74

تجارت کے چند اہم اسلامی اصول (دوسری قسط )


از : ڈاکٹر محمد واسع ظفر
استاذ و سابق صدر، شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ
۳. صبح سویرے تجارت کے لئے جانا: تجارت کے لئے صبح سویرے نکلنا اور اپنی دکان علی الصباح کھولنا بہتر ہے کیونکہ اس وقت کے لئے نبی کریم ﷺ نے برکت کی دعا فرمائ ہے، اس لئے ایسا کرنے سے اموال تجارت میں بھی برکت کی قوی امید ہے۔ صخرغامدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللّٰھُمَّ! بَارِکْ لِأُمَّتِي فِي بُکُورِھَا‘‘ یعنی ’’اے اللہ! میری امت کے لئے دن کے ابتدائی حصے میں برکت ڈال دے ‘‘ اور آپؐ کو جب بھی کوئی سریہ ( فوجی دستہ) یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصے میں روانہ فرمایا کرتے تھے۔ (عمارہ بن حدیدؒ نے کہا کہ) صخرؓ ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارتی کارندوں کو دن کے اول حصے میں روانہ کیا کرتے تھے چنانچہ وہ مال دار ہوگئے تھے اور ان کی دولت بہت بڑھ گئی تھی۔ (سنن ترمذی، کتاب البیوع، بابُ مَاجَآءَ فِي التَّبْکِیْرِ بِالتِّجَارَۃِ، رقم ۱۲۱۲)۔
عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے با رے میں بھی اسی قسم کی روایت ہے کہ جب انہوں نے بنی قینقاع کے بازار میں تجارت شروع کی تھی تو ان کا معمول یہی تھا کہ وہ بازار صبح سویرے چلے جایا کرتے تھے اور تجارت کے کاموں میں مشغول ہوجایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، کِتَابُ الْمَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ، بَابُ إِخَاءِ النَّبِيِّ ﷺ بَیْنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ، رقم ۳۷۸۰)۔ آگے چل کر وہ بہت ہی مال دار ہوگئے تھے اور عرب کے بڑے تجار میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ افسوس کی بات یہ کہ آج ہم غیروں کی طرح دیر رات تک لہو و لعب میں مشغول رہتے ہیں اور صبح کو نماز اور ذکر وتلاوت سے غافل ہوکر سوتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ صبح کی نماز اور اوراد و وظائف سے فارغ ہوکر اپنے کاروبار کی طرف نکلیں، گو اس وقت کاروبار نہ ہو جب بھی اس برکت کو حاصل کرنے کی نیت سے اپنے کام پر ضرور جانا چاہیے۔
۴. حرام اشیاء کی خرید و فروخت سے اجتناب کرنا: ایک مسلمان تاجر کو چاہیے کہ وہ خود کو حلال اشیاء کی تجارت تک ہی محدود رکھے، حرام کی طرف قدم نہ بڑھائے گو مالی منفعت اس میں زیادہ نظر آئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐنے ایسی تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے سال جب کہ آپؐ مکہ ہی میں تھے ، یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’إِنَّ اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَیْتَۃِ، وَالْخِنْزِیْرِ، وَالْأَصْنَامِ‘‘ یعنی ’’بے شک اللہ اور اس کے رسولؐ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی تجارت کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔ جب آپؐ سے یہ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! مردار جانور کی چربی کے بارے میں آپؐ کی کیا رائے ہے کیوں کہ اس سے کشتیوں (کے تختوں) کو روغن کیا جاتا ہے، چمڑوں کو نرم (چکنا) کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے روشنی کرتے ( یعنی چراغ جلاتے) ہیں ؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’لَا، ھُوَ حَرَامٌ‘‘ یعنی ’’نہیں، وہ حرام ہے‘‘۔ پھر اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَھُودَ، إِنَّ اللّٰہَ (عَزَّ وَجَلَّ) لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْھِمْ شُحُومَھَا، أَجْمَلُوہُ ثُمَّ بَاعُوہُ، فَأَکَلُوا ثَمَنَہُ‘‘ یعنی ’’اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے! جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کردی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کرکے اس کی قیمت کھائی‘‘۔ (صحیح مسلم، کِتَابُ الْمُسَاقَاۃِ وَالْمُزَارَعَۃِ، بَابُ تَحْرِیْمِ بَیْعِ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالْأَصْنَامِ)۔
اس حدیث پر معمولی غور و فکر سے بھی یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جن اشیاء کی تجارت کو یہاں حرام قرار دیا گیا ہے وہ سب اسلام میں حرام ہیں، لہٰذا اس کا اطلاق ان اشیاء کی تجارت پر بھی ہوگا جن کا نام یہاں تو نہیں لیا گیا لیکن جن کی حرمت نصوص سے ثابت ہے اور جن کے حرام ہونے پر علماء امت کا اتفاق ہے، مثلاً تمام نشہ آور اشیاء، آلات غنا و مزامیر ، حرام و معصیت کے کھیلوں میں استعمال ہونے والے سامان، جھوٹے قصے کہانیاں، عشقیہ شاعری، رومانی ناول و افسانے، فحش لٹریچر اور باطل نظریات پر مبنی کتابیں، عریانیت و فحاشی کو فروغ دینے والی فلمیں اور ویڈیوز، فحش گانوں اور موسیقی کے البم وغیرہ۔ ان تمام بے ہودہ اشیاء کو قرآن کریم نے لَھْوَ الْحَدِیْث سے تعبیر کیا ہے اور ان کے خرید و فروخت اور استعمال کی سخت مذمت کی ہے کیوں کہ یہ چیزیں انسان کو دین اور فکر آخرت سے غافل کردیتی ہیں ، نیز اس کے اخلاق و کردار کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا ط اُوْلٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ)۔ (ترجمہ): ’’اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خریدتے ہیں کھیل کی ( فضول و بیہودہ) باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے (نتائج کو) بے سمجھے بوجھے اور وہ اسے ہنسی مذاق ٹھہراتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ذلت والا عذاب ہے‘‘۔ (سورۃ لقمٰن:۶)۔
اسی طرح ایسا لٹریچر اور ایسی فلمیں جو معاشرہ میں حسن پرستی، عشق بازی اور فحاشی کو فروغ دینے میں معاون بنیں، ان کی تجارت اور ترویج و اشاعت بھی اخروی عذاب کا موجب ہوسکتی ہیں کیوں کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: (اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ)۔ (ترجمہ): ’’بے شک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔ (النور:۱۹)۔ افسوس یہ ہے کہ موجودہ دور میں ایسی اشیاء اور ایسے اسباب و محرکات کا ایک سیلاب سا امڈ آیاہے جو مذکورہ برائیوں کو فروغ دے رہی ہیں اور لوگ ان میں ان کے ممکنہ نتائج اور مضمرات سے بے پروا ہوکر ملوث ہورہے ہیں بلکہ انہیں ہنسی مذاق اور تفریح کے طور پر لیتے ہیں لیکن وہی باتیں ان کے دنیوی و اخروی خسارے کا سبب بن رہی ہیں ۔
خون کی حرمت بھی نص قطعی سے ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ ۔۔الآیۃ‘‘ یعنی ’’حرام ہے تم پر مردار جانور اور خون‘‘ (المائدہ:۳)، اس لئے اس کی تجارت بھی درست نہیں گرچہ اضطرار کی حالت میں یعنی کسی کی جان بچانے کے لئے خون کا عطیہ دینا اور قبول کرنا دونوں جائز ہے بلکہ قیمت دے کر لینا بھی جائز ہے لیکن قیمت وصول کرنے والے کے لئے اس کا استعمال قطعاً جائز نہیں ہوگا کیوں کہ نبی کریم ﷺ سے خون کی قیمت لینے کی ممانعت صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ حضرت ابی جحیفہؓ سے روایت ہے: ’’نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَ ثَمَنِ الدَّمِ‘‘ یعنی ’’نبی کریم ﷺ نے کتے کی قیمت اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع، بابُ مُوکِلِ الرِّبَا)۔
اس لئے خون دینے والے کو چاہیے کہ وہ قیمت لئے بغیر صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر کسی کی جان بچانے کے لئے خون ہبہ کرے۔ ان شاء اللہ وہ سورۃ المائدۃ کی آیت ۳۲ میں دی گئی اس بشارت کا مستحق گردانا جائے گا کہ جس شخص نے کسی کی جان بچالی تو یہ ایسا ہے گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ ہاں خون کا عطیہ قبول کرنے والے یا ان کے ولی (سرپرست) کو چاہیے کہ عطیہ کرنے والے کو آمد و رفت کے اخراجات عطاکرے ، نیز ان کے کھانے پینے کا نظم کرے اور اگر ممکن ہو تو کچھ تحائف دے کر رخصت کرے تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو ۔ ظاہر ہے کہ یہ خون کی قیمت نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر یہ نہیں کیا جائے گا تو لوگ اپنے اخراجات پر کسی کو خون دینے نہیں جائیں گے اور اگر جائیں گے بھی تو انہیں گراں گزرے گا۔
ملی و فلاحی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے حاجت مندوں بالخصوص مسلمان مریضوں اور ان کے سرپرستوں کو خون کی خرید و فروخت سے بچانے اور اس کی مفت فراہمی کے لئے بلڈ بینک کے قیام پر توجہ دیں کیوں کہ آج کے حالات میں یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی انسان حالت اضطرار میں پہنچ جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی طرف سے خون کا مطالبہ ہونے لگتا ہے، اس وقت اس مریض یا مریضہ کے متعلقین کوجن پریشانیوں کا سامناکرنا پڑتا ہے اس کاادراک صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہیں ایسے حالات سے سابقہ پڑچکا ہو۔ ایسے نازک مرحلہ میں اگر متعلقہ گروپ کا خون دستیاب نہیں ہوسکا تو جب تک اس گروپ کے آدمی کو تلاشا جائے گا اور خون کے گروپ کی تصدیق کی جائے گا، اس مریض یا مریضہ کی جان چلی جائے گی۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بلڈ بینک کا قیام کیا جائے اور خون عطیہ کرنے کے لئے حالت اضطرار کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ ایک صحت مند آدمی طبی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے وقتًا فوقتًا خون کا عطیہ دیا کرے تاکہ لوگوں کو ناگہانی اور ہنگامی صورتحال میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے یا خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کوخون کا عطیہ دینے کی ترغیبیں دیں بلکہ دینی، ملی و فلاحی اداروں کو خاص خاص مواقع جیسے ۱۲؍ ربیع الاول، یوم عاشورہ (محرم کی دسویں تاریخ)، یوم جمہوریہ اور یوم آزادی وغیرہ پر خون کا عطیہ دینے کے لئے کیمپ لگانے کی راہ سجھائیں۔ ایسا کرنے سے دوسری ملتوں کے درمیان ایک مثبت پیغام جائے گا، حاجت مندوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوں گی اور مسلم نوجوانان مذکورہ مواقع پر ہونے والے کئی اقسام کے خرافات سے بھی بچ جائیں گے۔ خون عطیہ کرنے کا کوئی طبی نقصان بھی نہیں ہے بلکہ کئی فوائد ہیں جن میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جسم میں لوہے (Iron) کی مقدار کو متوازن رکھنے میںیہ عمل مددگار ہوتا ہے۔ خون کے سرخ خلیوں(RBC) کو بنانے میں جسم کو لوہے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہی لوہا جب جسم میں ضرورت سے زیادہ ہوجاتا ہے تو دل اور جگر میں جاکر جمع ہوتا ہے اور ان کی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ خون کا عطیہ دیتے رہنے سے اس کی مقدارکے بڑھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اس عطیہ کے دیگر فوائد بھی ہیں لیکن ان سب کے ذکر کا یہ موزوں محل نہیں ہے بلکہ خون کی تجارت کے تعلق سے ضمنی طور پر مذکورہ باتیں یہاں آگئی ہیں۔
اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے احقر قارئین کی توجہ اس اصول کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے جوزیر بحث ذیلی عنوان کے تحت مذکور حضرت جابر بن عبداللہؓاور حضرت ابی جحیفہؓ کی روایات سے اخذ کیا جاسکتاہے کہ کسی چیز کی قیمت حکم کے اعتبار سے اسی چیز کے تابع ہوتی ہے یعنی اگر کوئی چیز حرام ہوگی تو اس کی قیمت بھی حرام ہوگی اور اگر کوئی چیز حلال ہوگی تو اس کی قیمت بھی حلال ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان بھی موجود ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللّٰہَ إِذَا حَرَّمَ عَلٰی قَوْمٍ أَکْلَ شَیْءٍ حَرَّمَ عَلَیْھِمْ ثَمَنَہُ‘‘ یعنی ’’یقیناًاللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو ان پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کردیا ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کِتَابُ الْاِجَارَۃِ، بَابُ فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ، بروایت عبداللہ بن عباسؓ)۔
اس اصول کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو تمام طرح کی حرام اشیاء کی تجارت سے بچا جاسکتا ہے۔
۵. تجارت کے ذریعہ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں معاون بننے سے پرہیز کرنا: اسلامی تعلیمات اور تمام طریقے کی تبلیغی و اصلاحی جدوجہد کا مقصدیہ ہے کہ ایک ایسا صالح معاشرہ وجود میں آجائے جہاں برائیاں مفقود ہوں اور نیکیوں کا غلبہ ہوجائے ، کسی کی حق تلفی نہ ہو اور ہر شخص سکون و عافیت کی زندگی گزار سکے۔ ایسا معاشرہ تب تک وجود میں نہیں آسکتا جب تک اس کا ہر فرد اس مشن میں ممد و معاون نہ بنے۔ اس لئے قرآن حکیم نے اس سلسلے میں ایک واضح اصول دیا ہے: (وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَالتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ)۔ (ترجمہ): ’’اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے‘‘۔ (المائدۃ:۲)۔ اس اصول کا اطلاق تجارت کے میدان میں بھی ہوتا ہے۔ ایک تاجر کو یہ غور و فکر کرنا چاہیے کہ اس کی تجارت بلاواسطہ یا بالواسطہ گناہ کے فروغ میں مددگار تو نہیں ہورہی ہے اور اگر اسے یہ یقین ہو خریدار مجھ سے خریدی ہوئی چیز کا استعمال حرام مقاصد کے لئے کرے گا تو اس کا اس خریدارکے ساتھ معاملہ کرنا جائز نہیں ہوگا گرچہ حلال اشیاء کا ہی ہو۔ مثلاً انگور بیچنے والے کو اگر یہ یقین ہوجائے کہ خریدار اس کا استعمال شراب بنانے کے لئے کرے گا تو اس کے ساتھ اس کا تجارتی معاملہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ حَبَسَ الْعِنَبَ أَیَّامَ الْقِطَافِ حَتّٰی یَبِیْعَہُ مِمَّنْ یَتَّخِذُہُ خَمْرًا، فَقَدْ تَقَحَّمَ النَّارَ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ‘‘ یعنی ’’جس نے انگور کو اس کے توڑنے کے زمانے میں روک لیا تاکہ اسے شراب کش کو فروخت کرے تو وہ جانتے بوجھتے آتش دوزخ میں جاگھسا‘‘۔ (بُلُوغُ الْمَرَام مِنْ أَدِلَّۃِ الْأَحْکَامِ للحافظ ابن حجر العسقلانیؒ ، کتاب البیوع، بَابُ شُرُوْطِہِ وَمَا نُھِيَ عَنْہُ مِنْہُ، رقم ۷۴۹)۔
اسی طرح فتنے کے زمانے میں جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں، ہتھیار وں کا فروخت کرنا درست نہیں کیوں کہ ان کا استعمال کسی مسلمان کے خلاف ہونے کا قوی امکان ہے اور یہ گناہ پر تعاون کی ایک شکل ہے۔ امام بخاریؒ نے عمران بن حصینؓ کے سلسلے میں یہ نقل کیا ہے کہ وہ فتنے کے دور میں ہتھیاروں کے فروخت کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ’’وَکَرِہَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ بَیْعَہُ فِي الْفِتْنَۃِ‘‘ یعنی عمران بن حصینؓ نے فتنے کے زمانے میں اسلحہ کی فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع، بابُ بَیْعِ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَۃِ وَ غَیْرِھَا)۔
حرام کاروبار کے لئے جگہ فراہم کرنے یا فروخت کرنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ اگر یہ علم ہوجائے کہ خریدار اس جگہ کا استعمال غلط اور حرام مقاصد کے لئے کرے گا تو اس کے ساتھ معائدہ بیع کرنا درست نہیں ہوگا اور اگر معائدہ کے وقت اس کی نیت معلوم نہ ہوسکی اور آگے چل کر اس نے اس جگہ کا غلط استعمال شروع کردیا تو فروخت کرنے والے پر اس کا گناہ نہیں ہوگا۔ دوسرے معاملات کو بھی ان مثالوں پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ (جاری)

(رابطہ:: 9471867108)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں