74

تندی باد مخالف، مسلمان اور انتخابات

ڈاکٹر منور حسن کمال

وقت کا پہیہ بڑی تیزی سے گھوم رہا ہے اور وقت کا مورخ تاریخ ضرور لکھتا ہے، وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بادِمخالف کتنی بھی تیزرو ہو جو اس کے سامنے سرجھکادیتے ہیں، انہیں کبھی پریشان نہیں کرتی، سرسے گزر جاتی ہے۔ عام انتخابات 2019کی مورخ جو تاریخ لکھ رہا ہے، وہ تاریخ ہمارے ملک کی جمہوریت، جانبدارانہ اثرورسوخ اور سب سے بڑی اقلیت کو ہراساں کرنے، نظرانداز کرنے اور مسلمانوں کی ماب لنچنگ کے پے درپے بڑھتے واقعات کے سبب ایسی تاریخ ہوگی، جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی اور آئندہ بھی شاید پھر کبھی سیاستدانوں اور فرقہ پرست پارٹیوں کو دوہرانے کا موقع نہ ملے۔ عجب طرزتغافل ہے کہ اس مرتبہ عام انتخابات اس بات پر نہیں ہورہے ہیں کہ راجدھانی میں تخت و تاج حاصل کرنے والی پارٹی ملک کو کیسے چلائے گی۔ مہنگائی کیسے کم ہوگی، کسانوں کے قرض معاف کیسے ہوں گے اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کس طرح حاصل ہوں گے۔بلکہ اس بات پر ہورہے ہیں کہ کون کس کی کتنی فضیحت کرتا ہے، کون مسلمان کو سب سے زیادہ رسوا کرتا ہے۔ بی جے پی نے 2014کے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے، اگر ان میں سے چند ایک بھی پورے ہوجاتے تو این ڈی اے کو عام انتخابات میں اپنی پوری طاقت جھونکنے کے علاوہ نہ ’گودی میڈیا‘ کا سہارا لینا پڑتا اور نہ اپنے جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے نت نئے جھوٹ بولنے کی نوبت ہی آتی۔ 2019کے عام انتخابات میں 2014کے مقابلے صورت حال ذرا مختلف اور بہت زیادہ بدلی ہوئی ہے۔ اسے شومئی قسمت پر محمول کریں یا اپنی قبر آپ کھودنے کے مترادف قرار دیں کہ این ڈی اے نے اپنے دوراقتدار (2014-2019) میں اپنے چند قابل ذکر وعدوں کو نہ صرف عملی جامہ نہیں پہنایا، بلکہ اس سلسلے میں اس نے کوئی قابل تذکرہ کوشش بھی نہیں کی۔ این ڈی اے نے اپنے بہترین دماغ یہ سوچنے میں صرف کیے ہیں کہ کانگریس اور دوسری چھوٹی چھوٹی جماعتو ں کو کیسے آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ اس لیے کہ این ڈی اے نہ قرض دہندہ کسانوں کے خودکشی کے واقعات کو روک پایا اور نہ نوجوانوں کو ہر برس 2کروڑ ملازمتیں دینے کے اپنے سب سے اہم وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہا۔ این ڈی اے بعض چینل، پھر بعض ہندوستانی تہوار اور برگشتہ نوجوانوں کو اپنے حق میں کرلینے کا ہنر بھی خوب جانتا ہے۔ اس دوران میڈیا نے جو ترقی کی ہے اور اس کے تانے بانے کو سنجوئے رکھنے کے لیے جو اس کا پروگرام ہے، اس کو نہ صرف گھر گھر پہنچانا، بلکہ ہماری علاقائی زبانوں میں ’سوشل میڈیا‘ اور ’من پسند‘ پروگرام کے ذریعہ کیا کیا گل کھلائے گئے اور اس کو اتنا پھیلایا گیا کہ بعض خبریں افواہ نہ ہوکر سچ ثابت ہوئیں۔ سوشل میڈیا کی طاقت نے جہاں ایماندارانہ صحافت پر قدغن لگادی، وہیں اپنے خلاف بولنے والوں کو سیدھے جیل کی ہوا بھی کھلا دی گئی۔ موجودہ صورت حال میں جو راستہ عام انتخاب کے لیے بچا ہے، ابھی اس کو بہت طویل سفر طے کرنا ہے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا بھی جواب دینا ہے۔ نئی نئی ایجادات جہاں انسانوں کے دل اور دماغ روشن کررہی ہیں، وہیں ایک دوسرے کی مخالفت میں عزت و ناموس قعرمذلت میں گرتی نظر آتی ہیں۔ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت اور آزادی سے قبل اپنی لاکھوں جانیں ہندوستان کی آزادی کے لیے نذر کرنے والی قوم کب تک سانحات کا شکار ہوتی رہے گی۔بادمخالف کے سخت تھپیڑوں کے باوجود مسلمانوں کا اپنے مذہب پر جمے رہنا محض اللہ کے فضل سے ہے، یہ بات ہمیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو مسلمانوں نے سب سے زیادہ اپنے خون سے سینچا ہے، لیکن مسلمانوں کی فلاحی اسکیمیں یا تو شروع ہی نہیں ہوتیں یا بس کچھوے کی چال چلتی ہیں، لیکن یہ کچھوا ہونے والے خرگوش کو مات دے کر کبھی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ پاتیں۔ مسلمانوں نے اپنے بہترین قائدین مولانا حسرت موہانی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمدعلی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ ساتھ پہلے تحریک خلافت کے دوران گاندھی جی کو اپنا قائد تسلیم کیا، پھر پنڈت جواہر لعل نہرو، پھر محترمہ اندراگاندھی، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی سب کے سروں پر ملک یا ریاستوں کی قیادت کے سنہری تاج رکھتے چلے گئے اور بدلے میں ملے سیکڑوں فسادات، جن میں ہزاروں جانیں قربان کیں اور اپنی اربوں روپے کی املاک جو کبھی نذرآتش کی گئی اور کبھی ان پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا، لیکن مسلمان کا ملک کی مٹی سے پیار کم نہیں ہوا۔ مسلمانوں کے نام سے موسوم ملک کے بڑے تعلیمی اداروں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی ہمیشہ خاردار نگاہوں کے مرکز میں رہے۔ رہ رہ کر ان کا اقلیتی درجہ زیربحث آتا رہتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ان اداروں میں غیرمسلموں کی کثیرتعداد بھی زیرتعلیم رہتی ہے اور ان میں آپسی بھائی چارہ اتنا مستحکم ہوتا ہے کہ کوئی ان میں درارپیدا نہیں کرسکا۔ یہ بات ملک کے سیاستدانوں کی عقل میں جتنی جلد آجائے، اتنا ہی اچھا ہے۔ قوم کے سربرآوردہ، متمول اور ثروت مند افراد کی توجہ اس جانب متعدد مرتبہ مبذول کرائی جاچکی ہے کہ ملک میں پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ جو اسکول کھول سکتے ہوں، وہ اسکول کھولیں، جو کالجز قائم کرسکتے ہوں، وہ کالجز قائم کریں اور جو یونیورسٹی کی بنیاد ڈال سکتے ہوں، وہ یونیورسٹی کی بنیاد ڈالیں۔ یہ کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے اور اجتماعی شکل میں بھی۔ ایسی فلاحی تنظیموں کے ذریعہ بھی تعلیمی کارواں آگے بڑھایا جاسکتا ہے جو کئی سرگرم افراد مل کر قائم کریں۔ حکومتی سطح پر مسلمانوں کے فلاحی منصوبے جو صرف فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں، ہر ممکن سطح پر کوشش کرنی چاہیے کہ مسلمانوں کو اس کا فائدہ ملے۔ سیاسی لیڈران تو صرف انتخابات کے موقع پر اعلانات کرتے ہیں اور فتحیاب ہونے کے بعد ان کو بھول جاتے ہیں۔ پھر اگلے پانچ سال خواب خرگوش میں رہتے ہیں۔ پھر جاگتے ہیں اور مسلمانوں سے وعدے کرتے ہیں۔ مسلمان صرف اس لیے بھول جاتے ہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے سرگرداں نظر آتے ہیں، لیکن اعلیٰ طبقات کے سرکردہ افراد کو نہیں بھولنا چاہیے اور اپنے کمزور بھائیوں کی خبرگیری کے لیے ضرور وقت نکالنا چاہیے۔ وقت کا پہیہ بڑی تیزی سے گھوم رہا ہے اور وقت کا مورخ تاریخ ضرور لکھتا ہے، وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بادِمخالف کتنی بھی تیزرو ہو جو اس کے سامنے سرجھکادیتے ہیں، انہیں کبھی پریشان نہیں کرتی، سرسے گزر جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں