114

بے روزگاروں اور کسانوں کیلئے خوش کن اعلانات


ڈاکٹر منور حسن کمال

کانگریس نے تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں فتح کے بعد کسانوں اور بے روزگاروں کے لیے جو وعدے کیے تھے، ان کو عملی جامہ پہنا کر کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا اور بے روزگاروں کو بے روزگاری بھتہ دینے کے لیے تگ ودو شروع کردی، بلکہ راجستھان میں بے روزگاروں کو 3500روپے ماہانہ دینے کا اعلان کردیا اور اس پر عمل آوری کے اسباب بھی پیدا کیے جارہے ہیں۔ ادھر بی جے پی نے بھی اپنی حکومت والی ریاستوں میں کسانوں اور بے روزگاروں کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ آسام میں بی جے پی کی حکومت نے کسانوں کے قرض معافی کے اعلان کے ساتھ بے روزگاروں کے لیے بھی امداد کا سلسلہ شروع کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ آسام میں بی جے پی کی حکومت نے کسانوں کے قرض معافی کے اعلان کے ساتھ بے روزگاروں کے لیے بھی امداد کا سلسلہ شروع کرنے پر غوروفکر کررہی ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال ضرور سامنے آرہا ہے کہ کیا کسانوں کو قرض کی امداد اور بے روزگاری بھتہ ان دونوں سنگین مسائل کا مستقل حل ہے۔ بی جے پی کی آسام حکومت نے 600کروڑ روپے کے زراعتی قرض معاف کرنے کومنظوری دی ہے۔ اس سے ریاست میں 8لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت حکومت کسانوں کے 25فیصد تک قرض بٹے کھاتے میں ڈال دے گی، اس کی زیادہ سے زیادہ حد 25ہزار روپے مقرر کی گئی ہے اور قرض راحت منصوبہ کے تحت اب تک لیے گئے قرض سے 25فیصد کو معاف کردیا جائے گا۔ کسانوں کو قرض لینے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کی طرف راغب کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے اور دس ہزار روپے تک کی سبسڈی دینے کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ اعلانات کانگریس کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد اور ان کے کسانوں کے قرض معافی کے لیے صرف دس دنوں میں اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔
بے روزگاری اس وقت ہندوستان کا سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ دے کر انہیں کچھ وقت تک کے لیے تو بہلایا جاسکتا ہے، مستقل نہیں۔ حالاں کہ یہ مسئلہ جتنا بڑا، سنجیدہ اور سنگین لگتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ اس لیے کہ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی خود کی پیداوار ہوتے ہیں اور ان کا حل بھی حضرت انسان کے پاس ہی ہے۔ وہی ان مسائل کی الجھنوں کو سلجھا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بے روزگاری دور کرنے والے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔ انہیں فائلوں میں بند کرکے رکھ دینے یا سردخانے میں ڈالنے سے ایسے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ بے روزگاری فی الوقت عالمی مسئلہ ہے۔ یہ صرف ترقی پذیر ممالک کا ہی مسئلہ نہیں، بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہیں۔
دراصل بے روزگاری کے کئی اسباب بیان کیے گئے ہیں، پہلے ان کا حل کیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ پہلے نمبر پر آبادی میں اضافہ کو اس کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔ جب کہ امت مسلمہ کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرجاندار کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور جو لوگ مفلسی کے ڈر سے اپنے بچوں کو قتل کردیا کرتے تھے، ان کے لیے قرآن کریم میں واضح لفظوں میں باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:مفہوم: اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی…(الاسریٰ۔31) پیداوار کی غیرمنظم تقسیم اور تعلیم کا فقدان۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری بڑھنے کی وجہ بھی آبادی میں اضافہ قرار دیا جاتا ہے، اس لیے کہ کسان کی زمین تقسیم درتقسیم کے مراحل سے گزرتے گزرتے اتنی کم رہ جاتی ہے کہ کسان زمین کے حاشیہ پر پہنچ جاتا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کا ایک ہی رُخ ہے، دوسرا رُخ یہ ہے کہ ان میں اتنی تعلیم اور لیاقت نہیں ہوتی کہ وہ شہر جاکر کوئی ملازمت اختیار کریں اور اپنی کوششوں سے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ذریعۂ معاش کا سبب بنیں۔ حالاں کہ شہروں میں بھی روزگار کے مواقع محدود ہیں، لیکن جو نوجوان مختلف النواع اور کئی علوم سے واقف ہوتے ہیں، ان کے لیے روزگار کے مواقع خوب ہیں، لیکن ایسے نوجوان صرف انگلیوں پر ہی گنے جاسکتے ہیں۔ غیرتعلیم یافتہ بے روزگاروں کا مسئلہ الگ ہے۔ یہ تو صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صورت حال ہے۔ یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع ضرورت کے اعتبار سے موجودنہیں ہیں۔ حالاں کہ وزارت برائے محنت و روزگار اس سلسلے میں ہر سطح پر کوشاں رہتی ہے کہ ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے، لیکن کہیں نہ کہیں اس کی کوششوں میں جھول رہ جاتا ہے، جس کا خمیازہ بے روزگار بھگت رہے ہوتے ہیں۔
بے روزگاروں سے متعلق منصوبوں کا جہاں تک تعلق ہے یہ سلسلہ اگر دیہی علاقوں سے شروع ہو تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ وہ ہے کھیتی کو نئی تکنیک سے آراستہ کرنا، اس کے لیے دیہی علاقوں میں ایسے مراکز قائم کیے جانے کی ضرورت ہے، جہاں پر نوجوانوں کو کھیتی کی جدید تکنیک سے آراستہ کیا جائے، جس سے پیداوار میں اضافہ ہو اور کسان نوجوانوں کو ان کی پیداوار کے مناسب دام بھی ملیں۔ بے کار اور بنجر زمینوں کو کھیتی کے قابل بنانے کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹیاں بنانے کی ضرورت ہے، جب بے کار اور بنجر زمین کارآمد ہوجائے گی تو اس کی پیداوار سے کتنے گھروں میں چراغ جلیں گے، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
دوسرے نمبر پر ہے تکنیکی تعلیم۔ نوجوان تکنیکی تعلیم کے حصول کے لیے خود کو وقف کردیں اور تکنیکی تعلیم حاصل کرکے تکنیکی مراکز کھولیں اور نوجوانوں کو اس جانب راغب کریں۔ فی الوقت حکومت کی سطح پر اور نجی طور پر بھی حالاں کہ اس طرح کے ادارے قائم ہیں، لیکن ان میں داخلہ کی شرائط کسی حد تک سخت ہیں، انہیں بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ سب منصوبے ہیں، جن پر عمل کرکے روزگار کے مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج تک کوئی ایسا تعلیمی نظام دریافت نہیں کیا جاسکا، جس کو حاصل کرنے کے بعد روزگار پانا یقینی ہوجائے، لیکن محنت کو راحت ہے، اس سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں۔ تعلیم بہ ہر صورت حاصل کریں، جب ہم اسراف سے بچیں گے اور تعلیم کا حصول اپنے اوپر لازم کرلیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ کی مدد شامل حال نہ ہو، یقیناًاللہ کی مددآئے گی اور اس کی رحمت چھوٹوں بڑوں اور امیروغریب میں امتیاز نہیں کرتی۔ اس لیے جو بھی سرمایہ دار ہیں، وہ تعلیمی مراکز ضرور قائم کریں اور ان کو صرف فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ فائدہ پہنچانے کا سبب بنیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ صرف حکومت کی امداد حاصل کرنے سے زندگی نہیں گزاری جاسکتی، زندگی گزارنے کے لیے ہاتھ پاؤں چلانا ضروری ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں