180

تریاق


ایم مبین

رات بارہ بجے کے قریب میٹنگ سے جب وہ گھرآئے ،تو اُنھوں نے شاکرہ کو بے چینی سے ڈرائنگ روم میں ٹہلتا ہوا پایا، اُس کی حالت دیکھ کر اُن کا دِل دھک سے رہ گیا اور ذہن میں ہزاروں طرح کے وسوسے سر اُٹھانے لگے، شاکرہ کی بے چینی سے انھوں نے اندازہ لگایا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے ،جس کی وجہ سے شاکرہ اِتنی بے چین ہے۔
وہ کمرے میں داخل ہوئے ،تو شاکرہ نے سر اُٹھا کر اُن کو دیکھا، اُس کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اُبھری اور پھر اُس نے اپنا سر جھکا لیا۔جیسے وہ بہت کچھ اُن سے چھپانا چاہتی ہو، اگر نظریں مل گئیں ،تو اُسے ڈر ہے کہ وہ اُس کی آنکھوں سے سب کچھ پڑھ لیں گے۔’’کیا بات ہے، تم ابھی تک سوئی نہیں؟‘‘ اُنھوں نے شاکرہ سے پوچھا۔
’’نہیں، نیند نہیں آرہی ہے۔‘‘ شاکرہ نے جواب دیا۔
’’سب ٹھیک تو ہے؟‘‘ اُنھوں نے اپنے دِل پر جبر کرکے پوچھا۔
’’عادل کی حالت بگڑتی جارہی ہی۔‘‘ شاکرہ نے ایک ایک لفظ کو چبا کر کہا۔ ’’مسلسل دو گھنٹے سے چیخ چیخ کر اُس نے سارے بنگلے کو سر پر اُٹھا لیا تھا، پڑوس کے بنگلوں تک اُس کی چیخیں جارہی تھیں اور وہ لوگ بھی انکوائری کے لیے آرہے تھے، کمرے کی ہر چیز کو اُس نے تہس نہس کردیا ہے، مجبوراً ڈاکٹر کو بلا کر اُسے نیند کا انجکشن دینا پڑا؛ لیکن ڈاکٹر کہتا ہے اس انجکشن سے مضبوط سے مضبوط آدمی دس گھنٹوں تک سویا رہتا ہے؛ لیکن عادل کی جو حالت ہے، وہ جس اسٹیج میں ہے،مجھے ڈر ہے کہ دو گھنٹے بعد ہی اِس انجکشن کا اثر ختم ہوجائیگا اور اِس کی حالت پھر اُسی طرح سے ہوجائیگی، میرا مشورہ ہے کہ اب اس پر اور زیادہ جبر نہ کیا جائے، وہ جو ڈوز لیتا ہے اسے دے دیا جائے ،اسی سے وہ نارمل ہوسکتا ہے ،ایسی حالت میں زیادہ دِنوں تک رہنے سے اس کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘‘۔
شاکرہ کی باتیں سن کر اُن کا دِل ڈوبنے لگا۔ اُنھوں نے شاکرہ کو کوئی جواب نہیں دیا اور بے اختیار عادل کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
عادل پلنگ پر بے خبر سورہا تھا۔
اُس کی اور کمرے کی حالت دیکھ کر وہ کانپ اُٹھے۔
کمرے میں کوئی بھی چیز ٹھکانے پر نہیں تھی، ہر چیز بکھری یا ٹوٹی ہوئی تھی، عادل کے سر کے بال نچے ہوئے تھے ،اس کے چہرے اور جسم پر کئی مقام پر زخموں کے نشانات تھے۔اُنھیں پتہ تھا جنون کے عالم میں عادل نے اپنے آپ کو ہی زخمی کیا ہوگا۔ ایسی حالت میں خود کو اذیّت پہنچانے سے ہی اُسے سکون ملتا ہے۔
زیادہ دیر وہ اور عادل کو دیکھ نہیں سکے اور تیزی سے کمرے کے باہر آگئے، شاکرہ کے ضبط کا باندھ ٹوٹ گیا تھا۔ اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔
’’خداکے لیے اب عادل پر اور کوئی جبر مت کیجئے، وہ جس حالت میں جیتا ہے اُسے اسی حالت میں زندہ رہنے دیجیے، کم سے کم وہ ہماری آنکھوں کے سامنے تو رہیگا، ورنہ ایسی حالت میں وہ ایک دِن مرجائیگا، اگر اُسے کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا؟ میری ایک ہی تو اولاد ہے۔ یہ ہماری زمین، جائداد، دھن، دولت سب عادل ہی کا تو ہے۔ وہ اکیلا ہی اِن سب کا وارث ہے، جب وہی نہیں ہوگا تو پھر اِن چیزوں کا کیا فائدہ؟ آپ نے کس کیلئے یہ سب کمایا ہے، عادل کیلئے ہی نا؟ پھر عادل کی زندگی کے دُشمن کیوں بن رہے ہیں، وہ جو چاہتا ہے اُسے دے دیجیے۔‘‘
’’تم مجھے عادل کی زندگی کا دُشمن کہہ رہی ہو؟‘‘
شاکرہ کی بات سن کر اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’عادل میری اکلوتی اولاد ہے، یہ سب کچھ میں نے اُسی کیلئے تو کمایا ہے،مجھ سے اپنی اولاد کا پل پل مرنا دیکھا نہیں جاتا،اُس کی پل پل موت میرے لئے اِتنی بڑی سزا ہے ،جسے میں بیان نہیں کرسکتا۔ مجھ سے اس کی تڑپ دیکھی نہیں جاتی اور بس اِسی لئے اپنے آپ پر جبر کرتا ہوں، باپ ہوں نا۔سوچتا ہوں وہ اسی طرح تِل تِل مرنے کے بجائیایک بار مر جائے ،تو اسے بھی اس عذاب سے نجات مل جائے اورہم بھی صبر کرلیں گے۔‘‘
’’آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ خدا ہمارے بچے کو شفا دیگا۔‘‘
اُن کی بات سن کر شاکرہ تڑپ اُٹھی۔
’’اگر خدا ہمارے بچے کو کوئی بیماری دیتا،تو اُس کی ذات سے ہمیں شفا یابی کی اُمید ہوتی؛ لیکن یہ روگ تو ہمارے بیٹے نے خود پالا ہے اور میں سمجھتا ہوں اِس کا ذمہ دار ہے تمہارا بیجا لا ڈ و پیار اور میری کاروباری مصروفیات ،میرے کاروبار نے مجھے اِتنا وقت نہیں دیا کہ میں اپنے کاروبار کیساتھ ساتھ اپنی توجہ اپنے بیٹے پر بھی دے سکوں اور تمہارے لئے تو وہ تمہاری اکلوتی اولاد تھی، اُس کی ہر جائز، ناجائز فرمائش تمہارے سر آنکھوں پر تھی، بس یہی زہر تھا، جو اُس کی شریانوں میں بہتا گیا اور اُس کے وجود کا حصّہ بن گیا۔‘‘
شاکرہ نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ سسکتی رہی۔
اُنھوں نے اندازہ لگالیا تھا کہ عادل کی کیا حالت ہوگی۔
ڈوز کا وقت پورا ہوگیا تھا اور اُسے اس کی سخت ضرورت تھی۔
وہ ٹال رہے تھے‘چاہ رہے تھے کہ عادل خود میں قوتِ اِرادی پیدا کرے اور وہ اس نشے کی گرفت سے باہر نکلنے کی کوشش کرے۔
دو دِن سے عادل اُن کے سامنے گڑگڑا رہا تھا۔
’’ڈیڈی! مجھے پیسے چاہیے، مجھے پانچ ہزار روپیوں کی سخت ضرورت ہے،پلیز مجھے پانچ ہزار روپے دے دیجیے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، میں مہینہ بھر آپ سے پیسہ نہیں مانگوں گا۔‘‘
لیکن اُنھوں نے پیسہ نہیں دیا۔
اِس بار اُنھوں نے اِس بات کا بھی خاص خیال رکھا تھا کہ عادل کے پاس کوئی قیمتی چیز نہ رہے، جسے فروخت کرکے وہ پانچ ہزار روپے حاصل کرلے اور اُس سے اپنی من چاہی مراد حاصل کرلے۔
اُنھوں نے شاکرہ کو بھی سخت تاکید کررکھی تھی۔
’’خبردار! اگر تم نے اُسے پیسے دئے تو، اگر مجھے پتہ چلا کہ تم نے اُسے پیسے دئے ،تو میں تمہیں گھر میں نہیں رکھوں گا۔‘‘
وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عادل اِس زہر کے بنا کتنے دِنوں تک رہ سکتا ہے۔
لیکن ایک دِن میں ہی عادل کی وہ حالت ہوگئی تھی کہ اُسے دیکھ کروہ خود بھی گھبرا گئے تھے۔
اُنھوں نے ڈاکٹر کو فون کرکے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
’’باقر صاحب! آپ کی کوشش بیکار ہے، عادل آخری حدوں کو پار کرچکا ہے، اب وہ زہر ہی اُسے زندہ رکھے گا، آپ اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہیں ،تو اسے وہ زہر دے دیجیے، اُس کی زندگی بڑھ جائیگی، آپ جتنے دِنوں تک اُسے اس زہر سے دُور رکھیں گے، اُس کی زندگی کم سے کم ہوتی جائیگی۔‘‘
’’ڈاکٹر! قیمتی سے قیمتی نشہ آور شراب، گرد، چرس، افیم اور اسمیک ،کیا کسی سے بھی کام نہیں چل پائیگا؟‘‘
’’باقر صاحب! ناگ کے زہر میں جو نشہ ہوتا ہے وہ ایک ہزار شراب کی بوتلوں میں بھی نہیں ہوتا اور جو شخص ناگ کے زہر کے نشے کا عادی ہو ،آپ اُسے شراب کی بوتل سے بہلانے کی کوشش کررہے ہیں؟ آپ کی یہ کوشش بیکار ہے باقر صاحب! اپنے بیٹے کی زندگی سے مت کھیلئے۔ اگر آپ اُسے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں ،تو اُسے ز ہر دیجیے زہر، ناگ کا زہر!‘‘
عادل کیلئے اُنھوں نے دُنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کیا تھا۔
لیکن اُنھیں ہر طرف سے مایوسی ہی ملی تھی، ایک دو ڈاکٹروں نے دِلاسہ دیا تھا، مگر اِس بات کی اُمید نہیں دِلائی تھی کہ عادل اچھا ہوجائیگا۔
اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ کمرے میں ٹہلنے لگے۔
نیند اُن کی آنکھوں سے کوسوں دُور تھی، شاکرہ بستر پر لیٹی تھی، نیند اُس کی آنکھوں میں بھی نہیں تھی۔
اُنھیں پتا تھا سوکر کوئی فائدہ نہیں۔
تھوڑی دیر بعد ہی اُنھیں اُٹھنا پڑے گا۔
نیند سے جاگنے کے بعد عادل وہ ہنگامہ مچائیگا کہ سارا محلہ جاگ جائیگا۔
سب کچھ کیسے ہوگیا، اب سوچتے ہیں تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا،ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ عادل کو۱۲،۱۵سال کی عمر سے نشے کی لت ہے۔ وہ باقاعدگی سے اسکول اور کالج جاتا تھا، دِن، دِن بھر گھر سے غائب رہتا تھا اور رات دیر سے گھر آتا تھا، ماں پوچھتی تو بتادیتا تھا کہ اس دوست کیساتھ تھا یا اُس دوست کیساتھ تھا۔ شاکرہ عادل کی یہ آوارگیاں اُن سے چھپاتی رہتی تھی۔عادل کو خرچ کیلئے وہ بھی پیسے دیتے تھے اور شاکرہ بھی۔بس ان ہی پیسوں کی وجہ سے وہ غلط صحبت میں پڑ گیا۔ پہلے دوستوں نے اسے بیئر پلائی پھر وہسکی۔پھر اسے چرس، افیون، گانجا، اسمیک اور گرد کا چسکہ لگایا۔ ایل۔ ایس۔ ڈی اور دُوسری نشہ آور چیزوں کے ٹیکے وہ لینے لگااور انھیں اِس کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔ اسکول میں کبھی فیل ہوتا ،تو کبھی ان کے رسوخ، وسیلے سے پاس ہوجاتا۔کالج میں بھی یہی حال تھا، اُنھوں نے اُسے کوئی ٹیکنیکل یا بڑے کورس میں داخل نہیں کیا تھا۔ وہ اُس کی ذہنی سطح سے اچھی طرح واقف تھے۔ان کا خیال تھا اگر عادل نے گریجویشن بھی کرلیااور اُن کا کاروبار اگر سنبھال نہ سکے ،تو کم از کم اس میں اُن کاہاتھ ہی بٹائے تو کافی ہے۔ اُنھوں نے اسے اچھے کالج میں داخل کیاتھا؛لیکن اس کی کارکردگی مایوس کن ہی رہی، ایک ہی کلاس میں دو دو تین تین سالوں کا قیام اس کا معمول بن گیا۔ جب وہ اُس کے بارے میں اپنے دوستوں سے بات کرتے ،تو دوست اُنھیں تسلّی دیتے تھے۔
’’بچوں میں جب تک ذمہ داری کا احساس نہ ہو وہ دِل سے کوئی کام نہیں کرپاتے ہیں، ہمارے بچوں کو پتہ ہے کہ پڑھنے کے بعد کچھ کرکے ہی وہ اپنا اور ہمارا پیٹ بھر پائیں گے؛ اِس لئے وہ پڑھائی میں دھیان لگاتے ہیں، عادل کیساتھ ایسا کچھ نہیں ہے، اُسے پتہ ہے کہ اُس کے باپ نے اُس کیلئے اتنا کمایا ہے کہ اُس کی سات پشتیں بھی بیٹھ کر کھائیں گی، اس لئے لاپرواہ ہوگیاہے،پڑھائی میں دھیان نہیں دیتا، کاروبار میں لگادو سب ٹھیک ہوجائیگا۔
لیکن اُنھیں عادل کو کاروبار میں لگانے کی نوبت نہیں آسکی۔ اِس دوران اُنھیں پتا چلا کہ عادل ڈرگس لیتا ہے اور نشے کا عادی ہوگیا ہے۔کئی بار نشے کی وجہ سے یا نشہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہوئی،ڈاکٹروں کو بتایا گیا، کئی بار اسے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا؛ لیکن ڈاکٹروں نے صاف جواب دے دیا تھا۔
’’عادل نشے کی آخری حد پار کرچکا ہے، اُس سے نشہ چھڑانا بہت مشکل ہے، اب اگر یہ کوشش کی گئی ،تو اُس کی زندگی کو خطرہ پیداہوسکتا ہے‘‘۔
ایک دوبار مہنگے اسپتالوں میں رکھ کر عادل کے نشے کی لت چھڑانے کی کوشش کی گئی۔جب تک وہ اسپتال میں رہا،نشے سے دُور رہا؛لیکن گھر آتے ہی سب کی نظریں بچاکر آخر نشے کے اڈّے پر وہ پہنچ ہی گیا اور سارے کئے کرائے پر پانی پھیر گیا۔وہ بڑی اُلجھن میں تھے۔عادل پر توجہ دیتے ،تو کاروبار بدنظمی کا شکار ہوتا۔کاروبار پر توجہ دیتے ،تو عادل کی حالت بگڑتی جاتی تھی۔شاکرہ کو تو وہ بالکل خاطر میں نہیں لاتا تھا، کئی بار وہ اُس پر ہاتھ اُٹھا کر جانوروں کی طرح مار چکا تھا، یہ بات شاکرہ نے اُن سے چھپائی تھی، نشے میں اُسے کچھ ہوش نہیں رہتا تھا کہ سامنے اُس کی ماں ہے یا باپ ہے اور نشہ نہ ملنے پر بھی وہ پاگل ساہوجاتا تھا۔شاکرہ سے وہ نشہ کیلئے پیسہ لیا کرتا تھا،شاکرہ بھی ترس کھاکر اُس کو پیسے دے دیتی تھی، کم سے کم نشے میں تو وہ سکون سے رہے؛ لیکن آخر وہ نشے کی آخری حد کو پہنچ گیا۔
نشہ حاصل کرنے کیلئے وہ اپنے آپ کو ناگ سے ڈسوانے لگا،ناگ سے ڈسوانے کے بعد ایک ماہ تک وہ بالکل نارمل رہتا، ناگ کے زہر کا نشہ ایک ماہ تک اُسے مسرور رکھتا ؛لیکن زہر کا اثر ختم ہوتے ہی اُس کی حالت پاگلوں سی ہونے لگتی اور جب تک وہ اپنے آپ کو ناگ سے ڈسوا نہیں لیتا ،اُسے سکون نہیں ملتا تھا
اور خود کو ناگ سے ڈسوانے کیلئے وہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تک دیتا تھا۔پچھلی بار اُس نے جب خود کو ناگ سے ڈسوایا ہوگا ،اُسے شاید ایک ماہ ہوگیا ہوگا، نشہ اُتر گیا تھا ؛اِس لئے اُس کی حالت پاگلوں سی ہورہی تھی،دو گھنٹے بعد انجکشن کا اثر ختم ہوگیا تھا۔عادل پھر جاگ اُٹھا تھا اور اُس نے ہنگامہ کھڑا کردیا ،اُنھوں نے اُسے کمرے میں ہی بند کرکے رکھا۔وہ جانتے تھے کہ اکیلا کمرے میں بند ہونے پر وہ اپنے آپ کو مار مار کر زخمی کرلے گا؛لیکن اُسے کھلا چھوڑنا اُس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا، وہ سویرا ہونے کی راہ دیکھنے لگے۔دِن نکلتے ہی جیسے ہی اُنھوں نے عادل کے کمرے کا دروازہ کھولا، عادل اُن کا گلا دبانے کیلئے دوڑا۔’’عادل! چلو میں تمھیں ناگ سے ڈسوانے لے چلتا ہوں۔‘‘
یہ سنتے ہی عادل کا سارا غصہ، جوش ٹھنڈا پڑگیا۔
وہ اُسے کار میں بٹھا کر چل پڑے،عادل اُنھیں راستہ بتاتا رہا۔
ایک جھونپڑپٹّی میں تنگ و تاریک گلیوں سے ہوکر وہ ایک ٹوٹے جھونپڑے کے پاس پہنچے۔
’’ار ے عادل سیٹھ! اِس بار لیٹ ہوگیا؟‘‘
’’چلو جلدی لاؤ‘‘
’’ مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے۔‘‘ عادل چیخا۔
’’پہلے مال نکال!‘‘ وہ آدمی بولا۔ عادل نے ان کی طرف دیکھا، اُنھوں نے پانچ ہزار روپیے اُس آدمی کی طرف بڑھادیے۔
وہ آدمی اندر گیا، واپس آیا، تو اُس کے ہاتھ میں ایک سانپ کی پٹاری تھی، عادل زبان باہر نکال کر کھڑا ہوگیا۔اُس آدمی نے پٹاری کا ڈھکن کھولا،اُس میں سیایک کالے ناگ نے پھن اُٹھایا، اُس نے چاروں طرف دیکھا اور پھر عادل کی زبان پر ڈس لیا۔اُن کے منہ سے چیخ نکل گئی۔عادل کے منہ سے بھی چیخ نکلی، مگر یہ مسرت اور لذت بھری چیخ تھی، وہ سر سے پیر تک پسینے میں نہاگیا اور پھر لہراتا ہوا اُن کیساتھ چل دیا۔ اُنھوں نے جاتے ہوئے مڑ کر اُس آدمی اور پٹاری کے ناگ کو دیکھا،جس کا زہر اُن کے بیٹے کیلئے تریاق تھا۔

Mobile. 9322338918

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں