166

تلنگانہ اور میزورم کے انتخابی نتائج کیاکہتے ہیں؟

نایاب حسن
۱۱؍دسمبر کو آنے والے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج نے ۲۰۱۹ء کے عام الیکشن سے قبل ہندوستانی سیاست کے ایک نئے انقلاب کا اشارہ دے دیاہے۔یہ اشارہ اس بات کا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصے میں اس ملک کے عوام بی جے پی حکومت سے اوب چکے ہیں اور ذہنی طورپر وہ آیندہ انتخابات میں اسے باہر کا راستہ دکھانے کے لیے تیار ہیں،پانچ صوبوں میں سے دو ایسے صوبے تھے،جہاں بی جے پی گزشتہ پندرہ سالوں سے حکومت میں تھی اور چوتھی بار حکومت کے لیے پر جوش تھی،جبکہ راجستھان میں ۲۰۱۳ء میں برسرِ اقتدار آئی تھی اور بی جے پی والوں کو توقع تھی کہ وسندھراراجے دوبارہ راجستھان کی وزیر اعلیٰ ہوں گی،مگر نہ صرف یہ کہ ہندوتوکی زبردست تجربہ گاہوں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا؛ بلکہ راجستھان میں بھی اسے پچھلے انتخابات کے بالمقابل خاصے نقصان کا سامنا کرنا پڑا،چھتیس گڑھ میں توبی جے پی آدھی سیٹیں بھی حاصل نہ کرسکی۔مدھیہ پردیش میں گوکہ کانگریس کو۱۱۴؍نشستیں حاصل ہوئیں اور وہ دوسیٹوں سے پیچھے رہ گئی،مگر دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے وہ وہاں حکومت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حالاں کہ دوریاستیں ایسی بھی ہیں،جہاں بی جے پی اور کانگریس دونوں میں سے کسی کابھی حربہ کارگرثابت نہ ہوااور مقامی پارٹیوں نے بری طرح ان دونوں جماعتوں کو مسترد کردیا،جہاں میزورم میں مقامی میزورم نیشنل فرنٹ نے۲۶؍سیٹیں حاصل کیں،وہیں وہاں برسرِ اقتدار اور گزشتہ الیکشن میں ۳۴؍سیٹیں حاصل کرنے والی کانگریس محض پانچ سیٹوں پر سمٹ گئی اور بی جے پی کوتو محض ایک سیٹ پر صبر کرنا پڑا،کچھ یہی صورتِ حال جنوبی ہند کی نوتشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں بھی ہواکہ کے سی راؤکی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کی لہر میں نہ تو بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسی کامیاب ہوپائی اور نہ ہی کانگریس کے عظیم اتحاد کی تکنیک نے کام کیا،ریاست کی کل ۱۱۹؍سیٹوں میں سے۸۸؍سیٹ کے سی راؤ لے اڑے،کانگریس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر محض۲۱؍نشستیں ہی حاصل کرسکی ،بی جے پی اپنی تمام تر زہر افشانیوں کے باوجود ایک نشست سے آگے نہ بڑھ سکی،ویسے یہ صورتِ حال بڑی دلچسپ ہے کہ کہاں یو گی آدتیہ ناتھ حیدرآباد میں ریلی کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ اویسی کو یہاں سے اس طرح بھگادیں گے،جیسے نظام کو بھاگنا پڑا تھااور کہاں تو پوری پارٹی محض ایک سیٹ پرلٹک گئی،یوگی کے علاوہ بی جے پی کے دیگر اسٹار پرچارکوں اور خود وزیر اعظم نے بھی تلنگانہ میں عجیب و غریب قسم کی منافرت انگیز تقریریں کیں اور انھوں نے جی توڑ کوششیں کیں کہ وہاں کے عوام کو مذہبی خطوط پر منقسم کرکے کامیابی حاصل کرلیں،مگر یہ وہاں کے عوام کے سیاسی شعور کی بلندی اور بیداری کہی جائے گی کہ انھوں نے اس قسم کی ہفوات پر دھیان دینے کی بجاے اپنے بنیادی مسائل کو سامنے رکھ کر ووٹنگ کی اور ایک سیکولر اور بلا تفریق تمام مذاہب و فرقوں کے لیے کام کرنے والی سرکار میں اعتماد جتاکر کے سی راؤ کو دوبارہ تلنگانہ میں حکومت کرنے کا موقع دیا۔سیاسی مبصرین تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کی اس عظیم کامیابی کے پس پردہ مجلس اتحاد المسلمین کی حمایت کو بھی بڑی وجہ مان رہے ہیں ،اویسی برادران نے نہ صرف اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حلقوں میں انتخابی مہم چلائی اور وہاں پہنچ کر تقریریں کیں؛بلکہ کے سی راؤکے امیدواروں کے حق میں بھی کھل کر کمپیننگ کی اور انھیں کامیاب کرنے کے لیے بھی مہم چلائی۔اس الیکشن میں حسبِ روایت مجلس نے اپنی ساتوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اس کی وجہ عا م طورپر یہ بتائی جاتی ہے کہ ان حلقوں کے ممبرانِ اسمبلی اپنے عوام کے درمیان رہ کر کام کرتے ہیں،اس کے علاوہ اویسی برادران کا اپناایک سٹائل ہے عوام کے بیچ رہنے کا اور وہ بھی بے شمارلوگوں کواپنی طرف کھینچتاہے۔
میزورم اور تلنگانہ کے نتائج نے ایک خاص سیاسی پہلو کو اجاگر کیاہے اور وہ یہ کہ آنے والے عام انتخابات کے دوران مختلف ریاستوں کی مقامی پارٹیوں کا رول اہم ہوگا اور ان میں سے بھی ان پارٹیوں کی اہمیت زیادہ ہوگی،جوکہ ریاست کی سیاسی فضامیں اپنااثر و تاثیر رکھتی ہے،مثلاً تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اور مجلس اور میزورم میں میزورم نیشنل فرنٹ یا بہار میں جے ڈی یو اور آرجے ڈی اور یوپی میں بی ایس پی اور ایس پی،مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اور کرناٹک میں اے آئی ڈیم کے اور اے ڈی ایم کے،دہلی میں عام آدمی پارٹی اورمہاراشٹر میں این سی پی،شیوسینا اور نونرمان سینا وغیرہ۔لہذا عام انتخابات سے قبل اگرمتحدہ فرنٹ کے قیام کی کوششیں ہوتی ہیں ،تو اس میں ان علاقائی پارٹیوں کاکردار غیر معمولی ہوگا اور انھیں ان کا مطلوبہ حق دینا ہوگا،تبھی بی جے
پی۔آرایس ایس کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ اور ملک کے لیے نقصان دہ سیاست سے اس ملک کو بچایاجاسکتاہے۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ محاذکس کی سربراہی میں قائم ہوگا؟ظاہری طورپرکانگریس کانام سب سے اوپر ہونا چاہیے کہ وہ ایک قومی جماعت ہے،مگر اسد الدین اویسی نے تلنگانہ انتخابات کے نتائج پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم ۲۰۱۹ء میں غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے،اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس کی سربراہی میں قائم ہونے والے محاذمیں وہ شامل نہیں ہونا چاہتے،ان کی باتوں سے یہ بھی سمجھ میں آرہاتھا کہ وہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کو بھی کسی تیسرے اتحاد کی تشکیل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،ویسے یہ اکیلے مجلس کی بات نہیں ہے،ایسی کئی پارٹیاں ہوسکتی ہیں،جو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے الگ کوئی اتحاد قائم کرنا چاہتی ہوں ،مگر مسئلہ پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاایسا اتحاد قائم ہونا ممکن ہے؟اور اگر قائم ہوا بھی،تو اس کی سربراہی کون کرے گا؟اس کا خط و خال کیا ہوگااور اس کا طریقۂ عمل کیا ہوگا؟عام طورپر اس میں شامل ہونے والی جماعتیں کون ہوسکتی ہیں ؟اب چوں کہ جنرل الیکشن میں گنتی کے چند ماہ رہ گئے ہیں ؛لہذااس سے قبل ہی کانگریس کوبھی چاہیے کہ تمام مقامی پارٹیوں کے ساتھ مشترکہ ایکشن پلان مرتب کرے اور ان پارٹیوں کے جائز مطالبوں پر کان دھرتے ہوئے آنے والے الیکشن کے لیے ایسا خاکہ بنائے،جو ملک کے مجموعی جمہوری ڈھانچے کی سالمیت ،قومی معیشت کے تحفظ اور دستوری اداروں کی سلامتی کی راہ میں معاون ثابت ہو۔بی جے پی میں توابھی سے ایک الگ قسم کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں،بابری مسجد۔رام مندر کے مسئلے پر آرایس ایس ،بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے علاوہ اب خود بی جے پی میں بھی ایسا گروہ سراٹھارہاہے،جو مودی کو جملے باز سمجھتا ہے،کچھ لوگ پروین توگڑیا کی قیادت میں تحریک چلانے کوپرتول رہے ہیں،جبکہ کچھ دوسرے لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہندوتوکا برانڈقرار دے کران کی سربراہی میں سراٹھانے کو تیار ہیں،آنے والے چند ماہ میں ہندوستانی سیاست کا رخ کیاہوگا،کچھ نہیں کہاجاسکتا۔یہ تو طے ہے کہ ملک کا بہت بڑا طبقہ بی جے پی سے اوب چکاہے اور آیندہ اسے مسترد کرنا چاہتاہے،اب یہ اپوزیشن کی ذمے داری ہے کہ وہ اس طبقے کوکس طرح مثبت انداز میں ایک جٹ کرپاتا ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں