37

تم آگ سے کھیلنے چلے ہو !

منصور قاسمی

ہندوستان کی جنگ آزادی میں نہ نسلی منافرت تھی ، نہ دھرم کا پڑیابیچا جا رہا تھا ، نہ نفرت کے سوداگر تھے ،نہ تعصب کی دکان سجی تھی ، نہ ہجومی تشدد کا جھنڈ گلی گلی اور گاؤں گاؤں گھوم رہا تھا ، نہ انسان نما خون کے پیاسے درندے دندناتے پھر رہے تھے ؛ہر شخص ہندوستانی تھا، نہ کوئی ہندو، نہ مسلم، نہ سکھ، نہ عیسائی ؛ہرایک کے درمیان صرف بھائی بھائی کا رشتہ تھا ؛ اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا ،ہمیںآزادی چاہئے ،ہمیں آزاد ہندوستان چاہئے ۔۷۲ سا ل گزرنے کے بعد اب یقین ہو گیا ہے کہ گورے تو یہاں سے چلے گئے لیکن ان کی کچھ ناجائز اولاد یہیں رہ گئیں ہیں جو پھر سے ہندوستان کی ہم آہنگی کو خانہ جنگی میں بدلنے کے درپے ہیں ،گنگا جمنی تہذیب کو آگ لگانے پر آمادہ ہیں ، بحر و بر کو سرخ رنگ میں رنگنے کو بے چین ہیں اور اس کے لئے انہوں نے اسکرپٹ بھی تیار کر لیا ہے ۔
سب جانتے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور امن کی کمان وزیر داخلہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، وزیر اعظم کے بعد سب سے پاؤر فل عہدہ، ہندوستان کی بد قسمتی ہے کہ موجودہ وقت میں ملک کی دونوں اعلیٰ وزارت وزارت عظمیٰ اور وزارت داخلیہ جن ہاتھوں میں ہے ۲۰۰۲ میں گجرات کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے،جہاں منصوبے بند طریقے سے بھیانک فساد کروا یا گیا جس میں دو ہزار سے زائد مسلمان تہ تیغ اور نذر آتش کر دئیے گئے تھے ۔ایک اکتوبر کو مغربی بنگال میں مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے جس طرح وزیر داخلہ امیت شاہ نے نفرت انگیز ، تعصب آمیز بیان دیا ہے ،اس سے واضح ہے کہ ۲۰۰۲ والا گجرات ماڈل مودی اور شاہ اب پورے ملک میں لاگو کرنا چاہ رہے ہیں لیکن اس کا مرکز بنگال ہوگا ۔بنگال انہوںنے اس لئے چنا کہ ۲۰۲۱ میںبنگال میں انتخاب ہے ، حالانکہ بنگال ایک ایسا صوبہ جہاں تمام مذاہب کے لوگ مل کررہتے آئے ہیں ، ترنمول کانگریس سے قبل تقریبا تین دہائیوں سے زیادہ متواتر کمیونسٹ پارٹی کی حکومت رہی ہے ، وہا ں لوگوں کا عام مزاج کمیونسٹ ہی ہے، کوئی پوجا کرے ، کوئی نماز پڑھے ، کوئی بیف کھائے ،کوئی مٹن کھائے اس سے کسی کو سروکار نہیں ، کیونکہ کمیونسٹ عقیدے کی بنیاد پر انسانوں کی تقسیم کو غلط سمجھتے ہیں اور طبقاتی تقسیم کو اصل سمجھتے ہیں ا،لبتہ مذہب کو ثقافت کا حصہ ضرور مانتے ہیں لیکن مذہب پرستوں کی طرح مکمل ضابطہء حیات نہیں مانتے ہیں ، غریب کو لگتا تھا کہ طبقاتی بنیاد پر ہمیں پورا حق ملے گا لیکن نہیں ملا ، نتیجہ یہ ہوا کہ ممتا بنرجی نے لال جھنڈے کا سر نگوں کردیا اوروہ درگا ماں بن کربیٹھ گئیں ۔ مودی اور شاہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بنگال میں بھی مکمل کنٹرول چاہتے ہیں مگر ممتا بس میں نہیںآ رہی ہیں لہٰذا جس طرح انہوں نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے ، ا ن کے قائدین کو نشانہ بنایا ہے جیسے سابق وزیر داخلہ و خزانہ پی چدمبرم تہاڑ میں ، لالو پرساد یادو حوالات میں ،کانگریس کے قد آور نیتا ڈی کے شیو کمار جیل میں ، اعظم خان پر کئی درجن مقدمات قائم ، اکھلیش اور مایاوتی بھی زد میں، اسی طرح ممتا دیدی کو بھی انہوں نے ٹارگیٹ کرکے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی مگر دیدی اب تک اکیلے لوہا لے رہی ہیں ،نہ جھکی ہیں، نہ رکی ہیں اور نہ ٹوٹی ہیں ۔ امیت شاہ نے ممتابنرجی پر راست حملہ کرتے ہوئے کہا :دیدی پہلے گھس پیٹھیو ں کو نکالنے کی بات کرتی تھیں اب جبکہ وہ ان کا ووٹ بینک بن گئے ہیںتو وہ نکالنے کی مخالفت کررہی ہیں ،،یہاں تک تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہوکہ سیاست میں یہ سب جائز ہے مگر اس کے بعد امیت شاہ نے جو کہا ،وہ صرف قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل گرفت بھی ہے ، انہوں نے اندر چھپی غلاظت و خباثت کو یوں کہتے ہوئے انڈیل دیا :کہ بنگال ( بلکہ پورے ہندوستان) میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کا نفاذ ہوگا لیکن این آر سی سے قبل شہریت ترمیمی بل لوک سبھا سے پاس کرایا جائے گا تاکہ کوئی بھی ہندو ، سکھ ، جین،بدھسٹ اور عیسائی رفیوجی ملک سے با ہر نہ ہوپائے ، بلکہ ان سبھوں کو شہریت دی جا ئے گی ،ہر رفیوجی کو ووٹ کا حق حاصل ہوگا اور وہ ملک کا وزیر اعظم بھی بن سکتا ہے،، ۔ سوال یہ ہے کہ جب آئین میں ہندوستان ایک سیکولر ملک لکھا ہے تو پھر مذہب کی بنیاد پر کیوں کسی کو شہریت دی جائے گی ؟اگر دوسرے ملک سے آنے والے کسی ہندو کو مظلوم ہونے کی بنیاد پر شہریت دی جا سکتی ہے تو کسی مظلوم مسلمان کو کیوں نہیں ؟ کیا برما سے آنے والے مسلمان مظلوم نہیں ہیں یا وہ کسی مسلم اکثریتی ملک سے آئے ہیں؟سچ تو یہ ہے کہ ساورکر اور شیاما پرساد مکھرجی نے ہندو راشٹر کا جوخواب دیکھا تھا، بی جے پی اسے پورا کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔پرسوں ہی موہن بھاگوت نے کہا ہے : ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے، یہ ایک حقیقت ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا ، باقی سب وقت اور حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں ،،اسی کو ملک کے وزیر داخلہ نے یہ کہہ کر صاف کردیا ہے کسی ہندو ، سکھ ، جین،بدھسٹ اور عیسائی کو ملک سے باہر نہیں نکالا جائے گا ، مطلب نکالا جائے گا تو صرف مسلمان،سوال یہ ہے کہ این آر سی سے اخراج شدہ لاکھوں مسلمان کہاں جائیں گے؟ کیا اس سے بد امنی اور خانہ جنگی نہیں پھیلے گی ؟ ۔مانا کہ ہر صوبے میں ڈیٹنش کیمپ یعنی عارضی قید خانہ بنانے کے لئے حکومت ہندنے کہا ہے بلکہ کہیں کہیں زور شور سے کام بھی چل رہا ہے تو کیا اس سے مسائل ختم ہو جائیں گے؟ شاید نہیں اور کبھی نہیں۔افسوس ہوتا ہے کہ یہ بیان ایک ایسے ملک کے وزیر داخلہ کا ہے جو سب سے بڑا جمہوری ملک کہلاتا ہے ، اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ کے خلاف پوراحزب مخالف خاموش ہے ،مطلب حزب مخالف بھی ہندو راشٹر کے حق میںہے۔جمعیتہ علماء ہند(ا) ، مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جماعت اسلامی ہند،جمعیت اہل حدیث اور ملک کی دیگر بڑی تنظیمیں بھی خاموش ہیں جبکہ اب تک وزیر داخلہ کے خلاف سیکڑوں مقدمات ہوجانے چاہئیں بلکہ جمعیتہ علماء ہند(م) کے مولانا محمود مدنی نے تو شاہ کی مکمل حمایت کردی ہے ۔ البتہ ممتا بنرجی نے صرف یہ کہا ہے کہ امیت شاہ تخریبی سیاست کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ بنگال میں امیت شاہ نے مذہبی بنیادوں پراین آر سی کا راگ الاپ کر واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہماری پارٹی اس ملک کو ہندو راشٹر بنا کر رہے گی ۲۰۲۱ نہ سہی ،۲۰۲۴ تک ضرور بنائے گی ۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو یاد رکھیں ! مسلمانوں کو اور ایک جنگ آزادی لڑنی پڑے گی ، ۱۹۴۷ پھر دہرایاجائے گا ،پھر ایک پاکستان وجود میں آئے گا اور اس کے ذمہ دارنریندر مودی اور امیت شاہ ہوں گے !
mansoorqasmi8@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں