45

بھاجپاکی نئی چالیں اورایس پی و بی ایس پی کا اتحاد

عبدالعزیز
راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے حالیہ اسمبلی الیکشن کو جیتنے کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس نے اپنی ساری طاقتیں لگا دی تھیں، مگر سنگھ پریوار کو تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے سنگھ پریوار کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی اور سانس رک سی گئی ہے۔ شہریت بل (Citizenship Bill) جیسے تیسے پاس کرالیا۔ بڑی ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا بل بھی پاس کرالیا، جس میں خامیاں ہی خامیاں ہیں۔ شہریت کا بل جو اب ایکٹ بن چکا ہے، دراصل فرقہ وارانہ حکومت کی فرقہ واریت کا قانون ہے، جس میں صاف طریقے سے امتیازبرتاگیا ہے۔ باہر سے جو بھی آئے گا، اسے ہندستانی حکومت شہریت فراہم کرے گی اور اس کے رہنے سہنے، کھانے پینے کا بندوبست کرے گی، سوائے مسلمانوں کے،یہ قانون ہندستان کے دستور اور سیکولر نظریے کے سراسر خلاف ہے۔
ریزرویشن کا حال تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے باقاعدہ فیصلہ کیا ہے کہ 50؍فیصد سے زیادہ نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن نہیں دیا جائے گا۔ اس فیصلے کو پس پشت ڈال کر ریزرویشن کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جن کے پاس 8؍لاکھ روپے سالانہ سے کم آمدنی ہوگی یا 5؍ اِیکڑ زمین سے کم ہوگی ،وہ ریزرویشن کے مستحق ہوگے ،جن کے پاس 8؍ لاکھ سے کم آمدنی ہوتی ہے، انھیں ٹیکس دینا پڑتا ہے اورجو لوگ ٹیکس دیتے ہیں ،ان کو کمزور یا غریب نہیں سمجھا جاتا ۔ 5؍ اِیکڑ زمین کا مطلب یہ ہے کہ بعض علاقوں میں یہ کروڑوں کی جائیداد ہوتی ہے۔ گویا بڑی ذات کے امیروں کو ریزرویشن دینے کی کوشش ہے؛ تاکہ وہ سنگھ پریوار کو 2019ء کے جنرل الیکشن میں ووٹ دیں؛ حالانکہ سرکاری نوکریاں بالکل نہیں ہیں، جو جگہیں خالی ہیں ،انھیں بھی پُر کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے؛ کیونکہ ادارے گھاٹے میں چل رہے ہیں۔ ملازمت نہیں ہے، مگر ملازمت میں ریزرویشن دینے کی کوشش کی جارہی ہے، صریحاً عوام کو بیوقوف بنانے کی ایک انوکھی سازش ہے اور اس قانون کو سنگ میل قرار دیا جارہا ہے، جو احمقانہ اور لاحاصل قسم کا قانون ہوگا۔
شہریت کے معاملے میں فرقہ پرستی اور تعصب کی بنیاد پرجوکچھ کیا جارہا ہے، وہ بھی پر واضح ہے۔ آسام میں شہریت کے بل کے خلاف ہنگامہ برپا ہے،خود بی جے پی کے اندر بھی خلفشار مچا ہوا ہے، آسام اسمبلی کے اسپیکر بھی مذمت کر رہے ہیں، بی جے پی کی اتحادی پارٹیوں نے اس کی وجہ سے علاحدگی اختیار کرلی ہے، امید ہے یہ دونوں کوششیں بی جے پی کیلئے الٹی ثابت ہوں گی اور بی جے پی کا نشانہ خطا کر جائے گا۔
تیسرا معاملہ سی بی آئی کے سربراہ آلوک ورما کا ہے ،جن پر تین ماہ پہلے رات کے اندھیرے میں حکومت نے شب خوں مارا تھا اور زبرستی بدعنوانی کا الزام عائد کرکے چھٹی پر بھیج دیا تھا، مگر سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو بحال کردیاہے، ورما نے آتے ہی ان تمام افسران کو ،جن سے بی جے پی کو رافیل کے معاملے ڈر تھا کہ وہ انکوائری کراسکتے ہیں ، ٹرانسفر کردیا تھا، سب کی منتقلی پر روک لگا دی ہے۔ اب تین بڑوں کی کمیٹی میں سی بی آئی کے سربراہ کی قسمت کا فیصلہ ہوگا، سپریم کورٹ نے فیصلہ ادھورا کیا تھا، جس کی وجہ سے ابھی بھی سی بی آئی کے سربراہ کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے، سپریم کورٹ نے وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا (یا اس کے نمائندے) اور اپوزیشن لیڈر کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی کو اختیار دیاہے کہ سی بی آئی کے سربراہ آلوک ورما پر جو بدعنوانی کا الزام عائد ہوا ہے، اس کی چھان بین کرکے کسی فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔
کل ہی سی بی آئی کے سربراہ اپنی ڈیوٹی پر آئے اور کل ہی وزیر اعظم کی طرف سے میٹنگ بلالی گئی، اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھرگے نے نریندر مودی سے گزارش کی کہ میٹنگ جمعہ کے بعد بلائی جائے ؛کیونکہ وہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھ نہیں سکے ہیں، مگر وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر کی درخواست رد کردی۔ آخر کار اپوزیشن لیڈر کو میٹنگ میں شرکت کرنی پڑی، گزشتہ روز اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ آج (جمعرات) پھر میٹنگ ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی نمائندگی جسٹس اے کے سکری کر رہے ہیں۔ کانگریس کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت آلوک ورما سے اس قدر خائف ہے کہ انھیں چین سے بیٹھنے دینا نہیں چاہتی؛ کیونکہ حکومت کو ڈر ہے کہ آلوک ورما رافیل معاملہ پر کہیں انکوائری کا آرڈر نہ دے دیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت ایک کلیت پسندانہ حکومت ہے، وہ سی بی آئی کے بغیر اپنی آمریت اور فسطائیت کا بھرپور مظاہرہ نہیں کرسکتی،اس کے ذریعے ہی وہ اپنے دشمنوں کو ڈر دکھا کر زیر کرتی رہی ہے۔
اترپردیش میں اکھلیش یادو اور مایا وتی کو سی بی آئی کا ڈر دکھایا جارہا ہے۔ خاص طور سے اکھلیش پر سی بی آئی کی تلوار لٹکا دی گئی ہے کہ اگر دونوں کی پارٹیوں میں اتحاد ہوا، تو دونوں کی خیر نہیں، کم سے کم اکھلیش کی تو بالکل خیر نہیں؛ کیونکہ اکھلیش کے بارے میں بی جے پی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ بی جے پی کے فولڈ میں آنے والے نہیں ہیں ،جبکہ مایا وتی اپنی بعض کمزوریوں کی وجہ سے بی جے پی کی بات سن سکتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر اس کی حمایت بھی کرسکتی ہیں۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان کے اسمبلی الیکشن کے موقع پر مایا وتی کو بی جے پی نے رام کرلیا تھا، جس کی وجہ سے دونوں ریاستوں میں کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکا۔ گزشتہ روز ایس پی کے نوجوانوں نے ایک جلوس نکالا ،جس میں یہ نعرہ لگایا گیا کہ مودی کے پاس گدی ہے، پیسہ ہے، بنگلہ ہے، نوکر (سی بی آئی) ہے، مگر ہمارے پاس مہا گٹھ بندھن (عظیم اتحاد) ہے۔ اتر پردیش کی سیاست کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کھیل کو بدل سکتی ہے،بی جے پی بعض وجوہ سے اس میں تو کامیاب نظر آرہی ہے کہ یوپی میں اکھلیش اور مایا وتی دونوں متفق ہیں کہ کانگریس کو اتحاد سے باہر رکھا جائے، اس کی ایک وجہ ہے، دونوں کی طرف سے یہ کہاجارہاہے کہ کانگریس اتر پردیش میں Lightweight (بے وقعت اور بے وزن) ہے، دوسری بات یہ کہ ووٹس قابل منتقل (Transferable) نہیں ہیں، ایس پی کا احساس ہے کہ 2017ء میں ایس پی اور کانگریس کا اتحاد کامیاب نہیں ہوا، کانگریس نے مدھیہ پردیش میں ایس پی کے ایک اکیلے ایم ایل اے کو اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ میرے خیال سے مایاوتی اور اکھلیش کانگریس کو باہر رکھ کر اتحاد کو کمزور کر رہے ہیں، اکھلیش کا 28سے 32 فیصد ووٹ ہے اور مایاوتی کے پاس 22سے 23 فیصد، اس طرح دونوں کے 54/55 فیصد ووٹ ہوتے ہیں اور کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوتا ہے تو 64/65 فیصد اتحاد کے ووٹس ہوسکتے ہیں۔ دونوں کی طرف سے جو اسباب بتائے جارہے ہیں ،وہ بہت بے معنی ہیں۔ اس کو نظر انداز کرکے تینوں پارٹیوں کا اتحاد ہونا چاہیے، جیسے بہار میں ہوا تھا۔
بہار میں مہا گٹھ بندھن میں کانگریس شامل تھی اور عظیم اتحاد نے بی جے پی کو شکست فاش دی تھی۔ یہی حال یوپی میں ہوسکتا ہے اور یہ بات صحیح ہے کہ یوپی کا اتحاد بی جے پی کا سارا کھیل بگاڑ سکتا ہے ،جیسے بہار میں بگاڑ دیا تھا۔ اب کوئی ایسی طاقت اپوزیشن میں ابھرنا چاہئے، جو تینوں پارٹیوں کو سمجھا بجھا کر ایک پلیٹ فارم پر لائے، کمیونسٹ پارٹیاں یہ کام کرسکتی ہیں۔ اگر وہ نہ کرسکیں، تو مسلمانوں کی تنظیموں میں سے کچھ چنیدہ افراد اس کام کو انجام دیں۔ خاص طور سے یوپی کے اندر جو لوگ مسلمانوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور دونوں کو بتائیں کہ وہ کانگریس کو اس وقت نظر انداز نہیں کرسکتے؛ کیونکہ وہ ملک گیر پارٹی ہے، اس کے بغیر ملک گیر پیمانے پر بی جے پی کو ہرانا کارے دارد! مرکز میں اس کے بغیر حکومت سازی بھی ناممکن سی بات ہے،کوئی بھی ریاستی پارٹی مدد تو کرسکتی ہے، مگر وہ اکیلے بی جے پی کا مقابلہ نہیں کرسکتی، ایک ریاست گیر پارٹی کسی بھی ملک گیر پارٹی کا بدل نہیں ہوسکتی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں