80

بے روزگاری کا عفریت اور ہمارے منصوبہ ساز


ڈاکٹر منور حسن کمال
بے روزگاری کی وجوہات تلاش کرنے، اس کے نتائج برآمد کرنے اور اس کے کامیاب حل کے لیے کافی مباحثے ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل رہا ہے۔ بے روزگاری صرف ہمارے ملک کا ہی مسئلہ نہیں، بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی بے روزگاری کے سبب لاکھوں نوجوان سڑک ناپتے نظر آتے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ان ملکوں میں بے روزگاری دور کرنے کے لیے نہ صرف کوششیں کی جارہی ہیں، بلکہ چین جیسے ہندوستان سے بھی زیادہ کثیر آبادی والے ملک نے بڑی حد تک بے روزگاری پر قابو پالیا ہے اور اپنی معیشت کو جو بکھرنے کی دہلیز پر پہنچ چکی تھی، مجتمع کرکے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہمارے ملک میں بے روزگاری کے بڑھنے کی اہم وجہ اگر ایک طرف وہ نجی تعلیمی ادارے ہیں جو ناقابل قبول حد تک فیس کی خطیر رقم وصول کرکے نوجوانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں، نوجوان سبز باغ دیکھ کر خطیر رقم برائے فیس جمع کردیتے ہیں۔ حالاں کہ بعض تعلیمی اداروں میں ’روزگار سیشن‘ کے لیے بڑی بڑی کمپنیوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور وہ یہاں سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو روزگار فراہم بھی کرتی ہیں، لیکن ایسے سیشن ہر بڑے تعلیمی ادارے میں ضروری قرار دیے جانے چاہئیں۔ اگرچہ ان تعلیمی اداروں سے کامیاب ہونے والے طلبا کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوتی، لیکن چوں کہ یہ خطیر رقم خرچ کرکے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کے خواب بھی بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن بے روزگاری کا عفریت انہیں نگلنے کو بیتاب ہے۔
دوسرے نمبر پر ایسے نوجوان ہیں جو بارہویں کلاس پاس کرنے کے بعد مختلف علوم و فنون کے ڈپلوما حاصل کرکے ملازمت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے پہلی قسم کے بے روزگاروں سے زیادہ بڑے چیلنجز ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں اپنی سفیدپوشی کا بھرم رکھنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہ نوجوان جہاں بھی روزگار کے مواقع ہوتے ہیں فارم بھر کر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن چوں کہ ایسی ملازمتیں کم ہی ہوتی ہیں، جو ڈپلوما ہولڈر کو مل جائیں، اس لیے یہ نوجوان خو دکو نہایت ناکارہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ایسے بے روزگار نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے جو بھی فلاحی اسکیمیں ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ بات قطعی نہیں بھولنی چاہیے کہ روزگار آپ کے پاس چل کر نہیں آئے گا، بلکہ آپ کو اس کے لیے خود مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔ حکومتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی اسکیمیں منظرعام پر لائیں اور ایسے روزگار اور کاروبار متعارف کرائیں، جس سے اس طبقہ کے بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ پہنچے۔ ساتھ ہی حکومت کو بینکوں سے بھی کہنا چاہیے کہ وہ آسان شرح پر ایسے بے روزگار نوجوانوں کو قرض فراہم کریں اور قرض کی دستیابی کو اتنا آسان بنائیں کہ ہر نوجوان خود روزگار تلاش کرنے کے بجائے روزگار دینے والا بن جائے۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ چین جیسے کثیر آبادی والے ملک نے بے روزگاری اور معاشی بحران پر گھر گھر میں صنعت لگاکر ہی قابو پایا ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ سنگین ضرور ہے، لیکن اس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ محض انتخابی تقاریر میں ہر برس دو کروڑ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے اگر یہ سوچ لیتے کہ اس کے لیے کون سے ذرائع استعمال کیے جائیں گے اور کوئی ایسی ٹیم کی تشکیل کی جاتی جو اس امر پر غورکرتی کہ بے روزگاروں کو ملازمت کیسے اور کہاں مل سکتی ہے، تو اس سے بے روزگار نوجوانوں کا بھی بھلا ہوتا اور ملک کی اقتصادیات بھی مضبوط ہوتی۔ جب اقتصادیات مضبوط ہوتی تو ملک ترقی کے مزید اونچے پائیدان پر نظر آتا۔ لیکن ملک نے دیکھ لیا کہ ساڑھے چار برس کا عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی کوئی بے روزگاروں کے مسائل کی بات نہیں کررہا ہے۔ سبھی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں۔ ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں میں تو مباحثے کب محاذ جنگ میں تبدیل ہوجائیں، کہا نہیں جاسکتا۔
درج بالا سطور میں بتایا گیا تھا کہ بے روزگاری کا مسئلہ پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک اس پر قابو پانے کے لیے کارگرتدابیر اختیار کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے بہترین دماغ اسی مسئلے کے حل کے لیے لگادیتے ہیں، جب کہ ترقی پذیر ہندوستان جیسے ممالک مسئلہ کی سنگینی کو نظرانداز کرکے محض انتخابی جملے اچھال دیتے ہیں۔ یہی انتخابی جملے آج برسراقتدار حکومت کے گلے کی پھانس بنے ہوئے ہیں۔ اگر عوام کے سب سے سنگین مسئلے کی جانب تھوڑی توجہ دی گئی ہوتی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جاتے تو آج مرکزی حکومت اندرونی طور پر جو اس بحران کا توڑ تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، اسے یہ نہیں کرنا پڑتا۔ یوں بھی ہر ملک کے بے روزگاری کے مسائل الگ الگ ہیں۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں شرح آبادی میں اضافہ کو اس بحران کے لیے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب ان کی بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کو بھی اس کے لیے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ ملک میں افرادی قوت کثیر تعداد میں موجود ہے، نہ انہیں نکھارا جاتا ہے اور نہ کچھ مفید مشورے ہی دیے جاتے ہیں۔ سرکاری تو سرکاری ہماری نجی فلاحی تنظیمیں بھی اس طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دیتیں، جس کے سبب بے روزگاروں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں بے روزگاری کی اہم وجہ یہی ہے کہ یہاں تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے کہ دیہی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں روزگار نہ ہونے کے سبب وہ سب شہروں کی طرف رُخ کرتے ہیں اور تعلیم حاصل کرکے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ اگر دیہی علاقوں میں زراعتی زمینوں میں پیداوار کی افزودگی کے لیے ان نوجوانوں کو تربیت دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ شہروں کا رُخ کریں، بلکہ وہ اپنی زمینوں پر زیادہ پیداوار کرکے نہ صرف اپنی ضرورتیں پوری کریں گے، بلکہ شہروں میں اپنی پیداوار کی فروخت سے حاصل آمدنی کا بہتر طور پر استعمال کرسکیں گے۔ زرعی زمینوں کا ایک بڑا مسئلہ آبپاشی بھی ہے۔ حکومتیں اس طرف توجہ دیں تو کسانوں کی حالت بھی بہتر ہوگی اور وہ بینکوں سے حاصل کیے گئے قرض بھی آسانی سے ادا کرسکیں گے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کی بھی ضرورت ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومتیں بے روزگاروں کے لیے منصوبے نہیں بناتیں۔ منصوبے بنتے ہیں، لیکن صرف کاغذوں پر، حقیقت کی دنیا میں ان کا وجود نہیں ہوتا۔ انہیں زمین پر اُتارنے کی نہ کوشش کی جاتی ہے اور نہ اس کی ضرورت ہی محسوس کی جاتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اس کے لیے حکومتوں کو بینکوں کی مدد لینی چاہیے اور آسان شرح کے ساتھ فائلوں کو اِدھر سے اُدھر بھیجنے کی بجائے ان میں بند منصوبوں کو ظاہر کرنا چاہیے۔یہ شکایتیں عام ہیں کہ بینکوں سے ایک 2لاکھ روپے قرض لینے والوں کو کتنے چکر لگانے پڑتے ہیں، جب کہ کروڑوں اور اربوں روپے کا قرض لینے والوں کو ایسا نہیں کرنا پڑتا…. اور صورت حال یہ ہے کہ کئی بڑے نادہندہ بینکوں کے ہزاروں کروڑ لے کر ملک سے فرار ہیں… اور ایک دو لاکھ والوں کے گھروں کی قرقی تک کی نوبت آجاتی ہے۔
بامبے اسٹاک ایکسچینج اور سینٹرفارمانیٹرنگ انڈین اکنامی کی جانب سے جاری مارچ2018کی رپورٹ کے مطابق ملک میں بے روزگاری کا اوسط بڑھ کر 6.23فیصد ہوگیا ہے۔دیہی علاقوں میں یہ 5.95اور شہری علاقوں میں 6.76فیصد ہے۔ نوجوانوں کا ملک کہلانے والے ہندوستان کے لیے بے روزگاری کی حقیقت کی ایک تصویر یہ دیکھ لیجیے کہ اترپردیش میں چپراسی کی 368جگہوں کے لیے 23لاکھ نوجوانوں نے درخواستیں دی تھیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان میں کثیر تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، لیکن روزگار نہ ہونے کے سبب اسی ملازمت کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں