233

تخلیقی بچے اور دینی مدارس

رعایت اللہ فاروقی

کسی بھی دوسرے نظام تعلیم کی طرح مدارس میں پڑھنے والے طلبا کی بھی تین کٹیگریاں ہوتی ہیں: ایک وہ، جو ہمیشہ اے (ممتاز) گریڈ لیتے ہیں اور دوسرے وہ، جو سی (مقبول) گریڈ لیتے ہیں،جبکہ تیسرے وہ جو ان دونوں کے بیچ میں پائے جاتے ہیں اور تعداد میں غالب اکثریت ہوتے ہیں۔ اے گریڈ والے وہ ہوتے ہیں، جو ہر وقت اپنی تعلیم میں مشغول نظر آتے ہیں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ انہیں مدرسے کے ذہین ترین طلبا شمار کیا جاتا ہے اور یہ سب کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف سی گریڈ والوں کا سارا زور غیر نصابی سرگرمیوں پر ہوتا ہے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اس کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں اس درجے کی نہیں رہتیں، جس درجے کی اے گریڈ والوں کی ہوتی ہیں، ورنہ ذہانت میں یہ اے گریڈ والوں کے بھی ابا حضور ہوتے ہیں۔ مدارس میں چونکہ درسی قابلیت ہی کو قابلیت مانا جاتا ہے، جو سی گریڈ والوں میں بہت کم ہوتی ہے،نتیجہ یہ کہ مدرسے میں ان کی حیثیت کرمنلز جیسی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ دونوں ہی گریڈ تعلیم پوری کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، تو اے گریڈ والے یوں غائب ہو جاتے ہیں، جیسے ضرورتِ شعری کے تحت کوئی حرف غائب ہوتا ہے۔ یہ قومی سطح تو کیا،شہری سطح پر بھی نمایاں نہیں ہوپاتے۔ جبکہ سی گریڈ والے دھیرے دھیرے ابھرنے لگتے ہیں اور دس پندرہ سال میں کسی مقام سے چمکنے لگتے ہیں اور جب یہ چمکنے لگتے ہیں، تو ان کے دور طالب علمی کے اے گریڈ والے بھی ان کے محض “فین” بن کر رہ جاتے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تعلیمی دور کے مقابلے میں عملی زندگی کا معاملہ برعکس کیوں ہوجاتا ہے ؟
میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ اے گریڈ والے کتابی قابلیت حاصل کرتے ہیں اور یہ قابلیت جتنی بھی حاصل کرلی جائے، اتنا ہی ان کا “مدرس” بننے کا امکان روشن ہوجاتا ہے۔ یہ طالب علم جوں ہی تعلیم مکمل کرتے ہیں،عموما اسی مدرسے میں فورا مدرس رکھ لیے جاتے ہیں اب مدرس کی کل شہرت تعلیمی ادارے کی چار دیواری تک ہوتی ہے۔ مدرسے سے باہر یہ صرف امام وخطیب ہی ہوتے ہیں اور بطور امام و خطیب یہ ناکام ہوتے ہیں؛کیونکہ انکی تقریریں فضائل سے شروع ہو کر فضائل پر ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ سماج کا ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا؛ کیونکہ انہیں پڑھنے سے ہی فرصت نہ تھی اور جب پڑھ رہے تھے،تو سماج سے کٹ کر مدرسے کے دارالاقامہ (ہاسٹل) تک محدود تھے۔ جمعرات کے دن یہ اس چار دیواری سے نکلتے، تو اپنے عزیزوں کے ڈیرے پر پہنچ جاتے، جہاں ان کے گاؤں والا ہی ماحول ہوتا۔ اگلے دن عصر میں یہ اس ڈیرے سے اگلے ہفتے کی قید بامشقت کے لیے ایک بار پھر مدرسے پہنچ جاتے۔ اب خطیب بنے ہیں، تو گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر کی روٹین پر قائم ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جس سماج میں یہ رہ رہے ہیں، اس کی روایات اور اس کے مسائل سے بالکل بے خبر ہیں؛ کیونکہ یہ اس میں گھلے نہیں ہیں۔ یہ اس شکر کی طرح ہیں، جو چائے کے کپ میں ڈال تو دی گئی،مگر چمچی کی مدد سے تحلیل کرکے چائے میں ضم نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ چائے میں شامل ہوکر بھی کوئی اثرات مرتب نہیں کر رہی۔ ان کے برخلاف “آوارگانِ ملت” یعنی سی گریڈ والوں کا تو مدرسے کی چار دیواری میں دم گھٹتا تھا۔ جوں ہی چھٹی ہوتی، یہ مدرسے کا گیٹ عبور کرنے کے بہانے ڈھونڈتے۔ انہیں اپنے شہر میں ہونے والا انٹرنیشنل کرکٹ میچ سٹیڈیم میں جا کر دیکھانا ہوتا۔ اگر میچ اس شہر میں نہیں ہے، تو پھر مدرسے کے دو چار کلو میٹر کے ریڈیس میں واقع کسی ریسٹورنٹ میں ٹی وی پر ہی دیکھ کر گزارہ کرنا ہوتا۔ انہیں ہر نئی فلم بھی لازما دیکھنی ہوتی اور ہمارے زمانے میں تو چونکہ انڈین فلمیں سینماؤں میں ممنوع تھیں؛ لہذا ان فلموں کے لیے چرسیوں کے کھوپچوں کا بھی رخ کرنا ہوتا۔ انہیں ناولز اور ڈائجسٹ بھی پڑھنے ہوتے۔ اب یہ سب چونکہ جنابِ شیخ کی کتاب میں جرم کا درجہ رکھتے، تو نتیجہ یہ کہ جب آخری شو دیکھ کر لوٹتے،تو گیٹ کے بجائے مدرسے کی سولہ سے اٹھارہ فٹ کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوتے، جس سے ان کے بازو اور کہنیاں چھل جاتیں۔ صبح ہوتی تو پتہ چلتا کہ کسی “نیک روح” نے رضائے الہی کے حصول کے لیے “مخبری” کردی ہے۔ اب پٹتے بھی تھے اور ہفتے بھر کے لیے کھانا الگ بند ہوتا۔ جس کا مطلب یہ کہ جن پیسوں سے اس ہفتے مزید فلمیں دیکھنی تھیں،وہ اب ناشتے، کھانے پر صرف ہوں گے۔ اس بحران کے دو حل ہوتے،یا تو کسی طالب علم کی جیب پر ہاتھ صاف کرلیا جاتا اور یا فورا ڈیرے جا کر اپنے سرپرستوں سے کوئی جھوٹ بول کر مزید پیسوں کا انتظام کرلیا جاتا۔ اور جو ہم جیسے ذہین ہوتے، وہ اس کا مستقل حل پیشگی یوں کر کے رکھتے کہ مدرسے کے باورچیوں سے ہمیشہ خوب بنا کر رکھتے۔ اس تمام تر آوارگی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ یہ مدرسے میں کم اور سماج میں زیادہ ہوتے۔ باہر کی دنیا کا ایک ایک حرامی پنا ان کے علم میں ہوتا۔
نتیجہ یہ کہ جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا، تو مدرس تو یہ بن نہیں سکتے تھے، گویا مدرسے اب یہ چائے پینے تو جاسکتے تھے؛ لیکن اس کا حصہ نہیں بن سکتے تھے؛ چنانچہ انہیں سماج میں ہی اپنے لئے جگہ بنانی ہوتی اور وہ یہ بہت آسانی سے بنا لیتے؛ کیونکہ سماج کی تو یہ رگ رگ سے وقف ہوتے۔ اپنی آوارگی کے دور میں انہوں نے بی اے بھی اسی لیے کر لیا تھا؛ کیونکہ نیک روحیں اسے خرافات کہتیں اور انہیں تو ہر خرافات عزیز تھی؛ چنانچہ بی اے کی وہی خرافاتی ڈگری انہیں سماج کا حصہ بنانے کے لیے کافی ہوجاتی۔ بطور خطیب بھی یہ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں؛کیونکہ جب ان کے مقتدی انہیں پھدو سمجھ کر چکر دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ دل ہی دل میں ان پر خوب ہنستے ہیں اور ان کے ہر یارکر کا دفاع اور ہر باؤنسر کو ہک یا پل کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ اب چونکہ وہ سماج کو سمجھتے ہیں؛ اس لیے وہ سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج انہیں پلک جھپکتے ہی قبول کر لیتا ہے اور ان کی بات پر کان دھرنے لگتا ہے۔ پھر سماج میں ان کی شہرت پھیلنے لگتی ہے اور یہ پھیلتے پھیلتے انہیں قومی سطح پر بھی لے آتی ہے۔ محض سماج کے فہم کے سبب ان کا تھوڑا علم بھی زیادہ اثرات پیدا کر رہا،جبکہ اے گریڈ والوں کا زیادہ علم سماج میں ہلکا سا بھی ارتعاش پیدا نہیں کر پارہا۔ جانتے ہیں اے گریڈ اور سی گریڈ والوں میں جوہری فرق کیا ہے ؟ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ،جو تعلیمی ذہن رکھتے ہیں، دوسرے وہ، جو تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ تعلیمی ذہن والوں کے دل غیر نصابی سرگرمیوں کی جانب رغبت نہیں رکھتے،جبکہ تخلیقی ذہن والے تعلیم میں رغبت نہیں رکھتے۔ یہ ایک قدرتی نظام ہے، جو یوں کارآمد ہے کہ تعلیمی ذہن والے بچے کو دس بارہ گھنٹے کی یومیہ تعلیمی سرگرمی درکار ہوتی ہے۔ اگر وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں رغبت رکھے گا، تو اس کی تعلیم متاثر ہوگی۔ اور اگر تخلیقی ذہن والا تعلیم میں رغبت رکھے گا، تو اپنے فن میں دس سے چودہ گھنٹے کا یومیہ ریاض کیسے کرے گا ؟ چنانچہ اپنے میدان میں رکھنے کے لیے قدرت ان کی رغبت ہی دوسری جانب کے لئے بہت محدود کر دیتی ہے۔ عصری علوم کے اداروں کے پاس اپنے تخلیقی بچوں کے لیے بھی بندوبست ہوتا ہے۔ مثلا سپورٹس، گائیکی، مصوری سمیت لگ بھگ ہر تخلیقی عمل کے لیے ان کے پاس شعبہ ہی نہیں، مستقل ادارے بھی ہوتے ہیں؛ لیکن کیا مدارس کے پاس بھی اپنے تخلیقی ذہن والے بچوں کے لیے کوئی انتظام ہے ؟ افسوس یہ نہیں کہ تخلیقی ذہن والوں کے لیے ان کے پاس کوئی انتظام نہیں؛ بلکہ المیہ یہ ہے کہ ایسے طالب علموں کو مار مار کر اور ذلیل کر کر کے ان کی نفسیات تک تباہ کردی جاتی ہے۔ مدارس عربیہ کے پاس اپنے تخلیق کار بچوں کو دینے کے لیے سوائے مار پیٹ کے کچھ بھی نہیں !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تخلیقی بچے اور دینی مدارس” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں