156

نعت

اعظم سیتاپوری

میں نے سرکار کے قدموں میں ہی جا مانگی ہے
جان نکلے مری طیبہ میں دعا مانگی ہے

ان کی سیرت سے معطر ہی رہے گھر میرا
لائے خوش بو جو مدینے سے صبا مانگی ہے

حشر میں آپ کا دامن ہو مجھے بھی حاصل
جو گناہوں کو چھپا لے وہ ردا مانگی ہے

کامیابی وہ صحابہ کو ملی ہے جس سے
آج میں نے اسی اسوے سے وفا مانگی ہے

سر بلندی مرے آقا کے طریقوں کو ہو
میں نے رازق سے یہ محنت ہی سدا مانگی ہے

حکم سے خالی کریں پھر سے مویشی جنگل
وہ غلامانِ نبی کی ہی ندا مانگی ہے

لذتِ قرب ہے مانگی ، نہ کہ منصب کوئی
قلبِ مضطر کے لیے میں نے دوا مانگی ہے

آپ کی بات بلندی میں ثُرَیّا جیسی
کیسے سمجھوں؟ تو میں نے عقلِ رسا مانگی ہے

نور آقا کی سنن کا یہاں پھیلے اعظم
بچ سکوں میں بھی خطا سے وہ فضا مانگی ہے
*استاد جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد

کیٹاگری میں : نعت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں