58

بزم صدف کی ادبی و علمی کارکردگی قابل قدر


دوحہ قطر میں بزم صدف کے زیر اہتمام بین الا قوامی سیمینار ،تقسیم ایوارڈتقریب اور محفل مشاعرہ منعقد
دوحہ قطر:31/دسمبر(پریس ریلیز)
کم مدت کے باوجود بزم صدف کی ادبی و علمی کارگزاریاں عالمی طور پر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہیں خاص طور پر سے مہجری ادب کی شناخت اور اردو کی نئی بستیوں میں مقیم افراد کی ادبی اور علمی سرگرمیوں سے اردو دنیا کو روشناس کرانے کے لئے بزم صدف کی سرگرمیاں متاثر کن ہیں۔یہ باتیں ڈی پی ایس آڈیٹوریم، واکرہ،قطر میں منعقدہ بزم صدف انٹرنیشنل کے عالمی سیمینار، ایوارڈ تقریب اور مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

بزم صدف کے سرپرست اعلی جناب محمد صبیح بخاری کی صدارت اور معروف شاعر جناب احمد اشفاق کی نظامت میں ایوارڈ تقریب اور سیمینار کا آغاز قاری سیف الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے گفتگو کرتے ہوئے بزم صدف کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے مختلف ادبی تنظیموں اور اداروں کی موجودگی میں بزم صدف کے کام کرنے کے نئے انداز اور نئے اہداف ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم عالمی طور پر اردو زبان کے حوالے سے مختلف طرح کے کام انجام دے رہی ہے، دس ممالک میں اسکی باضابطہ شاخیں سرگرم ہیں۔ ایک بین الاقوامی رسالہ صدف کی گزشتہ چار برسوں سے اشاعت ہو رہی ہے ،جس میں پندرہ ملکوں کے اردو شعرا وادبا چھپ چکے ہیں، مختلف مصنفین کی ایک سو سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور دوحہ قطر اور ہندوستان میں ۲۵ سے زیادہ عالمی سیمینار اس ادارے نے منعقد کیے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں جاوید دانش،مجتبی حسین اور ۲۰۱۸ء میں باصر سلطان کاظمی کو بین الاقوامی ایوارڈ پیش کئے گئے اور نئی نسل ایوارڈ ڈاکٹر واحد نظیر، عشرت معین سیما اور ۲۰۱۸ء میں ڈاکٹر راشد انور راشد کو پیش کئے گئے۔
محمد صبیح بخاری نے اپنے خطبۂ صدارت میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اتنی قلیل مدت میں بزم صدف نے اپنی علمی سرگرمیوں سے ایک عالم کو حیرت میں ڈال رکھا ہے کیونکہ یہ صرف دوحہ قطر میں ہی سرگرم نہیں ہے، بلکہ ہندوستان اور دوسرے ممالک بھی اس ادارے کی سرگرمیاں جاری ہیں، انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ بزم صدف کا ایک عالمی پروگرام ہرسال دوحہ قطر میں لازمی طور پر ہوگا۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جناب حسن عبدالکریم چوگلے نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بزم صدف کے دوحہ،بمبئی اور پٹنہ کے عالمی پروگراموں میں وہ شریک رہے ہیں اور انہیں بزم صدف کی سرگرمیوں سے پورے طور پر واقفیت ہے، انہوں نے بزم صدف کے اہالیان کو یہ مشورہ دیا کہ اردو تعلیم کے شعبے میں بھی اس بزم کو اپنی خدمات انجام دینی چاہئے کیونکہ جب تک اردو پڑھنے والوں کی تعداد نہیں بڑھے گی، تب تک شعرو ادب کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے جناب عظیم عباس بھی شریک بزم تھے اور انہوں نے بزم صدف کی ان کوششوں کو خاص طور سے سراہا کہ یہ دور دراز کے علاقوں میں ادبی تقریبات کا انعقاد کر کے ہماری زبان کے لئے ماحول سازی کا کام انجام دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو کے لئے نئے نئے علاقوں میں پہنچنا اور تعلیمی و ادبی سرگرمیاں قائم کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور بزم صدف اس کام کو انجام دے رہی ہے۔
بزم صدف کے چئر مین جناب شہاب الدین احمد نے دوحہ قطر اور عالمی طور پر بزم صدف کے ساتھ تعاون کرنے والے ادیبوں شاعروں اور بے لوث خدمت گاروں کا شکریہ ادا کیا کیونکہ اس معاونت کے بغیر یہ بزم اتنی کم مدت میں نہ اتنی شاخیں قائم کر سکتی تھی اور نہ ہی اتنے بڑے پیمانے پر تقریبات یا کتابوں کی اشاعت کا فریضہ ادا ہو سکتا تھا۔ شہاب الدین احمد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ بزم صدف ادب و تہذیب کے ساتھ تعلیم اور خواندگی کے معاملات سے بے خبر نہیں ہے، اردو تعلیم کے بڑے مرکز کے قیام کے سلسلے میں اندرونی طور پر ہماری تیاریاں چل رہی ہیں ۔
برطانیہ سے تشریف فرما مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار باصر سلطان کاظمی نے بزم صدف کا بین الاقوامی ایوارڈ لیتے ہوئے کہا کہ تخلیق کار کے دل میں لازمی طور پر یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ لکھتا پڑھتا ہے ادب کے ماہرین اور عام قارئین اسے کس طور پر قبول کرتے ہیں، اسے وہ جانے اور سمجھے، ایسے انعامات جن کے پیچھے اچھے اداروں اور ان کے کارپردازوں کی سمجھ بوجھ بھی رہتی ہے، ان کے ذریعے اعتراف کیا جانا ایک قابل اطمینان بات ہے ۔
نئی نسل ایوارڈ قبول کرتے ہوئے ڈاکٹر راشد انور راشد نے بزم صدف کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اپنی آئندہ کوششوں سے ان توقعات کو ضرور پورا کرنا چاہیں گے جو ایوارڈ ملنے کے بعد ان سے اردو عوام کو پیدا ہوئی ہیں۔اس موقع پر بزم صدف کی تازہ دس کتابوں کا اجرا بھی عمل میں آیا، جس میں عرض داشت(صفدر امام قادری)،اردو کا مہجری ادب اور احمد اشفاق(نظام الدین احمد)ناز قادری کی خدمات کا تنقیدی مطالعہ(شمشاد فاطمہ)تھوڑی سی آوارگی (مہتاب قدر)، تقسیم ملک کا ادب اور دیگر مضامین (افشاں بانو) اس چہرے کے نام(طارق متین) تانیثیت چند مباحث( سعیدہ رحمن) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
بزم صدف نے ریحان خان کو انکی تنظیمی خدمات کے لئے ۲۰۱۸ء کے ایوارڈ کا علان کیا تھا، وہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر تقریب میں شامل نہ ہوسکے ،انکی غیر حاضری میں جناب احیاء الاسلام نے ان کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے بزم صدف کا شکریہ ادا کیا تھا، ریحان خان کی خدمات کے حوالے سے جناب سید شکیل احمد نے اپنا مقالہ پیش کیا۔
قبل ازاں پروگرام کے آغاز میں بزم صدف کی دوحہ اکائی کے صدر جناب عمران اسد نے دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے اپنے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور ان کی اردو نوازی اور اپنی مادری زبان کے لئے جاں نثاری پر شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے بزم صدف کی دوحہ اور ہندوستان بالخصوص مغربی بنگال کی شاخوں کے آئندہ اہداف کا ذکر کیا اور لوگوں سے خوش دلی کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔
ایوارڈ تقریب کے ساتھ بزم صدف نے حسب روایت ایک عالمی مشاعرہ کا انعقاد بھی کیاتھاجسمیں ہندوستان،پاکستان،برطانیہ،ابوظہبی، دوبئی اور دوحہ قطر کے منتخب شعرائے کرام شامل تھے، مشاعرہ کی نظامت یونیورسٹی آف حیدر آباد ( ہندوستان) کے استاد ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے انجام دی اور مشاعرہ کی صدارت بزرگ شاعر جناب ظہورالاسلام جاوید ( ابو ظہبی) نے کی، مشاعرہ میں قطر سے ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش، آصف شفیع،احمد اشفاق اور عتیق انظر نے شرکت کی ،ہندوستان سے پروفیسر ظفر امام،راشد انور راشد،صفدر امام قادری شریک بزم ہوئے برطانیہ سے جناب باصر سلطان کاظمی، دوبئی سے احیاء الاسلام(احیا بھوجپوری) اور محترمہ عائشہ شیخ عاشی نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں