89

بی ایم کالج رہیکا میں اردو اور ہندی کے رشتے پر لیکچر کا انعقاد

مدھوبنی:شعبہ اردو بی ایم کالج رہیکا، مدھوبنی میں ”اردو اور ہندی کے باہمی رشتے“ پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا، جس میں علاقہ کے ادبا، شعرا اور مقامی اسکالرس کے علاوہ دربھنگہ اور قرب و جوار سے بڑی تعداد میں اردو اور ہندی کے ماہرین شریک ہوئے۔پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر پنکج کمار چودھری نے کی، جب کہ متعلقہ موضوع پر لیکچر صدر عالم گوہر نے پیش کیا اور انھوں نے بہت ساری مثالوں کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ اردو اور ہندی میں قواعد اور زبان اور الفاظ کی سطح پر بہت زیادہ اشتراک پایا جاتا ہے، صرف دونوں میں رسم الخط کا فرق ہے، ورنہ یہ دونوں زبانیں ایک ہی خاندان السنہ سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں میں ۰۷ فی صد الفاظ اور محاورے مشترکہ طور پر مستعمل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر موجود پروگرام کے مہمان خصوصی صدر شعبہئ اردو للت ناراین متھلا یونی ورسٹی ڈاکٹرسید محمد رضوان اللہ نے کہا کہ جس طرح ہمارے آباء و اجداد کی ایک حویلی ہوتی تھی مگر بعد میں فیملی کے ممبران میں اضافہ کی وجہ سے تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے، اسی طرح زبانوں کا معاملہ ہے کہ ہندستانی زبان ایک حویلی ہے جس کی تعمیر و تشکیل میں اردو، ہندی، مراٹھی، پنجابی، گجراتی اور میتھلی سب کا حصہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اردو ہندی سگی ایک ہی ماں کی بیٹی اور سگی بہنیں ہیں اور یہ رشتہ اب بھی برقرار ہے اور یہ رشتہ قیامت تک برقرار رہے گا۔ انھوں نے ملک و بیرون ملک اور دوسری ریاستوں میں اردو ہندی کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں زبانیں صرف ہندستان میں ہی نہیں بلکہ عرب و افریقہ اور امریکہ ہر جگہ بولی جارہی ہیں۔انھوں نے کہاکہ ہندستانی سنیما کے فروغ میں اردو اور ہندی کا اہم رول رہا ہے۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے کہا کہ اردو اور ہندی کا رشتہ بہت ہی گہرا ہے، دونوں نے ایک ہی زبان کھڑی بولی کے بطن سے جنم لیا ہے، مگر ہماری مفاد پرست سیاست نے ان دونوں کے درمیان بہت بڑی خلیج قائم کردی ہے، جس کو پاٹنے اور دونوں کو قریب لانے کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی سے پہلے ہندی اور اردو کے نام پر کوئی تنازغ نہیں تھا،ہندو اور مسلمان دونوں ایک ایسی زبان میں اپنے افکار و خیالات پیش کرتے تھے، جس کی جڑ بنیاد ایک ہی زبان پر مبنی تھی، بس دونوں کا رسم الخط الگ تھا،ایک کا دیوناگری تھا دوسری کا فارسی، مگر انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت ہندی اور اردو تنازع کا بیج بھی بودیا تھا۔ آج کے حالات میں جب کہ عالمی پیمانے پر تمام زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کر رہی ہیں اور دنیا گلوبل ولیج ہی نہیں لینگویج ولیج میں تبدیل ہوگئی ہے، اردو اور ہندی کے بیچ جو تہذیبی، ثقافتی، ادبی، علمی، تاریخی اور لسانی رشتے ہیں، اس کو نمایاں کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ تاکہ یہ دونوں اہم ہندستانی زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں، رفیق بن کر رہیں اور قوم و ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔ اس موقع پر آر کے کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر مطیع الرحمن، پروفیسر اشتیاق، بینی پٹی کالج کی صدر شعبہ اردو فرحہ معید، ادے چندر جھا، راجیش پانڈے، پروفیسر چھتیش کمار، ڈاکٹر اشوک کمار نے بھی اردو اور ہندی کے گہرے تعلقات کو تاریخی حوالوں سے نمایاں کیا اور ان دونوں زبانوں کی توسیع و اشاعت میں سرگرم کردار ادا کرنے کی تحریک دلائی، تاکہ ہمارا ملک ایک ترقی یافتہ ملک بن سکے اور یہ دونوں زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کرتی رہیں۔ اس خصوصی تقریب میں جو اہم ادبا، شعرا اور محبان اردو شریک ہوئے، ان میں قاضی محمد جاوید(صدر شعبہئ اردو مہیلا کالج مدھوبنی)، پروفیسر اشتیاق احمد، ڈاکٹر محمد مطیع الرحمن(آر کے کالج)، ڈاکٹر محمد اعجاز(جے این کالج)،ڈاکٹر محمد منہاج خان(ڈی بی کالج جے نگر)، اشرف جلیل(اردو ملازم کلکٹریٹ مدھوبنی)،ڈاکٹر ایم صلاح الدین،ڈاکٹر محمد حسین جے نگر، نعمت اللہ برہاروی،اردو تحریک کے صدرامان اللہ خان،واصف جمال(اردو ملازم پنڈول بلاک)، قاری توفیق ضیاء، عبد القادر، ماسٹر امان اللہ، ماسٹر فیروز، ہندی دیوس سماروہ کے صدر راجیش پانڈے، جمیل اختر ببلو، ڈاکٹر نور الاسلام، نسیم احمد شرماجی، سلطان شمسی، ادے چندر جھا، پروفیسر بیبھو کمار، پروفیسر اشوک کمار، پروفیسر سندیپ جیسوال، ڈاکٹر ادیتی بھارتی، ڈاکٹر رینو کماری،ڈاکٹر بچہ کمار رجک،ڈاکٹر بسنت کمار، ڈاکٹر رشی کیش، ڈاکٹر سنجیو کمار، ڈاکٹر للن کمار جھا، ڈاکٹر پرمانند لال، پروفیسر متھلیش چندر جھا، ڈاکٹر سندیپ، ماسٹر محمد صادق وغیرہ خصوصاقابل ذکر ہیں۔اس موقع پر شعبہ اردو کے تمام طلبہ اور طالبات اور ہندی کے جان کار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس پروگرام کی نظامت صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے کی، جب کہ شکریہ کی رسم انگریزی شعبہ کے صدر پروفیسر ویبھوکمار نے انجام دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں