168

بی جے پی کا ہندو راشٹر کے قیام کی طرف قدم


محمد عادل فریدی( امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ)
ابھی حال ہی میںموجودہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتا کے ایک جلسے میں کہا کہ ’’ دیدی کہتی ہے کہ ہم این آر سی ہونے نہیں دیں گے،میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہم ہندوستان میں ایک بھی گھس پیٹھئے کو رہنے نہیں دیں گے ،انہیں چُن چُن کر باہر نکالیں گے……یہاں شرنارتھی بھائیوں کو اکسا رہی ہو کہ آپ کو بھی جانا پڑے گا،کوئی شرنارتھی کو جانے نہیں دیں گے ، کوئی گھس پیٹھئے کو رہنے نہیں دیں گے ، یہ دونوں بات نشچت ہے یہ دونوں بات طے ہے،ممتادیدی کہہ رہی ہے کہ این آر سی آتے ہی لاکھوں لاکھوں جو ہندو شرنارتھی ہیں ان کو پچھم بنگا ل چھوڑ کر جانا پڑے گا ،مترو !اس سے بڑاکوئی جھوٹ نہیں ہو سکتا،اس سے بڑی کوئی جھوٹی بات نہیں ہو سکتی۔آج میں ساروجنک روپ (عمومی طور پر)بنگال کی جنتا کو آشوست کرنے (بھروسہ دلانے) آیا ہوں آئے ہوئے سبھی شرنارتھی ، ہندو،سکھ، بودھ ، جین ، کرشچن سبھی شرنارتھی بھائیوں کو اور وشیش کر(خاص کر)ہندو شرنارتھی بھائیوں کو آشوست کرنے آیا ہوں کیوں کہ ان کی سنکھیا بہت بڑی ہے ،کوئی بھی ہندو، سکھ ، بودھ ، جین ، کرشچن شرنارتھی جو بھار ت میں آئے ہیں ، ان کو بھارت کی سرکار بھارت چھوڑنے پر مجبور نہیں کرنے والی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار این آر سی سے پہلے سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل (CAB)لے کر آرہی ہے ،یہ سی اے بی کیا ہے، سی اے بی کا مطلب ہے کہ بھارت کے اندر جتنے بھی ہندو ، سکھ ، بودھ ، جین ، کرشچن جتنے بھی  شرنارتھی آئے ہیںان سبھی کو بھارت کی ناگرکتا (شہریت) پردان کر دی جائے گی (دے دی جائے گی)ہمیشہ کے لیے پردان کر دی جائے گی ،، ایک ایک شرنارتھی کو بھارت کا پردھان منتری بننے کا ادھیکار یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار دینے والی ہے، ایک ایک شرنارتھی کو ہم مت(ووٹ) کا ادھیکار (اختیار) دینے والے ہیں ، ناگرک(شہری )بنانے والے ہیں   ، ‘‘
اس بیان کے پہلے اور بعد میں امت شاہ کئی انٹرویو میں بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ’’ این آر سی اکیلا نہیں آرہا ہے ، ا س کے ساتھ سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل آئے گا ، ا ور پہلے اس بل کے ذریعہ تمام ہندو، سکھ، بودھ، جین اور کرشچن شرنارتھیوں کو شہریت دے دی جائے گی اور وہ این آر سی کا حصہ نہیں بنیں گے اور این آرسی صرف گھس پیٹھیوں کو نشان زد کرنے کے لیے ہو گا ۔ہندو، سکھ، بودھ جین اور کرشچن کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ انہیں کسی ڈاکو منٹ کی ضرور ت ہے ، کیوں کہ ہم ان کو بھارت کی ناگرکتا دے کر بھارت کے ناگرک کے برابر بنانے جا رہے ہیں ، نہ ان کو کوئی رجسٹریشن کرانے کی ضرورت ہے ، نہ ان کو کوئی کارڈ نکالنے کی ضرورت ہے،میں سب کو بھروسہ دلاتا ہوں کہ سی اے بی پہلے آئے گا اور سی اے بی کے بعد ہی این آر سی آئے گا۔‘‘
وزیر داخلہ کے مذکورہ بالابیان اور انٹرویوسے یہ بات بالکل ظاہر ہو گئی ہے کہ این آر سی اور سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل کے ذریعہ بی جے پی اپنا ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا ایجنڈا پورا کرنے کی طرف بڑھ چکی ہے، اور اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ این آر سی صرف مسلمانوں کے لیے ہو گی اور اس کا مقصد لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو پریشان کرنا اور ان کو ہندوستان سے بے دخل کرنا ہے ۔ہمیںاللہ کی ذات سے مکمل یقین ہے کہ ان شاء اللہ بی جے پی کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔{وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ  وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُاللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ}(سورۃ الانفال:۳۰)اور جب کافر تیرے متعلق تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تمہیں قید کردیں یا تمہیں قتل کردیں یا تمہیں دیس بدر کر دیں، وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے ۔
لیکن اس کے باوجود ’’وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَاسْتَطَعْتُم ‘‘ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنے طور پر پوری طرح سے تیار رہنا ہے اور ان سبھی کاغذات اور دستاویزات کو تیار رکھنا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنی شہریت ثابت کر سکیںاور این آر سی کے رجسٹر میں اپنا نام شامل کر وا سکیں ۔اس تمہید کے بعد ذیل میں این آر سی اور سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کا مختصر تعارف کراتے ہوئے این آرسی میں شامل ہونے کے لیے تیاری کیسے کرنی ہے اس کی وضاحت کی جا رہی ہے ۔
این آر سی کیا ہے ؟
این آر سی (NRC)یعنی قومی شہریت رجسٹر(National Register of Citizen)ایک ایسا رجسٹر ہے جو حکومت ہند کی طرف سے تیار کردہ ہے ، جس میں شہریوں کے نام اور ان کی شہریت سے متعلق دستاویزات محفوظ کیے گئے ہیں ، اصل میں یہ رجسٹر آسام کے لیے تیار ہوا تھا، لیکن جیسا کہ اوپر امت شاہ کے بیان اور انٹرویو سے واضح ہے کہ حکومت اس کو پورے ملک میں نافذ کرنا چاہتی ہے ۔ سب سے پہلا این آر سی ہندوستان میں ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کے بعد بنایا گیا تھا ، اور اس کے بعد سے اب تک اس کو اپڈیٹ نہیں کیا گیا ہے ۔ شمال مشرقی ہندوستانی ریاست آسام ہندوستان کی پہلی ایسی ریاست ہے جہاں ۱۹۵۱ء کے بعد این آر سی کی تجدیدکا کام ہوا ہے اور اس کی پہلی لسٹ جولائی ۲۰۱۸ء میں شائع کی گئی تھی ، جس میں وہاں کی ساڑھے تین کروڑ آبادی میں سے تقریبا چالیس لاکھ لوگ این آر سی سے باہر رہ گئے تھے ، اس کے بعد سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس لسٹ پر نظر ثانی کا کام شروع ہو ا اور ۳۱؍ اگست ۲۰۱۹ء کو اس کی فائنل لسٹ جاری کی گئی ہے ، جس میں تقریباانیس لاکھ لوگ این آر سی میں شامل نہیں ہو پائے ہیں ، اس میں سے بارہ لاکھ سے زائد ہندو ہیں ۔اتنی بڑی تعداد میں ہندوؤںکے این آر سی سے باہر رہنے سے بی جے پی،آر ایس ایس اور اس کے نظریات کی حامی جماعتیںبوکھلا گئی ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر  بی جے پی نے این آر سی کو ہندو مسلمان کا مسئلہ بنا دیا ہے ، اور امت شاہ سٹیزن شپ بل کے نام پر ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کا کام کر رہے ہیں۔

آسام این آر سی کا پس منظر ؟
سوال یہ ہے کہ آسام میں این آر سی کیوں ہوا؟اورکیا آسام کا معاملہ دیگر ہندوستانی ریاستوں سے الگ ہے ، ان دوسوالوں کا جواب دینے کے لیے ہمیں آسام کی تاریخ پر تھوڑی نظر ڈالنی پڑے گی ۔۱۸۲۶ء میں انگریزوں نے آسام پر قبضہ کیا ، اور پھر اس کی اقتصادی ترقی کی غرض سے مختلف ریاستوں سے اہل علم اور اصحاب فن کو آسا م بلا کر یہاں کے مختلف محکمات میں ملازمت دی ،ان میں زیادہ تر تعداد بنگالیوں کی تھی ، عام طور پربنگال کے مغربی علاقہ(جو اب ہندستان میں ہے)کے لوگ تعلیم یافتہ اور انگریزی جاننے والے تھے ، کچھ لوگ بہار(موجود ہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ)سے بھی وہاں گئے ،ان میں سے اکثر لوگ آسامیوں کے ساتھ خلط ملط ہو گئے اور آسامیوں نے انہیں قبول کر لیا، لیکن اچھی خاصی تعداد مشرقی بنگال(جو اب بنگلہ دیش ہے) کے غریب ، انپڑھ مزدوروں کی بھی تھی ، جنہیں انگریزوں نے وہاں کھیتی باڑی اور مزدوری کے کاموں کے لیے بسایا تھا ،آسامیوں کے ساتھ خلط ملط نہیں ہو پائے اور اپنی بنگالی شناخت پر باقی رہے ، انکی زبان بھی بنگالی ہی رہی ،آسامیوں نے بھی انہیں قبول نہیں کیا اور ہمیشہ باہری اور غیر ہی سمجھتے رہے ۔پھر ہندوستان کی آزادی کے بعد جب مشرقی بنگال مشرقی پاکستان ہو گیا ، اس وقت بھی ایک بڑی تعداد (جن میں سے اکثریت ہندو بنگالیوں کی تھی)ہجرت کر کے آسام کے علاقہ میں آئی ،اس کے بعد ۱۹۷۱ء میں جب پاکستان کا بٹوارہ ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، اس وقت بھی مہاجرین بنگلہ دیش سے آسام کے علاقوں میں آئے ۔لیکن آسام کے باشندوں کا لسانی بنیاد پر ان باہر سے آئے ہوئے بنگالیوں (جن میں مغربی بنگال اور مشرقی بنگال یعنی بنگلہ دیش دونوں)کے ساتھ اختلاف برقرار رہا اور انکی طرف سے برابر یہ الزام لگایا جا تا رہا کہ آسام کے وسائل پر یہ باہر کے لوگ قبضہ جمائے ہوئے ہیں ،آسام کی کئی تنظیمیںہمیشہ سرکار سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ این آر سی تیار کیا جائے اور ان غیر آسامیوں کو آسام سے نکالا جائے ، شروع میں یہ اختلاف محض لسانی بنیاد پر قائم تھا ، لیکن جیسے جیسے ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتوں کا غلبہ ہو تا گیایہ لسانی اختلاف بدل کر مذہبی اختلاف میں تبدیل ہو تا چلا گیا۔ ۱۹۷۸ء میں جب چھتیس مسلمان ایم ایل اے جیت کراسمبلی میںآئے توفرقہ پرستوں کی تلملاہٹ اور زیادہ بڑھ گئی ،۱۹۷۹ء میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین (AASU )نے غیر آسامیوں کو آسام سے نکالنے کے لیے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، یہ احتجاجی مظاہرہ  رفتہ رفتہ پر تشدد ہو تا گیا یہاں تک کے ۱۹۸۳ء میں بڑے پیمانے پر آسام میں قتل عام ہوا۔ چھ سال تک مسلسل احتجاج کے بعد ۱۵؍ اگست ۱۹۸۵ء میں حکومت ہند اور آسو و دیگر آسامی تنظیموں کے درمیان نئی دہلی میں معاہدہ ہوا جس کو آسام اکورڈ(ASSAM ACCORD) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس معاہد ہ میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین کے صدر پرفل کمار مہنتا،اور جنرل سکریٹری بھرگو کمار پھوکن، آل آسام جن سنگرام پریشد کے جنرل سکریٹری برج شرما مظاہرین کے نمائندوں کی حیثیت سے شریک ہوئے جبکہ حکومت ہند کی طرف سے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے علاوہ ہوم سکریٹری گورنمنٹ آف انڈیا آر ڈی پردھان اور چیف سکریٹری گورنمنٹ آف آسام پی پی تریویدی شامل تھے ۔
اس آسام اکورڈ کے مطابق یکم جنوری ۱۹۶۶ء کو بنیاد بنایا گیا اور طے ہوا کہ :
۱۔وہ تمام لوگ جو یکم جنوری ۱۹۶۶ء سے پہلے آسام میں آگئے بشمول ان لوگوں کے جن کا نام۱۹۶۷ء کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے وہ بدستور آسام کے شہری سمجھے جائیں گے ۔
۲۔وہ غیر ملکی جو یکم جنوری ۱۹۶۶ء کے بعد سے ۲۴؍ مارچ ۱۹۷۱ئ(کی نصف شب)تک آسام میں آئے ہیں ان کو فارنرز ایکٹ ۱۹۴۶ء اور فارنرز (ٹریبیونل) آرڈر ۱۹۶۴ء کے ضابطوں کے مطابق غیر ملکی کے طور پر نشان زد کیا جائے گا۔
۳۔ایسے نشان زد غیر ملکیوں کا نام ووٹر لسٹ سے فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیا جائے گااور انہیں اپنا نام اپنے اپنے ضلعوں کے رجسٹریشن آفس میں فارنرز ایکٹ ۱۹۳۹ء اور فارنرزرولز ۱۹۳۹ء کے مطابق رجسٹرڈ کرانا ہو گا۔
۴۔جب غیر ملکی کے طور پر نشان زد ہونے کی تاریخ سے دس سال گذر جائیں گے تو پھر ان کا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔
۵۔وہ تمام لوگ جو آسام سے پہلے نکالے جا چکے ہیں اگر وہ دوبارہ غیر قانونی طور پر آسام میں داخل ہوئے تو انہیں دوبارہ آسام سے نکال دیا جائے گا۔
۷۔وہ تما م غیر ملکی جو ۲۵؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو یا اس کے بعد آسا م میں آئے ہیں ، ان کو غیر ملکی شمار کیا جائے گا ، ان کا نام ووٹر لسٹ سے ڈیلیٹ کیا جائے گا اور انہیں آسام سے قانونی طور پر نکال دیا جائے گا۔ان غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے فوری اور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔
یہ آسام اکورڈ آسام میں نافذ ہے ، اس پر عمل ہو ر ہا ہے او ر اس کے مطابق ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء تک ۳۳۱۸۶؍ افرادکو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے ۔اسی آسام اکورڈ کے مطابق۱۹۸۵ء میں سٹیزن شپ ایکٹ ۱۹۵۵ئ؁ میں ترمیم ہوئی اور اس میں سیکشن6Aکا اضافہ کیا گیا ۔
سیکشن6Aآسام اکورڈ کے تحت آنے والے افراد کی شہریت کے سلسلہ میں ایک خصوصی پروویزن ہے ، جس کا تعلق دیگر ریاستوں سے نہیں ہے ۔آسام میں ۲۵؍ مارچ ۱۹۷۱؁ ء کو کٹ آف ڈیٹ اس لیے بنایا گیا کیوں کہ ۲۶؍ مارچ۱۹۷۱ء بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ ہے اور آسام تحریک کے علم برداروں کا الزام تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ایک بہت بڑی تعداد غیر قانونی طریقہ سے بنگلہ دیش سے آسام آگئی ہے ۔اسی لیے ۲۵؍ مارچ ۱۹۷۱ء کی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس سے پہلے آنے والوں کے لیے دوسرا ضابطہ ہو گا اور اس کے بعد آنے والوں کوسیدھے طریقہ سے بنگلہ دیشی سمجھ لیا جائے گا ۔جب کہ دیگر ریاستوں میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، اس لیے وہاں سیکشن 6Aلاگو نہیں ہو گا ، بلکہ وہاں کا معاملہ آئین ہند میں شہریت کے تعلق سے دی گئی دفعات اور سٹیزن شپ ایکٹ ۱۹۵۵ء کے مطابق عمل ہو گا۔
 آئین ہند اور سٹیزن شپ ایکٹ ۱۹۵۵ء میں شہریت کا عمومی ضابطہ کیا ہے ؟
آئین کی دفعہ ۵؍ کے مطابق آئین کے نفاذ کی تاریخ سے شہریت کا ضابطہ بیان کیا گیا ہے ، آئین کے الفاظ ہیں:
 ’’اس آئین کی تاریخ نفاذپر ہر وہ شخص بھارت کا شہری ہو گا ، جس کی بھارت کے علاقہ میں مستقل جائے سکونت ہواور
(الف)جوبھارت کے علاقہ میں پیدا ہو اتھا
(ب)جس کے والدین میں سے کوئی ایک بھارت کے علاقہ میں پیدا ہوا تھا
(ج)اس تاریخ نفاذ کے عین قبل کم سے کم پانچ سال تک بھارت کے علاقہ کا معمولاً باشندہ رہا ہو
چونکہ آزادی کے ساتھ ہی تقسیم ملک اور ترک وطن کے واقعات پیش آئے تو آئین کی دفعہ ۶؍ میں یہ ضابطہ بیان کیا گیا کہ
’’ جو کوئی بھی۱۹؍ جولائی۱۹۴۸ئ؁ سے پہلے ہندستان ترک وطن کر کے آیا ہو وہ خود بخود ہندوستان کا شہری ہو گا، اگروہ یا اس کے والدین میں سے کوئی ایک یا اس کے والدین کے والدین میں سے کوئی ایک بھارت میں پیدا ہو اتھا ۔لیکن وہ لوگ جو اس تاریخ کے بعد ہندوستان میں داخل ہوئے ان کو اپنا رجسٹریشن کرانے کی ضرورت پڑے گی۔
آئین دفعہ۷: کے مطابق اگر کوئی شخص یکم مارچ ۱۹۴۷ئ؁ کے بعد ترک وطن کر کے ہندوستان کے علاقہ سے اس علاقہ میں چلا گیا جو اب پاکستان ہے ، لیکن اس کے بعددوبارہ سیٹلمنٹ کی اجازت حاصل کر کے واپس آگیاتو اس کو بھی ہندوستانی شہریت حاصل ہو گی۔
دفعہ ۸؍ میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ہندوستان کا رہنے والا کوئی بھی شخص جو ہندستان کے باہر رہائش پذیر ہوجو خود یا اس کے والدین میں سے کوئی ایک یااس کے والدین کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستان میں پیدا ہوا ہو وہ بھی اپنے آپ کوہندوستانی سفارت/قونصل کے واسطے سے ہندوستانی شہری کی حیثیت سے رجسٹر کرا سکتا ہے ۔
 اس کے بعد ۱۹۵۵ء میں سٹیزن شپ ایکٹ بنایا گیا ۔ جس میں ۱۹۸۶ء اور ۲۰۰۳ء میں ترمیم کی گئی؛ ۱۹۸۶ئ؁ میں سٹیزن شپ ایکٹ کے سیکشن ۔۳  میں ترمیم کی گئی اور اس کی وسعت کو کم کیا گیا ،چنانچہ اس میں اس شرط کا اضافہ کیا گیا کہ جو لوگ ہندوستان میں ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ئ؁ کے بعد اور یکم جولائی ۱۹۸۷ئ؁ سے پہلے پیدا ہوئے ہوںوہ ہندوستان کے شہری ہوں گے۔ اور جو لوگ یکم جولائی ۱۹۸۷ئ؁ کے بعد اور۳؍ دسمبر ۲۰۰۴ئ؁ سے پہلے پیدا ہوئے ہیں اگر ان کی خودکی پیدا ئش کے علاوہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک ان کی پیدا ئش کے وقت ہندوستانی شہری ہوں گے تبھی وہ ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے حقدار ہوںگے۔۲۰۰۳ئ؁ کی ترمیم کے مطابق جو لوگ ۳؍دسمبر ۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہوئے ہیںوہ صرف اسی صورت میں ہندوستانی شہری ہو سکتے ہیں جب کہ ان کے ماں اور باپ دونوں ہندوستان کے شہری ہوں یا ماں باپ میں سے کوئی ایک ہندوستان کا شہری ہو اور دوسرا غیر قانونی تارک وطن نہ ہو۔
بہر حال سٹیزن شپ ایکٹ۱۹۵۵ء (ترمیم شدہ)کے مطابق کسی بھی فرد کے ہندوستانی شہری ہونے کی دو صورتیں ہیں پہلی صورت ہے سٹیزن شپ بائی برتھ(پیدائش کے اعتبار سے شہریت) اور دوسرئی صورت ہے سٹیزن شپ بائی ڈیسینٹ(نسل کی بنیاد پر شہریت)
(۱)سٹیزن شپ بائی برتھ
جو شخص بھی ہندوستان میں پیدا ہوا
(الف)۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ئ(جو کہ آئین ہند کے نفاذ کی تاریخ ہے)کو یا اس کے بعد یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے پہلے وہ ہندوستانی شہری ہے ۔
(ب)جو شخص بھی یکم جولائی ۱۹۸۷ء کو یااس کے بعد پیدا ہو ا ہے سٹیزن شپ ایکٹ (ترمیمی)۲۰۰۳ء کے نفاذ (۳؍دسمبر۲۰۰۴ئ)سے پہلے وہ اس صورت میں ہندوستانی شہری ہو گا جب کہ اس کے والدین میں سے کوئی ایک ہندستان کا شہری ہو ۔
(ج)سٹیزن شپ ایکٹ (ترمیمی)۲۰۰۳ء کے نفاذ (۳؍دسمبر۲۰۰۴ئ) کے دن یا اس کے بعد پیدا ہونے والا شخص اسی وقت ہندوستانی شہری ہو گا جب کہ اس کی پیدائش کے وقت
(i)اس کے والدین (ماں او ر باپ دونوں) ہندوستانی شہری ہوں
(ii)دونوں میں سے(ماں اور باپ میں سے)کوئی ایک ہندوستانی شہری ہو اور دوسرا غیر قانونی تارک وطن نہ ہو۔
(۲)سٹیزن شپ بائی ڈیسینٹ(نسل کی بنیاد پر شہریت)
جو شخص ہندوستان سے باہر پیدا ہو ا ہو وہ بائی ڈیسینٹ یعنی نسل کی بنیاد پر ہندوستان کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ
(الف)۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو یا اس کے بعد ۱۰؍ دسمبر سے پہلے پیدا ہوا ہو اور اس کی پیدائش کے وقت اس کاباپ ہندوستانی شہری ہو۔
(ب)۱۰؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد پیدا ہوا ہواور اس کے والدین میں سے کوئی ایک اس کی پیدائش کے وقت ہندوستانی شہری ہو۔
سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل:
مجوزہ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل۲۰۱۹ء  جس کو بی جے پی ۲۰۱۶ء میں لے کر آئی  ہے ، جس کے بارے میں امت شاہ بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ ہم اس کو این آرسی سے پہلے پاس کرائیں گے، اس کے مطابق چھ مذاہب کے لوگ ؛ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور کرسچن جو پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے ترک وطن کر کے آئے ہیں ان کو ہندوستان شہریت د ی جائے گی بغیر کسی ڈاکومنٹ یا دستاویز کے خوا ہ وہ غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان میں داخل ہوئے ہوں ،اگر وہ ہندوستان میں ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۴ئ؁ سے پہلے داخل ہوئے ہیںاور ان کو ہندوستا ن میں رہتے ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں۔حالانکہ بڑی تعداد میں آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں کی تنظیموں نے اس بل کے خلاف احتجاج کیا ہے ، کیوں کہ یہ بل غیر قانونی بنگلہ دیشی ہندو تارکین وطن کو شہریت فراہم کرتا ہے۔ابھی حال ہی ۴؍ اکتوبر کو کوہیما(ناگالینڈ)، ایٹانگر(اروناچل پردیش) اور امپھال(منی پور) میں نارتھ ایسٹ کی کئی تنظیموں نے اس بل کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا۔
آسام این آر سی میں کن دستاویزات کی ضرورت پڑی تھی ؟
آسام میں این آر سی کے تعلق سے دستاویزات جمع کرنے کے سلسلہ میں سرکار کی جانب سے جو ہدایات دی گئی تھیں اور جن کے مطابق وہاں کے لوگوں نے کاغذات تیار کیے تھے ، ان میں دو قسم کے دستاویزات جمع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لسٹ اے کے دستاویزات اور لسٹ بی کے دستاویزات؛
لسٹ A کے دستاویزات
تازہ ترین این آر سی میں کسی بھی شخص کے نام شامل کرنے کے لئے ، درخواست دہندگان کو 24 مارچ 1971( کی آدھی رات) سے پہلے جاری کردہ مندرجہ ذیل فہرست میں سے کسی ایک دستاویز کو پیش کرنا ہوگا، جس میں خودکا یا آباء و اجداد کا نام ظاہر ہو (آسام میں 24 مارچ 1971( کی آدھی رات) تک رہائش ثابت کرنے کے لئے ۔)
۱۔1951 کا این آر سی، ۲۔24 مارچ1971 کی آدھی رات تک کا ووٹر لسٹ، ۳۔   زمین اور کرایہ داری کاریکارڈ، ۴۔ شہریت کا سرٹی فکٹ، ۵۔مستقل رہائشی سند، ۶۔مہاجرین کے رجسٹریشن کا سرٹی فکٹ،  ۷۔ کوئی بھی حکومت کا جاری کردہ لائسنس / سند، ۸۔ گورنمنٹ سروس / ملازمت کا سرٹی فکٹ، ۹۔ بینک / پوسٹ آفس کا اکاؤنٹ
۱۰۔پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ۱۱۔  بورڈ / یونیورسٹی تعلیمی سند، ۱۲۔ عدالت کا ریکارڈ /کیس پروسیڈنگ
مزید برآں ، مندرجہ ذیل دو دستاویزات بھی معاون دستاویزات کے طور پر قبول کیے جاتے ہیں ،اگر مندرجہ بالا دستاویزات میں سے کسی ایک کے ساتھ ان کو منسلک کیا جائے :
۱۔شادی کے بعد ہجرت کرنے والی شادی شدہ خواتین کے سلسلے میں سرکل آفیسر / جی پی سکریٹری سرٹیفکیٹ( 24مارچ 1971کی آدھی رات سے پہلے یا بعد میں کسی بھی سال کا ہوسکتا ہے ۔)
۲۔  24 مارچ 1971 کی آدھی رات تک جاری ہونے والے راشن کارڈ کو بھی معاون دستاویزات کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے ۔
لسٹB کے دستاویزات
اگر لسٹ اے کی دستاویزات میں سے کوئی بھی دستاویز خود درخواست گزار کی نہیں ہے بلکہ اپنے آباء و اجداد یعنی والد ، والدہ ، دادا ، نانا یاپر دادایا پر نانا یا نانی یا دادی یا پرنانی یا پردادی وغیرہ کی ہے تو درخواست گزار کو لسٹ بی کے دستاویزات میں سے کوئی دستاویز جمع کرنا ہوگا۔ آباء و اجداد ، جیسے والد ، والدہ ، دادا ، نانا ،پردادا، پر نانا ، وغیرہ کے ساتھ تعلقات ثابت کرنے کے لئے منسلکہ دستاویزات جن کا نام فہرست A میں شامل کیا گیا ہے کے ساتھ ، ایسے دستاویزات ہونے چاہئیں جوقانونی طور پر قابل قبول ہوں اورجو واضح طور پر اس طرح کے تعلقات کو ثابت کرتے ہوں۔رشتہ ثابت کرنے کے لئے درخواست دہندگان کو مندرجہ ذیل فہرست B میں سے کسی ایک دستاویز کوپیش کرنا ہوگا۔
۱۔پیدائش کا سرٹی فکٹ،۲۔زمین کے کاغذات،۳۔بورڈ یا یونیورسٹی کے سرٹی فکٹ،۴۔بینک/ایل آئی سی / پوسٹ آفس کا رکارڈ،۵۔شادی شدہ عورت کے معاملہ میں سرکل آفیسر / جی پی سکریٹری کا سرٹی فکٹ،۶۔ووٹر لسٹ،۷۔راشن کارڈ، ۹۔دیگر کوئی بھی قانونی طور پر قبول کیے جانے لائق دستاویز ۔
 دیگر ریاستوں کے لیے گر چہ ابھی این آر سی کا اعلان نہیں ہوا ہے ، لیکن امت شاہ کے بیان سے یہ بات تو یقینی ہے کہ این آر سی ہو کر رہے گا اور وہ بھی صرف مسلمانوں کے لیے ہو گا ، اس لیے مسلمانوں کو خاص طور پر تیار رہنا چاہئے اور اپنے کاغذات کو آسام کے طرز پر ہی تیار کر کے محفوظ کر لینا چاہئے ، حالانکہ ابھی دیگر ریاستوں کے لیے کوئی گائڈ لائن جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن آسام کا نمونہ ہمارے سامنے ہے ۔ہاں ایک بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ دستاویزات کے تیار کرنے میں کٹ آف ڈیٹ بجائے۲۵؍مارچ ۱۹۷۱ء کے دیگر ریاستوں میںیکم جولائی ۱۹۸۷ء ہو گا۔لہٰذا تیاری کیجئے اور اوپر ذکر کیے گئے دستاویزات میں سے کم از کم تین چار دستاویزات ضرور جمع کیجئے۔اور اگر کسی تصحیح کی ضرورت ہے تو تصحیح کر ا لیجئے ، ایک بات کا خیال رکھئے کہ سبھی دستاویزات میں نام، تاریخ پیدائش، ولدیت وغیرہ ایک ہی ہوں ، فرق نہ ہو ورنہ آپ پریشانی میں پڑ سکتے ہیں ۔

Attachments area

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں