103

تخلیقی جوہر: مغالطے اور حقیقت


(تلخیص و ترجمہ: ابو صباحت)
(بحوالہ: The Myths of Creativity)

دنیا بھر میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ انسان میں تخلیقی جوہر ہونا چاہیے۔ تخلیقی جوہر کیا ہے؟ یہ کہ انسان تخلیق کار کی حیثیت سے سوچے، کچھ نیا کرنے پر متوجہ ہو، اپنی سوچ میں منہمک ہو اور پھر کچھ ایسا کرے جو دوسروں سے ہٹ کر ہو۔ سب سے زیادہ اہمیت ’’دوسروں سے ہٹ کر‘‘ کچھ کرنے کی ہے۔
تخلیقی جوہر سے متعلق بہت سے مغالطے پائے جاتے ہیں۔ ہم سبھی زندگی بھر اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہماری مشکلات دور کرے، ہمارے تمام مسائل حل کردے۔ ہم سبھی کسی نہ کسی ایسے فرد کو جانتے ہیں جو اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ کوئی آئے گا اور ہاتھ پکڑ کر اُسے دنیا کی سیر کرائے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ سوچ ہم میں سے تقریباً ہر ایک میں پائی جاتی ہے۔ جو معاملہ دنیا کی سیر کا ہے وہی معاملہ تخلیقی جوہر کو بروئے کار لانے کا بھی ہے۔ ہم سب زندگی بھر اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ حالات ہم میں تخلیقی جوہر پیدا کریں اور ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے آئیڈیاز، نئی صلاحیتیں ہم میں پائی جاتی ہیں، ہم میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ تخلیقی جوہر کہیں باہر سے نہیں آتا۔ یہ ہم میں ہوتا ہے اور ہمیں اِسے شناخت کرکے پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ تخلیقی جوہر سے متعلق جو مغالطے صدیوں سے پائے جاتے ہیں جب ہم اُن کے دام میں پھنستے ہیں تو الجھ کر رہ جاتے ہیں اور یوں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے قاصر رہتے ہیں۔
دنیا بھر میں کروڑوں، بلکہ اربوں افراد عمومی طرز کی زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو اندازہ تو ہوتا ہے کہ قدرت نے انہیں کوئی نہ کوئی خاص جوہر بخشا ہے، مگر اُس جوہر کو بروئے کار لانے کے معاملے میں وہ ناکام اس لیے رہتے ہیں کہ بہت سے مغالطے اُن کے ذہن کو اپنے شکنجے میں کَس لیتے ہیں۔ جب ذہن میں مغالطے بس جائیں تو عمل کی راہ میں اونچی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔
ڈیوڈ برکس نے ۱۰ بڑے مغالطے گِنوائے ہیں جو تخلیقی جوہر کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ یہ مغالطے درجِ ذیل ہیں۔

  1. The Eureka Myth
  2. The Breed Myth
  3. The Originality Myth
  4. The Expert Myth
  5. The Incentive Myth
  6. The Lone Creator Myth
  7. The Brainstorming Myth
  8. The Cohesive Myth
  9. The Constraints Myth
  10. The Mousetrap Myth
    ڈیوڈ برکس نے اپنی کتاب میں بہت عمدگی سے یہ بتایا ہے کہ ہم سبھی میں تخلیقی جوہر بسا رہتا ہے۔ جو لوگ اس جوہر کو بروئے کار لانے پر متوجہ ہوتے ہیں، وہ زیادہ کامیاب رہتے ہیں اور بھرپور زندگی بسر کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں ڈیوڈ برکس نے ایک بڑے خیال کو اُس کے تمام ممکنہ پہلوؤں کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
    اگر آپ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پارہے تو یقین کیجیے کہ ڈیوڈ برکس کے بیان کردہ ۱۰ مغالطوں میں سے کوئی ایک یا چند ایک آپ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جب آپ مغالطوں سے گلو خلاصی میں کامیاب ہوجائیں گے تب اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے میں بھی کامیاب ہوسکیں گے۔
    اب سوال یہ ہے کہ آپ کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے۔ کون سا مغالطہ ہے جو آپ کے ذہن کے پاؤں کی زنجیر ہوکر رہ گیا ہے؟ ہارورڈ بزنس اسکول کی پروفیسر ٹیریزا ایمابائل کا کہنا ہے کہ تخلیقی جوہر یا صلاحیت پر چار معاملات اثر انداز ہوتے ہیں:
    ٭شعبے سے متعلق مہارتیں
    ٭تخلیقیت یا تخلیقی عمل سے متعلق مراحل
    ٭کام سے متعلق پیدا ہونے یا دی جانے والی تحریک
    ٭متعلقہ فرد یا افراد کا معاشرتی ماحول
    ان چاروں معاملات میں صرف معاشرتی ماحول ہے جو متعلقہ فرد یا افراد کے وجود سے باہر کی چیز ہے۔ باقی سب کچھ انسان کے اندر ہی ہوتا ہے۔
    کسی بھی معاملے میں تخلیقی صلاحیت یا رجحان کا حامل ہونا خاصی ٹیڑھی کھیر ہے۔ تخلیقی صلاحیت کا حامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو دوسروں سے ہٹ کر، زیادہ اور قطعیت و جامعیت کے ساتھ کام کرنا ہے۔ جب بھی کسی میں تخلیقی جوہر ابھرتا ہے، اندر ہی سے مزاحمت بھی ابھرتی ہے۔ مزاحمت اس لیے ابھرتی ہے کہ سبھی اپنے اپنے کمفرٹ زون میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اور معمول سے ہٹ کر کوئی بھی کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ہر انسان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اُس کے معمولات میں کچھ خاص فرق واقع نہ ہو اور زندگی میں نمایاں فرق دکھائی دے۔ یہ خواہش اور کوشش فطرت کے اصولوں کے منافی ہے۔ جسے فرق پیدا کرنا ہو اُسے لازمی طور پر اپنے معمولات میں تبدیلی لانا پڑتی ہے اور بہت کچھ ترک کرنا پڑتا ہے۔ تخلیقی جوہر کے خلاف انسان کے باطن سے ابھرنے والی شدید مزاحمت کو اسٹیون پریسفیلڈ نے اپنی کتاب ’’دی وار آف آرٹ‘‘ میں ’’دی گریٹ بُلی ریزسٹنس‘‘ کا نام دیا ہے۔ تخلیقی جوہر دراصل ہم سے بہت کچھ کرنے کا تقاضا کرتا ہے اس لیے لاشعور اس کے خلاف ہر وقت ڈٹا رہتا ہے۔ ڈیوڈ برکس کا استدلال یہ ہے کہ ۱۰ مغالطے دراصل ۱۰ بہانے ہیں، جو ہم اپنے تخلیقی جوہر کو بروئے کار لانے سے بچنے کے لیے جواز کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ ڈیوڈ برکس کہتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں بہتر کارکردگی کے لیے تخلیقی جوہر کو بروئے کار لانے سے کہیں آسان کام یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر معمولات کو ترک کرنے سے بچتے ہوئے اضافی کام نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اپنی صلاحیتوں کو شناخت کرکے پروان چڑھاتے ہیں تب رو بہ عمل رہنے سے ہماری زندگی میں نمایاں فرق واقع ہونے کی ابتدا ہوتی ہے۔
    اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، کچھ بننے کی تمنا ہے تو کسی بھی عظیم تصور کو کہیں باہر سے لانے کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ ہمارے اندر موجود ہے۔ ہمارا ذہن بہت کچھ کرنا جانتا ہے۔ ہم اپنے ذہن میں موجود معلومات کی بنیاد پر کوئی بھی نیا، بڑا تصور پیدا کرکے پروان بھی چڑھا سکتے ہیں۔
    ٭ پہلا مغالطہ: The Eureka Myth
    اگر آپ درست جگہ اور درست وقت پر ہوں تو حالات کچھ ایسی شکل اختیار کریں گے کہ آپ کی صلاحیت خود بخود ظاہر ہوجائے گی اور آپ سمجھ بھی نہ پائیں گے کہ ایسا کیسے ہوگیا۔
    حقیقت: تخلیقی جوہر رکھنے والے تمام افراد چند خاص مراحل سے گزرتے ہیں۔ اُن کے ذہن میں کوئی آئیڈیا جنم لیتا ہے، وہ اُسے پروان چڑھاتے ہیں، تدبر کرتے ہیں اور پھر جو کچھ سوچا ہوتا ہے اُس کی روشنی میں عمل کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ تخلیقی جوہر محض تحفہ نہیں بلکہ غیر معمولی انہماک اور مشقّت کا نتیجہ ہے۔ جو محنت کرتا ہے وہ اُس کا پھل پاتا ہے۔
    ٭ دوسرا مغالطہ: The Breed Myth
    تخلیقی صلاحیت پیدائشی ہوتی ہے۔ انسان تخلیقی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ یعنی یہ کہ تخلیقی جوہر توارث کا نتیجہ ہے۔
    حقیقت: کسی بھی انسان کی شخصیت کی تشکیل میں پانچ عوامل بنیادی یا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بروں بینی یعنی اپنی ذات سے نکل کر چیزوں کو دیکھنا، باضمیری یعنی اِس دنیا کو کچھ دینے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنا، دوسروں سے غیر معمولی مطابقت پیدا کرنا اور اُنہیں قبول کرنا، دل اور دماغ کا کھلا پن یعنی اپنی ذات سے ہٹ کر جو کچھ بھی ہے اُسے قبول کرنا اور اپنے آپ کو اُس کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار رہنا اور کسی قدر اعصابی شدت یا عدم توازن۔ شخصیت کی تشکیل اور تخلیقی جوہر کو پروان چڑھانے والے عوامل میں صرف کھلا پن ہی ایسا وصف ہے جو وجود کی باطنیت سے ہٹ کر ہے یعنی باہر کا معاملہ ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ کھلا پن کسی حد تک سیکھا جاسکتا ہے، اِسے وسعت دی جاسکتی ہے۔ بہر حال، تخلیقی جوہر کا توارث سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ وصف انسان ذہن کے ارتکاز اور محنت سے سیکھتا ہے۔
    ٭ تیسرا مغالطہ: The Originality Myth
    ہر عظیم آئیڈیا کسی کی منفرد تخلیق ہے۔
    حقیقت: کوئی بھی بڑا آئیڈیا کسی ایک فرد کے ذہن میں نہیں پنپتا۔ دنیا بھر میں لوگ سوچ رہے ہوتے ہیں اور سوچے ہوئے کے مطابق محنت بھی کرتے ہیں۔ بہت سے عظیم تصورات گزرے ہوئے زمانوں کی سوچ کا نتیجہ بھی قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ٹیلی فون، ٹی وی، ریڈیو، کیلکیولس، پرسنل کمپیوٹر اور دیگر بہت سی اشیاء کا آئیڈیا بیک وقت متعدد شخصیات کے ذہن میں ابھرا۔
    ٭ چوتھا مغالطہ: The Expert Myth
    کسی بھی شعبے میں غیر معمولی مہارت کے حامل افراد کے ذہنوں میں نئے اور منفرد آئیڈیاز کے پنپنے کے امکانات زیادہ قوی ہوتے ہیں۔
    حقیقت: دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شعبے میں مہارت رکھنے والوں کے لیے ایک سطح ضرور آتی ہے، جب وہ کچھ نیا سوچنے کے قابل نہیں رہتے۔ غیر معمولی مہارت کے حامل افراد کی سوچ محدود ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے خاصے سخت گیر اور تبدیلی سے انکاری ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کسی بھی شعبے میں قدرے کم علم، کم تجربہ یا مہارت رکھنے والے زیادہ کھل کر اور ہمت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی نئے آئیڈیا کے مطابق کام کرنے میں کوئی قباحت، گھبراہٹ، خوف یا جھجھک محسوس نہیں کرتے۔
    ٭ پانچواں مغالطہ: The Incentive Myth
    تخلیقی جوہر کی کارکردگی کا حجم اور معیار ترغیب و تحریک کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے۔
    حقیقت: مطالعے، مشاہدے اور تحقیق سے یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ غیر معمولی ترغیب و تحریک سے تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بڑھنے کے بجائے گھٹ جاتا ہے۔
    ٭ چھٹا مغالطہ: The Lone Creator Myth
    تخلیقی جوہر خالص انفرادی کارکردگی کا معاملہ ہے۔ جب کوئی کسی منفرد تصور پر جنونی انداز سے کام کرتا ہے تو دنیا کو تخلیقی جوہر کی عملی شکل دیکھنے کو ملتی ہے۔
    حقیقت: تھامس ایڈیسن اور مائیکل نجیلو کے پاس بڑی ٹیمیں تھیں، جو اُن کے منفرد آئیڈیاز پر کام کرتی تھیں۔ دونوں عظیم شخصیات جو کچھ سوچتی تھیں اُنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے مہارت رکھنے والوں کی خاصی بڑی تعداد موجود تھی۔ مائیکل نجیلو کے فن کے بہت سے نمونے ٹیم ورک کا نتیجہ تھے۔ اس حوالے سے سسٹین چیپل کی چھت کی مثال دی جاسکتی ہے۔ بیشتر عظیم تصورات مختلف گروہوں کے مختلف النوع تجربات اور تناظر سے ابھرتے اور پنپتے ہیں۔
    ٭ ساتواں مغالطہ: The Brainstorming Myth
    ہر منفرد خیال سے ندرت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ منفرد خیالات پروان چڑھانے سے کامیابی کو ۱۰۰ فیصد یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
    حقیقت: برین اسٹارمنگ (ذہن کی پیالی میں طوفان اٹھانے) یعنی زیادہ سے زیادہ آئیڈیاز کے بارے میں سوچنے سے تخلیقی عمل کو تقویت ملتی ہے مگر پورے تخلیقی عمل کا سہرا محض برین اسٹارمنگ کو نہیں دیا جاسکتا۔
    ٭ آٹھواں مغالطہ: The Cohesive Myth
    عظیم تصورات اُن ٹیموں کی طرف سے آتے ہیں، جو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ اِن ٹیموں کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
    حقیقت: مطالعے، مشاہدے اور تحقیق سے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ ہر اعتبار سے منظم اور متوازن ٹیمیں پوری ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں تخلیقی عمل کو زیادہ سے زیادہ ۲۵ فیصد کی حد تک بہتر بناتی ہیں۔
    ٭ نواں مغالطہ: The Constraints Myth
    تخلیقی جوہر کو نمو پانے کے لیے ایسی آزادی درکار ہوتی ہے، جس کی راہ میں کہیں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور یہ کہ کسی بھی طرح کی پابندی تخلیقی صلاحیت کو دبوچ لیتی ہے۔
    حقیقت: تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطری ہوں یا مصنوعی، چند ایک پابندیوں سے تخلیقی جوہر کو پنپنے، پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی واضح ترین مثال ۱۲ ٹون کا میوزیکل اسکیل ہے، جو موسیقی کے حوالے سے عظیم ترین انقلاب کا نقیب بنا۔
    ٭ دسواں مغالطہ: The Mousetrap Myth
    اگر آپ کے پاس کوئی عظیم آئیڈیا ہو اور آپ نے اُسے پروان بھی چڑھایا ہو تو دنیا اُس کی طرف لپکے گی، قبول کرے گی، سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔
    حقیقت: بہت سے لوگوں کو کسی بھی نئے تصور، خیال، نظریے یا فلسفے میں افادیت ڈھونڈنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ندرت سے عبارت تصورات اور خیالات کو ابتدا میں مسترد ہی کیا جاتا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں