139

تاشقند میں غالب اور عہدِ غالب پر سیمینار کا انعقاد


تاشقند:25/دسمبر(پریس ریلیز)
تاشقند انسٹیٹوٹ برائے مشرقیات اور لال بہادر شاستری سینٹر برائے ہندوستانی ثقافت کے باہمی اشتراک سے مذکورہ انسٹیٹوٹ میں”غالب اور ان کی اردو شاعری ” کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔سیمینار کا افتتاح ہندوستانی ثقافتی مرکز کے صدر پروفیسر چندر شیکھر نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے غالب اور عہد غالب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب کے اپنے نوشتہ خط کے مطابق ان کے اجداد شاہ عالم کے زمانہ میں دہلی گئے تھے۔ غالب کی شاعری ہمہ وقتی ، ہر دور اور ہر نسل کے خیالات کی عکاسی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ غالب ہر شخص کا دمساز و ہمراز ہے۔ انہوں نے غالب اور اسلوب غالب کی توضیح کرتے ہوئے غالب کی اردو شاعری سے کئی نمونے پیش کیے۔ اس موقع پر پروفیسر چندر شیکھر نے انسٹیٹوٹ کے جنوبی ایشیائی شعبوں کی صدر پروفیسر الفت مخیبوا جو خود ہندی کی مشہور محقق ہیں کو ایوان غالب سے شایع ہوئی کتاب “غالب اور ان کا عہد” تحفتاً پیش کیا۔
سیمینار میں ازبیکستان میں ہندی کی استاد اور مشہور محقق محترمہ تامرہ خودیجوا نے اپنے پر مغز مقالے میں ازبیکستان میں غالب شناسی کی روایت پر روشنی ڈالی ۔ اردو ادب کی استاد اورغالب شناس ڈاکٹر محیہ عبدالرحموا نے بھی تفصیل سے غالب، ان کے عہد اور ان کی شاعری پر تفصیلی گفتگو کی۔ محترمہ محیہ صاحبہ غالب کی غزلوں کو ازبیکی زبان میں ترجمہ کر چکی ہیں، جس کو لال بہادر شاستری سینٹر برائے ہندوستانی ثقافت جلد ہی شائع کرنے جارہا ہے۔
اس موقع پر مذکورہ انسٹیٹوٹ کے طلبا نے غالب کے اردو اشعار ان کا ازبکی زبان میں ترجمہ بھی سنایا۔ اس سیمینار میں شاستری اسکول اور لایسم (پری یونیورسٹی) اسکول کے مدرسین نے بھی شرکت کی۔ سیمینار کا اختتام کرتے ہوئے لعل بہادر شاستری سینٹر برائے ہندوستانی ثقافت کے صدر نے ازبیکستان میں غالب پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔

پروفیسرچندر شیکھر نے یقین دلایا کہ وہ اس ضمن میں حتیٰ الامکان کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں