120

بہار کے برساتی شعرا

ابن الحمیدی (ایم اے)
اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار کی سرزمین اردو زبان و ادب کا گہوارہ ہے اور یہاں تقریبا ہر گاؤں میں اردو کی تعلیم ہوتی ہے، اترپردیش اردو زبان وادب کے حوالے سے مشہور مانا جاتا ہے؛ لیکن وہاں کا صرف علمی طبقہ ہی اردو سے واقف ہوتا ہے، عوام زیادہ تر ہندی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، اردو سے ان کو کوئی مناسبت نہیں ہے؛ لیکن بہار کی صورتحال اس لحاظ سے بہت بہتر ہے کہ یہاں کےعوام ہندی کے ساتھ ساتھ اردو بھی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں اور اس میں بھی کوئی دو راۓ نہیں ہے کہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور اس کی ترقی میں اس زبان کے شہسواروں،شاعروں اور ادیبوں کا ایک بڑا حصہ ہے؛ لیکن اردو زبان کو زندہ رکھنے میں سب سے بڑا رول بہار کے علما،حفاظ اور مدارس کے اساتذۂ کرام کا ہے ـ
شاعروں اور ادیبوں کی حالت یہ ہے کہ جیسے ہی وہ شہرت کی بلندی پر پہنچتے ہیں یا ان کو کوئی مسند مل جاتی ہے،تو وہ اپنوں سے بیگانہ ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے سے نیچے والوں کو کیا منھ لگائیں، اپنی شاعری بگھارنے اور شہرت کی تلاش کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں رہتاـ ظاہر ہے کہ یہی لوگ اردو کو بیچ کھانے والے لوگ ہیں، ان سے اردو کی ترقی کیونکر ممکن ہے!
آج کل بہار میں گویا شاعروں کا ایک سیلاب امنڈ پڑا ہے، جس طرح برسات میں مینڈکوں کی کمی نہیں ہوتی، اسی طرح اب بہار کے گلی کوچوں میں برساتی شاعروں کی بھرمار ہے،ہر دن ہر ضلع میں کہیں نہ کہیں کوئی پروگرام، جلسہ یا مشاعرہ ہوتا ہے اور ہر جلسے اور مشاعرے میں نئے نئے شاعر نئی نئی شکلوں اور صورتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں، سر پہ ٹوپی نہیں،چہرے پر داڑھی نہیں، مگر شاعر اسلام سے چھوٹا لقب پسند نہیں کرتے، یوں لگتا ہے جیسے سب کے سب علامہ اقبال مرحوم کے خاندان سے نکل کر آئے ہیں، ادھر بیچارے سیدھے سادے لوگ ان متشاعروں اور سرقہ کرنے والے شاعروں کے ایک ایک شعر پر یوں جھومتے ہیں، جیسے ان پر کوئی وجد طاری ہو گیا ہو یا شراب کا نشہ چڑھ گیا ہو،پھر دونوں ہاتھوں کی تالی اور جیب خالی کاسماں ہوتاہے ـ صبح جب انہی لوگوں سے کہو کہ مسجد یا مدرسے کے لئے چند روپے دے دو، تو سو دینے کی جگہ پر 10 روپے میں کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اپنی غربت و افلاس کا رونا روتے ہیں ـ
بہار کی یہ صورتحال اس قدر نازک ہو چکی ہے کہ اصلاح معاشرہ اور سیرت النبی کا جلسہ ،جس میں علاقے کے بڑے بڑے علمائے کرام تشریف لاتے ہیں،ان کا بیان سننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا اور جب یہ مشاعرہ باز نعت خواں اسٹیج پر آتا ہے،تو لوگ دیوانہ وار اسٹیج کی طرف بھاگتے نظر آتے ہیں اوریوں لگتا ہے کہ دنیا میں ان سے بڑا عاشق نبی کوئی بھی نہیں ہےـ
یہ صورتحال اتنی سنگین اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے کہ اگر کسی جلسے میں کتنے ہی بڑے بزرگ کو کیوں نہ بلا لیا جائے؛لیکن اگر کوئی شاعر نہیں ہے،تو مجمع نہ کے برابر ہوتا ہے،اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضرورت ہے کہ ان برساتی شاعروں کا بائیکاٹ کیا جائے اور جلسوں کے اسٹیج کو ان سے خالی کرایا جائے، ورنہ اصلاح کی ساری کوششیں نہ صرف یہ کہ بے سود ہوتی جائیں گی؛بلکہ ایک دن دین کی بات سننے والا بھی کوئی باقی نہیں رہے گاـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بہار کے برساتی شعرا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں