118

بوجھ جو دل پہ پڑا ہے اسے ہلکا کرلوں (جناب نیر اعظم مرحوم کی یاد میں)

٭ڈاکٹر مشتاق احمد

پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ  

  موبائل:9431414586       ای میل:rm.meezan@gmail.com

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور کسی بھی جاندار شئے کو ابدیت حاصل نہیں کہ قرآنِ حکیم کا فرمان ہے کل نفس ذائقۃ الموت(ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے)۔ا س لئے کسی کی موت پر کسی کا بس نہیں۔ لیکن انسان کو اس کے اعمال و افعال ابدیت ضرور بخشتے ہیں ورنہ تاریخ میں انسانی کردار کی ایک طویل فہرست نہیں ہوتی جنہیں دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔اسی طرح کی فہرست میں مقام حاصل کرنے والے سماجی مصلح، سیاسی مدبّر اور عظمتِ آدم کے مبلّغ جناب نیر اعظم(۵۱/ جولائی ۸۴۹۱۔۸۲/ جولائی۹۱۰۲ء) شامل ہیں۔جناب نےّر اعظم شمالی بہار کی ایک تاریخی بستی شکری، ضلع دربھنگہ (حال مدھوبنی) کے ایک زمیندار گھرانے میں ۵۱/ جولائی ۸۴۹۱ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد الحاج صوفی قادری مرحوم ایک نامور سوشلسٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے بھی سیاست میں قسمت آزمائی کی تھی لیکن ناکام رہے۔ مگر اپنے والد کی روح کو جناب نےّر اعظم نے اپنی سیاسی کامیابی سے تسکین پہنچائی۔ ان کی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن شکری میں ہوئی اس کے بعد اپنے بڑے بھائی فاروق اعظم صاحب مرحوم کے ساتھ ضلع اسکول دربھنگہ میں داخل ہوئے۔ دونوں بھائی کے قیام کے لئے دربھنگہ شہر میں بھی مکان لیا گیا اور حال تک محلہ پرانی منصفی میں ”صوفی منزل“طالب علموں کا مسکن رہا۔ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کا رخ کیا۔ وہاں ایک دہائی تک انٹر میڈیٹ سے لے کر علم سیاسیات میں ایم۔اے تک کی ڈگری حاصل کی۔ پی۔ایچ ڈی نا مکمل چھوڑ کر گھر واپس آگئے اور پھر سماجی خدمات کو اپنی زندگی کا منشور بنا لیا۔ ۷۷۹۱ء میں جے پی تحریک میں فعّال رہے لیکن اس بار اسمبلی الکشن کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ لہذا ان کے انکار کے بعد پنڈول اسمبلی حلقہ سے ایڈوکیٹ سیا رام یادو کو ٹکٹ ملا اور جے پی کی آندھی میں وہ کامیاب بھی رہے۔ ۷۷۹۱ء میں جنتا پارٹی کی مرارجی بھائی ڈیسائی کی قیادت میں حکومت تشکیل پائی اور پھر ۸۷۹۱ء میں گرام پنچایت الکشن ہوا۔ گاؤں کی اکثریت کی خواہش کے احترام میں انہوں نے مکھیا کا انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد سیاسی طورپر فعّال رہے۔ دو دہائیوں تک گرام پنچایت کے مکھیا رہے لیکن اس مدت کار میں انہوں نے علاقائی سطح پر اپنی پہچان ایک سماجی خدمت گار کے طورپر مستحکم کی۔ بالخصوص اقلیت طبقے میں تعلیمی بیداری کے لئے فعّال رہے۔ اکثر وبیشتر گردو نواح میں سماجی برائیوں اور تعلیمی بیداری کے لئے پروگرام کرتے اور گاؤں دیہات کے متمول اور تعلیم یافتہ لوگوں کو سماجی اصلاح کی دعوت دیتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عمِ محترم جب کبھی اس طرح کے جلسوں میں جاتے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے۔۲۱/دسمبر ۸۷۹۱ء کی ایک تصویر آج بھی میرے ذہن میں موجود ہے کہ انہو ں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو جمع کرکے خطاب کیا تھا اور اس وقت عصری تعلیم اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی تھی۔ حسنِ اتفاق سے وہ تصویر آج بھی میرے پاس موجود ہے جو اس مضمون کے ساتھ منسلک ہے۔ وہ نئی نسل کو اکثرشہرت پسندی سے دور رہنے اور خاموشی سے کام کرنے کی تلقین کرتے۔ وہ راقم الحروف سے بھی اکثر کہتے تھے کہ کسی بھی شعبے میں شہرت پسندی انسان کو لمحاتی خوشی دیتی ہے جب کہ خلوص نیتی اور خاموشی سے کام کرنے والے شخص کو دائمی مسرت اور مقبولیت بھی حاصل ہوتی ہے  اب جب کہ مرحوم ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ان کی فکر ونظر صد فی صد حقیقت پر مبنی معلوم ہوتی ہے کہ ان کی تین دہائیوں کی سیاسی وسماجی زندگی کے شب وروز کے دستاویز ذرائع ابلاغ میں کم ہی نظر آئیں گے لیکن ان کے سیاسی میدانِ عمل پنڈول اسمبلی حلقہ ہی نہیں بلکہ مدھوبنی اور آس پاس کے اضلاع میں بھی ایک سادہ لوح انسان اور غریب، دلت وپسماندہ طبقے کے مسیحا کے طورپر ان کی پہچان مستحکم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے آخری دیدار کے لئے ۸۲/ جولائی ۹۱۰۲ء کو میرے آبائی گاؤں شکری میں ایک انسانی سیلاب امنڈ آیا تھا۔ بقول سابق مرکزی وزیر دیوندر پرساد یادو کے ”میں نے اپنی زندگی میں سیاست میں اتنے کم سخن اور صاف گو انسان نہیں دیکھا اور آج انسانوں کا سیلاب یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ عوام الناس کے دلو ں میں کس قدر بسے ہوئے تھے“۔ سچائی یہ ہے کہ ان کے جنازہ میں جتنے لوگ صف باندھے کھڑے تھے اس سے کہیں زیادہ غیر مسلموں کا مجمع سسکیاں لے رہا تھا اور مجھے ان کی طرزِ زندگی پر کسی شاعر کا یہ شعر یاد آرہا تھا     ؎ذرا یو ں چل کہ ہر  منزل  پہ  تیرا  خیر  مقدم ہوتجھے جانا تو اے عمرِ رواں یوں بھی ہے او ر یوں بھی جنابِ نےّر اعظم اپنی طالب علمی کے زمانے میں بھی سیاسی طورپر فعّال ومتحرک رہے۔ ان کے ہم درجہ پروفیسر محمد علی کشورسابق صدر شعبہ علمِ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ اکثر کہا کرتے تھے کہ نےّر اعظم کی بدولت ہم لوگ ہاسٹل لائف کو خوب انجوائے کرتے تھے۔ ان کی وجہ سے مطبخ کے انچارج ہم لوگوں پر بھی نظرِ عنایت کرتے تھے۔ واضح ہو کہ وہ طالب علمی کے زمانے میں سرسید ویسٹ میں رہتے تھے اور اس زمانے میں فوڈ انچارج منتخب ہوتے تھے۔ ان کے دوستوں میں پروفیسر محمدعلی کشور اور ممتاز احمد (بھوجپوری فلم اداکارناظر حسین کے صاحبزادہ)انہیں ہمیشہ فوڈ انچارج بنوا دیتے تھے۔جب کبھی علی گڑھ جاتے اپنے ہم جماعت دوست پروفیسر محمد علی کشور سے ملنے ضرور جاتے۔ عمِ محترم کے ساتھ زیادہ تر سفر میرا رہا۔ وہ علی گڑھ کے دنوں کو یاد کرکے نہ صرف ہم لوگوں کو یہ درس دیتے کہ وہاں کا تعلیمی ماحول کیا تھا بلکہ یہ تلقین بھی کرتے کہ اپنے ادارو ں میں اس طرح کی ماحول سازی کرو۔ وہ قومی سیاست میں آنجہانی چندر شیکھر سنگھ سے بہت قریب رہے۔ اس لئے ۵۸۹۱ء میں ان کے کہنے پر ہی نہ چاہتے ہوئے بھی پنڈول اسمبلی حلقہ سے کھڑے ہوئے اور ناکام رہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسمبلی انتخاب کی پرچہئ نامزدگی کی آخری تاریخ تھی اور حکم دیو نرائن یادو جو اس وقت جنتا پارٹی کے سرکردہ لیڈر تھے وہ سمبول لے کر آئے اور انہیں امیدواری قبول کرنے کی بات کہی اور آنجہانی چندر شیکھر سنگھ کا خط بھی حوالے کیا۔ وہ فوراً تیار ہوئے اور پروفیسر بیدناتھ یادو، شری رام دیو یادو پرمکھ اور رام کرن یادو موہن پور سے مشورہ کرکے پرچہئ نامزدگی داخل کیا۔ ظاہر ہے کہ انتخاب کی کوئی تیاری نہیں تھی لہذا وہ کانگریس کے امیدوار کمد رنجن جھا سے انتخاب ہار گئے۔ لیکن اس ہار کے بعد انہو ں نے پنڈول حلقہ کو اپنا سیاسی میدانِ عمل بنا لیا۔ مسلسل عوام کے رابطے میں رہتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۰۹۹۱ء میں جنتا دل کی تشکیلِ نو کے بعد پھر انہیں امیدوار بنایا گیا۔بد قسمتی سے اس بار محض۴۱سو ووٹوں سے ناکام رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس وقت کے ضلع کلکٹر گنگا دھر جھا نے جبراً ہروایا تھا۔مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور عوام الناس کے درمیان مخلصانہ سیاسی وسماجی خدمات انجام دیتے رہے جس کا صلہ یہ ملا کہ۵۹۹۱ء سے لے کر ۵۰۰۲ء تک مسلسل تین بار  اسمبلی انتخاب میں کامیاب رہے۔ عوام الناس میں انہیں ”ہیٹرک ودھایک“ کہا جاتا تھا۔  وہ اپنے اسلافِ قدیم کی وضع داری کے روشن چراغ اور نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ تھے۔ وہ سماج میں حاشیائی افراد کے ہم نوا تھے اور عصری سیاست جس کی گنگا مکّار اور ابن الوقت سیاست دانو ں کے پاپوں سے میلی ہو چکی ہے اس دورِ آزمائش میں بھی وہ ایک بے داغ کردار کے مثالی سیاست داں رہے۔ مرحوم دو دہائی تک شکری جیسی کثیر الآبادی تاریخی پنچایت کے مکھیا رہے او رتین بار بہار قانون ساز اسمبلی کے معزز رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں لیکن پٹنہ میں اپنے لئے ایک گھر تک نہیں بنا پائے۔ بلکہ جب بھی انتخاب لڑتے اپنے موروثی زمین وجائیدار کو فروخت کرکے لڑتے۔ ان کی تیس سالہ فعّال سیاسی زندگی آئینے کی طرح شفاف ہے۔ عوام الناس میں ان کی یہی شناخت ان کو سیاسی معراج معراج بخشتی رہی۔ وہ ایک سماجی مصلح ومفکر تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ صرف سیاسی تبدیلی سے سماجی انقلاب نہیں ہو سکتا بلکہ ان کی فکر تھی کہ ہندوستان کی سماجی تصویر کو بدلنے کے لئے سماجی اصلاحی تحریک ضروری ہے۔ وہ نئی نسلوں کو جب کبھی خطاب کرتے تو کہتے ”سرسید، مولانا آزاد اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کی فکر ونظر سے استفادہ کرو“۔چوں کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروردہ تھے اس لئے ان کے ذہن ودل میں سرسید احمد خاں کا نظریہ حیات رچا بسا ہوا تھا۔ اس لئے سماج میں تعلیم اور سماجی برائی بالخصوص مسلم معاشرے میں جو غلط رسم ورواج اور غیر شرعی روشیں عام ہیں اس کی اصلاح کے لئے بھی کوشاں رہتے تھے اور فکر مند بھی۔ مرحوم ایک ملنسار اور ہمدرد خلائق انسان تھے۔ وہ انسانیت کی بے غرض خدمت کرنے میں یقین رکھتے تھے۔یہ ذکر آچکا ہے کہ وہ ایک زمیندار خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ لیکن کبھی بھی وہ ”پدرم سلطان بود“ کی ذہنی بیماری کے شکار نہیں رہے۔ وہ ایک کشادہ ذہن اور انسان دوست انسان تھے۔ یہاں ایک مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ۸۹۹۱ء کی بات ہے، عید کا دن تھا ہم لوگ عید ملن میں مگن تھے۔ اچانک انہیں یاد آیا کہ لوہٹ مِل کے پاس امیت ڈانگر کی بیٹی کی شادی ہے۔ انہو ں نے مجھے ساتھ لیا اور چل پڑے۔ مجھے لگا کہ وہ آس پاس کے گاؤں میں لوگوں سے ملنے جائیں گے جو ان کی روش تھی۔ راستے میں بتایا کہ انہیں لوہٹ مِل جانا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ اس غریب نے ایک ماہ پہلے ہی کہا تھا کہ اس کی بیٹی کی شادی ہے، میں نے وعدہ کیا تھا کہ عید میں گھر آؤں گا تو ضرور شامل رہوں گا۔ واضح ہو کہ ڈانگر ایک خانہ بدوش قبیلہ ہے جو وہاں آباد ہے۔ مرحوم جب وہاں پہنچے تو ڈانگر قبیلے کے لوگوں کے اندر جو میں نے خوشی دیکھی وہ میری زندگی کا ایک سنہری یادگار پل ہے۔ اپنے گاؤ ں میں بھی چلتے پھرتے رکشے والے، ٹھیلے والے اور مزدورودلت طبقے کے لوگوں کو اپنے پاس بلاتے اور سامنے والی کرسی پر بیٹھاتے۔ ان کی خیریت پوچھتے، ان کے مسائل سے روبر و ہوتے اور پھر اس کے لئے حتی المقدور کوشش کرتے۔ ان کی زندگی میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گاؤ ں کے مکھیا تھے تب بھی او رایم ایل اے ہوئے تب بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایم ایل اے ہونے کے بعد بھی اکثر لوگ انہیں مکھیا جی کہہ کرہی مخاطب کرتے اور وہ اپنی انوکھی مسکراہٹ سے ان کا خیر مقدم کرتے۔ گاؤ ں میں جب کبھی ہوتے شکری چوک پر رحمان بھائی کی کپڑے کی دکان اور نتھونی ٹیلر مرحوم کی معمولی چوکی پر جا کر بیٹھتے۔ رحمان بھائی مرحوم فوراً کرسی کا انتظام کرتے اور پھر دیکھتے دیکھتے وہاں ایک بھیڑ لگ جاتی۔ مگر اس بھیڑ میں اکثریت چوک پر رکشہ اور ٹھیلا چلانے والے اور چھوٹی موٹی دکانداری کرنے والے لوگو ں کی ہوتی۔ بلکہ اکثر وہ کسی رکشہ والے سے کہتے کہ تم چائے پلاؤ۔گرچہ وہ چائے کا پیسہ خود دیتے مگر کہتے کہ میرے اس جملے سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ کبھی کسی کی باتوں کا برا نہیں مانتے بلکہ ان کی اس خصوصیتِ عظمتِ آدم سے ہم ناراض بھی ہوتے کہ وہ لوگ جو الکشن میں ان کی مخالفت کرتے، نتائج ان کے خلاف ہوتا مگر ہارنے کے دوسرے دن ہی اس شخص کو جو محض ایک دن پہلے ان کے خلاف گاؤں میں مہم چلاتا تھا اسے بیٹھا کر چائے پلاتے۔ ان کے اس عمل کو دیکھ کر ان کے حامیوں میں ناراضگی بھی ہوتی مگر وہ کہتے کہ انتخابی سیاست الگ چیز ہے اور سماجی سروکار الگ معنی رکھتی ہے۔ ہمیں کبھی صرف اپنے مفاد کے چشمے سے لوگوں کو نہیں دیکھنا چاہئے۔  حالیہ ایک سال سے شدید تنفس کے شکار تھے۔ اس لئے پٹنہ میں ہی ایک کرایے کے مکان میں رہتے تھے۔ عزیزی شاداب اعظم، امتیاز اعظم اور کاشف اعظم سلمہٗ ہر وقت ان کی تیمارداری میں کھڑے رہے۔ دونوں بیٹیاں نگارؔ اور بے بی بھی چوں کہ پٹنہ میں رہتی ہیں تو انہوں نے بھی اپنے ابو کی خوب خوب خدمت کی۔ ابھی ایک ماہ پہلے جب میں ایک نرسنگ ہوم میں ان سے ملنے گیا تھا تو دیر تک میرا ہاتھ پکڑے رہے، بہت دیر کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اب بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ پھر خاموش ہوگئے۔ میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا ہے کہ نئی دوا چل رہی ہے آرام مل جائے گا۔ پھر اپنی عادت کے مطابق زندگی سے جنگ لڑنے کا حوصلہ دکھاتے ہوئے بولے کہ ڈاکٹر کا تو کام ہی یہی ہے وہ اور کیا کہیں گے۔ رخصت ہوتے وقت میں نے کہا کہ بہت جلد ٹھیک ہو جائیے گا۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے، بچوں کا حال پوچھا خصوصی طورپر میرے چھوٹے بیٹے علی داور جسے وہ بہت پیار کرتے تھے اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کی۔ میں نے کہا کہ اب وہ سکنڈ ایم بی بی ایس میں چلا گیا ہے، بہت خوش ہوئے۔ الحمد للہ دو تین دنوں کے بعد وہ گھر واپس آگئے اور حسبِ معمول صبح سویرے ان کا فون آیا۔ بولے اب کلکتہ سے امتیاز نے ایک دوا منگائی ہے اس سے بہت افاقہ ہے۔ میں نے کہا کہ انشاء اللہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ چھٹی ملتی ہے تو آتا ہوں۔ اپنی مخصوص آواز میں بولے ہا ں ہاں آپ لوگ اتنے مصروف ہیں کہ مجھے چھٹی کے دن ہی مرنا ہوگا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ ان کی یہ بات صد فی صد حقیقت پر مبنی ہے۔شومیئ قسمت کہ ان کا انتقال بھی ۸۲/ جولائی بروز اتوار کو ہی ہوا۔ محض ایک ہفتہ قبل چچی عطیہ نےّر (بیگم نےّر اعظم مرحوم) کا فون آیا اور انہوں نے پھر طبیعت بگڑنے کی بات کہی۔ مگر اس دن کے بعد وہ کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔روز بہ روز حالت بگڑتی چلی گئی اور آخر کار آئی جی ایم ایس کے آئی سی یو میں انہوں نے ۸۲/ جولائی ۹۱۰۲ء کی شب میں اس دنیا ئے فانی کو الوداع کہہ دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ علی گڑھ تہذیب وتمدن کے علمبردار تھے۔ مطالعے کا ذوق اس قدر تھا کہ اخبار ورسائل کے علاوہ اپنی پسند کی تازہ ترین کتابیں دیر رات تک پڑھتے میں جن دنوں مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کر رہا تھا ان دنوں اکثر کرنٹ افئیرس پر مبنی کتابیں لے کر میرے حوالے کرتے۔اردو اخبار جب تک نہیں پڑھتے چین نہیں آتا بلکہ آخری وقت تک اردو اخباروں کا مطالعہ ان کے لئے ناگزیر ہوتا۔ اگر کبھی اردو اخبار ناغہ ہو جاتا تو اپنے ملازم رام بابو کو کئی بار بازار بھیجتے کہ اردو اخبار لے کر آؤ۔ رام بابو ان کا منہ بولا ملازم ہے۔ دو دہائیوں سے اس نے جو خدمت کی ہے وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ وہ شکر گذاری کا مستحق ہے۔ اپنے گاؤ ں میں جب تک رہے یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے موقع پر مشاعرے کا اہتمام کراتے۔ استاد شاعر مہرؔ شکروی، ڈاکٹر عباس سرور،فاروق اعظم مرحوم، احمد اللہ تاثیر، علیم اکیلا، محمد یسٰین، ابوالقیس قیصر، ابو شمع، ضیاء الرحمن ضیا، ڈاکٹر مقبول بیمارؔ اور گردو نواح کے شاعر بھی وقتاً فوقتاً اس میں شامل ہوتے۔انجنئیر غیاث الدین اور ہمارے کئی ہم عمر اس طرح کی مجلسوں کے اہتمام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔وہ اکثر کہتے کہ جس معاشرے میں ادباء اور شعراء کی قدر نہیں ہوتی وہ معاشرہ پژمردہ ہو جاتا ہے۔ انہیں بے شمار اشعار یاد تھے۔ بالخصوص اقبالؔ، مجازؔ لکھنوی، جذبیؔ، جوشؔ، فیض ؔاور اپنے عہد کے علی گڑھ کے کئی اساتذہ کے اشعار بھی انہیں ازبر تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں