55

بیمار کی عیادت :ایک انسانی حق،ایک اخلاقی فریضہ

مولاناعبدالرشیدطلحہ نعمانی
خود غرضی ،مفادپرستی اورمادیت پسندی کے اس دور میں ہرطرف گہماگہمی اور نفسی نفسی کا عالم ہے ،میدان محشر کی منظر کشی کے حوالے سے جو باتیں قرآن و حدیث میں بہ کثرت ملتی ہیں، اس کی مختلف جھلکیاں آج کے اس مغرب زدہ ،انسانی اقدار سے عاری اور انسانیت سے خالی زمانے میں بھی جگہ جگہ دیکھی جاسکتی ہیں۔کہنے کو تو یہ ایک ترقی یافتہ دور ہے ؛مگردیکھاجائے تو یہاں کائنات کا ہرشخص، اپنی دنیا میں مست،اپنے نظام کار میں مگن،رشتہ داروں،پڑوسیوں اور دوست واحباب سے لاتعلق ،معاشرتی حقوق کی ادائیگی سے یکسر غافل اور اجتماعی ذمہ داریوں سے کوسوں دور ہے ۔یہ شکایت نہیں حقیقت ہے کہ جو انسان خودی سے خدا تک نہیں پہونچ سکا وہ خلق سے خالق تک کیسے پہونچ پائے گا؟؟
اسلام دینِ الفت و انسیت ہے ؛جس میں انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کے حوالے سے بھی زریں اصول اور بے نظیر احکام بیان کیے گئے ہیں ،من جملہ ان میں’ عیادت اور بیمار پرسی ‘بھی ہے ۔چوں کہ ان دنوں ملک کے طول وعرض میں کئی ایک ریاستوں سے وبائی امراض پھیلنے کی مسلسل اطلاعات موصول ہورہی ہیں ،خود ہماری ریاست تلنگانہ میں سرکاری و خانگی دواخانے بیماروں سے بھرے پڑے ہیں؛اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ اس عنوان پرکچھ روشنی ڈالی جائے ،اس فراموش کردہ عظیم سنت اور اہم ترین عبادت کی فضیلت و اہمیت اجاگر کی جائے ؛تاکہ ہم بھی دوسروں کا دکھ درد اپنے سینوں میں محسوس کریں اور انہیں دیکھ کر اللہ کی پے پناہ نعمتوں کا شکر بجالانے کی توفیق ملتی رہے ۔
عیادت کے فضائل و احکام:
عیادت کے معنی مطلق زیارت کے آتے ہیں؛لیکن اس کا مشہور اِستعمال زیارۃ المریض یعنی مریض کی زیارت کرنے کے معنی میں ہوتا ہے ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:31/76)مریض کی عیادت کا کیا حکم ہے اس بارے میں فقہاء امت کے متعدد اقوال ہیں :(1)سنّت۔ (2)مندوب۔ (3)واجب۔ (4)سنّت علی الکفایۃ۔ (5)فرض علی الکفایۃ۔راجح یہ ہے کہ اگر کوئی دیکھ بھال کرنے والا ہو تب تو سنت ہے ورنہ واجب ہے ۔ (مرقاۃ : 3/1120)شارح بخاری علّامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں :عیادت کا حکم اصل میں تو مستحب ہونے کا ہے ؛لیکن بعض اوقات بعض لوگوں کیلئے وجوب کے درجہ میں پہنچ جاتا ہے ۔(فتح الباری)
ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عیادت کرناتو اسلام کا حق ہے ؛مگر اس سے آگے بڑھ کر انسانیت کی بنیاد پربلاتفریق مذہب و ملت غیرمسلم برادران وطن کی مزاج پرسی بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں، اگراس میں تبلیغ اسلام کی نیت کرلی جائے تو پھرنور علی نور۔روایات میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ بھی ایک غیرمسلم یہودی لڑکے کی خبر گیری اور عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی،اوروہ لڑکا آپ ﷺ کی خوش خلقی سے متاثر ہوکر آپ کی بے لوث دعوت کے نتیجے میں مسلمان ہوگیا۔ (بخاری شریف)اسی طرح نبی اکرمﷺ اپنے چچا ابوطالب کی بیمار پرسی اور دعوت ایمان کے لیے بھی تشریف لے جاتے تھے ۔(بخاری شریف)
کسی بھی بیمار کی عیادت کوخود اللہ تعالیٰ کی عیادت کے مترادف بتلایاگیا،اللہ تعالیٰ کی ذات اگرچہ ہر بیماری سے پاک ہے ،اُسے کوئی بیماری و تکلیف ہر گز ہرگز لاحق نہیں ہوسکتی؛لیکن عیادت کی فضیلت اجاگرکرنے کے لیے اس طرح مثال بیان کی گئی ،چناں چہ حدیثِ قدسی میں ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا:اے ابن آدم! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی،وہ کہے گا :اے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا،اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا؛لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا،وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا:کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا؛لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا،کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا،اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا ؛لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا،وہ کہے گا:اے پروردگار!میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا :میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا؛لیکن تونے اس کو پانی نہیں پلایا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔(مسلم شریف)
ایک اور روایت میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جونبی کریمﷺکے آزاد کردہ غلام ہیں ،فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اِرشاد فرمایا: بے شک مسلمان جب اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ مستقل جنّت کی میوہ خوری میں مصروف رہتا ہے یہاں تک کہ وہ عیادت سے واپس آجائے ۔ (مسلم شریف)
مزاج پرسی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا :ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عیادت کے لیے اگر صبح کے وقت جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اُس کیلئے رحمت کی دعاء کرتے ہیں اور جنت میں اُس کیلئے ایک باغ مقرر ہوجاتا ہے ۔(ترمذی شریف)
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺکا یہ اِرشادنقل فرماتے ہیں: جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عیادت کرتا ہے یا اپنے دینی بھائی کی زیارت کرتا ہے یعنی ملنے کیلئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں:تم (دنیاو آخرت میں)خوش رہو، اور بہت اچھا رہے تمہارا چلنا اور تمہیں جنت میں ایک بڑا درجہ اور مرتبہ حاصل ہو۔ (ترمذی شریف)نیزحضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا:جوکسی مریض کی عیادت کرے اور اُس کے پاس بیٹھ جائے توجب تک وہ اُس کے پاس بیٹھے ،رحمتِ الٰہی اُس کو ہر جانب سے گھیر لیتی ہے اور جب وہ اُس کے پاس سے اٹھ کر چلا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک دن کے روزے کا اجرلکھ دیتے ہیں۔(کنزالعمال)
بیمار پرسی کے آداب:
جس طرح ہر عبادت کے کچھ ادب آداب ہوتے ہیں ،دین اسلام میں عیادت کے بھی مستقل آداب بتلائے گئے ہیں ،فی زماننا بہت سے حضرات کو عیادت کے آداب کا علم نہیں ہوتا، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بیمار کو تسلی دینے اور آرام پہنچانے کے بجائے اس کی تکلیف کا سبب بن جاتے ہیں، آنحضرتﷺ نے اپنے قول و عمل کے ذریعہ تیمارداری کے آداب بھی امت کوسکھائے ہیں، ہر مسلمان کو ان کی رعایت کرنی چاہیے :
(الف)سب سے پہلے دعاء پڑھی جائے اور خیروبھلائی کی بات کی جائے : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا تو آپﷺ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے چھوتے اور یہ دعا پڑھتے : اَذْھبِ الْبِاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ الا شِفَاءُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سُقْمًا۔۔۔۔۔۔ (بخاری و مسلم)اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار یا میت کے گھر جاؤ تو اچھی باتیں کہو، اس لئے کہ فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں جو تم کہتے ہو۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس وقت آپ بخار میں مبتلا تھے ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت آپ کو شدید بخار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخا ر ہوتا ہے ۔ میں نے کہا: کیا ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ آپ کے لئے دوہرا اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! مسلمان کو مرض یا کسی اوروجہ سے جب بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹادیتا ہے ،جس طرح درخت اپنے پتے کو گرادیتا ہے ۔ (صحیح بخاری،کتاب المرضیٰ)
(ب)مریض کے پاس کم بیٹھنا:حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ عیادت کی سنت یہ ہے کہ مریض کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا جائے اور شور کم کیا جائے ۔(مشکوٰۃ المصابیح) نیزآنحضرتﷺ نے فرمایا کہ “العیادۃفواق ناقۃ” یعنی بیمار کی عیادت بس اتنی دیر ہونا چاہیے جتنی دیر اونٹنی کو دومرتبہ دوہنے کے درمیانی وقفے میں لگتی ہے ۔ (یعنی تھوڑی سی دیر) اسی طرح حضرت سعید ابن المسیبؒ نے فرمایا کہ “افضل ترین عیادت وہ ہے جس میں بیمار پرسی کرنے والا جلدی اٹھ کر چلاجائے ۔ (مشکوٰۃ بحوالہ بیہقیؒ )ان روایات کی روشنی میں علماء نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ عیادت کرنے والا بیمار کے پاس زیادہ دیر نہ بیٹھے جس سے بیمارکو زحمت ہو۔ملا علی قاریؒ نے بعض حضرات سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ہم مشہور صوفی بزرگ سری سقطیؒ کی عیادت کو گئے اور دیر تک بیٹھے رہے ۔وہ پیٹ کے درد سے بے چین ہورہے تھے اور ہم اٹھتے نہ تھے تو، بالآخر ہم نے ان سے کہا کہ: “ہمارے لئے دعا فرمایئے تو ہم چلیں۔”اس پر حضرت سری سقطیؒ نے دعا فرمائی کہ’ یا اللّٰہ انہیں بیماروں کی عیادت کا طریقہ سکھا دیجئے ‘۔
(ج)عیادت صرف اللہ کی رضاء کیلئے کرنا: عیادت بلکہ ہر عمل کا طریقہ یہ ہے کہ اُس کو صرف اللہ کی رضا کیلئے کیا جائے ،نفسانی اغراض اور دنیاوی مصالح یا نام و نمود اور دکھلاوا ہر گز پیش نظر نہیں رکھنا چاہیئے ؛کیونکہ یہ عمل کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے :اللہ تعالیٰ اُس پر رحم فرمائے جو صبح کی نماز پڑھ کر اللہ کی رضاء و خوشنودی اور آخرت کے (بہترین انجام اور ثواب)کے حصول کیلئے کسی مریض کی عیادت کرنے کیلئے جائے تو اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں،ایک گناہ معاف کردیتے ہیں اور جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اجر و ثواب (کے سمندر)میں غرق ہوجاتا ہے ۔(شعب الایمان)
(د)مریض کو اُس کی پسندیدہ غذا کھلانا،جبکہ اُس کے لئے وہ نقصان دہ نہ ہو: بیماری کی حالت میں منہ کا ذائقہ عموماً بدل جاتا ہے اور بعض اوقات اِسی کیفیت میں مریض کا دل کسی خاص چیز کے کھانے کا کررہا ہوتا ہے ،ایسے میں دیکھنا چاہیئے کہ اگر وہ وہ چیز مریض کیلئے نقصان دہ نہ ہو اور معالج کی طرف سے اُس کا پرہیز نہ بتایا گیا ہو تو مریض کو منع نہیں کرنا چاہیے ،بلکہ کوشش کرکے کہیں سے بھی اُسے حاصل کرکے مریض کو کھلانا چاہیے ،نبی کریمﷺنے اِس کی تعلیم دی ہے :حضرت سلمان نبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : جس نے مریض کو وہ چیز کھلائی جس کی اُسے خواہش تھی ،اللہ تعالیٰ اُسے جنّت کے پھل کھلائیں گے ۔(طبرانی کبیر)
حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے کسی شخص کی عیادت کی ،آپ نے اُس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز کی خواہش ہے ؟ اُس سے کہا میں گندم کی روٹی کھانا چاہتا ہوں،آپﷺنے لوگوں سے اِرشاد فرمایا:جس کے پاس گندم کی روٹی ہو اُسے چاہیے کہ اپنے بھائی کے لئے بھیج دے ،پھر آپﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے تو اُسے کھلادینا چاہیئے ۔(ابن ماجہ)
صحابہ کا ذوق عیادت :
ہر وہ شخص جوکبھی بیماری اور پریشانی سے دوچار ہو اہووہ یہ بات بہ خوبی جانتا ہے کہ مریض ہمیشہ اس بات کا طلب گار رہتا ہے کہ اس کی دلجوئی کی جائے ، کوئی ہو جو اس کے پاس آ کر بیٹھے ، اس سے باتیں کرے ، اس کا حال پوچھے ، اس کی تیمار داری کرے ۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہؓ بڑے مشہور صحابی ہیں، ان کا گھرانہ بڑا سخی تھا، اللہ نے انہیں خوب نوازاتھا۔ بنو خزرج کے اس سردارابن سردار سے بہت سے لوگ قرض لے جاتے تھے ۔ ضرورتمند لوگ قرض لے تو لیتے ہیں؛ مگر اس کی واپسی اتنی آسان نہیں ہوتی ۔ ایک مرتبہ قیس بیمار ہو گئے ۔ اب وہ اس انتظار میں ہیں کہ لوگ ان کی تیمار داری کے لیے آئیں؛مگر بنو خزرج کے اس سردار کا گھر مہمانوں سے خالی ہے ۔ بیوی سے پوچھا: میں بیمار ہوں۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ میری تیمار داری کے لیے نہیں آئے ؟!بیوی کہنے لگی: آپ کو معلوم ہے کہ مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ سے قرض لے رکھا ہے ، ان کے وعدے گزر چکے ہیں مگر وہ قرض واپس نہیں کر سکے ۔ وہ آپ سے شرمندہ ہیں اور آپ کا سامنا کرنے سے کترارہے ہیں۔قیس کہنے لگے : اچھا! تو یہ بات ہے کہ لوگ قرض واپس نہ کرسکنے کی وجہ سے میری تیمار داری کے لیے نہیں آئے ۔ کہنے لگے : برا ہو ایسے مال کا! جو لوگوں کو میری تیمار داری سے روک رہا ہے ۔ منادی کرنے والے کو بلایا۔ اس سے کہا: جاؤ !مدینہ کے بازاروں میں اعلان کر دو کہ جو کوئی قیس بن سعد کا مقروض ہے ، قیس کی طرف سے اعلان ہے کہ ا س کا قرض معاف کیا جا تا ہے ۔اعلان کرنے کی دیر تھی کہ لوگ اتنی کثرت سے ان کے گھر تیمار داری کیلئے آتے گئے کہ گھر کے دروازے کی دہلیز ٹوٹنے کے قریب ہوگئی۔
اسی طرح ایک دن اللہ کے رسولﷺنے فرمایا: تم میں سے کون ایسا شخص ہے جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے ؟ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے ۔آپﷺنے پوچھا :آج تم میں سے کس نے کسی مسلمان بھائی کا جنازہ پڑھا ہے ؟سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! میں نے جنازہ پڑھا ہے ۔ارشاد ہوا : آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ ابوبکر صدیقؓ عرض کرنے لگے : اللہ کے رسولﷺ! میں نے آج مسکین کو کھانا کھلایا ہے ۔ آپﷺنے پوچھا کہ آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ہے ؟ ابوبکر صدیقؓ عرض کرتے ہیں: اللہ کے رسولﷺ!میں نے آج مریض کی عیادت کی ہے ۔ آپ ﷺ اپنی زبان اقدس سے یہ الفاظ ارشاد فرماتے ہیں: جس شخص میں یہ ساری خوبیاں جمع ہوجائیں وہ یقیناًجنت میں جائے گا۔(رواہ مسلم)۔
ذرا غور کیجیے ! ان خوبیوں میں سوائے روزے کے باقی ساری خوبیاں اخلاق حسنہ اور دوسروں سے حسن سلوک کی نشان دہی کرتی ہیں۔
ہماری حالت زار:
آج کل ہمارے معاشرہ میں جملہ معاشرتی حقوق ایک رسم بن کے رہ گئے ہیں۔ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو ا س کی عیادت کے لیے جانا بھی دردسر سمجھاجاتا ہے اور یوں کہاجاتاہے کہ”فلاں کو دیکھنے بھی جانا ہے ، دو دن ہوگئے وہ بیمار ہے ، وہ کہے گا کہ میں اس کو دیکھنے بھی نہیں آیا”۔ مریض کی عیادت کو نیک کام نہیں؛بلکہ ایک بوجھ سمجھ کر کیا جاتا ہے ،حالاں کہ یہ ایک انسانی حق ہے اس کی ادائیگی میں ایثار اور خندہ پیشانی کا مظاہرہ ہونا چاہیے ۔آج اجتماعی اور انفرادی دونوں طریقوں سے تیمارداری کی اس سنت کو زندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔قابل مبارک باد ہے وہ دینی اور رفاہی تنظیمیں جو اس حوالے سے سرگرم عمل ہیں؛مگر ان ہی پر اکتفا کرنا ٹھیک نہیں؛ بل کہ حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اسلام کا پیغام انسانیت لوگوں تک پہونچانا ہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔اللہ پاک ہمیں اس عظیم عبادت میں حصہ لیتے رہنے اور بہ قدر وسعت اس کو وقتاً فوقتاً انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں