324

تربیت بولتی ہے!

ام ھشام

ایک مسلمان کیسا ہے؟ اس کا ایمان کیا ہے؟ اسے ناپنے کا پیمانہ اللہ سبحانہ وتعالی نے بندوں کو نہیں دیا،یہ بھی اللہ کی حکمت کا ایک عظیم پہلو ہے کہ ہم انسان فقط ایک دوسرے کے ظاہر سے مطمئن رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعامل کریں ـ
اسی قسم کا ایک بندہ یہ(اے آررحمن) بھی ہے جس کے صبح وشام دنیا کے نامور اور مہذب ترین افراد کے درمیان گزرتے ہیں،جو زندگی بھر اپنی لے اور تال سے دنیا والوں کا دل جیتتا رہا ہے، اگر میں کہوں کہ دنیائے موسیقی میں اس کا کوئی ثانی نہیں،تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا ۔لیکن جب اس ساری چکا چوند ،نیم اور فیم کے درمیان اپنی مذہبی شناخت ،وقار اس کے تقدس کی حفاظت کی ذمے داری آئی، تو اس نے وہی کیا،جو ایک ایماندار بندے کو کرنا چاہیے،اس کی اپنی بیٹی(خدیجہ) کا یوں باحجاب ہوکر سیکولر اور سِویلائزڈ ممبرز کے درمیان ایک میوزک ایوارڈ سیریمنی پر آکر اپنے والد کی تعریف میں یہ کہہ جانا کہ” میرے والد بہت ہی منکسر المزاج ہیں ایک باپ کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ انہیں مشفق پایا ہے،وہ ایک ایسے انسان ہیں جنکے لئے ان کے نبی کی زندگی سب سے بڑی گائیڈ لائن ہے “ـ
یہ ایک زوردار تھپڑ نہیں ہے ہم جیسوں کے منہ پر،جن کی ساری دین داری فقط ان کے نام میں سمائی ہوئی ہے؟ جہاں نام کے مسلمان اپنے نام کے بارے میں بهی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ فیض احمد فیض کی بیٹی جے این یو کے ایک پروگرام میں آئی،تو بغیر کسی کے سوال کے خود صفائی دینے لگی کہ میرے کاندهے پر یہ شال ہے آپ لوگ اسے چادر یا دوپٹہ نہ سمجھیں اوراس کی وجہ سے مجھے قدامت پسند نہ سمجھ لیا جائے۔
اس اللہ رکھے بندے کی تربیت آج پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ مذہبی حمیت و غیرت،اس سے محبت، اس کے شعائر واقدار کی پاسداری کبھی کسی پرجبرا مسلط نہیں کی جاسکتی ۔آپ خود اپنے مذہب سے محبت کرنے والے بن جائیں، اس کے تئیں پوری طرح ایماندار ہوجائیں،تو کفر وارتداد کے تیزوتند تھپیڑے آپ کے ایمان میں لرزش پیدا نہیں کرسکتے اور ایک دن آپ کی یہی محبت از خود آپ کو اپنے محبوب کے قدموں پر لاجھکائے گی اور آپ محبت میں امر ہوجائیں گے ۔
ارتداد اور الحاد کی یلغار میں مرنے اور مارنے پر اتر آنے والے مردوں کو ایک کھلا ہوا چیلنج ہے کہ دن رات قال اللہ وقال الرسول کی صداؤں کے درمیان پلنے والی بچیاں کس قسم کا پردہ کررہی ہیں اور اسلام اور پردے کے حوالے سے وہ احساس کمتری کے کس درجےپر کھڑی ہیں ـ ایک تربیت میری بھی ہے کہ فلمی دنیا کے بے ہنگم سر وتال کے درمیان بھی میری بیٹی عریانیت ،اباحیت اور فیشن پرستی کی بجائے حجاب کو اپنی پہلی پسند قرار دیتی ہے ۔
بس یہی کہنا چاہوں گی کہ تربیت بولتی ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں