48

بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم’’بنات‘‘ کا جشن یومِ تاسیس

راجستھان:(محسن خان) خواتین قلم کاروں کی نسائی ادبی تنظیم ’’بنات‘‘ کا پہلا یوم تاسیس ادے پور، راجستھان میں منایاگیا ۔اس جشن کا اہتمام راجستھان کی شاخ کی سربراہ ڈاکٹرثروت خاں نے انتہائی منظم طریقہ سے بحسن وخوبی انجام دیا ۔ ادے پور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اُوما شنکر مہمان خصوصی اور حیدرآباد کی نامور فکشن نگار قمرجمالی بطورمہمان اعزازی شریک تھیں۔ عذرا نقوی نائب صدر بنات نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کے تحقیقی وتنقیدی ادب کااعتراف کیاجائے اوران کی تحریروں میں امکانات کوڈھونڈاجائے۔ بنات کی سکریٹری تسنیم کوثر نے بنات کی سالانہ رپورٹ اور مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا۔ قمرجمالی نے خواتین کوآگے بڑھنے اور خواب دیکھنے کی تلقین کی۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین پروفیسر مانوحیدرآباد نے ’’بُت شکن‘‘ کے عنوان سے زینت ساجدہ کی شخصیت پربہترین مقالہ پیش کیا۔ افسانہ نگارشبینہ فرشوری نے ’’ہم کو وہم نے مارا‘‘ کے عنوان سے مزاحیہ مضمون سنایا۔ بنات کی صدر نگار عظیم نے اپنے خطاب میں کہاکہ بنات کا پہلا مقصدبہناپے کوفروغ دینا ہے ۔دوسرا ایسے ادب کی تخلیق کا فروغ ہے جو ادب زندگی اور زمین سے جڑا ہوا ہو اور بامقصد ہو۔شام کوزرعی یونیورسٹی میں غزل اکیڈیمی اودے پور اور بنات کے اشتراک سے عالمی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں حیدرآباد کی کہنہ مشق شاعرہ تسنیم جوہر اور سماجی جہد کار رفیعہ نوشین نے منتخب کلام پیش کرکے خوب داد حاصل کی ۔دیگرشاعرات آصفہ اظہار علی(علی گڑھ )نگار عظیم،عذرا نقوی(دہلی) سفینہ(دہلی) شہناز رحمت(کولکاتہ)شمشاد جلیل(پونہ) ثریا جبین ( پٹنہ) طلعت سروہا( سہارنپور) نعیمہ جعفری،سیدہ تبسم ناڈکر ممبئی نے بھی اپنے کلام سے سامعین کومحضوظ کیا ۔ مہمان خصوصی اوما شرما نے بنات کی ادبی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے مبارک باد پیش کی ۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ ہندی اور اردو کے سامعین نے گنگاجمنی تہذیب کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے سب کادل جیت لیا اورآپسی میل جول،امن وآشتی کی ایک نئی مثال قائم کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں