147

تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید بہتر کرنی ہوں گی:اے پی صدیقی


دوحہ میں جشن یومِ تاسیس جامعہ ملیہ اسلامیہ کا انعقاد
دوحہ :11/دسمبر(پریس ریلیز)
جامعہ کے جنوں کی کہانی مسلسل ہے، میرا جامعہ سے تعلیمی تعلق نہیں تھا پھر بھی میں نے جامعہ جوائن کیا۔ ان خیالات کا اظہار رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اے پی صدیقی (آئی پی ایس) نے98ویں یوم تاسیس کے موقع پر دوحہ قطر کے پانچ ستارہ ہوٹل ریڈیسن بلو کے جیوانہ ہال میں کیا جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی یوم تاسیس بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ منائی گئی۔ تقریب جامعہ ملیہ الومنائی ایسوایشن قطر کی طرف سے منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں رجسٹرار جامعہ اے پی صدیقی (آئی پی ایس) بطور مہمان خصوصی شریک رہے۔ وہ جامعہ آنے سے پہلے ہماچل پردیش میں ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل آف پولیس تھے اور پولیس صدارتی ایوارڈ یافتہ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں جامعہ کے تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا۔ جامعہ کے نادار طلبہ کی تعلیم پر زور دیا تاکہ انھوں اعلی تعلیم کے حصول میں دشواری نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی کوششیں مزید بہتر کرنی ہوں گی، ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ انھوں جامعہ کے علاقائی سیاست کے منفی اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی۔ پروگرام کے مہمان اعزازی اور جامعہ سے تشریف لائے جامعہ کے میڈیا کوارڈینیٹر اور پی آر او جناب احمد عظیم نے بھی جامعہ کی تعمیروترقی کے لئے الومنائی کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔ قطر کی معروف شخصیت اور مہمان اعزازی جناب عظیم عباس نے کہا کہ تعلیم چراغ کی طرح ہے اور چراغ سے چراغ جلایا جاسکتا ہے۔ انھوں ہندوستان کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہروں کے نام بدلے جارہے ہیں اس لیے ہمیں تعلیم کے تئیں فکرمند ہونا ضروری ہے۔ بزم صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین اور مہمان اعزازی جناب شہاب الدین نے تعلیم سے متعلق زمینی حقائق سے آگاہ کیا اور تعلیم کے نام پر ڈونیشن دینے پر زور دیا۔ اردو ریڈیو قطر کے پروگرامر اور مہمان اعزازی جناب عبید طاہر نے جامعہ کی خدمات کو سراہا اور جامعہ کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ڈبلو ڈبلو آئی سی ایس کے جی ایم اور مہمان اعزازی جناب انور کریم بھی اس پروگرام میں بطور مہمان اعزازی شریک رہے اور انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تاریخی پس منظر کو بیان کیا اور جامعہ الومنائی قطر کی کوششوں کو سراہا۔ ہندستان سے آئے ہوئے مہمان اعزازی دھیرج سنگھ نے کہا کہ انھیں جامعہ کے بارے میں پہلے بہت کچھ معلوم نہیں تھا لیکن جب انھوں نے اس کے بارے گوگل پر سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان کی آزادی میں جامعہ کا بڑا کردار رہا ہے، یہیں بانیان جامعہ، مہاتما گاندھی اور دوسرے قائدین آزادی کے ساتھ مل کر آزادی کے لئے منصوبہ بندی کیا کرتے تھے۔ ا س سے پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ الومنائی ایسوسی ایشن قطر کے روح رواں جناب نجم الحسن خان نے سارے مہمانان اور شرکا کا استقبال کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ترانہ بھی پیش کیا گیا اور مہمانان، جامعہ کے بہی خواہان اور جامعہ الومنائی ایسوایشن کے کامیاب و سرگرم اراکین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں لوح سپاس بھی پیش کیا گیا۔پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں شوکت علی ناز، احمد اشفاق، منصور اعظمی، ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی،افروز عالم‘ ڈاکٹر وصی بستوی، اطہر اعظمی اور راشد عالم راشد نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس پروگرام کی نظامت جامعہ الومنائی قطر کے رکن اور مضامین ڈاٹ کام کے ڈائیریکٹر خالد سیف اللہ اثری نے کی اور جامعہ الومنائی ایسوسی ایشن قطر کے رکن مجاہد حسیب خان کے شکریے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں