129

بنام شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی دام ظلہ

فضیل احمد ناصری

قیامت بن کے آخر گر پڑا چاکِ رفو تیرا
پڑا ہے خاک و خوں میں شیخِ ملت! پھر عدو تیرا

رہیں گے سارے ابنائے سبا خوار و زبوں پیہم
بجے گا یوں ہی ڈنکا تا قیامت چار سو تیرا

فلک پھر اس قدر روتا کہ انگارے برس پڑتے
زمیں کا سینہ شق ہوتا جو بہہ جاتا لہو تیرا

ہمالے کی بلندی بھی تری رفعت پہ نازاں ہے
جو سچ کہیے تو حیرت خیز ہے ذوقِ نمو تیرا

کلہ رکھتا نہیں گرچہ ، مگر سلطانِ عالم ہے
عجم کی ہر روش تیری، عرب کا کو بہ کو تیرا

نہ کیوں ہو خَلق کی اک بھیڑ تیرے بادہ خانے میں
سدا ہی ہفت رنگی مے لٹاتا ہے سبو تیرا

ترا علم و قلم سرمایۂ اسلامِ برحق ہے
سراپا دین ہے خلوت کدے کا رنگ و بو تیرا

متاعِ زندگی ٹھہری حدیثِ دردِ دل تیری
بنا اک رہبرِ کامل طریقِ جستجو تیرا

جھکا دیتی ہے تیری ہر ادا تیرے حریفوں کو
شہد سے بڑھ کے ہے رس دار طرزِ گفتگو تیرا

ترے اس *ناصری* شاگرد کا ایقانِ محکم ہے
رہے گا حشر تک روشن چراغِ آرزو تیرا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں