371

بند کمرے کا وعدہ


کاشف شکیل
ابھی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوئے کوئی ایک دو ماہ ہوا تھا، مگر ایسا لگ رہا تھا کہ پچھلے چھ جنموں سے دونوں کا یارانہ ہے، ابھی دونوں نے ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھی تھیں، مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنے خوابوں میں پہچان لیتے تھے۔
موبائل فون نے دل سے دل تک راہ بنا دی تھی، صبا کو احسان سے جنون کی حد تک عشق ہوگیا تھا، صبا دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، اس کی آمد و رفت پر گھر والوں کی کڑی نگاہ تھی اور اس کے جملہ معمولات پر والدہ کا سخت پہرہ رہتا تھا۔ احسان نے اسے بارہا کسی ہوٹل یا پارک میں ملنے کے لیے بلایا ،مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ احسان کی طرف سے صبا کو دیکھنے کا اصرار روز افزوں زور پکڑ رہا تھا۔ صبا بھی احسان کو من ہی من اپنا مان چکی تھی اور اس کو مزید ٹالنا نہیں چاہتی تھی۔ آخر کار اپنی ایک سہیلی سے ملنے کے بہانے گھر سے اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ حسبِ وعدہ وہ پیراڈائز ہوٹل کے روم نمبر 140؍ میں پہنچی، جہاں احسان پہلے سے ہی اس کا منتظر تھا۔ احسان بڑے تپاک سے ملا اور وہ بھی اس سے چمٹ گئی، پھر سرگوشیوں میں باتیں شروع ہوئیں اور ساتھ جینے مرنے کا وعدہ ہوا، احسان نے اس سے نکاح کرنے کی قسم کھائی۔ صبا نے اپنا وجود اس کے حوالے کردیا، پھر سانسوں میں گفتگو اور جذبات کی طغیانی، بعدہ وہ ہوا جسے خود فراموشی یا خدا فراموشی کہتے ہیں۔
صبا کا جسم ٹوٹ رہا تھا، احسان نے اس کو سنبھالتے ہوئے کہا: ’’رکو! میں تمہارے لیے کافی لاتا ہوں‘‘۔
ایک گھنٹہ گزر گیا، مگر احسان نہ آیا، صبا نے اس کے نمبر پر فون لگایا ،تو دیکھا کہ شکن آلود بستر پر ایک پرانا موبائل رنگ ہو رہا ہے اور اس کے نمبر کے ساتھ ’’پانچویں آئٹم‘‘ لکھا ہواہے۔
پھر یکے بعد دیگرے بستر کی ساری شکنیں صبا کی پیشانی کی انمٹ شکن بن گئیں اور اس کے آنسو اس کی بکھری لپ اسٹک صاف کر رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “بند کمرے کا وعدہ

اپنا تبصرہ بھیجیں