154

بزمِ کہن (تذکرے اورخاکے)


مجموعۂ مضامین: مولانامحمدافضال الحق جوہرقاسمی
تبصرہ: نایاب حسن قاسمی
مولانامحمدافضال الحق جوہرقاسمی ماقبل آزادی کے فضلاے دیوبندمیں تھے، 1941میں دیوبندسے ان کی فراغت تھی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمدمدنی اوراس عہدکے جلیل القدراساتذۂ دیوبند کے شاگرد تھے، علم میں پختگی تھی، مطالعہ عمیق تھا،مشاہدہ وسیع وعریض اورعلم وعمل کے مختلف سرگرم وہنگاخیز شعبوں سےکم وبیش سترسال منسلک رہے، ان کی وفات2012میں ہوئی ـ انیس سو اکتالیس اوردوہزاربارہ کے بیچ کے طویل ترین زمانی عرصے میں انھوں نے بہت سی خدمات انجام دیں، خاص طورپر تدریس ان کامیدانِ اختصاص تھا اوراس حوالے سے وہ مشرقی ومغربی یوپی کے چوٹی کے اداروں مثلاًمدرسہ حسینیہ چلہ امروہہ، دارالعلوم مئو، مدرسہ فرقانیہ گونڈہ، مدرسہ ریاض العلوم گورینی، جونپور اوردارالعلوم گورکھپوروغیرہ میں عربی کی نیچے سے اوپرتک کی بیشترکتابیں پڑھائیں، ایک سے زائد اداروں میں شیخ الحدیث رہےـ ملی وتنظیمی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے، ایک عرصے تک جمعیت کے رکن عاملہ رہے، الجمعیت اخبارکے منیجر رہے، ارباب جمعیت سے اختلاف ہوا توچندساتھیوں مولاناسیداحمد ہاشمی وغیرہ کے ساتھ نکل کرملی جمعیت قائم کی، اس کاخاتمہ ہوا اور مرکزی جمعیت علماے ہندقائم ہوئی تواس کے صدررہے، تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبندکے بانیوں میں تھے اوراس پلیٹ فارم سے مختلف علمی وملی خدمات انجام دیں ـ اسی کی دہائی میں دارالعلوم دیوبندمیں رونماہونے والے قیامت خیزانقلاب کے مولاناموصوف نہ صرف چشم دید گواہ؛ بلکہ اس کے اساسی عملی کرداروں میں شامل تھےـ الغرض مولاناکی شخصیت حقیقی معنوں میں نہایت متحرک، ذوجہات،فعال اورگرم دم جستجورہی ـ انھیں قریب سے جاننے والے اوران کی صحبت اٹھائے ہوئے لوگ بتاتے ہیں کہ مولانا کامزاج بڑاشفاف اوربے باک تھا؛ اسی لیے وہ کسی بھی ادارے یاتنظیم کے ساتھ زیادہ دن نہیں چل پاتے تھے، انھیں جہاں کوئی قابلِ اعتراض بات نظرآتی، وہ فوراٹوک دیتے تھے،اس سلسلے میں شخصیتوں کی ضخامت وجسامت یاان کارعب بھی ان کے آڑے نہیں آتاتھا،قول وعمل کی کجی یافکرونظرکاانحراف وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے اوراسی وجہ سے وہ کہیں ایک جگہ زیادہ دن ٹک کرنہ رہ سکےـ
بہر حال اس ہنگامہ خیزی کے باوجود انھوں نے وقیع علمی وعملی خدمات انجام دیں، تدریس کی لائن سے ملک کے مختلف خطوں میں قابل اورجید شاگردوں کی بڑی تعدادچھوڑی ـ اس کے علاوہ ان کا لکھنے کاذوق بڑاعمدہ تھا، مختلف ادوار میں انھوں نے نہ صرف متعدداخبارات ورسائل میں مضامین لکھے؛ بلکہ ریاض العلوم سے “الریاض “جاری کیا، دارالعلوم گورکھپورپہنچے تووہاں سے “دانشور “نکالااورتنظیم ابنائے قدیم کی طرف سے “ترجمانِ دارالعلوم “کی اشاعت عمل میں آئی ـ ان رسالوں کی مولانا نے ہی ادارت کی اوران میں ان کے مضامین پابندی سے شائع ہوتے رہےـ
زیرنظرکتاب “بزمِ کہن “مولاناکے انہی مضامین کامجموعہ ہے، جو مذکورہ بالارسائل میں شائع ہوئے ہیں ـ ان مضامین کی جمع وترتیب کاکام مولانامحمدعرفات اعظمی نے انجام دیاہےـ
یہ تمام مضامین سوانحی نوعیت کے ہیں، پینتیس سے زائدشخصیات پرلکھے گئے ان مضامین میں مولانانے اپنے مطالعہ ومشاہدہ کی روشنی میں اختصارکے ساتھ متعلقہ اشخاص کے علم وعمل کا تجزیہ کیاہےـ شروع کی تین شخصیات شاہ ولی اللہ، مولانا محمدقاسم نانوتوی اورشیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی کااستثناکرکے باقی تمام شخصیات سے مولاناکاراست تعلق رہاہےـ
کتاب کاپہلامضمون شاہ ولی اللہ محدث دہلوی پرہے، جس میں اختصار کے ساتھ شاہ صاحب کی علمی، فکری وتصنیفی خدمات پرروشنی ڈالی گئی ہےـ دوسرے مضمون میں مولانامحمدقاسم نانوتوی کی عبقریت کے نقوش تلاش کیے گئے ہیں اوراس سلسلے میں تعلیم، تبلیغ اورسیاست کے شعبوں میں مولاناکے امتیازی کارناموں کاجائزہ لیاگیاہےـ مولانافضل رحماں گنج مرادآبادی انیسویں صدی کے ایک عجیب اورصاحبِ کمالات بزرگ تھے، مولاناجوہرکے داداحاجی عبدالرحیم ان کے مسترشدتھے، اس نسبت سے مولاناکوبھی ان سے قلبی انسیت تھی؛ چنانچہ ایک موقعے پران کے گاؤں کے سفراورمولانافضل رحماں کے مزارپرحاضری کی رودادبیان کرتے ہوئے ایک مضمون میں ان کے عرفانی واحسانی مقامات کاذکرکیاہےـ ایک مضمون میں مولانانے شیخ الہندکی انفرادیت کی نشان دہی کرتے ہوئے علم وفکروسیاست کے باب میں ان کے تمیُّزکوبیان کیاہےـ شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی مولاناجوہر کے استاذ تھے، سواپنے مشاہدات کی روشنی میں مولاناکے اخلاق، اخلاص اورجرأت مندی کے مختلف واقعات بیان کیے ہیں ـ ایک مفصل مضمون میں اپنے داداحاجی عبد الرحیم فضلی کے حالاتِ زندگی بیان کیے ہیں ـ ان کے علاوہ اس کتاب میں قاری ضیاء الحق، مولانامحمودالحسن بستوی، صباح الدین عبدالرحمن، خان عبدالغفارخان، مولانامحمداحمدپرتاپ گڑھی، مولاناحبیب الرحمن اعظمی، مولانامحمدمسلم اعظمی، انجینئر نورالدین، مولاناوحیدالزماں کیرانوی، مولاناامانت اللہ معروفی، حکیم وصی احمد، قاضی اطہرمبارکپوری، مولانامنظورنعمانی، مولانا محمد عمرپالنپوری، قاری صدیق احمد باندوی، مولاناابوالحسن بارہ بنکوی، مولاناابوالحسن علی ندوی، مولانا عبدالحلیم گورینی، حکیم عبدالحمید، مولاناریاض الدین، مولانا سیداحمد ہاشمی، مولانارشیدالدین حمیدی، قاضی مجاہدالاسلام قاسمی وغیرہ جیسی شخصیات پرمضامین شاملِ اشاعت ہیں ـ زیادہ ترمضامین تاثراتی نوعیت کے ہیں، جن میں متعلقہ شخصیت کی حیات اورسرگرمیوں پرسرسری روشنی ڈالی گئی ہے، البتہ اس میں بھی ایک گونہ انفرادیت ہے کہ مولانانے ان شخصیات کواپنے منفرداوردوسروں سے قطعی مختلف زاویۂ نگاہ سے دیکھاہے اوران کے تعلق سے اپنے بے لاگ خیالات کااظہارکیاہے ـ بڑے لوگوں کاتذکرہ احترام اورتعظیم سے کیاہے، مگراپنی افتادکے مطابق کسی واقعے کے متعلق اپنی رائے یانقطۂ نظرکے اظہارمیں کسی ترددسے کام نہیں لیاہے؛ چنانچہ اس کتاب میں ہندوستان کی سطح پرعربی زبان کے عظیم استاذاورمثالی مربی مولانا وحیدالزماں کیرانوی پردومضامین شامل ہیں، جن میں مولاناافضال الحق نے ان کی ساحرانہ صلاحیتوں کاجائزہ لینے کے ساتھ انقلابِ دارالعلوم کے دوران ان کے کرداراوراس سے متعلق مختلف کرداروں پرکھل کر اظہارِ خیال کیا ہےـ اسی طرح مولانامنظورنعمانی چوں کہ اس زمانے میں دارالعلوم دیوبندکے رکن شوری تھے اوران کی اہم حیثیت تھی، توان کے تذکرے میں بھی اس انقلاب کاذکرآیاہےـ اسی طرح مولاناسیداحمدہاشمی کے تذکرے کے ذیل میں جمعیت سے اپنی اوردیگرمتعددعلماکی طویل وابستگی اورپھراس سے علیحدگی کے اسباب پرمختصر، مگرکھل کرلکھاہے ـ اسی طرح قاضی مجاہدالاسلام قاسمی والے مضمون میں جہاں ان کی علمی، فکری وفقہی عبقریت کااعتراف کیاہے، وہیں یہ بھی لکھاہے کہ مجھے بعض معاملوں میں ان سے اختلاف تھا اورمیں اختلاف کااظہاربھی کرتا تھااورقاضی صاحب خندہ پیشانی وکشادہ ظرفی کے ساتھ سنتے تھے اورہمیشہ فقہی سمیناروں میں مدعوکرتے تھےـ قاضی صاحب اورمولاناافضال صاحب دونوں علم وفکرکے اعتبارسے اپنے اہنے مقام پرتھے، البتہ مولاناافضال صاحب عمرمیں قاضی صاحب سے بہت بڑے تھے، دیوبندسے دونوں کی فراغت میں کم وبیش دس سال کافاصلہ تھا؛ اس لیے بھی قاضی صاحب ان کا احترام کرتے ہوں گے، پھران کاعلمی مقام بھی اعلیٰ تھا!
اسی طرح دیگرشخصیات پرلکھے گئے مضامین بھی خاصے دلچسپ ہیں ـ ان میں معلومات بھی ہیں اوربیان واداکالطف بھی ـ مولاناافضال صاحب تاحیات تدریس اور تحریر دونوں شعبوں سے وابستہ رہے، جہاں انھوں نے درسِ نظامی کی ابتداسے لے کر علیاتک کی کتابیں پڑھائیں اورمتعدداداروں میں شیخ الحدیث رہے، وہیں شروع سے ہی قلم وقرطاس سے بھی ان کی مضبوط ہم نشینی رہی ـ جولوگ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ مولاناقلم برداشتہ لکھتے تھے، انھیں کسی موضوع پرلکھنے کے لیے زیادہ غوروفکرنہیں کرنا پڑتا تھا، وہ سفرمیں ہوں یاحضرمیں، جب بھی کچھ لکھنے کاداعیہ پیداہوتا، جیب سے کاغذنکالتے اورلکھنے لگتے تھے ـ ان کی تحریروں سے اندازہ بھی ہوتاہے کہ وہ بے ساختہ لکھی گئی ہیں، ان میں تصنع نام کونہیں ہے، اسلوب علماے کرام کے روایتی اسلوب سے مختلف اورخاصا دلچسپ ہے،لفظوں میں روانی اورطرزِادامیں سلاست ہے ـ زبان میں رچاؤ اوربیان میں بہاؤہے، کہیں کہیں مکالماتی کیفیت پیداہوگئی ہے، گویاوہ لکھ نہیں رہے،کسی سے باتیں کررہے ہیں، اندازِ تحریرشاندارہے، پڑھتے ہوئے قاری کاانہماک شروع سے آخرتک برقراررہتاہے اوروہ کسی بھی مرحلے میں اکتاہٹ کاشکارنہیں ہوتا،ان کی تنقیدمیں بھی پھوہڑپن نہیں ہے، لطیف اشاروں اوربلیغ کنایوں میں بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں ـ
بہرکیف یہ کتاب بیسویں صدی کی مذکورہ اہم شخصیات کی زندگیوں کی دلچسپ جھلکیاں پیش کرتی ہیں،سیرت وسوانح سے دلچسپی رکھنے والوں کواس کامطالعہ ضرور کرناچاہیے ـ کتاب کے مرتب مولانا عرفات اعظمی قابلِ مبارکباد ہیں کہ انھوں نے ان قیمتی مضامین کو یکجا کرکے شائع کروایاہےـ کتاب کی اشاعت مولانا ڈاکٹر رشاد قاسمی کے زیرِ اہتمام عمل میں آئی ہے اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ، رگھولی، گھوسی، ضلع مئو(یوپی )سے حاصل کی جاسکتی ہےـ
(رابطہ نمبر: 0450536786)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں