژرف نگاہی, علمی استدلال و معروضیت اور ادبی بصیرت, یہ تمام خوبیاں موجود ہیں ۔ اس کتاب کے بیشتر مضامین تاثراتی نوعیت کے ضرور ہیں مگر ان میں بھی مصنف کا پختہ تحقیقی و تنقیدی شعور نمایاں ہے ۔ کتاب کا سرورق دل کش, دیدہ زیب , طباعت عمدہ اور قیمت بھی مناسب ہے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ پروفیسر رئیس انور کی اس اہم کتاب کو علمی و ادبی حلقوں میں تحسین کی نظروں سے دیکھا جائے گا اور بھرپور پذیرائی ملے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں